اتوار, جولائی 26, 2009

Inaugration of a school Magazine (Urdu) تہذیب الکلام


اسکول میگزین

تہذیب الکلام 2009 کا اجراء

خبر نامہ 

ناگپور 

 

مو لانا ابوالکلام آ زاد ہا ئی اسکول و جو نئیرکالج گاندھی باغ ناگپور کے سالانہ میگزین تہذیب الکلام کا اجراء کیریر گائیڈنس ادارہ کے رکن اور سابق جوائنٹ سیکریٹری، ناگپور ڈیویژ نل ایس ایس سی بورڈ ،جناب رکن الدین محمّد کے ہاتھوں ہوا ۔اس تقریب کی صدارت کے فرائض کالج کے پرنسپل جناب عبد الرؤف صاحب نے انجام دئے ۔جناب وکیل نجیب اورڈاکٹر آ غا غیاث الرحمٰن صاحب نے اس رسالہ پر اپنے تبصرے پیش کئے اور اسکول کے منتظمین و ادارتی بورڈ کی کا وشوں کو سراہا۔ اس تقریب میں مجلّہ تہذیب الکلام کے مہمان مدیر شیخ محمّد ہاشم بھی بطور مہمانِ خصوصی مو جود تھے ۔

اسکول کے سالانہ میگزین کے اجراء کے بعد اس کے مدیر ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے اظہارِ خیال کر تے ہو ئے کہا کہ اسکو ل میگزین ایک ایسا آ ئینہ ہے جس سے ہمیں کسی تعلیمی ادارہ کی تدریسی و غیر تدریسی سرگرمیوں کا اندازہ ہو تا ہے ۔یہ طلباء میں پو شیدہ تخلیقی صلاحتوں کو بروئے کا ر لانے کے لئے ایک مفید ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ جناب وکیل نجیب اورڈاکٹر آ غا غیاث الرحمٰن صاحب نے اس رسالہ پر اپنے تبصرے پیش کئے اور اسکول کے منتظمین و ادارتی بورڈ کی کا وشوں کو سراہا۔ جناب عبدالرؤف صاحب نے اپنے صدارتی خطبہ میں طلباء کو اردو کے علاوہ مقامی زبان مراٹھی میں بھی مہارت حاصل کر نے اور معلوماتی مضامین کا مطالعہ کر نے کا مشورہ دیا ۔

منگل, جولائی 21, 2009

Nat-Ek Intekhab عبد العزیز خالد


 ۔۔۔۔۔۔۔۔   نعت   ۔۔۔۔
عبد العزیز خالد
مُطاعِ آدم و انجم ،متاعِ لوح و قلم 
محمّد ؑ اُمّیِ محبوبِ کبریا صَلعم 

محمّدؑانجمنِ کن فکاں کا صدر نشیں
محمّدؑ افسرِ آ فاق و سَرورِ عالَم 

وہ عبدہُ و رسولُہُ و اِسمہُ احمد 
کتاب و حکم و نبوت کا خاتم و خاتَم 

حمُود وحا مد و احمد ،محمّد و محمُود
کریم و میر ،کرام و مکرّم واکرم

وہ لا یمُو ت ،سراجِ سُبل ،امامِِرُسل 
امیرِ قافلۂ سخت کوشِ اہلِ ہمَم

بہارِ گلشنِ ایجاد وحسن ِ ہفت رواق 
گُلِ سرسبدِدُودۂ بنی آدم 

اُسی کو صاحبِ خلقِ عظیم کہتے ہیں 
وہی ہے نوعِ بشر کامعلّمِ اعظم 

شمار کرنے چلیں اس کی خوبیوں کا اگر 
تو ساتھ چھوڑ دیں تھک تھک کے نیل پنکھپدم 

ہے جس کی ذات مطہّرخمیرِ مایۂ کون 
ہیں جس پہ آ ئینہ اسرارِمخفی و مبہم 

رموزِ کن فیکوں جس پہ مُو بمُو روشن 
وہی جو ختمِ رسُل ہے وہی جو فخرِ اُمم 

وہ عقلِ اوّل و اعلیٰ ،حقیقتِ اسماء
وہ نفسِ کائنۂ روحِ خالدِ و اعظم 

عطائے حقو جو قاسِم ہے وہ ابوالقاسِم 
ملیکِ مقسط و معطیِ ومقتدِر کی قَسم 

خلاصۂ دو جہاں جس کی ذاتِ والاشان 
گیا جو عرش پہ بے نردبان و بے سُلّم 

ہے جس کی شان فاوحیٰ اِلیہِ ما اوحیٰ 
وہ آسمانِ خِیم، انجم خدم سپہرحَشم 

جو مکّی و مدنی ہر وطن کا ہے وطنی 
حکیم و حاملِ احکام و حاکم و احکم 

اٹھائے ہاتھ دعا کو اسی کی خاطر جب 
رکھی خلیلِبراہیم نے بِنائے حرم 

خدا ئے قادرو قدّوس کے تصوّر سے 
کرے دلِ متزلزل کو ثابت و مُحکم 

انا بشر کا جو اعلان و اعتراف کرے 
نہیں جو وحیِ خدا میں مجازِ بیشی و کم 

محمّدعربی آ بروئے ہر دُدوسرا 
حبیبِ پاک خدا ،جانِ عالم و آ دم 

صفاتِ بو قلموںلا تُعدُّ لا تُحصیٰ
ثنائے خواجہ سے معذور ہیں زبان و قلم


بدھ, جولائی 15, 2009

Naat۔۔ Ahmad Faraz احمد فراز کی ایک مشہور نعت




نعت
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
احمد فراز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مِرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے
میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے

نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تیری
نہ تیری مدح ہے ممکن میرے خیالوں سے

تو روشنی کا پیمبر ہے اور میری تاریخ
بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے

تیرا پیام محبّت تھا اور میرے یہاں
دل و دماغ ہیں پُر نفرتوں کے جالوں سے

یہ افتخار ہے تیر اکہ میرے عرش مقام
تو ہمکلام رہا ہے زمین والوں سے

٭

مگر یہ مفتی و واعظ یہ محتسب یہ فقیہ
جو معتبر ہیں فقط مصلحت کی چالوں سے

خدا کے نام کو بیچیں مگر خدا نہ کرے
اثر پذیر ہوں خلقِ خدا کے نالوں سے

نہ میری آنکھ میں کاجل نہ مشکبو ہے لباس
کہ میرے دل کا ہے رشتہ خراب حالوں سے

ہے ترش رو میری باتوں سے صاحبِ منبر
خطیبِ شہر ہے برہم میرے سوالوں سے

میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا
میں کیسے صلح کروں قتل کر نے والوںسے

میں بے بساط سا شاعر ہوںپر کرم تیرا
کہ با شرف ہوں قبا و کلاہ والوں سے

سوموار, جولائی 13, 2009

نظم ۔۔جانے کیوںآج مہکتا ہے زمیں کا دامن A Poem (Urdu)

ایک نظم 

محمد اسد اللہ 
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
جانے کیوںآج مہکتا ہے زمیں کا دامن 
کس کی آ مد سے لب و بام ہو ئے ہیں روشن 
فرشِ گل کس کے لئے آج ہے یہ صحن چِمن

نورو نکہت سے ہم آ غوش ہے سارا عالم 
آمدِ بادِصبا ہے کہ نزولِ شبنم 
٭

منتظر چشم ہے اس راہ کا ہر اک ذرّہ 
کس کی آمد سے منّور ہے یہاں ہرچہرہ 
کون آیا ہے جو سر شار ہے لمحہ لمحہ


کس کی سانسوں نے ہواؤں میں بکھیری سر گم 
آمدِ بادِصبا ہے کہ نزولِ شبنم
٭

آ ئیے آ پ کی خاطر ہیں منّور راہیں 
نغمہ خواں آ پ کی آمدکی خاطر ہیں ہوائیں آ ئیں 
آپ کی راہ میں پلکوں کو بچھائیں آئیں

خیر مقدم کے لئے جمع ہو ئے ہیں باہم 
آمدِ بادِ صبا ہے کہ نزولِ شبنم


بدھ, جولائی 08, 2009

مسلمانوں کے نام ایک غیر مسلم شاعر کا پیام

مسلم بھائیوں کے نام 
جو
ہم دیوی دیوتاؤں کے پجاریوں کو جہنّمی اور خود کو جنّتی کہتے ہیں ۔

نتیجۂ فکر : 
اوم پر کاش نیّر ؔ ، لدھیانوی 
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ایک ہی پربھو کی پوجا ہم اگر کرتے نہیں 
ایک ہی در پر مگر سر آپ بھی دھرتے نہیں

اپنی سجدہ گاہ دیوی کا اگر استھان ہے 
آپ کے سجدوں کا مرکز ’قبر ‘ جو بے جان ہے

اپنے معبودوں کی گنتی ہم اگر رکھتے نہیں
آپ کے مشکل کشاؤں کو بھی گن سکتے نہیں
 

’’جتنے کنکر اتنے شنکر‘‘ یہ اگر مشہور ہے
ساری درگاہوں پہ سجدہ آپ کا دستور ہے 

اپنے دیوی دیوتاؤں کو اگر ہے اختیار 
آپ کے ولیوں کی طاقت کا نہیں حدوشمار
 

وقتِ مشکل ہے اگر نعرہ مرا ’ بجرنگ بلی 
آپ بھی وقتِ ضرورت نعرہ زن ہیں ’یاعلی‘ 

لیتا ہے اوتار پربھو جبکہ اپنے دیس میں
آپ کہتے ہیں ’’خدا ہے مصطفٰے کے بھیس میں‘‘ 

جس طرح ہم ہیں بجاتے مندروں میں گھنٹیاں
تربتوں پر آپ کو دیکھا بجاتے تالیاں
 

ہم بھجن کرتے ہیں گاکر دیوتا کی خوبیاں 
آپ بھی قبروں پہ گاتے جھوم کر قوّالیاں 

ہم چڑھاتے ہیں بتوں پر دودھ یا پانی کی دھار
آپ کو دیکھا چڑھاتے مرغ چادر ،شاندار
 

بت کی پوجا ہم کریں، ہم کو ملے’’نارِ سقر
آپ پوجیں قبر تو کیونکر ملے جنّت میں گھر؟ 

آپ مشرک، ہم بھی مشرک معاملہ جب صاف ہے
جنّتی تم،دوزخی ہم، یہ کوئی انصاف ہے 

مورتی پتّھر کی پوجیں گر! تو ہم بدنام ہیں
آپ’’سنگِ نقشِپا‘‘ پوجیں تو نیکو نام ہیں

کتنا ملتا جلتا اپنا آپ سے ایمان ہے
’آپ کہتے ہیں مگر ہم کو ’’ تو بے ایمان ہے ‘

شرکیہ اعمال سے گر غیر مسلم ہم ہوئے 
پھر وہی اعمال کرکے آپ کیوں مسلم ہوئے
 
ہم بھی جنّت میں رہیں گے تم اگر ہو جنّتی
ورنہ دوزخ میں ہمارے ساتھ ہوں گے آپ بھی
 

ہے یہ نیّرؔ کی صدا سن لو مسلماں غور سے 
اب نہ کہنا دوزخی ہم کو کسی بھی بھی طور سے

منگل, جولائی 07, 2009

Hamd - Ek Intekhab


حمد 

محمّد اسد اللہ 

اے خدا ،اے خدا اے خدا ،اے خدا 

تو ہی مالک ہے تو ہی ہے سب سےبڑا

 

تیرے ہونے کا پیغام لے کر چلی ہے ہوا 

ہے ہر اک موج کے لب پہ تیری ہی حمد و ثنا

 

پربتوں پر کھلی دھوپ میں چہچہاتے پرند 

تیرے احساس سے ذرّہ ذرّہ زمیں کا دمکتا ہوا 

تیری قدرت ہے پھولوں کے رخ سے عیاں 

تتلیوں کے پروں پہ ترا نام لکھا ہوا 

حرفِ اوّل تو سب کا ءناتوں کا ہے

حرفِ آ خر ہے تیرا ہی لکھا ہوا 

جمعرات, جولائی 02, 2009

Naat-Ek Intekhab کمار پاشی کی ایک نعت ، نعت ایک انتخاب


نعت 

کمار پاشی

سہل  ہے  راستہ  محمّد
 
 کا 

جل رہا  ہے دیا محمّدﷺ  کا 


بے یقینی  کے   اِن   اندھیروں    میں 

سب کو   ہے آسر  ا محمّد
   کا 



جل  اُٹھے  پھر  چراغ  منزل    کے 

بادباں   کھل   گیا  محمّد
   کا 



شب  کی  تاریک  راہ  میں  اب بھی 

نور   ہے   جا بجا   محمّد
  کا 



پرچمِ  سبز  کھل  گئے   ہر  سُو 

چل   پڑا   قافلہ   محمّد
 کا 



ہے  ہواؤں  کے   ہاتھ  پر  دیکھو

نام   لکھا   ہوا   محمّد
    کا 



کفر   کی   رات  ڈھل  گئی پاشی

دیکھ  پھر د ن   ہوا  محمّد
 کا