بدھ, اپریل 01, 2009

Ghazal- Kabhi Batil Bhaga Kar Haq Ko Le Jata Hai Basti Se


غزل
محمّد اسد اللہ



میں پاکٹ کی طرح خود کو کہیں پر بھول آ یا ہوں
یہاں رہتے ہو ئے مجھ کو تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے

کبھی باطل بھگا کر حق کو لے جاتا ہے بستی سے
کبھی حق بھیس میں باطل کے آ کر منہ چڑھا تا ہے

سوا مسدود راہوں سے ،ہوا کے کون آ ئے گا ؟
نہ جانے کس کی خاطر یہ دیا اب جھلملاتا ہے

کبھی اندیشۂ باطل ہمیں سونے نہیں دیتا
کبھی حق نیم شب دروازہ آ کر کھٹکھٹاتا ہے

چٹانوں کی طرح ہم ہیں مگر ٹوٹ ے ہو ئے بھی ہیں
یہاں ہرپل بکھر نے کا ہمیں اندیشہ رہتا ہے

فضائیں ایک مدّت سے اذانوں کو ترستی ہیں
یہاں ہر شخص سچّائی کو بس کانوں میں کہتا ہے

5 تبصرے:

  1. یہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. آپ کی شاعری اچھی ہے لیکن آجکل اس ذومعنی شاعری کی بجائے لوگ بے معنی شاعری پسند کرتے ہیں ورنہ وقم مجودہ حال کو نہ پہنچتی

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت اچھی غزل ہے اسد صاحب، گو بغیر مطلعے کے غزل ہے اور پہلا شعر بھی کچھ "ڈھیلا" سا ہے لیکن باقی اشعار بہت اچھے ہیں، لاجواب۔

    امید ہے آپ کی شاعری ہمیں پڑھنے کو ملتی رہے گی۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. فضاءیں گونجتی ہیں ہر طرف اب تو اذانوں سے
    مگرگوڈے کھسانے مسجدوں میں کوءی جاتا ہے

    جواب دیںحذف کریں