Adabe Atfal Do Kitabon Ka Ijra >Report


رسم ِاجرا کا ایک منظر ۔۔۔

داءیں سے۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ،ڈاکٹر غلام السیّدین ربّانی

ڈاکٹر آغا غیاث الرحمٰں ،ڈاکٹر محبوب راہی اور ڈاکٹر محمّد اسداللہ 

ڈاکٹر محبوب راہی کا استقبال کرتے ہو ٔے ڈاکٹر اشفاق احمد
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، 
خواب نگر
اور
نئی صبح
کی رسمِ اجراء
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ناگپور ۔۔۔۔
مورخہ :
۲۲! جنوری ۲۰۱۰

ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے اپنی انشائیہ نگاری کی صلاحیت کو بروئے کار لا تے ہو ئے بچّوں کے لئے ’خواب نگر‘ میں ایسی نظمیں تحریر کی ہیں جن میں تفریحی پہلو نمایاں ہے ۔حمد ،نعت اور قومی نظموں کے علاوہ اس کتاب میں تقریباً پچاس منظومات موضوع کے اعتبار سے متنوع اور انوکھی ہیں یہ اس کتاب کی ایک قابلَ ذکر خوبی ہے ۔ ‘

ڈاکٹر غلام السیّدین ربّانی نے ان خیالات کااظہار انجمن خیر الاسلام کے ذریعے منعقدہ ڈاکٹر محمّد اسد اللہ کی تصنیف ’خواب نگر‘ کی رسمِ اجراکی ایک تقریب میں کیا جس کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر آ غا غیاث الرحمٰن نے انجام دئے ۔ ڈاکٹر محبوب راہی کے ہاتھوں اس کتاب کا اجرا ء عمل میں آ یا ۔اس موقع پر قاضی رؤف انجم بطور مہمانِ خصوصی موجود تھے ۔

اسی تقریب میںتقریب میں معروف افسانہ نگار ڈاکٹر اشفاق احمد کی کتاب’ نئی صبح ‘کی رسمِ اجرا ء بھی ڈاکٹر محبوب راہی کے ہاتھوں عمل میں آ ئی ۔اس موقع پر اظہارِ خیال کر تے ہو ئے ڈاکٹر زینت اللہ جاوید نے اس کتاب میں شامل کہانیوں کو دلچسپ اوربچّوں کے لئے سبق آ موز بتایا ۔ انھوں نے کہا کہ ،’ ادب ہماری ذہنی تربیت اور کر دار سازی کا فریضہ انجام دیتا ہے اس لئے بچّوں کے لئے لکھی گئی کہانیاں دلچسپ ہو نے کے علاوہ اخلاقی قدروں کی حامل بھی ہو نی چاہئے۔ڈاکٹر اشفاق احمد کی تحریروں میں یہ خوبی لائقِ تحسین ہے‘ ۔
ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے کتاب پر تبصرہ کر تے ہوئے نئی نسل میں اردو زبان اور کتابوں سے دوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلباء میں کتابوں کے مطالعہ کا شوق پیدا کر نے لئے مفیداور لچسپ کتابوں کی اشاعت وقت کی ایک اہم ضرورت ہے ۔
معروف شاعر محبوب راہی بیرو ن ملک کے ایک مشاعرہ (قطر) میں شرکت کر کے لوٹے اس موقع پر ان کا استقبال کیا گیا انھوں نے اپنے سفر کا احوال سنایا۔ 
رسم ِ اجرا کے بعد  شہر ناگپور کے ادباء و شعراء نے اپنی تخلیقات پیش کیں جن میں غزلیں ،منی افسانے،انشا  ٔیے اور کہانیاں بھی تھیں ۔

جناب اسعد حیات کے ذریعے تلاوتِ کلامَِ پاک سے اس جلسہ کا آ غاز ہوا ۔ ڈاکٹر محبوب راہی اور ڈاکٹر غلام السیّدین کا استقبال کیا گیا ۔ محمّدا سد اللہ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کر تے ہو ئے اپنی کتاب کے متعلق یہ اطلاع دی کہ مہارشٹر اسٹیٹ اردو اکاڈمی کے مالی تعاون سے منظرِ عام پر آئی کتاب ’خواب نگر’ ای بک ‘کے طور پر انٹر نیٹ پر اس پتہ پر دستیاب ہے ۔ http://bazmeurdu.blogspot.com
گلستان کالونی میں منعقدہ اس تقریب میں شہر کے مقتدر شعراء اور ادب نواز شخصیات نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر بدرِ جمیل،ڈاکٹر زینت اللہ جاوید ،ڈاکٹر رضی الدین معروفی،عبدالصمد قیصر ،عبدالوحید ،مشتاق احسن ،سکندر حیات اور ڈاکٹر جاوید قابلِ ذکر ہیں۔


Paisa Hi Sab Kuch Nahi. پیسہ ہی سب کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..... Mohammad Shareef


پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے

محمّد شریف ،ناگپور

ہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ

ایک صاحب سے مجھے کچھ رقم مستعار لینی تھی ، جس کا وہ مجھ سے وعدہ کرچکے تھے، میں نے انہیں فون کیا تو نوکر نے اٹھایا ، میں نے پوچھا صاحب ہیں؟ اس نے پوچھا آپ کون ؟ میں نے اپنا نام بتایا۔ اس نے صاحب کو جو قریب ہی کھڑے یا بیٹھے ہوگے ، میرا نام بتایا ، صاحب نے کہا ، بول دے صاحب نہیں ہیں۔ اس آواز کو میں نے بھی سن لیا اور پھر نوکر نے بھی مجھ سے کہہ دیا ،صاحب نہیں ہے۔ میں نے فون رکھ دیا۔ میں بھی خود دار آدمی ہوں، سمجھ گیا کہ یہ دینا نہیں چاہتے، اس کے بعد سے نہ اس کا کوئی ذکر کیا نہ فون کیا۔ بات تو ختم ہوگئی۔ میراکام بھی کہیں اور سے پورا ہوگیا۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ یہ مقابلہ مال اور عمل کا تھا۔ ان صاحب نے اپنی ہوشیاری سے مال بچالیا اور عمل خراب کرلیا۔ حالانکہ یہاں مال صرف عارضی طور پر کچھ مدت کے لئے قبضہ سے نکلنے والا تھا ضائع ہونے والا نہیں تھا، لیکن انہوں نے ضائع ہونے کے موہوم خوف سے اپنا عمل خراب کر کے آخرت کو نقصان پہنچایا۔ ایک تو انہوں نے جھوٹ کا ارتکاب کیا جو گناہ کبیرہ ہے۔ دوسرے وعدہ خلافی کی۔ وہ بھی گناہ کبیرہ ہے۔ تیسرے اپنے وقار کو میرے نزدیک کم کرلیا۔ اگر وہ پہلے عذر کردیتے تو کوئی نقصان نہیں تھا۔ اکثر لوگوں میں یہ بیماری پائی جارہی ہے کہ وہ پیسے ہی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں عمل کی پرواہ نہیں کرتے۔

نیک آدمی کے لئے مال اچھی چیز ہے لیکن اتنی اچھی نہیں کہ اس کے لئے اپنا عمل خراب کیا جائے جبکہ مال کی ملکیت بھی عارضی ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ مال کی محبت آدمی کے خمیر میں رکھی گئی ہے۔ انہ لحب الخیر لشدید ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان خیر کی محبت میں بہت شدید ہے۔ اور یہاں خیر سے مراد مال ہے۔ یہ مال آدمی کے لئے خیر اسی وقت تک ہے جب تک کہ آدمی اس مال سے اپنی آخرت بنائے۔ اگر مال کے ذریعہ اپنی آخرت کو بگاڑتا ہے تو اس مال سے بڑھ کر کوئی شر نہیں ہے۔ کہ مال کی فروانی آدمی کو اللہ سے اور آخرت سے غافل کردیتی ہے۔ جب آدمی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے میں کمزور ہوتا ہے یعنی جب یقین میں ضعف ہوتا ہے تو سب سے کم درجہ یہ ہے کہ آدمی مال میں اسراف یعنی فضول خرچی اختیار کرتا ہے۔ یہ اللہ سے بُعد کا پہلا زینہ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان اللہ لایحب المسرفین ۔ ’’ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ‘‘۔

جب اللہ تعالیٰ کسی کو پسند نہ کرے تو وہ اللہ سے قریب کیسے ہوسکتا ہے۔ بہت سے لوگ نماز روزہ وغیرہ عبادات کر کے اللہ سے قریب ہونے کا گمان کرتے ہیں جبکہ اسراف نے انہیں اللہ سے دور کردیا ہے۔ یہ تو آدمی کی بھی فطرت ہے کہ جب انسان کسی کو ناپسند کرتا ہے تو اس سے قریب ہونا نہیں چاہتا بلکہ اس سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آدمی مال کو سب کچھ سمجھتا ہے اور مال کی بہتات ہوجاتی ہے تو دوسرا قدم یہ اٹھتا ہے کہ آدمی تبذیر میں پڑجاتا ہے۔ تبذیر یعنی بے موقع اور بے محل خرچ کرنا یہ اسراف سے بڑا ہے اس کے بارے میں قرآن پاک کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ بے محل خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہے۔ ان المبذرین کانو اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربہ کفورا ۔ یہ شیطان کا بھائی بن گیا یعنی ہم مشرب اور ہم مسلک بن گیا تو ایسا انسان بھی اللہ کا ناشکرا قرار دیا جائیگا ۔ اور ناشکری ایسی بُری چیز ہے کہ آدمی کو اللہ سے بھی دور کردیتی ہے اس کے دوسرے اعمال بھی برباد ہوجاتے ہیں اور اس سے نعمتیں بھی زائل ہوجاتی ہے۔ شیطان کا کیا حال ہوا حالانکہ وہ بڑا عبادت گذار تھا مگر اس کی نا شکری کی وجہ سے مردود قرار دیا گیا اور اس کی ساری عبادتوں پر پانی پھر گیا۔ اور اس کی ساری نعمتیں چھن گئیں۔ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے لیکر قیامت تک جب تک کوئی اس کا نام لیگا لعنت کے ساتھ نام لیگا۔ یہی حال شیطان کے تمام رشتہ داروں یعنی مبذرین کا ہوتا ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنا چاہئے۔ جب آدمی مال کی تکثیر کی وجہ سے اور آگے بڑھتا ہے تو وہ گناہون میں خرچ کرنے والا بنتا ہے۔ جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ جہنمیوں کی صفات میں یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ وہ دنیا میں بڑے عیش کی زندگی گذارا کرتے تھے انھم کانو قبل ذالک مترفین اس لئے ضروری ہے کہ آدمی مال کی زیادہ حرص اور لالچ نہ کرے بلکہ بقدر ضرورت پر قناعت کرے۔ مال کو حدیث میں فتنہ کہا گیا ہے۔ اور فتنہ کو قرآن پاک میں قتل سے بھی زیادہ اشد اور قتل سے بڑا بتایا گیا ہے الفتنۃ اشد من القتل اور الفتنۃ اکبر من القتل مال کے حصول میں اللہ کے حکموں کی رعایت کرے اور جب مال آجائے تو اس کے جمع رکھنے میں بھی اللہ کے حکم کو دیکھے اور خرچ کرے تو اس میں بھی اللہ کے حکم ہی کو اصل سمجھے۔ نہ خرچ کرنے میں بھی اللہ کا حکم اصل ہو۔ مال کی کمی کے خوف سے خرچ کرنے سے رکنا اللہ پر توکل میں کمی کی دلیل ہے۔ جبکہ تو کل پر اللہ تعالیٰ نے اپنے کافی ہوجانے کا وعدہ کیا ہے۔ ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ ’’ جو اللہ پر توکل کرلے اللہ اس کے لئے کافی ہے ‘‘۔ اللہ پر توکل نہ کرنے والا اللہ کی کفایت سے نکل جاتا ہے۔

جب کسی کے پاس مال ہوتا ہے تو عام طور پر اس کی نظر اللہ سے ہٹ جاتی ہے اور وہ مال ہی پر بھروسہ کرنے لگتا ہے۔ اور یہ اللہ کی سنت ہے کہ بندہ جس پر بھروسہ کرتا ہے اور جس سے امید کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کے حوالہ فرمادیتا ہے۔ یہ ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن آدم جس چیز سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کو بندہ پر مسلط کردیتا ہے اور جس چیز سے ابن آدم امید باندھتا ہے اسی کے حوالہ کردیتا ہے۔ اس وقت امت میں عموماً یہ مرض سرایت کرچکا ہے کہ لوگ مال ہی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں اور یہ یقین کررہے ہیں کہ مال ہی سے سب کچھ ہوتا ہے اور مال کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لئے اللہ نے بھی مال کے حوالہ کردیا کہ مال کماؤ پھر تمہارے کام بنائیگے۔ اس لئے ساری دنیا مال کے لئے دوڑرہی ہے۔ مال کے لئے اپنے وطنوں کو عزیز واقارب کو چھوڑ چھوڑ کر غیر ممالک میں پڑے ہوتے ہیں۔ غیر مسلم اگر مال کے لئے ایسا کریں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ان کے لئے تو دنیا ہی جنت ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمان مال کے لئے مارا مارا پھر رہا ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنی خاندانوں کو ہندوستان ، پاکستان، میں چھوڑ کر دوبئی۔ ابوظبی، شارجہ اور سعودی عرب اور کویت اور قطر میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر تھوڑی روزی پر قناعت کرتے تو چین وسکون کے ساتھ اپنے بیوی بچوں اور خاندان کے لوگوں میں اپنے وطن میں بہترین زندگی گذار سکتے تھے۔ یہ مال ہی کا فتنہ ہے جس نے وطن سے بے وطن کردیا ۔ یہ مال کمانے کی حرص کی ایسی وبا ہے کہ اس کے لئے سب راضی بھی ہیں۔ ان بیرونی ممالک میں ملازمت یا کاروبار کے لئے جانے والوں کو کوئی روکنے والا نہیں ہے نہ بیوی بچے اپنے شوہر یا والد کی جدائی پر ناراض ہے نہ ماں باپ ، بیٹے کی جدائی سے خفا ہیں کہ مال کی امید ہے۔ کسی مولوی صاحب اور مفتی صاحب کو بھی اس کی تو فیق نہیں ہوتی کہ وہ اپنے اقربا یا متعلقین میں سے جو بیرون مال کے لئے جارہا ہو اس سے روکے۔ جبکہ حضورؐ کا ارشاد ہے کہ بہترین روزی وہ ہے جو آدمی کو اپنے وطن میں ملے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کمانے کے لئے باہر ملک جانا ناجائز یا حرام ہے۔ لیکن اس میں دین کا ضرر ضرور ہے۔ باہر رہ کر جب مقصد ہی دنیا ہوتا ہے تو آدمی دین کی پرواہ نہیں کرتا ادھر بیوی بچے بھی آزاد ہوجاتے ہیں۔ شوہر کی غیر موجودگی میں گھر کی حکومت بیوی کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ وہ شوہر کے پیچھے خود بھی من مانی زندگی گذارتی ہے اور بچے بھی آزادی میں پرورش پاتے ہیں۔ پھر مال کی کثرت پورے گھرانہ کو اسراف اور تبذیر اورترف میں مبتلا کر دیتی ہے اور آخر کار دنیا بھی برباد ہوتی ہے اور دین تو پہلے ہی گیا ہوتا ہے۔ جس کی مذمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔

ایک جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے انما الحیاۃ الدنیا لھو ولعب دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے۔ ایک جگہ فرمایا وماالحیوۃ الدنیا الا متاء الغرور یعنی دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے سوائے دھوکہ کے سامان کے۔اس لئے مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ مال کے چکر میں نہ پڑے۔

حضورؐ نے فرمایا اجملوفی الطلب یعنی اپنی طلب میں اختصار کرو۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ضروری ہے کہ مال کمانے میں ہمیشہ اس کا خیال رکھے کہ کوئی ایسا کاروبار یا ملازمت نہ اختیار کر ے جس میں دین پر چلنا مشکل ہو۔ ایسا شغل جس میں دین پر چلنا اور اللہ کے اوامر کو پورا کرنا مشکل ہو اس کا اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ عام طور پر آج کے مسلمان اس کا لحاظ نہیں کرتے۔ بس تنخواہ اچھی ہونا چاہئے ، چاہے دین رہے یا نہ رہے۔ ایسے پیسے سے کیا بھلا ہوگا جس میں دین برباد ہوجائے۔ دینی غیرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم ایسا پیشہ بھی نہ اختیار کریں جس میں ہمیں اپنا کلچر چھوڑنا پڑے۔ مثلاً ہندوستان میں ملٹری اور پولس کے لئے پابندی ہے کہ وہ داڑھی نہیں رکھ سکتے تو کیا ضروری ہے کہ ہم پولس یا فوج میں بھرتی ہوں۔ روزی کے ہزاروں دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی وہ ماحول جہاں پابندی تو کسی چیز کی نہیں ہے مگر پھر بھی آدمی کا دین پر رہنا مشکل ہو ایسے ماحول میں بھی اپنا پیشہ یا کاروبار نہ کرے ، چاہے کتنی ہی بڑی تنخواہ مل سکتی ہو۔ مسلمان پر حلال کمائی فرض ہے ، لوگ سمجھتے ہیں صرف کمانا فرض ہے۔ نہیں بلکہ حلال کمائی فرض ہے اور وہ بھی دوسرے فرائض کے بعد، جہاں نماز نہ ہوسکتی ہو۔ اور حرام سے نہ بچا جاسکتا ہو وہ کمائی ناجائز ہے۔ حضورؐ کا ارشاد ہے کسب الحلال فریضۃ بعد الفرائض یعنی حلال کمائی فرض ہے دوسرے فرائض کے بعد۔ یہ بات خوب اچھی طرح اپنے ذہن میں بٹھائیں کہ پہسہ ہی سب کچھ نہیں ہے۔ بلکہ اصل دین ہے۔ دین داری کے ساتھ اگر پیسہ آتا ہے اور دینداری کے ساتھ ہی پیسہ خرچ بھی ہوتا ہو تو نیک آدمی کے لئے مال اچھی چیز ہے وہ اس میں دنیا اور آخرت کا نفع اٹھا سکتا ہے۔ جس مال سے دین خراب ہوتا ہو جس مال سے آخرت برباد ہوتی ہو وہ خود کو مارنے کے مترادف ہے۔ ایسے مال کا کیا کرینگے جس سے ہمارا محبوب اللہ ہم نے ناراض ہوجائے۔ ایمان والوں کا محبوب تو اللہ ہے

الذین امنوا اشد حب للہ ’’ جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں ‘‘۔

اسی لئے اللہ کے رسول نے امت کو دعا سکھائی ہے اللھم اجعل حبک احب الی من نفسی و اھلی ومن الماء البارد یعنی اے اللہ مجھے اپنی محبت عطا فرما جو میری جان سے اہل وعیال سے اور سخت پیاس کی حالت میں ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Jamhootiyat ka matlab

جمہوریت کا مطلب

مزاحیہ نظم  
محمّد اسد اللہ 
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
جمہوریت یہی ہے کہ سب سڑک پہ آ ئیں 
حق مانگنے کو اپنا جب تب سڑک پہ آ ئیں 

جینے کی راہ ہے یہ داناؤں کی نظر میں 
جمہوریت کا ہے یہ مطلب سڑک پہ آ ئیں 

اک تنتر گن چلانے کا ہے یہ اور کیا ہے
گن تنتر ہے یہ لے کر گن سب سڑک پہ آ ئیں 

موچی سے منتری تک سب آ گئے سڑک پر 
کیوں آ پ گھر گھسے ہیں صاحب! سڑک پہ آ ئیں 

کیا نیا ئے کیا سہولت ،کیا دان کیا حکومت 
جو چاہیے ملے گا ،جب جب سڑک پہ آ ئیں

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::


Urdu writing workshop in Nagpur تخلیقی ورکشاپ طلباء کے لٔے


Shaikh Mohammad Hashim ,Guest Editor of Tahzeebul Kalam
Eminent Writer Wakeel Najeeb 
Famous Critic Poet and Writer Dr. Sharfuddin Sahil 
........................................................................................................
ایک رپورٹ 
مولانا ابوالکلام آزاد ہا ئی اسکول و جو نیئر کالج میں 
تخلیقی ادب کے لئے ورکشاپ کا انعقاد

 ناگپور ..
وہ طلبا جو ادب میں اپنی پہچان بنانا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے اندر چھپی ہو ئی فطری صلاحیتوں کو پہچانیں اور پھر مخصوص صنفِ ادب کا انتخاب کر کے لگاتار طبع آ زمائی کریں ۔‘

 مشہور ادیب و محقق ڈاکٹر شرف الدین ساحل نے مولانا ابوالکلام آزاد ہا ئی اسکول و جو نیئر کالج میں منعقدہ، رائیٹنگ ورکشاپ کے کلیدی خطبہ میں طلبا کو مختلف اصنافِ ادب سے متعارف کر واتے ہو ئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ 
  اسی کالج کے پرنسپل جناب عبدالرؤف کی صدارت میں افتتاحی تقریب کا آغاز ایک طالبِ علم محمّد مصطفےٰ نے تلاوتِ کلامِ ربّانی سے کیا۔
 ہائی اسکول و جو نیئر کالج کے تقریباً دو سو طلبا نے اس ورکشاپ میں شرکت کی جو اسکول کے سالانہ مجلّہ تہذیب الکلام ۲۰۱۰؁ء کے لئے تخلیقی کام کرنا چاہتے تھے ۔ اس موقع پر بچّوں کے معروف ادیب و ناول نگار جناب وکیل نجیب نے طلباء کو زیادہ سے زیادہ کتابوں اور رسائل کے مطالعہ کا مشورہ دیا تاکہ وہ معیاری ادیبوں کے طرزِ تحریر اور مختلف اسالیب سے واقف ہو سکیں ۔ میگزین تہذیب الکلام کے مہمان مدیر جناب شیخ محمّد ہاشم نے ورکشاپ کے شرکاء طلبا کو ڈائری لکھنے کی ترغیب دی تاکہ لکھنے کی مشق کے ساتھ عمدہ اقوال ،اشعار اور ادیبوں کے افکار کا ذخیرہ بھی کر سکیں جو ان کے تخلیقی سفر میں معاون ثابت ہو۔
 
 میگزین کے مدیر اور معروف انشائیہ نگار ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے طلبا کو رسائل سے تحریریں نقل کر کے پیش کرنے یا چراکر اپنے نام سے چھپوانے کی بری عادت سے دور رہ کر، آسان اور اپنی دلچسپی کے مو ضوعات پر لکھنے کا مشورہ دیا ۔ 
 جناب ضیا اللہ خاں لو دھی نے طلبا ء کو سرِ ورق کے ڈیزائن بنانے سے متعلق مفید ہدایات دیں ۔ اس ورکشاپ میں جو نیئر کالج کی طالبات نے اپنی کاوشوں کو پیش کر کے دادِ تحسین حاصل کی ۔ 
 پرنسپل جناب عبدالرؤف نے اپنے صدارتی خطبے میں طلبا سے کہا کہ وہ پر اعتماد طریقے سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اپنے اساتذہ اور مقامی ادیبوں اور شاعروں کی رہنمائی حاصل کر کے زبان و ادب کی خدمت کا فریضہ انجام دیں ۔ 
 

Pune -Ek Safar Ki Jhalkiyan

سینا پتی باپٹ روڈ پر واقع سم بایوسس کالج کا ایک منظر ۔۔۔۔۔

 گیٹ کے اندر مشہور آرٹسٹ آر کے لکشمن   کے کارٹونوں میں پاءے جانے والے عام آ دمی کا مجسمہ 


تلک واڑا 


شنوار واڑا 

آدی واسی سنگرہالیہ ۔۔۔۔۔۔۔  میوزیم کا ایک منظر

یودّھ بھومی 

ایک سفر شہر پونا کا 
محمّد اسد اللہ 

اس بار نصابی کمیٹی بال بھارتی کی ایک میٹنگ میں شرکت کے لئے پوناجانے کا اتّفاق ہوا۔اسے حسنِ اتّفاق ہی کہا جائے گا کہ اس بار میرا بیٹا توصیف احمد اور شہر ناگپور کے معروف ادیب،ناقد محقق ڈاکٹر شرف الدین ساحل میرے ساتھ تھے ۔اس سے پہلے بارہا اس شہر میں رہ کر اردو کتابوں کے تیّاری،تبصرہ ،ورکشاپ وغیرہ سر گر میوں میں مصروف رہا اورہر بار نئے لو گوں سے ملنا ،اردونواز دوستوں ،ادیبوں ،شاعروں کے ساتھ دیر تک ادبی ،غیر ادبی مو ضوعات پر گفتگو ،ملاقاتیں دعا سلام اوراہلِ اردو کے منفرد خلوص و محبّت،بزرگ قلمکاروں کی شفقت، ایسے تجربات ہیں جو ناگپور سے پونا کے تقریباً سولہ یا اٹّھارہ گھنٹے کی پر مشقّت مسافت کو بخوشی برداشت کرنے پر آ مادہ کر تے ہیں ۔ 

یوں توہمیں یہاں اس خوش گمانی کے تحت مدعو کیا جا تا ہے کہ ہم نصابی کتا بوں کو بہتر بنانے میں کچھ مدد کریں گے، زبان و ادب پر ہمار ی نظر ہے ،من آنم کہ من دانم ،
ہم بھی اس دعا کے ساتھ رختِ سفر باندھ لیتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ان کے گمان کے مطابق بنادے ۔
       ہم میں سے مختلف لو گوں کے یہاں آ نے کے مقاصد یقینا مختلف ہو ا کرتے ہیں ۔ مراٹھی کے ایک ٹیچر نے مجھے بتایا کہ اس سفرمیں جس قدر خرچ ہو تا ہے اتنا تو یہاں ملتا نہیں، مگر ہمار ی بستی میں اس اعزاز سے ہماری شان بڑھ جاتی ہے کہ ہم بورڈ ورک کے لئے گئے ہیں ،میں اسی لئے آ تا ہوں ۔ ہمارے ساتھیوں میں ایک صاحب جو اسی ذہنیت کے مارے تھے ناگپور سے ہوائی جہاز کا ٹکٹ لے کر پو نا آ دھمکے ،منتظمین نے یہ کہہ کر انھیں زور کا جھٹکا دیا کہ ہم بس ہی کا کرایہ آ پ کی خدمت میں پیش کر سکیں گے ۔  

میر ی ہی طرح یقینا کئی لو گ ایسے بھی ہوں گے جو اسکول کی گھٹن بھری فضا سے جو ان دنوں ہر جگہ یکساں ہے ،چند پر لطف لمحات چرانے کے لئے اس قسم کی میٹینگوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میرے لئے تو اس قسم کی مجلسیں ہر بار کچھ نیا سیکھنے اورعلم و ادب کے گلستانوں سے خوشہ چینی کا ایک بہا نا رہا ہے ۔
اس میں کو ئی شک نہیں کہ پو نا بورڈ میں کتابوں کی تیّاری زبان و ادب کے ماہرین اور قلمکاروں کی ان تھک ریاضت، محنت لگن ،انہماک اور خوب سے خوب تر کی جستجو کا مظہر ہے ،یہی سبب ہے کہ لسا نی کمیٹی کے ایک رکن کے قول کے مطابق این سی ای آ ر ٹی جو نصابی کتب کی تیاری میں ایک معتبر ادارہ مانا جا تا ہے ،پو نا بورڈ کی تیار شدہ کتابوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ان ہی اراکین میں سے ایک صاحب یہ کتابیں پاکستان لے گئے تو ا ن کتابوں کو ہا تھوں ہاتھ لیا گیا ۔ کیوں نہ ہو جس قدر عرق ریزی اور سنجیدگی سے یہاں کام ہوتا ہے اس کا اثر تو ہو گا ہی ۔ 
اس بارمیں چاہتا تھا کہ توصف میاں جو ما شااللہ بی۔ ای۔ کے تیسرے سال میں ہیں کتابوں اور اپنے کالج کے ماحول سے نکل کر نئے شہر کی آب و ہوا اور لو گوںسے بھی روشناس ہوں ۔ 
بقول غالب    

   بخشے ہے جلوۂ گل ذوقِ تماشا غالب
     چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہو جا نا ۔
 
  شہر پونا میں کئی قابلِ دید مقامات ہیں ۔شنوار واڑا،کیلکر میوزیم،آغا خاں پیلیس ،سارس باغ ،سنیک پارک ،اعظم کیمپس ،وغیرہ 

ہماری میٹینگ کا دوسرا دن تھا۔صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے میں اور توصیف آٹو کے ذریعے ڈکّن بس اسٹاپ پہنچے ۔پتہ چلا پونا درشن ،ایک بس دن بھر شہر کی سیر کراتی ہے ۔ایک سو چالیس روپئے کا ٹکٹ توصیف کے لئے خریدا اور وہیں ہلکا سا ناشتہ کر کے توصیف بس میں سوار ہو گئے ۔ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کے اس سفر میں کئی مقامات ہیں جن میں کئی مندر اور تاریخی عمارات بھی شامل ہیں ۔ میں تو بال بھارتی چلا آ یا اور توصیف شام تک پو نا درشن میں مشغول رہے ۔ اس سفر کی چند تصاویر یہاںپیش کی جا رہی ہیں۔