Thursday, March 31, 2011

Masajid ki Taameer (Urdu) مساجد کی تعمیر اور تزئین


مساجد کی تعمیر اور تزئین

محمّد شریف،ناگپور


مسجد یں اللہ کے گھرہیں۔ اور تمام مساجد بیت اللہ کی بیٹیاں یعنی بیت اللہ کی شاخیں ہیں۔ اس لئے مسجد کی تعمیر بہت بڑا کار ثواب ہے۔ حدیث میں ہے کہ جواللہ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے اور مساجد کی تعمیر مسلمان کے ایمان کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا انما یعمر مساجد اللہ من اٰمن باللہ والیوم الااٰخر ۔ مسجدوں کو تو وہی لوگ تعمیر کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور آخرت کے دن پر۔ بحر حال مسجدوں کی تعمیر اسلا م میں محمود چیز ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ مسلمان اور مسجد کا گہرا تعلق ہے۔ مومن کا وجود ہی بغیر مسجد کے مشکل ہے۔ جہاں ایمان والے ہونگے وہاں مسجد ضرور ہوگی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : المومن فی المسجد ک السمک فی الماء یعنی مومن مسجد میں ایسا ہے جیسے مچھلی پانی میں ۔مچھلی کی زندگی ہی پانی کے بغیر دو بھر ہے۔ اگر کوئی مسلمان مسجد کے بغیر جی رہا ہے تو اس کی یہ زندگی اسلامی اور ایمانی زندگی نہیں ہے بلکہ یہ زندگی حیوانی ہے۔ اس لحاظ سے مساجد کی تعمیر مسلمانوں کے لئے بہت ضروری ہے مگر تعمیر میں مبالغہ اور اس کی تزئین یعنی decoration منشاء نبوت کے خلاف ہے۔ مسجدوں کو بہت زیادہ پر تکلف بنانا اور سجانا اور ان میں نمائش کے ایسے ساماں رکھنا کہ مسجد میں داخل ہو کر آدمی مسجد کے درودیوار کو دیکھنے ہی میں اٹک جائے مسجد کے مقصد ہی کو فوت کردیتا ہے۔ مسجد یں تو اللہ سے تعلق کو بڑھانے کے لئے ہیں۔ مسجد کی عمارت کو بہت شاندار اور عالی شان بنانا قرب قیامت کی علامت ہے۔


حضورؐ کی مسجد تمام مسلمانوں کے لئے نمونہ ہے۔ آپ کی مسجد کتنی سادی تھی۔ کوئی پختہ عمارت نہیں تھی۔ کھجور کی ٹٹیوں کی بنی ہوئی تھی۔ اسی کی چھت بھی تھی۔ دھوپ اور بارش دونوں چھن کر مسجد میں آتے تھے۔ مسجد میں فرش پر بچھانے کے لئے کوئی مصلیٰ یا جاء نمازیں نہیں تھی۔ مٹی پر سجدہ ہوتا تھا۔ دروازے اور کھڑکیا بھی نہیں تھے۔مسجد کے بند ہونے کا سوال ہی نہیں تھا۔ مسجد کچی تھی لیکن نمازی اتنے پختہ تھے کہ تمام انسانوں کے لئے نمونہ قرار دیئے گئے۔ مسجد کی مادی تعمیر کمزور تھی لیکن روحانی تعمیر بہت مضبوط۔ یہ روحانی تعمیر مسجد کی آبادی ہے۔ حضورؐ کی مسجد ۲۴! گھنٹے اعمال سے آباد رہتی تھی۔ مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کا مرکز مسجد تھی۔ مسجد صرف پنچ وقتہ نمازوں کے ادا کرنے کی جگہ نہیں تھی۔ مسجد نبوی میں صحابہ کرام سیکھنے سکھانے میں مصروف رہتے تھے۔ دین کو عالم میں پھیلانے کے مشورے بھی مسجد میں ہوتے تھے۔ وہیں سے لشکروں کی روانگی بھی ہوتی تھی۔ آنے والے وفود کو مسجد ہی میں ٹہرایا جاتا تھا وہیں ان کی خدمت ہوتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل ہوتا وہیں مجمع کو سنایا کرتے تھے۔ لوگ انفرادی طور پر بھی عبادات میں لگے رہتے ، غرض کسی وقت بھی ہمارے زمانہ کی طرح مسجد خالی نہیں ہوتی تھی۔ مسجد کو آباد رکھنا ہی اصل مسجدکی تعمیر ہے۔


مسجدوں میں اتنا غیر ضروری سامان نہ بھریں کہ جس کے چوری ہوجانے کا اندیشہ ہو اور پھر نماز کے بعد تالا لگانے کی ضرورت محسوس ہو۔ مسجد میں نمازیوں کی ضرورت کا ہر سامان موجود ہو۔ نمازیوں کو راحت رسانی کی پوری فکر ہو لیکن نمائش نہ ہو۔ آج کل ممبر اور محراب ہی پر ہزاروںروپئے صرف کئے جارہے ہیں جو اسراف ہیں اور صرف آنکھوں کی لذت کا ساماں ہے۔ روحانی غذا کا اس میں کوئی انتظام نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ نے مسجد نبوی میں جو محراب بنوایا اس کی حکمت امام کی آواز کو پوری مسجد میں پھیلانے کی تھی وہ محراب کروی آئینہ کی قسم مقعر آئینہ کی طرح ہوتا تھا اور امام کا منھ اس آئینہ کے نقطہ ماسکہ (focus) پر ہوتا تھا یہ آواز اس محراب میں ٹکرا کر پوری مسجد میں بغیر مائک کے پھیلتی تھی۔ حضرت عمرؓ کا نقطہ نظر سائنسی تھا نہ کہ صرف ڈیزائن تھی۔ اب اس زمانہ میں صرف محراب کی ڈیزائن رہ گئی وہ مقعری ساخت نہیں رہی۔ اور نہ ہی اس کی ضرورت باقی رہی۔ اس کی جگہ اب لاؤڈ اسپیکر نے لے لی ہے۔ حضرت عمرؓ کی اس نشانی کو باقی رکھیں لیکن اس میں سادگی ہو اس میں بلاوجہ اسراف نہ ہو۔ اس کی بجائے مسجد میں محلہ کے سو فیصد مسلمان حاضری دیں اور مسجد صبح سے شام تک اعمال سے آباد رہے اس کی فکر کریں۔
مسجدوں میں لوگوں کے لئے ایسے انتظامات کریں کہ لوگ اپنے خالی اوقات مسجد میں گذارا کریں۔ اس کے لئے اجتماعی طور پر کسی ایک نماز کے بعد مصلیوں کے لئے تقریباً آدھا گھنٹہ کے لئے حدیث کی تعلیم کا نظم ہو اس میںخصوصاً فضائل کی حدیثیں سنائی جائیں تاکہ لوگوں کے اندر اعمال کاشوق اور جذبہ بڑھتا رہے۔ اور یقین میں تبدیلی ہوتی رہے مادی اور غیر یقینی اسباب سے ہٹ کر یقینی حقیقی اسباب یعنی اعمال کی طرف آئے ۔اس کے ساتھ ایک آدھ گھنٹہ کے لئے لوگوں کو ان کی ضرورت کی باتیں سیکھنے سکھانے کا نظم ہو جیسے حضورؐ نے اس کا نظم کیا کہ آپ کے صحابہ میں سے ہر ایک دین کے علم میں گہرا تھا۔ اعمقھم علما یہ صحابہ کی مشترک صفات میں سے ہے۔ وہ سب کے سب دین کے جاننے والے تھے۔ اس سیکھنے سکھانے کے عمل سے لوگون کا وقت مسجد میں گذرینگا۔ ورنہ اس وقت یہ حال ہے کہ جو لوگ فارغ ہیں یعنی ریٹائرڈ قسم کے ہیں نمازوں کے بعد مسجد کے باہر بیٹھ کر لایعنی اور گپ شب میں وقت گذارتے ہیں اور اپنے اعمال خراب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انفرادی مطالعہ کے لئے مسجدوں میں دین کی ضروری کتابیں رکھی جائیں۔ ہر مسجد میں کم از کم ایک الماری دینی کتابوں کے لئے مختص ہو۔ جس میں قرآن پاک کی تفسیریں، حدیث کی کتابیں، کچھ سیرت رسول اور سیر صحابہ اور سیرت صلحاء و اولیاء کی کتابیں کچھ فقہی مسائل کی کتابیں ہوں۔ اگر یہ کتابیں موجود ہوگی تو پڑھے لکھے لوگ ضرورت کے وقت ان کتابوں کو لیکر مسجد ہی میں بیٹھنگے۔ خود بھی نفع اٹھائینگے دوسروں کو بھی پہنچائینگے۔



ابھی یہ حالت ہے کہ کئی مسجدوں میں وہ بھی شہر کی ،قرآن پاک کے نسخے بھی نہیں ہیں۔ صرف ۳۰! پاروں کی چند پیٹیاں رکھی ہیں جو قرآن خوانی کے وقت کام آتی ہیں۔ مقتداؤں کی طرف سے بھی کوئی ایسی ترغیب نہیں دی جاتی کہ مسلمان روزانہ قرآن کی تلاوت کیا کریں۔ بعض مسجدوں میں ایک بھی مترجم قرآن شریف نہیں ہے۔ چاہتے ہیں کہ مسلمان جاہل رہیں۔ اگر یہ پڑھنے پڑھانے کا سامان مسجد میں موجود ہوگا تو جہالت میں کمی آئے گی۔ مسجدوں سے انس بڑھے گاتو دینداری بھی بڑھے گی۔ مسجد مسلمان کے لئے تربیت گاہ ہے۔ یہ تربیت اسی وقت ہوگی جب مسلمان مسجد میں وقت دیں اور یہی اصل تعمیر مسجد ہے۔ درودیوار کی تعمیر حقیقی تعمیر نہیں ہے۔ گوکہ ثواب اس پر بھی ہے اور اس میں بھی مصلیوں کی ضرورتوں کا اصل انتظام ہے۔ اوروہ موجودہ زمانہ کے لحاظ سے لوگوں کی بودوباش کا خیال رکھتے ہوئے ہو۔ مسجد میں پنکھے اور کولر لوگوں کی ضرورت کے مطابق ہو۔ کافی جاء نمازیں ہوں مائک کا انتظام صحیح ہو۔ مسجد میں بیت الخلاء اور استنجا خانے، غسل کانہ صاف ستھرے ہو۔ اس معاملہ میں بہت لاپرواہی کی جاتی ہے۔ لوگ مسجد کے استنجا خانوں اور بیت الخلاء کو بہت گندا کرتے ہیں اسی کی دیواروں پر تھوکتے ہیں۔ اس معاملہ میں لوگوں کی تربیت کی جائے، جمعہ کے بیانات میںاس پر تنبیہ کی جائے۔ اور صفائی کے لئے مسجدوں میں مستقل خادم رکھے جائیں سارا کام موذن پر ہی نہ رہے۔ وضو خانہ کو بھی صاف ستھرا رکھا جائے۔ موسم کے لحاظ سے نمازیوں کے لئے وضو کے واسطے گرم اور ٹھنڈے پانی کا انتظام ہو۔ پینے کے پانی کا بھی معقول انتظام ہو۔ لوگ اگر ٹھنڈا fridge کا پانی پینے کے عادی ہوگئے ہوں تو ٹھنڈے پانی کی مشین بھی مسجد میں مہیا کی جائے۔ مسجد میں اگر بجلی کی وجہ سے لوگوں کو بار بار تکلیف ہوتی ہو تو invertor کا بھی انتظام ہونا چاہئے۔
یہ ضرورت کے سامان ہیں جو کسی زمانہ میں ضروری نہیں تھے لیکن اب لوگوں کامعیار زندگی اتنا بلند ہوچکا ہے کہ اگر مسجد میں یہ چیزیں نہ ہوگی تو لوگ مسجد میں زیادہ نہیں ٹہرسکے گے۔ بلکہ بعض لوگ تو ان ہی ضرورتوں کے فقدان کو بہانہ بنا کر مسجد میں نہیں آئینگے۔ اس لئے ان چیزوں کو اسراف نہ خیال کریں۔ مسجد کی عمارت میں ہوا دار کھڑکیاں، روشنی کا بھی معقول انتظام ہو لیکن اس میں حد سے آگے نہ بڑھیں۔ مثلاً جو کام ۵! ہزار روپئے میںآسانی سے ہوسکتا ہے محض نمائش اور decoration کے لئے ایک لاکھ روپئے خرچ کئے جائیں۔ بے ضرورت P.O.P. کی ڈیزائن بنائی جائے یہ اسراف ہے۔ دیوارون پر tiles لگائے جائیں محض اچھا دکھنے کے لئے یہ بھی اسراف ہے اس سے کوئی ضرورت متعلق نہیں ہے۔ مسجد کی فلور بھی بقدر ضرورت ہی چکنی اور پرکشش ہو۔ آخر اس پر جاء نماز تو بچھتی ہی ہے۔ اس میں بھی لوگوں کے معیار کے مطابق ہی جاء نمازہو۔ ہر جگہ قالین کی ضرورت نہیں ہے۔ جاء نماز صاف ستھری ہو۔ نرم ہو۔ چوڑائی میں اتنی کم نہ ہو کہ لوگوں کو نماز پڑھنے میں دقت ہو۔ مسجد میں امام ایسے ہوں جو لوگوں کی دینی ضرورت کو پورا کرسکیں۔ تربیت کریں سب کو لیکر چلیں۔ حلیم مزاج اور معمر ہوں۔ ایسے کم عمر لڑکے جن کے حلیہ سے بھی لوگوں کو کراہیت ہو ، کو امام نہ بنائیں۔ اما م پنچ وقتہ نمازوں میں حاضر باش ہو۔ صحیح قرآن پڑھنے والاہو۔ گروپ بندی کرنے والا ، ٹولیاں بنانے والے نہ ہو بلکہ زھد اور تقویٰ کی صفت اس میں پائی جاتی ہو۔
یہ سب چیزیں تعمیر مسجد میں داخل ہیں اور اس کے کرنے پر وہ سارے فضائل حاصل ہوسکتے ہیں جو تعمیر مسجد پر بیان کئے گئے ہیں۔ اصل پر نظر نہ رکھتے ہوئے محض رسمی تعمیر کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ بغیر اخلاص کے ایسی تعمیرات بجائے نجات کے پکڑ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مساجد کو معمور رکھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Saturday, March 12, 2011

صبر اور دین Sabr Aur Deen ( Article in Urdu) By Muhammad Shareef Nagpur

صبر کے بغیر دین متصور نہیں
محمّد شریف ،ناگپور

لللللللللللللللللللللللللللللللللللللل
صبر ان صفاتِ حمیدہ میں سے ہے جن پر اللہ نے اپنی معیت کا وعدہ کیا ہے۔ صبر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یا ایھا الذین اٰمنوا استعینوا لصبر و لصلوٰۃ ، ان اللہ مع الصابرین ۔ اے ایمان والوں اللہ کی مدد حاصل کرو صبر اور نماز کے ذریعہ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اللہ ساتھ ہے یعنی اللہ کی ذات ساتھ ہے ، مع صفات کے۔ اللہ کی ذات دکھائی نہیں دیتی مگر اللہ اپنی لامحدود طاقت و قوت کے ساتھ اور اپنی پوری قدرت کے ساتھ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اتنا عظیم وعدہ معیت اس لئے کیا گیا ہے کہ صبر کے ساتھ ہی آدمی پورا دیندار بنتا ہے۔ صبر کے بغیر نہ اوامر کو پورا کیا جاسکتا ہے نہ ہی نواہی سے بچا جاسکتا ہے اور نہ ہی ابتلاعات میں آدمی دین پر ثابت قدم رہ سکتا ہے۔ ناگوار حالات آدمی کو اگر صابر نہ ہو تو دین سے ہٹا دیتے ہیں اور دنیا میں ناگوار حالات کا آنا ناگذیر ہے۔


خود اللہ ہی اس کی خبر دے رہا ہے۔ ولنبلونکم بشیئٍ من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس واثمرات ج وبشر الصابرین الذین اذا مااصا بتھم مصیبۃ قالوا انا اللہ ،و انا الیہ راجعون ج اولائک علیھم صلوٰۃ من ربھم و رحمۃ ط و اولائک ھم المھتدون ۔ ترجمہ : ہم ضرور آزمائینگے کسی چیز میں سے جیسے خوف، بھوک، جانوں، مالوں یا پھلوں میں کمی سے اور بشارت ہے صبر کرنے والوں کے لئے۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ جب ان پر مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے لئے ہے اور ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہی وہ لوگ ہے جن پر ان کے رب کی طرف سے خصوصی رحمتیں ہیں اور عمومی بھی۔ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ بھی ہیں۔


ان آیات میں جہاں ابتلاعات کی خبر دی گئی ہے ، وہیں صبر کرنے والوں کو خوش خبریاں بھی دی گئی ہیں۔ ایک خوش خبری تو ہے اللہ کی عمومی اور خصوصی رحمتوں کی اور دوسری خوش خبری ہے ہدایت کی۔ یہ ہدایت تو وہ بنیادی ضرورت ہے کہ اسی کے لئے تمام انبیاء کی بعثت ہوئی ہے اور اسی کے لئے رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری ہوئی ہے او اس کے لئے آپ نے خود بھی زندگی بھر اللہ سے مانگا اور اپنے ہر امتی کو اس کے مانگنے میں لگایا ہے ، چنانچہ ہر مسلمان نبی ہو یا صحابی، ولی ہو یا ایک عام مسلمان ہر ایک نماز میں سورہ فاتحہ پڑھتا ہے اور اس میں ہر ایک اہدنا الصراط المستقیم پڑھتا ہے۔ جس کو سیدھے راستہ کی ہدایت مل گئی اس کو اللہ مل گیا کہ اللہ تو سیدھے راستہ پر ہی ملے گا۔ ان ربی علی صراط المستقیم ۔ بے شک میرا رب سیدھے راستہ پر ہے۔ یہ جو مصائب پر صبر کرنے والے ہوتے ہیں، یہی طاعات پر بھی صبر کرتے ہیں۔ طاعات کے لئے بھی صفت صبر لازمی ہے۔ کیونکہ عموماً اللہ کے احکامات نفس کے خلاف ہوتے ہیں جب تک نفس کو صبر کے ذریعہ عادی نہ بنایا جائے نفس پر بڑا مجاہدہ پڑتا ہے۔ مثلاً لوگوں کو معاف کرنا یہ کوئی آسان حکم نہیں ہے۔ انسان کو جب کوئی ستاتا ہے اور بلاوجہ ستاتا ہے ، ظلم کرتا ہے اور یہ ایک امر طبعی ہے کہ اس کو غصہ آئیگا نفس اس سے انتقام کو چاہیگا کم از کم بے بس آدمی بھی بددعا تو کرہی دیتا ہے۔ مگر حکم ہے کہ صبر کرو یہ کوئی آسان کام ہے؟ اور ہر ایک سے تقاضا ہے ، حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ سے بھی کہا جارہا ہے کہ واصبر کما صبر اولو العزم من الرسل ۔ آپ ایسے صبر کیجئے جیسا کہ اولاالعزم یعنی عالی ہمت رسولوں نے کیا۔ اور صبر کرنے والوں کی تعریف بھی کی جارہی ہے ولمن صبر وغفر ان ذالک من عزم الامور ۔ اور جس نے صبر کیا اور معاف کیا تو بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ دشمنوں کی طرف سے ایذاؤں پر صبر کرنے سے تقویٰ کی بھی بشارت سنائی جارہی ہے اور یہ بھی اطمینان دلایا جارہا ہے کہ انکا مکر وفریب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ و ان تصبرواو تتقو الا یضرکم کید ھم شیئا ۔ ترجمہ : اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکر تمہیں مضرت نہیں پہنچا سکتا ۔ ایسے ہی اللہ کا ہر حکم صبر کا متقاضی ہے۔ نماز پڑھنا ہے تو صبر کرو۔ پانچوں وقت کی نمازیں ایسی ہیں کہ ہر وقت کا صبر الگ الگ قسم ہے ۔





فجر کا وقت نیند کے غلبہ کا وقت ہے اگر سردی کا موسم ہے تو سردی کو برداشت کرو اگر صبر کا مادہ ہے تو فجر کی نماز ہوسکتی ہے ورنہ نہیں۔ ظہر کا وقت گرمی کے زمانہ میں دھوپ اور گرمی کو برداشت کرنا ہے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد نفس آرام کا تقاضا کرتا ہے اب صبر کرو تو ظہر کی نماز ہوسکتی ہے۔ ورنہ نہیں۔ عصر اور مغرب کا وقت تو سب کے لئے مشاغل کے ہجوم کاوقت ہے۔ دوسرے تقاضوں کو دبا کر صبر کئے بغیر یہ دونوں نمازیں بھی ممکن نہیں۔عشاء کی نماز بھی دن بھر کی تھکان کے بعد نفس کے لئے آرام طلبی کا وقت ہے۔ غرض کہ پانچوں نمازیں جو طاعات میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں صبر کا تقاضا کرتی ہیں۔


اور روزہ تو عین صبر ہے۔ کھانا پانی سب موجود ہے صرف اللہ کے حکم کی وجہ سے بندہ صبر کرتا ہے اور حضور ﷺ نے تو پورے ماہ رمضان ہی کو صبر کا مہینہ قرار دیا ہے۔ فرمایا یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ اب دوسرے موضوع پر آیئے کہ صبر کے بغیر نواہی سے رکنا بھی ممکن نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ برائیوں کی طرف تیزی سے چلتا ہے۔



قرآن پاک میں یوسف علیہ السلام کی بات نقل کی گئی ہے وما ابری نفسی ان النفس لامارۃ بالسوء الامن رحم ربی ۔ کہ میں اپنے نفس سے بری نہیںہوں نفس تو برائی کی طرف ہی لیجاتا ہے۔


یہ ایک عمومی مسئلہ ہے ۔ مثلاً اللہ نے منع کیا ہے غیر محرم پر نظر ڈالنے سے ، فرمایا قل للمومنین یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فرو جھم و قل لمومنات یغضضن من ابصار ھن و یحفظن فروجھن ۔ ایمان والے مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نظرین نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور ایمان والی عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرین۔ نفس کے تقاضے کے باوجود اپنی نظروں کو روکے رکھنا یہ صبر ہی کا کام ہے۔




خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ عریانیت کا ماحول ہے۔ اب مسئلہ بے پردگی کا نہیں ہے۔ بلکہ عریانیت ہے ہر طرف نیم برہنہ عورتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ فلموں کے پوسٹرس ہر طرف دعوت نظارہ دے رہے ہیں بلکہ ہر مال اور ہر چیز کے اشتہار کے لئے نیم برہنہ عورتوں کی تصویروں کو ہی استعمال کیا جارہا ہے۔



T.V. پر نظر ڈالیں تو وہی عریانیت ہے۔ ان حالات میں اگر انسان صابر نہ ہو تو کوئی طاقت بد نظری سے نہیں روک سکتی۔ میوزک کا وہ دور دورہ ہے کہ مسجد یں اور مدرسہ بھی محفوظ نہیں ، موبائل فون کے واسطے سے جیبوں میں music بج رہا ہے۔ صبر ہی اس موسیقی سے بچنے کا بھی راستہ ہے۔

ماحول ایسے گندہ ہے کہ اس کا علاج تو دیر طلب ہے ہاں اپنے نفس کا علاج کیا جاسکتا ہے اس کو صبر کا عادی بنائیں اور یہ صبر کہا ملے گا، صبر نتیجہ ہے ایمان کا اور اللہ اور اس کے رسول کی خبروں پر پکے یقین کا۔




برے اعمال پر جو عذابات اور سزاؤں کی خبریں دی گئیں ہیں ان پر پختہ یقین ہو اور وہ سزائیں اور عذابات مستحضر ہوں اور پھر اپنے نفس سے مخاطب ہو کہ ہے ان سزاؤں کے برداشت کرنے کی ہمت اور طاقت۔ ایسے ہی نیک اعمال پر جو وعدے کئے گئے ہیں ان پر یقین ہو اور ان کا ستحضار ہو کہ جب بھی نفس طاعات میں سستی کرے اور اپنے نفس کو دعوت دے کیا تو ایسی بڑی بڑی نعمتوں کو پسند نہیں کرتا۔ دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کا دوام نفس پر پیش کرے کہ یہ لذتیں تھوڑی دیر کی ہیں مگر اس پر ملنے والا عذاب دائمی ہوگا۔ اس کے علاوہ اپنے آپ کو ایسے لوگوں کی صحبت اور ماحول میں رکھے جنہوں نے اپنے نفوس کو صبر کا عادی بنالیا ہے اگر ایسے لوگ مسیر نہ آئیں تویا ہماری رسائی نہ ہو تو ایسے لوگوں کی سوانح حیات پڑھیں ان کے حالات کا پڑھنا بھی اتنی دیر کے لئے گویا ان ہی کی صحبت میں رہنا ہے۔ اور ان اسلاف میں سب سے بہترین لوگ صحابہ کرام ہیں۔ حیاۃ الصحابہ میں ان کی زندگی کے حالات پڑھیں کہ یہ سب کے سب رسول اللہ ﷺ کے صحبت یافتہ ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں تمام امت کے لئے نمونہ عمل قرار دیاہے۔





آپؐ نے فرمایا اصحابی ک النجوم با یھم اقتدیتم اھتد یتم ۔ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ، تم ان میں سے جس کی بھی اقتداء کروگے ہدایت پاجاؤ گے۔



خود اللہ تعالیٰ نے بھی ان صحابہ کرام سے اور ان کی پیروی کرنے والوں سے اپنی رضامندی کا اعلان کیا ہے۔ فرمایا السابقون الاولون من المھاجرین والا نصار والذین التبعو ھم باحسان رضی اللہ عنھم و رضو عنہ ۔ ترجمہ : سابقین اولین مھاجرین میں سے اور انصار میں سے بھی اور جونیکی میں ان کی پیروی کرنے والے ہیں اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔



یہ صحابہ کرام وہ مبارک قوم ہیں جن کو اللہ نے اپنے آخری رسول اورحبیب رب العالمین کی مصاحبت کے لئے چنا ہے۔ ان کے اعمال ہمارے لئے علوم ہیں۔ ان کے اعمال کا مطالعہ ہمارے علم کو بڑھائیگا اور یہ علم ہماری رہبری کرے گا کہ طاعات پر کیسے صبر کیا جاتا ہے۔ اور نواہی سے بچے کے لئے صبر کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اور مصائب و آلام پرکیسے ثبات قدمی نصیب ہوسکتی ہے۔




دنیا تو ہے ہی حادثات کی جگہ۔ یہ حوادث ہمیں ناشکری اور بے صبری پر آمادہ نہ کریں۔ حضرت معاذ بن جبل کے بیٹے کا انتقال ہوا تو حضور ؐ نے انہیں تعزیتی خط لکھا جس میں لکھا کہ ہماری جان اور مال سب اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ان چیزوں سے ہم کو نفع پہنچاتا ہے اور جب چاہتا ہے واپس لے لیتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی نقصان پر غم ہونا یہ فطری بات ہے لیکن اللہ کے تقدیری فیصلے پر راضی رہنا یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ چاہے بڑے سے بڑی مصیبت آجائے اپنے نفس کو یہ سمجھا ئے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ ۔ کوئی مصیبت نہیں آتی مگر اللہ کے اذن سے۔ پھر یہ سمجھا ئے کہ اللہ تو بڑا مہربان بہت رحم کرنے والا ہے اس مصیبت میں بھی ضرور کوئی مصلحت ہوگی جس کو میں نہیں جانتا۔ اس طرح اپنے نفس کو سمجھائے اور اس مصیبت پربھی اجر و ثواب کی بھی پوری امید رکھے۔






حدیث میں ہے کہ مومن کو کانٹا چبھتا ہے تو اس پر اجر دیا جاتا ہے۔ مومن کو بخار آتا ہے تو اس پر بھی گناہ معاف ہوتے ہین۔ کسی گناہ سے رکنے پر نفس تلملا تا ہے اس پر بھی اللہ کی رضا ملتی ہے کسی حکم کو پورا کرنے میں نفس پر جو مشقت پڑتی ہے اس سے بھی آخرت سنورتی ہے۔ صبر چاہے جس قسم کا ہو اس میں نقصان ہے ہی نہیں ، بظاہر تکلیف ہے لیکن حقیقت میں نفع ہی نفع ہے۔ حدیث میں ہے کہ بعض مرتبہ آدمی کے لئے اتنے بلند درجات طے کردیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنے عمل سے ان درجات تک نہیں پہنچ سکتا تو اس کو مصائب میں مبتلا کر کے صبر کی توفیق دی جاتی ہے اور اس طرح اسے ان بلند درجات تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ بس بندہ کا کام ہے ہر حال کو اپنے لئے خیر سمجھے اور ہر حال میں اپنے آپ کو دین پر جمائے رکھے۔ اور اللہ ہی سے صبر و استقلال مانگتا رہے۔ اور عافیت اور سہولت بھی مانگتا رہے۔ اور اپنے کو ہمیشہ کمزور سمجھے اور آزمائش کے قابل نہ سمجھے اور اللہ سے کہتا رہے کہ اے اللہ سہولت کے ساتھ آخری دم تک اپنی مرضیات پر چلالے۔ بچل جانے سے پھسل جانے سے حفاظت فرما۔ اللھم لاتزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا و ھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب ۔



اللہ سے
عافیت مانگیں صبر نہ مانگیں، صبر مانگنا تو گویا مشکلات مانگنا ہے۔ کیونکہ مشکلات آئیگی تو ہی صبر کی ضرورت پڑے گی۔ چاہے مشکل دین پر چلنے میں ہو یا گناہ سے بچنے میں یا کسی مصیبت میں، اللہ اپنے فضل سے آسانیوں کا معاملہ فرمائے۔ آمین۔

Friday, March 11, 2011

Baat Ase Bani ..... Kahani Urdu بات ایسے بنی

بات ایسے بنی
کہانی

llllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllllll

ایک غریب بڑھیا ایک دن بادشاہ سے ملنے گئی۔ جب وہ محل کے دروازے پر پہنچی تو دربان نے اسے روکا اور پوچھا تم بادشاہ سے کیوں ملنا چاہتی ہو۔

میں بہت غریب ہوں میرے گھر کھانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ یہ فریا د لے کر میں بادشاہ کے پاس آئی ہو ں ۔ بڑھیا نے کہا۔
دربان نے کہا’’بادشاہ سلامت آج بہت غصے میں ہیں ۔ تمہاری بات نہ سنیں گے نہ اس پر دھیان دیں گے جاؤ کسی اور دن آنا۔‘‘بڑھیا نے کہا ’’نہیں میں بہت پریشاں ہوں۔‘‘


دربان نے کہا اچھا ایسا کرو کوئی ایسی بات بتاؤ جسے سن کر بادشاہ حیران ہوجائے اور تمہاری بات سننے کے لئے تمہں بلائے۔’’ٹھیک ہے‘‘بڑھیا نے کہا ’’بادشاہ سلامت سے کہو کہ ایک بڑھیا آئی ہے اور یہ کہہ رہی ہے کہ اس کے گھر میں چوہے نہیں ہیں۔‘‘


دربان نے اس بڑھیا کا پیغام بادشاہ تک پہنچادیا۔ بادشاہ نے فوراً اس بڑھیا کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا اور وہ اس کے سامنے پہنچی تو بادشاہ نے کہا۔میں تمہاری بات سمجھ گیا ۔ تمہارے گھر میں چوہے نہیں ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ جس کے لئے چوہے گھر میں آئیں۔



اس کے بعد بادشاہ نے اس عقلمند بڑھیا کو انعام سے نوازا اور حکم دیا کہ اسکے گذر بسر کا پورا انتظام کیا جائے۔