ہفتہ, اگست 16, 2008

Rajiv Gandhi - a tribute

راجیو گاندھی۔ ایک مختصر نوٹ

راجیو گاندھی بھارت کے وزیرِ اعظم راجیو گاندھی ۲۰! اگست ۱۹۴۴کو ممبئی میں پیدا ہوئے ۔ ان کی والدہ مسز انداگا ندھی کی وفات کے بعد راجیو گاندھی بھارت کے وزیرِ اعظم بنے ۔ وہ اس عہدے کو سنبھالنے والے بھارت کے ساتویں اور سب سے کم عمر وزیرِ اعظم تھے ۔ سیاست میںآ نے سے قبل وہ انڈین ایر لائین کے پایلٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے ۔

راجیو گاندھی نے ایک ایسے گھرانے میں آ نکھ کھولی تھی جس کا ہندوستان کی جنگِ آ زادی سے گہراتعلق تھا ۔ ان کے دادا پنڈت موتی لعل نہرو اور والد پنڈت جواہر لعل نہرو تحریکِ آ زادی کے اہم رہنماؤں میںشامل تھے ۔ تحریکِ آ زادی کو اس خاندان سے کافی تقویت حاصل تھی ۔ پنڈت جواہر لعل نہرو آ زاد بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم مقرر کئے گئے ۔ راجیو گاندھی کے نام میں شامل لفظ گاندھی سے یہ شبہ پیدا ہو تا ہے کہ ان کا تعلق تحریکِ آزادی کے مشہور رہنما مہاتما گاندھی سے بھی رہا ہے لیکن ایسا نہیں ۔در اصل راجیو گاندھی کی والدہ مسز اندرا گاندھی کے شوہر فیروز گاندھی کے نام کی مناسبت سے یہ لفظ ان کے نام میں شامل ہوا ۔ فیروز گاندھی کا۱۹۶۰ میںحرکتِ قلب بند ہو جا نے سے انتقال ہو گیا تھا۔

راجیو گاندھی کی تعلیم دو غیر سرکاری بورڈنگ اسکولوں میں ہو ئی ۔ ویلہم بوائیز اسکول اورڈون اسکول میں تعلیم پانے کے بعد وہ انگلینڈ چلے گئے اور امپریل کالج ، لندن اورکیمبرج یو نی ور سٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی یہیں ان کی ملاقات سونیا گاندھی سے ہو ئی جو ۱۹۶۸ میں ان کی شریکِ حیات بنیں ۔۱۹۷۰ میں ان کے بیٹے راہل گاندھی اور ۱۹۷۲ میںبیٹی پرینگا گاندھی کی پیدائش ہو ئی ۔

راجیو گاندھی بطور پائلٹ خدمات انجام دے رہے تھے اور سیاست سے انھیں کو ئی دلچسپی نہیں تھی لیکن ۱۹۸۰ میں ان کے چھوٹے بھائی سنجے گاندھی ایک جہاز کے حادثے میں ہلاک ہو گئے اس ناگہانی موت کے بعد ان کی والدہ اور دیگر کانگریسی لیڈروں کے اصرار پر وہ ۱۹۸۱؁ء میں اپنے بھائی کے حلقہٗ انتخاب امیٹھی(اتّر پر دیش ) سے لوک سبھا کے الکشن کے لئے کھڑے ہوئے اورکامیا ب ہو ئے ۔

۳۱!اکتوبر ۱۹۸۳؁ء وہ جب وہ مغربی بنگال میں تھے ان کی والدہ کو قتل کر دیا گیا ۔ اپنی والدہ کی موت کے بعد انھیں الکشن میں عوام نے کثیر ووٹوں سے منتخب کیا۔
ان کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ ایک کانگریسی لیڈر کے پرچار کے سلسے میں ایک تقریب میں موجود تھے ایک خود کش بم دھماکے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔
راجیو گاندھی کا عہد اس لئے یاد رکھا جا ئے گا کہ اس زمانہ میں سائنس اور ٹکنولوجی کے فروغ کے لئے راستے ہموار ہو ئے ۔ ان کے زمانے میں نیو ایجوکیشن پالیسی کا خاکہ تیّار ہوا ۔ شاہ بانو کیس بھی ان کے دور کے اہم واقعات میں شامل ہے ۔موجودہ دور میں تعلیم اور سائنس کے میدان میں ترقّی کی جو تصویر ابھر رہی ہے اس کی رنگ آ میزی ان کے دور میں کی گئی تھی ۔

منگل, اگست 12, 2008

poem on independence celebration


صبحِ زر نگار
محمّد اسد اللہ
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

صبحِ زر نگار آ ئی، لا ئی جشنِ آ زادی


جشنِ یومِ آزادی ،جشنِ یومِ آزادی


لالہ رو زمیں اپنی ،نیلگوں گگن اپنا


یہ گلاب اپنے ہیں، نکہتوں کا بن اپنا


منزلوں کے دامن میں راحتوں کا دھن اپنا


یہ سبھی کامامن ہے ، گلشنِ وطن اپنا


دے رہا ہے ہر ذرّہ اس کا درسِ یکتائی


جشنِ یومِ آزادی ،جشنِ یومِ آزادی





چاہتوں کی گہرائی اور ملن مبارک ہو


امن کے پرستارو! یہ چلن مبارک ہو


نعمتوں کی ارزانی انجمن مبارک ہو


جشنِ یومِ آزادی ، اے وطن مبارک ہو


اے وطن مبارک ہو ہر طرف یہ شادابی


جشنِ یومِ آزادی ،جشنِ یومِ آزادی


صبحِ زر نگار آ ئی، لا ئی جشنِ آ زادی


جشنِ یومِ آزادی ،جشنِ یومِ آزادی

poem on independence celebration

یہ سنسار ہمارا ہے
محمّد اسد اللہ
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اِس دھرتی کے ہم واسی ہیں، یہ پریوار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


اِس کے موسم ،لوگ یہاں کے، ہم کو جان سے پیارے ہیں


اِس کی ندیاں ، اس کے جھرنے، سب امرِت کے دھارے ہیں


اِس کے رِیت رواج ہمارے جیون کے بھی سہارے ہیں


پھول اور کانٹے سبھی ہمارے یہ گلزار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


گنگا جمنا کی لہروں سی ساری اس کی بھاشائیں


رنگ برنگے سبھی مذاہب ،پھولوں جیسی آشائیں


کسی بھی گو شے میں رہتے ہوں، ہندوستانی کہلا ئیں


رنگوں کی کثرت میں وحدت کا اظہار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


گاندھی، نہرو، مولاناآزاد ہمارے اپنے تھے


سب کی آ نکھوں میں بھارت کی آزادی کے سپنے تھے


اسی نرالی یکجہتی کے منتر ہمیں بھی جپنے تھے


لہو سے ہم نے اسے لکھا ہے ،یہ شہکار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے

jagannath azad's poem on independence

آ زادی کے بعد
( جگن ناتھ آ زاد )

۔۔۔۔۔
گردِ دامن سے غلامی کو چھڑانے والے
تیرے ماتھے پہ غلامی کا نشاں آ ج بھی ہے
جو سماں تیری نگاہوں سے نہاں ہے شاید
وہ سماں میری نگاہوں پہ گراں آ ج بھی ہے
تو بہاروں کا فسوں دیکھ کےمسحور نہ ہو
ان بہاروں کے تعاقب میں خزاں آ ج بھی ہے
یہ الگ بات ہے تو اس کو نہ دیکھے لیکن
تیرے ماحول میں آ ہوں کا دھواں آج بھی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہر موج کے لب پہ صبح و شامِ آ زادی
بہتے ہو ءے دریا کا خرام آ زادی
زنہار یہ اے بندۂ آ زاد نہ بھول
فطرت کا ہے اوّلین پیام آ زادی
.....نہال سیوہاروی.



patriotic poem of Sardar Jafry

آزادی
اردو نظموں میں
(سردار جعفری کی نظم‘ اردو ’کے چند متفرّق اشعار )

ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
اسی زباں سے وطن کے ہونٹوں نے نعرۂ انقلاب پایا
اسی سے انگریز حکمرانوں نے خود سری کا جواب پایا
اسی سے میری جواں تمنّا نے شاعری کا رباب پایا
ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
یہ وہ زباں ہے کہ جس نے زنداں کی تیرگی میں د ءے جلاءے
یہ وہ زباں ہے کہ جس کے شعلوں سے جل گءے پھانسیوں کے ساءے
فرازِ دارو رسن سے بھی ہم نے سر فروشی کے گیت گاءے
ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
چلے ہیں گنگ و جمن کی وادی میں ہم تو بادِ بہار بن کر
ہمالیہ سے اتر رہے ہیں ترانۂ آ بشار بن کر
رواں ہیں ہندوستاں کی رگ رگ میں خون کی سرخ دھار بن کر
ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ashar on Patriotism

۔۔۔     آزادی اور قید و بند      ۔۔۔
غزل میں ( اشعار )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر
ہے وہ خوف و ذلّت کے حلوے سے بہتر         ( اسمٰعیل میرٹھی )
طلب فضول ہے کانٹوں کی پھول کے بدلے
بہشت بھی نہ لیں ہم ہوم رول کے بدلے            ( چکبست )
رودادِِِِِ فصلِ گل نہ اسیرِ قفس سے پوچھ
کب آ ءی کب بہار گءی کچھ خبر نہیں          ( عبدالمجید سالک )
یہ قید و صید کی اندیشہ ہا ٔے بیجا کیا
چمن کی فکر کرو ،آشیاں کی بات کرو           (عبدالمجید سالک )

قید میں اتنا زمانہ ہوگیا
اب قفس بھی آ شیانہ ہو گیا                           (حفیظ جونپوری )
کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے
چاکِ قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا              ( میر تقی میر )
کیا بتا ٔوں کس قدر زنجیرِ پا ثابت ہؤے
چند تنکے جن کو اپنا آ شیاں سمجھا تھا میں    (جگر مراد آ بادی )
ہوں گرفتارِ الفتِ صیّاد
ورنہ باقی ہے طاقتِ پر واز                         (غالب )

صبا نے پھر درِ زندان پہ آ کے دی دستک
سحر قریب ہے ، دل سے کہو نہ گھبراءے        ( فیض )
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
کہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں         ( فیض )
زنجیر کی لمباءی تک آ زاد ہے قیدی
جنگل میں پھرے یا کو ءی گھر بار بسالے       ..ندا فاضلی  

ہفتہ, اگست 09, 2008

Nazim Ansari (Urdu Poet)

ناظم انصاری۔ وسط ہن کا ایک منفرد شاعر

عام آ دمی دنیا بھر کی الجھنوں اور فکر و پریشانوں سے چند لمحے خو د فراموشی کے ڈھونڈتا رہتا ہے ۔ظالم سماج کے جبر اور زیادتی کو جھلنے کے سوا وہ کچھ نہیں کر نہیںپاتا ۔مزاحیہ شاعر اسے اسی سماجی یا سیاسی نظام پر ہنسنے کے مواقع فراہم کر تا ہے ،اس کی دل کی بھڑاس نکالنے کا وسیلہ عطا کر تا ہے یہی CATHARSIS مزاحیہ شاعری کو عوام میں مقبولیت سے ہمکنار کر تا ہے، جیسے سو کھی گھاس کو آ گ پکڑ لیتی ہے ۔ان دنوں ٹی وی پر ہنسانے والے سیریل اور پرو گرام اس کا ثبوت ہیں ۔
شہر ناگپور کے شعراء میں طنز و مزاح کو جن شعرا نے وسیلۂ اظہار بنایا ان میں ناظم انصاری ، جملوا انصار ی اور جلیل ساز (منہ پھٹ ناگپوری ) ،خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ۔ ہندوستان بھر کے مشاعروں میں شرکت اور مزاحیہ ادب کے مقبول ترجمان ماہنامہ شگوفہ حیدر آ باد میں کلام کی اشاعت کے ذریعے اس علاقہ کے جن لو گوں نے نام کمایا ان میں ناظم انصاری کو سرِ فہرست رکھا جا سکتا ہے۔

شہر حیدر آ باد ،لاہور کی زندہ دلی اردو ظرافت میں اپنے نقوش ثبت کر چکی ہے آ زادی کے بعد ودربھ میں بھی نثر اور نظم ہر دو اصناف میں کئی قلمکار ابھرے جنھوں نے اردو کے مزاحیہ ادب میں اپنی پہچان بنائی ۔ ناظم انصاری مشاعروں کی وسیلے سے وسط ہند کے ایک مشہور شاعر کی حیثیت سے جانے گئے ۔

ان کی شاعری میں ہلکی ہلکی رومانیت ، ، دلوں کو گد گدا نے والی کیفیت،پر لطف مو ضوعات ،حالاتِ حاضرہ کو مسکرا تی ہو ئی عینک اور ترچھی نظروں سے دیکھ کر فقرہ کسنے کا نرا لا انداز ،(فقرہ کسنے کے لئے ہزل کے شعر سے زیادہ مو زوں پیمانہ اور کیا ہو سکتا ہے ؟ )اس کے علاوہ انگریزی الفاظ کا چٹخارہ ،ان تمام لوا زمات نے ناظم انصاری کی ہزلوں کوقبولِ عام عطا کیا ۔ ناظم انصاری ہندوستان بھر میں دور دراز کے مشاعروں میں بھی بلا ئے جاتے تھے ،ان کی شاعری اور مشاعروں کا یہ سفر تا دمِ آ خر بر قرار رہا بلکہ بالاخر سفرِ آ خرت کا پیش خیمہ ثابت ہوا ۔ اگست ۱۹۸۵؁ء میں دہلی کے کل ہند مشاعرہ میں شرکت کے بعد ناگپور واپسی کے سفر میں ،ٹرین میں ہی جب وہ آ رام فر ما رہے تھے ، نہ جانے کب اپنی آ خری آ رام گاہ کی طرف چل دئے۔
ناظم انصاری ۲! جنوری ۱۹۲۹ کو ناگپور میں پیدا ہو ئے ۔ان کے جدِّ امجد شیخ دھنی جن کا آ بائی وطن بازاررسیا ( ضلع جون پور تھا) ۱۸۸۰ ؁ء میں انھوں کامٹی آ کر سکونت اختیار کی اور رخت سازی کو اپنا ذریعۂ معاش بنایا ۔ ناظم انصاری کے چار بھائیوں میں مو من پو رہ ناگپور میں واقع حنیف بک ڈپو کے مالک محمّد حنیف مر حوم اور مشہور ہزل گو شاعر جمیل الدین جملوا انصاری بھی ہیں ۔

ناظم انصاری نے بچپن میں قرآب مجید کا ناظرہ ختم کیا ، ان کی تعلیم کا سلسلہ چو تھی جماعت سے آ گے قائم نہ رہ سکا ۔ ان کے بڑے بھا ئی محمّد حنیف نے انھیں اپنے اپنے کا رو بار میں شریک کر لیا ۔ بعد میں ناظم انصاری نے اکولہ میں ایک بک ڈپو بھی قا ئم کیا تھا لیکن والد صاحب کی علالت کی وجہ سے اسے بھی بند کر دینا پڑا ۔ ناگپور میں ایک ریڈیمیڈ کپڑوں کی دکان چلانے کی بھی نباکام سی کوشش کرڈالی اور آ خر کار ایک پرنٹنگ پریس قائم کیا جو ان کا مستقل ذر یعۂ روزگاررہا ۔
ناظم انصاری انصاری جہاں ایک اچّھے شاعرتھے وہیں ،فٹ بال کے اچّھے کھلاڑی سر گرم سوشل ورکر، خوش الحان موذّن ،شرح کے پابند اور درد مند دل کے مالک ،نیک انسان تھے ۔

تصویر میں ان کے چہرے پرصلح کے انوار،آ نکھوں میں ذہانت کی چمک نمایاں ہے ۔
ڈاکٹر شر ف الدین ساحل کے بیان کے مطابق ،حنیف بک ڈپو میں ہمیشہ رہنے کی وجہ سے ان کو ادبی کتابوں کے مطا لعے کا خوب مو قع ملا اور ان کی طبیعت شعر گو ئی کی طرف ما ئل ہو ئی ۔ انھوں نے اپنی شاعری کی ابتدا شعر گو ئی سے کی ۔ آ گے چل کر غزل سے اپنا منہ پھیر کر ظرافت کی طنز و ظرافت کا راستہ اختیار کیا ۔ ان کے مجموعے ۔۔’گو بھی کے پھول ‘ کے مطالعے کے بعد یہ اس حقیقت کو ماننا پڑتا ہے کہ اس کا نصف حصّہ عشقیہ خیالات سے پر ہے ۔ ناظم انصاری کی ہز لوں میں کم عمری کے عشق کا مذاق ، معاملاتِ عشق میں پیش آ نے والی مضحکہ خیز صورتِ حال کی عکاسی نمایاں ہے ۔ اس میں کہیں کہیں ہلکی سی غم کی جھلک بھی نظر آ جاتی ہے لیکن مجموعی طور پر لطف اندوزی کا پہلو نمایاں ہے ۔ چند اشعار ملاحظہ فر مائیں ۔

دیوانہ اس نے کر دیا اک بار دیکھ کر ہم کر سکے نہ کچھ بھی لگا تار دیکھ کر
عینک لگا ئے رہتا ہوں رنگن اس لئے چندھیا نہ جا ئے آنکھ رخِ یا ر دیکھ کر
ابھی سے آپ کی نظریں جھکی جھکی کیوں ہیں ابھی تو عمر ہے تیرِ نظر چلانے کی

۲اسی پر سے اندازہ تم سب لگاؤ ہماری محبّت ہے کتنی پرانی
اِدھر آنکھ پر ہو گیا ہے، اضافہ ُادھر بال ٹِکنی کلر ہو گئے ہیں
دیوانے تیرے بھڑ گئے تبلیغ میں جا کر اب آ کے لبِ بام کھڑا کس کے لئے ہے
ان اشعار میں شاعر نے ظرافت کا پہلو تھامے ہو ئے روایتی عشق کو نئے انداز سے بر تا ہے ۔
حاصل جو ہو ئی مجھ کو جا گیر تیرے غم کی ٹاٹا نظر آ تا ہوں بر لا نظر آ تا ہوں
دردِ دل کی چا رہ جو ئی کے لئے آ تے نہ کیوں تیری بزمِ ناز کو دا رالشفاء سمجھے تھے ہم
اسی عشق میں شاعر کا سب سے بڑا نشانہ محبوب کے والدِ محترم ہیں جنھیں جا بجا نشانۂ طنز بنا یا گیا ہے ۔ ان اشعار میں والد کے محبوب کا سراپا اور محبوب کی بے بسی فنکارانہ انداز میں نمایاں ہے ۔
دیکھ کر تیرے پتا جی کا جلالی چہرہ پہلوانوں کے کلیجے بھی دہل جاتے ہیں
واقف ہوں ترے باپ کی فطرت سے بخوبی گلیوں میں تری پہرہ لگا کس کے لئے ہے
ہاتھ کی پا ؤں کی سر کی یاد آگئی مجھ کو جب تیرے فادر کی یاد آ گئی
کرم فر ما رہے ہیں آ جکل پھر گرم جو شی سے تیرے ڈیڈی کا پھر کچھ آ ئیڈیا معلوم ہو تا ہے
میں تیرے ساتھ تیرے باپ کو بھی خوش رکھوں میری بساط سے باہر دکھا ئی دیتا ہے
ناظم انصاری کی مزاحیہ شاعری میں دو مو ضوعات اہم ہیں یو ںکہا جا سکتا ہے کہ ان کی شاعری کا بڑا حصّہ ان ہی کا طواف کر تا ہے۔ یہ دو نوں مو ضوعات ایک ہی لکیر کے دو سرے ہیں اس سفر کا مطا لعہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ۔ محبوب سے بیگم بنّے تک کا یہ سفر ۔ جہاں محبوب سے متعلق اشعار میں رومانی فضا کو مزاحیہ انداز میں بیان کیا گیا ہے وہیں بیگم کے حوالے سے ازدواجی زندگی کی تلخیاں اور حقائق طنز نگار کے نشا ہیں ۔
بیگم کی خواہشات ارے باپ کیا کروں مانگے ہے کا ئنات ارے باپ کیا کروں
کشتی کے باد بان مجھے یاد آ گئے بیگم تمہاری نو گزی شلوار دیکھ کر
ڈاڑھی کا ایک بال بھی باقی نہیں رہا بیگم یہ کیا ملا دیا تم نے خضاب میں
اسے بھی بیچ کے کھا لیں گے ایک دن بیگم تمہارے میکے کا جو پاندان باقی ہے
گو بھی کے پھول کی ہز لوں میں عصری زندگی کی نا ہمواریاں اور انسانی فطرت کے کمزور پہلو بھی پر لطف اندا ز میں اس طرح بیان کئے گئے ہیں کہ ان نا انصا فیوں اور ظلم و زیادتیوں کی خلش صاف طور پر محسوس ہو تی ہے جو ہماری زندگی کا حصّہ بن چکے ہیں ۔

دو چار خون کر بھی جو ڈالوں تو میرا کیا چاچا میرے وکیل ہیں با وا مجسٹریٹ
یہ جامہ زیبی تمہاری ارے معاذاللہ تمہارا جسم تو کلیر دکھائی دیتا ہے
ننگِ تہذیب میں داخل تھا کبھی اے ناظم آج فیشن میں گنا جاتا ہے عر یاں ہو نا
فیلڈ ہو کو ئی کلر اپنا جمائے رکھئے ٹانگ ٹو ٹی ہی سہی پھر بھی اڑا ئے رکھئے
اردو شاعری کی روایات کا پاس رکھتے ہوئے، عصری زندگی کی نا ہمواریوں کو تاڑ کر انھیں اپنی شعری تخلیقات کا حصّہ بنانے کا ہنر ناظم انصاری کو آ تا تھا اوراسی فن کے لئے وہ یاد رکھے جا ئیں گے ۔

منگل, اگست 05, 2008

Muhavron ki duniya - Inshaiya

محاوروں کی دنیا( انشاءیہ)

محاوروں کی دنیا عجیب و غریب ہے،ہمارے شاعروں کی طرح جنھیں کہنا کچھ ہو تا ہے اور کہتے کچھ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے ،اس سوال میں وہ طلبا بری طرح فیل ہو تے ہیں جو عید کے چاند کو واقعی عید کا چاند سمجھتے ہیں ۔جب انھیں اس محاورے کا صحیح مفہوم معلو م ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو کبھی کبھار یا ایک مدّت بعد دکھائی دے تو بیچارے حیران ہو کر اپنا سر اتنی دیر تک کھجاتے ہیں، کہ عیدکا چاند دکھائی دے جائے ۔

اسی قسم کا ایک اور محاورہ ہے ،سر آ نکھوں پر، اس کے معنی ہیں دل و جان سے یا بڑی خوشی سے ۔اسی طرح سر آ نکھوں پر بٹھانا ،یہ محاورہ کسی کی آ ؤ بھگت کرنے کے استعمال کیا جاتا ہے ۔اس محاورہ میں نہ سر سے سروکار ہے نہ آ نکھوں سے ۔ اگر کو ئی شخص یہ خوش خبری سنائے کہ وہ مہمان بن کر آ پ کے گھر آ رہا ہے تو بظاہر یہ کہنے کا رواج ہے ۔ ۔۔’’ ضرور تشریف لا ئیے ،آپ کی آمد سر آ نکھوں پر ‘ ‘یہ اور بات کہ آپ کا دل اندر ہی اندر درج ذیل تراکیب کا ورد کر رہا ہو گا ۔’’برے پھنسے،ہو گیا ستّیاناس ،گئے کام سے ،آ گئی شامت،بن گیا گھر والوں کا کچومر ،اب تو ہو گئے دیوالیہ ،یہ مصیبت میرے ہی گلے پڑنی تھی، جل تو جلال تو آ ئی بلا کو ٹال تو وغیرہ وغیرہ ۔ پھر آ پ کا ذہن اس بن بلا ئے مہمان سے بچنے کی تراکیب سوچنے لگے گا ۔

کل ہی کی بات لیجئے ،ہمارے دوست نقیب مجتبیٰ نے جب یہ خبر ہمیں سنائی کہ’’ کو ئی صاحب آپ سے ملنے کے لئے آ رہے ہیں تو‘‘ ہم نے کہا ،خوش آ مدید ،ان کا آ نا سر آ نکھوں پر ۔یہ سن کر انھوں نے یہ فقرہ چست کیا ،’ ’مگر وہ بیٹھیں گے کسی ایک ہی پر ‘‘۔

اب ہم انھیں کیسے سمجھائیں کہ وہ صاحب ہمارے کرایہ دار ہیں ہمارے گھر کی بالائی منزل پر (یعنی ہمارے سر پر ) کرائے سے رہتے ہیں ۔ اور ہم ہر ماہ کرایہ کے انتظار میں ان کی راہوں میں آنکھیں بچھائے رہتے ہیں۔سر آنکھوں پر ،کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آ نے والے صاحب یا تو سر ہو کر رہیں گے یا آ نکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے ۔

کسی کو آ نکھو ں پر بٹھانے یا اس کے راستے میں آنکھیں بچھانے کا خیال خالص شاعرانہ ہے ۔ دیگر محاوروں کی طرح اسے بھی عملی شکل دینے کی کوشش کی گئی ،تو سارا مزہ کر کرا ہو جائے گا ۔محاورے تو بس زبان کا چٹخارہ ہیں، مزہ لینے کے لئے ۔یہ صابن کے جھاگ سے بنے بلبوں کی طرح ہیں اک ذرا چھوا اور غایب ۔کسی شاعر نے آنکھ بچھانے والے محاورے کو بڑی عمدگی سے استعمال کیاہے ۔

اے بادِ صبا کچھ تو نے سنا مہمان جو آ نے والے ہیں

تو کلیاں نہ بچھانا راہوں میں ہم آنکھ بچھانے والے ہیں

کسی کو دیکھ کر مارے حیرت کے آنکھیں کتنی ہی کیوں نہ پھیل جائیں وہ اس قدر وسیع نہیں ہو سکتیں کہ ان پر کو ئی تشریف فرما ہو سکے ۔ سر آ نکھوں پر اس محاورہ کو عملی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو خالقِ حقیقی نے یہ کام پہلے ہی کر رکھا ہے ۔اس سے ظاہر ہے کہ سر کا مرتبہ آ نکھوں سے بلند ہے ۔آنکھیں دھوکہ کھا سکتی ہیں مگر عقل جس کا ٹھکانہ سر ہے، اس دھوکہ کو بھانپ لیتی ہے اور اپنے بچاؤ کا راستہ نکال لیتی ہے ۔

سر کی جگہ اگر آنکھیں ہو اکرتیں تو ہم دن میں آ سمان بادل پرندے اور دھنک دیکھا کرتے ،رات میں ستارے گنتے ۔زندگی ایک سفر ہے اور انسان ٹھہرا مسافر۔ اسی لئے خدا نے آنکھیں ہمارے سر پر اس انداز سے فٹ کی ہیں کہ ہم منزلوں پر نظر جمائیں ،راستے کی اونچ نیچ پر نظر رکھیں اور چلتے رہیں ۔آنکھیں سر کے پیچھے اس لئے نہیں لگائیں کہ جو گذر گیا اس کا ماتم فضول ہے۔ہرو قت اپنے ماضی میں کھوئے رہنا کو ئی اچّھی بات نہیں ۔ گاہے بگاہے پیچھے مڑ کر دیکھ لینا مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔اسی لئے گردن میں مڑنے کی صلاحیت رکھ دی گئی ہے ۔سر تسلیم خم کر دینا یعنی اپنے پورے وجود کو جھکا دینا ہے ۔سر جو پورے جسم کا کنٹرول روم ہے جھک جائے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ ہمارے سر کو جو بلند مرتبہ عطا کیا گیا ہے اس کے پیشِ نظر اس کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ جھکے تو بس اپنے بنانے والے کے آ گے ۔ہر کس و ناکس کے آگے ماتھا ٹیکنے والے یوں بھی سب کی نظروں سے گر جاتے ہیں ،اسی لئے آن بان سے جینے والے خدا کے سوا کسی کے آ گے سر جھکانے کے بجائے اسے کٹانا پسند کرتے ہیں ۔ سر واقعی ہے ہی ایسی چیز !

جمعہ, اگست 01, 2008

Shraddhanjali (Nazm)


شردّھانجلی ( نظم)

اس بھیانک رات کے
یہ مبہوت لمحے ۔۔،
گر گر کے بے جان ہو چکی
تمنّاؤں کو پیش کر رہے ہیں
شردّھانجلی!

Babri Masjid Demolition



بابری مسجد کے سانحے کے بعد

( نظم)

جوالا مکھی سے
امڈتا ہوا اک ہجوم
تلواریں، نیزے ،مشعلیں تھامے ہو ئے
لاوے کی طرح بہہ رہا ہے ہر طرف
بپھرے ہو ئے نعروںکے درمیاں
جزیرے کی طرح حیراں
ہر چوک پر پتھرائے ہو ئے کھڑے ہیں
گاندھی، نہرو ،مولانا آ زاد
اہنسا مردہ باد


Zindagi (Nazm)



زندگی ( نظم)

مدّو جزر کے درمیاں
ابھر تے ڈوبتے
اک جزیرے میں یہ سوچتے سوچتے
عمریں گزر گئیں
کیا خوف سے آنکھ موندے ہو ئے
ہواؤں سے رحم و کرم پر دھڑکتے
کسی نرم پتّے کی مانند
سانس لینے ہی کا نام زندگی ہے ؟



Ab Naya Rasta Hamara (Nazm)




اب نیا رستہ ہمارا ( نظم)

آسماں کی وسعتوں میں
روشنی کے راستے پر حادثہ یہ ہو گیا ہے
بے تحاشا دوڑتے
اک رتھ کا پہیّہ ٹوٹ کر
ایسے گرا ہے
منزلوں کی کھوج کا
ہر سلسلہ ٹوتا ہوا ہے

اب کسی گلّہ سے بچھڑی
بھیڑ کی مانند ،پگ پگ
لڑکھڑاتی پھر رہی ہے
اور اندھیروں میںمسلسل
ڈھونڈتی ہے یہ راستہ

یہ کہانی ہے زمیں کی
ہے یہی قصّہ ہمارا
اب نئی منزل ہماری
اب نیا رستہ ہمارا