بدھ, نومبر 14, 2007

عید (Eid)

عید

دلوں میں پیار جگانے کو عید آئی ہے

ہنسو کہ ہنسنے ہنسانے کو عید آئی ہے

مسرّتوں کے خزانے دئے خدا نے ہمیں

ترانے شکر کے گانے کو عید آئی ہے

مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے

چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے

خوشا کہ شیر و شکر ہو گئے گلے مل کر

خلوصِ دل ہی دِکھا نے کو عید آئی ہے

اٹھا دو دوستو! اس دشمنی کو محفل سے

شکا یتوں کے بھلا نے کو عید آئی ہے

کیا تھا عہد کہ خوشیاں جہاں میں بانٹیں گے

اسی طلب کے نبھا نے کو عید آئی ہے


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں