بدھ, نومبر 21, 2007

گیت نیا سا (A new song)

گیت نیا سا

نئی رتوں کی خاطر ہم سب

آئو کوئی گیت بنیں

بارش کا اک گیت لکھا تو

پانی چھم چھم برسا

گرمی کا جو راگ الاپا

ٹھنڈی ٹھنڈی ہو اچلی

سردی میںجو تان لگائی

پائے اونی کپڑے ؛

پھر دھرتی پر

کوئی نیا موسم ہے آیا

ہر موسم کی شدّت سے بھی

سخت ہے اس کی سفّاکی

آئو دعا کا کوئی نغمہ

ہم سب مل کر گائیں

امن، شانتی اور اخّوت

ہمدردی ،ایثار ،محبّت،

سب جذبوں کو انسانوں کے

سینے میں جو بیج بنا کر بو دے

پیڑ بنے پھر اس کا ایسا

جس کی ٹھنڈی ،گھنی چھائوں میں

دہشت ،خون خرابہ اور

نفرت کی اس دھوپ میں جھلسی

زخمی دنیا

پل دو پل تو سستائے ؛

صدیوں سے جاگی آنکھوں میں

خواب سہانا سا لہرائے

آئو !ایسا گیت بنیں جو

پیاسی تپتی سرخ زمیں پر

سوندھی مٹّی سے مہکا اک

سرد ہوا کا جھونکا لائے !

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں