ہفتہ, نومبر 10, 2007

نائو (Boat)

نائو

پانی آیا ، پانی آیا ، آئو نائو بنائیں
کاغذلائو، موڑ کے اس کو
چھوٹی سی اک نائوبنائیں
نائو میںرکھ کر خواب سلونے
دور سفر پر جائیں
ہوا ہ بہی ہے نائو چلی ہے ؛
دور دور تک پانی پانی ،
تن اس کا پتلے کاغذ کا
ڈگ مگ ڈگ مگ ڈول رہی ہے
اے پانی کی چنچل لہرو!
رحم کرو کچھ ، یہ تو دیکھو ،
سندر سندرسپنے اس میں
سپنوں ہی سے جیون ہے یہ
دیکھو ڈوب نہ جائے ۔۔۔۔
کوئی نہیں جو دوڑ کے آئے
اے رب! ہم ہیں ہاتھ اٹھا ئے
نائو کو تو ہی پار لگائے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں