منگل, ستمبر 30, 2008


عید آ ٔی ہے

دلوں میں پیار جگانے کو عید آ ٔی ہے

ہنسو کہ ہنسانے کو  عید آ ٔی ہے

   

مسرّتوں کے خزانے دٔے خدا نے ہمیں

ترانے  شکر کے گانے کو  عید آ ٔی ہے

مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے

چمن دلوں کا سجانے عید آ ٔی ہے

خوشا کہ شیرو شکر ہو گٔے گلے مل ک

خلوص دل کا دکھانے کو عید آ ٔی ہے

 آٹھا دو دوستو اس دشمنی کو محفل سے

شکایتوں کے بھلانے  کو عید آ ٔی ہے

 

کیا تھا عہد کہ خوشیاں جہاں میں بانٹیں گے

اسی طلب کے نبھا نے  کو عید آ ٔی ہے  

 

جمعرات, ستمبر 18, 2008

poems


نثری نظمیں

محمّد اسد اللہ  

1

جیب بھر کر

 کبھی خالی کر کے 

وہ دکھا تا ہے

یہ دنیا کیا ہے

   

2

اس قدر کھو یا کہ اب 

پا تے ہو ٔے لگتا ہے یوں 

کچھ تو ہے جو کھو رہا ہوں 

منگل, ستمبر 16, 2008

M.K.Gandhi and National Integration (Urdu)


مہاتما گاندھی اور قومی یکجہتی ۔
محمّد اسد اللہ 

انسانی تاریخ کے صفحات آ ج بھی ان عظیم انسانوں کے کارناموں سے جگمگا رہے ہیںجنھوں نے انسانی زندگی کی بقا اورترقّی کی خاطر اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ ایسی ہی تاریخ ساز شخصیات میں موہن داس کرم چند گاندھی کا شمار کیاجا تا ہے ۔ ان کے ہمہ جہت شخصیت اور گراں قدر کارناموں نے انھیں با بائے قوم اور مہاتما گاندھی کے نام سے مقبولیت کا تاج پہنایا۔ عام آ دمی کے ذہن میںمہاتما گاندھی کی شخصیت کا پہلا تاثر ایک بے سر و ساماں درویش کا ہے جس نے اپنے نظریۂ عدم تشدّد کی بنیاد پر جنگِ آ زادی کا صور پھونکا اور اس ملک میں قدم جما چکی برٹش سر کار کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ 

گاندھی جی کی شخصیت کے اس انقلابی پہلو سے قطع نظر ہم ان کیی خیالات و افکار کا جائزہ لیں تو ان کے ہاں ہمیں ایک جامع اور مر بوط نظامِ زندگی کے شواہد ملتے ہیں ۔ مہاتما گاندھی ایک قابل رہنما ،بہترین انسان اور مفکّر بھی تھے وہ فلسفی نہ تھے لیکن انھوں نے دنیا کے سامنے ایک ایسا طرزِ زندگی اور مسائلِ حیات سے نبر دآ زما ہو نے کے لئے ایسا موثّر طریقۂ کار تجویز کیا جس کی افادیت دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے
   اہنسا..عدم تشدّد
۔ گاندھی جی کے نظریات میں سب سے اہم اہنسا یعنی عدم تشدّد ہے جسے انھوں نے باضابطہ ایک طریقۂ حیات قرار دیا ہے ۔
تشدّدآج نہ صرف قومی پیمانے پر بلکہ عالمی سطح پر ایک بھیانک مسئلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مختلف طبقات ،ممالک ،ذاتوں اور مذاہب کے درمیاں غیر ہم آ ہنگی نے پوری دنیا میں تشدد کی لہر دوڑادی ہے اور ساری دنیا اس مسلہ کا حل تلاش کر رہی ہے ۔ گاندھی جی کی تقریروں کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انھوں نے ذات،مذہب علاقائیت ،رنگ و نسل اور لسانی سطح پر مختلف طبقات کے درمیان ہم آ ہنگی پیدا کر نے کی ایک دیانت دارانہ کو شش کی تھی ۔قومی یکجہتی کا یہی نظر یہ ان کی فکر کا بنیا دی پتّھر ہے جس پر وہ ایک خوشحال قوم کی تعمیرِ کر نا چاہتے تھے ۔ 

گاندھی جی کی قومی یکجہتی کا نظریہ اس قومی روایت پر مبنی معلوم ہو تا ہے کہ جس کے مطابق یہ پو ری کا ئنات خدا کا کنبہ ہے ( الخلق ُ عیال اللہ )یہی روایت ہندو مذہب کی کتابوں میں بھی مختلف الفاظ کے ساتھ آ ئی ہے ۔ گاندھی جی کی آ فاقی فکرنے انھیں رنگ و نسل ،ذات وبرادری اور علاقائیت کے امتیازات سے اوپر اٹھ کر سوچنے پر مجبور کیاتھا ۔ اسی انسانی دوستی کا پر تو ان کے خیالات پر پڑا ۔شاید اسی لئے اردو کے مشہور شاعر مجاز لکھنوی نے گاندھی جی کے انتقال پر ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔

  ہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیا 
انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا ۔



گاندھی جی اور چھوت چھات کی رسم
گاندھی جی ہندو ستان میں پا ئی جانے والی چھوت اور اچھوت کی قبیح رسم کے سخت خلاف تھے ۔ان کی محتلف تحریکات میں اس سماجی برائی کے انسداد کی کوشش کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ اس سلسہ میں ان کے خیالات قابلِ غور ہیں : 
 
اس بڑھتی ہو ئی چھوا چھوت سے مجھے انتہائی تکلیف پہنچی ہے کیونکہ 
 میں اپنے آپ کو ایک ایسا ہندو سمجھتاہوں جس میں ہندو دھرم کی روح پیوست ہو گئی ہے ۔ آج جس صورت میںہمارے ہاں چھوت چھات پائی جاتی ہے اس کے لئے مجھے کو ئی جواز ان سب کتابوں میں نہیں مل سکا جنھیں ہم شاستر کہتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ میںپہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ ہندو دھرم واقعی چھوت چھات کو جا ئز قرار دیتا ہے تو مجھے ہندو دھرم چھوڑنے میں کو ئی پس و پیش نہیں ہو گا ۔ کیونکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ سبھی سچّے مذاہب کو بنیادی سچّائیوں کے خلاف نہیں ہو نا چاہئے ۔ (بحوالہ :مہاتما گاندھی اپنے افکار کے آ ئینے میں ۔مطبوعہ ،ماہنامہ آ جکل اکتوبر ۲۰۰۴) 

گاندھی جی ہندو مسلم اتحاد کے بھی زبردست حامی تھے ۔ان کا خیال تھا کہ:۔’ اگر ہندواور مسلم امن و بھائی چارہ کے ساتھ مل جل کر رہنا نہیںسیکھ لیتے تواس ملک کا جسے ہم بھارت کے نام سے جانتے ہیں، وجود ختم ہو جائے گا ۔ ( بحوالہ: ایضاً ) 
گاندھی جی نے مختلف مذاہب کی کتابوں اور دنیا کے اہم دانشوروں کے افکار کا مطالعہ کیا تھا ۔ ان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ہر صبح گیتا کے علاوہ قران مجید اور انجیل مقدّس کا بھی مطالعہ کیا کر تے تھے ۔ ان کی کتاب
MY EXPERIMENTS WITH TRUTH                         
میں اس حقیقت کا اعتراف مو جود ہے کہ جنوبی افریقہ کے قیام کے دوران کئی مسلمانوں سے ان کے گہرے مراسم رہے جو اسلامی تعلیمات کو سمجھنے میں ان کے لئے مدد گار ثابت ہو ئے ۔ ان سے جب کسی نے دریافت کیا کہ رام راجیہ کے جس تصوّر کی وہ بات کر تے ہیں وہ کس قسم کی حکومت ہو گی تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ وہ خلیفۂ دوّم حضرت عمر ؓ کی حکومت کے طرز پر ہو گا ۔ انگلینڈ میں رہ کر گاندھی جی نے عیسائیت کی اور وکالت کے دوران پارسی لو گوں کے ذریعے ان مذاہب کی روح تک پہنچنے کی کوشش کی ۔وہ تمام مذاہب کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ بنیادی طور پر اپنے آ بائی مذہب اور ہندو فلاسفی سے ان کا گہرا تعلق تھا ۔ انھوں نے ہندوستانی سماج کوقریب سے دیکھا اور سمجھا تھا ۔ وہ اس ملک کی سماجی زندگی کے نبض آ شنا تھے ۔ انھوں نے دیگر مذاہب کے افکار و خیالات کے لئے بھی اپنے دل و دماغ کی کھڑکیاں کھلی رکھی تھیں۔ تحریکِ آ زادی کے دوران ہر طبقے اور ہر علاقہ کے لوگوں سے ان کو سابقہ پڑا ۔یہی عوامل تھے جو ان کی قومی یکجہتی کے نظر یہ کی تشکیل میں معاون ثابت ہو ئے ۔
گاندھی جی کے قومی یکجہتی نظریات:
گاندھی جی کے قومی یکجہتی نظریات کا جائزہ لیں تو سب سے پہلے جس حقیقت پر ہماری نظر ٹھہر تی ہے وہ یہ کہ ان کے فطری میلان کا نتیجہ نہ تھا بلکہ ان کے عہد میں جاری تحریکات اور رجحانات کا تقاضا بھی تھا۔ در اصل تحریکِ آ زادی کے عروج کے زمانے میں اسے ناکام کر نے کی سازشیں بھی وجود میں آ ئیں۔ انگریزوں کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پا لیسی کے تحت ہندوؤں اور مسلمانوں میں جو نفرت کے بیج ڈالے گئے تھے ان میں انکھوے نکلنے لگے تھے ۔ مختلف قوموں اور ذاتوں کے بیچ دوریاں بڑھنے لگیں تھی ۔۱۹۰۹ ء میں مارل منٹو کی اصلاحات سے بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے الگ الگ حلقہٗ انتخاب کا اعلان ،شدّھی تحریک اور دو قومی نظریہ کا سامنے آ نا یہ وہ عوامل تھے جو تحریکِ آ زادی کے لئے سمِ قاتل ثابت ہو سکتے تھے ۔ گاندھی جی نے ان خطرات کو بھانپ لیا اور اتفاق اور اتحاد کی فضا قائم کر نے میں جٹ گئے ۔ ڈاکڑ امبیڈ کر اور طبقۂ اشراف کے درمیان سمجھوتہ کروا کر گو یا انھوں نے ایک بڑی مصیبت کو ٹال دیا تھا ۔ ملک میں صدیوں سے چلی آ رہی چھوت چھات کی رسم کے خلاف انھوں نے تحریک چلائی ۔گاندھی جی نے لسانی تفریق کا خاتمہ کر نے کی غرض سے ہندوستانی کا تصوّر پیش کیا ۔ وہ اردو کو ایک ایسی زبان کی شکل دینا چاہتے تھے جس میں فارسی اور عربی کی بہ نسبت مقامی اور علاقائی آسان الفاظ کا استعمال کیا گیا ہو تاکہ ہندوستان کا ہر شخص اس زبان کو سمجھ سکے اور یہ زبان پورے ملک کو لسانی سطح پر جوڑ کا ذریعہ بن جا ئے ۔

گاندھی جی کے قومی اتّحاد کے نظر یہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے تمام طبقات کو اتحاد کی ڈور سے باندھنے کے لئے گاؤں اور شہر کو بھی قریب لا نے کی کوشش کی ۔انھوں نے دیہی زندگی کی اصلاح اور ترقّّی پر خاص طور پر زور دیا ۔صنعتی ترقّی نے جہاں شہروں کو ترقّی سے ہمکنار کیا تھا وہیں دیہاتوں کا پچھڑا پن دیکھ کر گاندھی جی نے اس طرف توجّہ دی ۔ ان کے قول کے مطابق ہندوستان دیہا توں میں بستاہے اور اسی ہندوستاں کو ترقّی کے مواقع فراہم کر نے کے لئے انھوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں جگہ جگہ اشارے کئے ہیں ۔ گاندھی جی کا قومی ایکتا کا نظریہ ذات پات اور علاقائی حدود سے اونچا تھا ۔اس کے شواہد ان واقعات سے ملتے ہیں جو ان کے جنوبی افریقہ کے قیام کے دوران پیش آ ئے ۔ گاندھی جی نے افریقہ میں کا لے اور گوروں کے درمیان فرق مٹانے کی کوشش کی۔ وہاں سیاہ فام باشندوں پر ہو نے والے مظالم کے خلاف گاندھی جی نے آ واز اٹھائی ۔ ان کے تمام نظریات خواہ وہ اہنسا ،ستیہ گرہ اور بھائی چارہ جیسے نکات کا احاطہ کر تے ہوں یا وہ آدرش اور اصول جو انسان کی روزمرّہ کی زندگی میں ایک رہنما کا کام دیتے ہوں، نہ صرف ہمارے ملک میں مقبول ہوئے بلکہ عالمی پیمانے پر بھی مختلف مفکروں اور فنکاروں اور قلمکاروں نے انھیں سراہا اور حرزِجاں بنایا ۔ اسی حقیقت کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ گاندھی جی کے قومی یکجہتی کے نظریات کو منافرت پھیلانے اور پھوٹ ڈالنے والے عناصر نے کبھی پسند نہیں کیا ۔اسی پھوٹ کا نتیجہ تھا کہ قومی یکجہتی کے لئے کی گئی کو ششوں کی گاندھی جی کو بڑی قیمت چکانی پڑی ۔ یہی قیمت ان کی جان ہی لے کر رہی ۔ گاندھی جی نے اپنے عہد کے معیارِ زندگی کو بلند کر نے کے لئے حیات کا سودا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے لہو بھرے قدموں سے ایک راہِ حیات کی تشکیل کر گئے یہی ڈگر آ ج بھی دیش واسیوں کے لئے راہِ حیات بھی ہے اور منارۂ نور بھی ۔


سوموار, ستمبر 15, 2008

RAMZANUL MUBARK رمضان المبارک اور ہماری غفلت شعاری


         
      رمضان المبارک اور ہماری غفلت شعاری 
محمّد اسد اللہ    

یوں تو خدا کی بے شمار نعمتیں ہر آ ن انسانوں پر بارش کی طرح برستی رہتی ہیں لیکن مقدّس ماہِ رمضان خدا کا اپنے بندوں پر ایک احسانِ عظیم ہے۔ اس با برکت مہینے میںابتدائی عشرہ کو رحمت ،دوسرے عشرہ کو مغفرت اور آ خری عشرہ کو جہنّم سے نجات کے لئے متعّین کر کے اللہ تعالیٰ نے گناہ گار روحوں کی نجات کا سامان اور مغفرت کے مواقع مہیّا فرمادئے۔ اسی کے ساتھ شیطان کو اس ماہ میں قید کرکے انسانوں کو گمراہ کر نے والی ایک زبر دست طاقت کو مقیّد کر دیا ،روزہ کی صورت میں کھانے پینے سے منع کرکے نفسانی قوّت کو سر اٹھانے سے روک دیا ۔اس سلسہ کی مصروفیات سے بھی ہمیں نجات مل گئی ۔ اور کیا چاہئے۔ ۔انسان اپنے دو دشمنوں نفس اور شیطان سے محفوظ خدا کی رحمت برس رہی ہے اب سوائے اپنی نجات کی فکر اور اپنے مالک کو راضی کر نے کے کو ئی کام نہیں ۔

قرآن مجید اورشبِ قدر 

قرآن مجید اسی ماہِ مبارک میں نازل ہوا ۔ہزار مہینوں سے افضل شبِ قدر جس میں ملائکہ نازل ہو تے ہیں خدا نے اسی ماہ کے آ خری عشرہ کی طاق راتوں میں رکھ دی ،گویا وقت کا تنگ پیمانہ بھی لامحدود وقت کی فراغت سے ہمکنار ہو گیا ۔ قرآن مجید کے ہر حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں رکھی ہیں ،رمضان المبارک میں زبردست آ فر یہ ہے کہ ہر نیکی کا اجر ستّر گنا بڑھا دیا ۔تاکہ لو گ خوب عبادت کریں اور اپنے نامۂ اعمال کو جو سال بھر خشک سالی کا شکار تھا بھر لیں ۔
اس کے باوجود یہ مشاہدہ ہے کہ لوگ ان برکتوں سے فیضیاب نہیں ہو تے ۔ظاہر یہ نقصانِ عظیم ہے ۔ایک طویل حدیث کے مطابق حضرت جبرئیل نے حضورﷺ کے سامنے یہ دعا کی کہ

ہلاک ہو جائے وہ شخص جو رمضان کا مہینہ پا ئے اور اس کی مغفرت نہ ہو ۔نبی کریم ﷺ نے اس پر آ مین کہی ۔ (اک روایت کی رو سے حضرت جبرئیل نے آپؑ سے آمین کہنے کی درخواست کی ۔)افسوس ہے ان لو گوں پر جو نہ تو اس مقدّس مہینے کی برکات سے فیض یاب ہو تے ہیں ۔نہ روزے، نہ نماز، نہ توبہ،نہ استغفار ۔نہ خدا سے تعلّق استوار کر تے ہیں ۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی چمن میں بہار آ ئی ہو ،پھول کھلے ،پرندے چہچہائے،معطّر ہوائیں چلیںمگر اندھے ،بہرے اور بے حس لو گوں نے نہ کچھ سنا ،نہ دیکھا ،نہ کچھ محسوس کیا۔

بعض لو گ ماہِ رمضان میں بھی بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں ۔ سنا ہے جب کسی بندہ سے کو ئی گناہ سر زد ہو جا تا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ لگا دیا جاتا ہے ۔ خدا کے حضور معافی مانگ لے تو اسے مٹا دیا جاتا ہے ، ورنہ وہیں رہ جا تا ہے۔ داغ پر داغ لگ لگ کر انسان کا دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔ پھر کو ئی اچّھی بات دل میں نہیں اترتی،ہدایت کا کلمہ اس پر اثر نہیں کر تا ،جیسے دل پر مہر کر دی گئی ہو ۔خد ا دین ،عبادت ،مسجد اور آ خرت کے ذکر سے بھی اسے وحشت ہو تی ہے ۔ یہ دل کا ایک خطرناک مرض ہے اور علاج اس کا یہ ہے کہ اس وحشت کو خدا کے ذکر ،کلامِ ربّانی کی تلاوت اور دینی مجلسوں میں شریک ہو کر دور کیا جا ئے ۔ رمضان کا مہینہ اور اس کی مجوّزہ عبادتیں اس مسئلہ کا بہتیرین حل ہیں کہ دل کی اجڑی ہو ئی بستی کو از سر نو بسایا جا ئے۔

اسی کے ساتھ ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ سال بھر دل دماغ اور روح پر گناہوں کی سیاہی اور گندے ماحول کی خباثت نے جو اثرات مرتّب کئے ہیں وہ اللہ کے ذکر ،قرآن کی تلاوت ،نمازوں کی کثرت اور روزے کی مشقّت سے دھل جائیں اور روح میں پا کیزگی در آ ئے ۔ ہمارے دل کا آ ئینہ صاف و شفّاف ہوجائے تاکہ اس کے بعد اس میں نورِ الٰہی اترے تو بندہ جذبۂ عبدیت اور اطاعت سے سر شار ہو کر اپنے مالک کے آ کے جھکے تو اسے بھی پیار آ جائے اور وہ ہماری مغفرت کا فیصلہ فرمادے ۔

   کام      آ خر      جذبہ  ٔ بے اختیار آ  ہی     گیا   
دل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا ۔
جگر مراد آ بادی                                             

جمعرات, ستمبر 11, 2008

Itni si bat ..story for kidsاردو کہانی


   اتنی سی بات  
(کہانی )
محمّد اسد اللہ 


بابو جی ! میں ایک نوٹ ہوں ۔کاغذ کا ایک بے جان سا ٹکڑا ۔ اتنے سے کاغذ کے ٹکڑے کی بھلا کیا اہمیت ۔میری قیمت میرے اوپر لکھی ہے۔سو روپئے ۔ یوں تو کسی بھی چیز پر کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے ۔ مگر چیزیں اپنی قیمت خود طے نہیں کرتیں ۔ کبھی لوگ اور کبھی حالات چیزوں کی قیمت طے کرتے ہیں۔ دام گھٹاتے اور بڑھاتے ہیں ۔ 

آئیے ! میں آپ کو اپنی کہانی سناؤں !
مجھے اپنے بچپن کے سبھی واقعات تو ٹھیک طرح سے یاد نہیں ،بس اتنا ضرور یاد ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے ،بنجاروں کی طرح بھٹکتا پھر رہا ہوں ۔ کبھی کسی کی جیب میں کبھی کسی کے پرس میں ۔کبھی کوئی آکر اٹھا لے جاتا ہے تو میں نئے سفر پر چل پڑتا ہوں ۔ 

ایسے ہی ایک سفر کی بات ہے ،جب میں رامو حلوائی کی دکان جا پہنچا ۔ ایک آدمی نے مٹھائی خریدی اور مجھے اس کے حوالے کر دیا ۔ حلوائی نے مجھے روپیوں کے گلّہ میں ڈال دیا جہاں اور بھی ڈھیر سارے نوٹ پڑے تھے ۔ ان نوٹوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میری خیریت پوچھنے لگے ۔ کسی نے پوچھا ’کہاں کہاں سے ہو کر آیا ہوں ‘ ؟۔ میں انھیں اپنے سفر کا حال سناتا رہا۔دکان میں گاہک آتے جاتے رہے ۔تھوڑی دیر بعد ایک غریب لڑکی اپنے چھوٹے سے بھائی کو اپنے کاندھے پر اٹھائے ہوئے وہاں آئی اور گڑگڑا کر حلوائی سے کھانے کے لیے کچھ مانگنے لگی۔’بابوجی! ہم بھائی بہن صبح سے بھوکے ہیں کچھ کھانے کو دو۔ ‘ 
’کھانے کو دو ؟ تیرے پاس پیسے ویسے ہیں چھوکری ؟ رامو نے پوچھا ۔
ناہیں بابا ۔ ہمارے ماں باپ دونوں گجر گئے ۔ہمارا کوئی نہیں ۔ہمارے پاس پیسے بھی نہیں ۔ ‘
’ چل بھاگ یہاں سے ۔ چلے آتے ہیں نہ جانے کہاں کہاں سے کوئی لنگر کھول رکھا ہے کیا؟ پیسے ہو تو بات کرو، نہیں تو چلو آگے‘۔ رامو حلوائی نے اسے جھڑک کر بھگا دیا ۔ 

میرا جی چاہا کہیں سے میرے پر لگ جائیں اور میں اڑ کر اس غریب لڑکی کے ہاتھوں میں پہنچ جاؤں ۔مگر یہ میرے بس میں نہیں تھا ۔
اس رات رامو حلوائی نے دکان بند کی تو تمام نوٹوں کو اپنی جیب میں بھر کر گھر لے گیا ۔ آدھی رات گذری ہوگی کہ دھیرے دھیرے پانی کی بوندیں پڑنے لگیں۔ہوا سے درختوں کے پتّوںکی سر سرا ہٹ سنائی دینے لگی ۔مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ غریب لڑکی اور اس کا بھوکا بھائی سسک سسک کر رو رہے ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش ہونے لگی ۔بادل اتنے گہرے تھے کہ صبح ہو نے پر بھی ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔ پورا دن گزر گیا مگر بارش نے رکنے کا نام نہیں لیا ۔دوسرے دن شور سنائی دیا کہ گاؤں کی ندی میں باڑھ آئی ہے اور گاؤں کے قریب ہی واقع بند ٹوٹ گیا ہے، گاؤں بہنے لگا۔ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ چھوڑ کر بھاگنے لگے ۔ رامو حلوائی اپنے روپیوں اور زیورات کی پیٹی لے کر اپنی تین منزلہ بلڈنگ پر چڑھ گیا ۔ آس پاس کے چھوٹے موٹے گھر پانی میں ڈوب چکے تھے ۔ دو تین دن بعد پانی کم ہو ا۔ کئی لوگ اور مویشی پانی میں ڈوب کے ختم ہو گئے تھے ۔گھروں اور دکانوں کا سارا سامان بہہ چکا تھا ۔ 

رامو حلوائی اپنی بیوی اور بچّوں کے ساتھ کھانے کی تلاش میں نکلا ۔دو دن سے انھیں کچھ بھی نصیب نہ ہوا تھا ۔ رامو نے نوٹوں اور زیورات کے صندوق میں ہاتھ ڈال کر مجھے نکالا ۔ اور خود بیوی بچّوں کو ایک پیڑ کے نیچے بٹھا کر کھانے کی تلاش میں نکل پڑا ۔ وہ لوگوں کو مجھے دکھا کر کہتا تھا :’یہ سو کا نوٹ لے لو اورکھانے کی کوئی چیز ہو تو مجھے دو ۔ یہ سو روپئے کا نوٹ لے لو ،دو روٹیاں دے دو ‘۔ مگر سب لوگ اسی کی طرح دانہ دانہ کے محتاج در در بھٹک رہے تھے۔ 
بابو جی ! مجھے اپنے اوپر لکھے ہوئے ہندسوں اور لفظوں پر ہمیشہ فخر محسوس ہوا ہے لیکن زندگی میں مجھے پہلی مرتبہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے اوپرایک جھوٹ لکھا ہوا ہے ۔ میں سو روپئے کا نوٹ نہیں کاغذ کا ایک حقیر ٹکڑا ہوں ۔ 

تھوڑی دیر بعد فضا میں گڑ گڑ اہٹ سنائی دی ۔سب نے آسمان کی طرف دیکھا ۔ایک ہیلی کوپٹر ان مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے آیا تھا۔جب وہ لوگوں کے سروں پر سے گذرنے لگا تو اس سے کھانے کے پیکیٹس گرنے لگے۔ لوگ انھیں حاصل کرنے کے لیے پاگلوں کی طرح دوڑ رہے تھے ۔ رامو حلوائی جو اپنی دکان پر بیٹھے بیٹھے ہاتھی کی طرح موٹا ہو گیا تھا وہ بھلا کیسے دوڑپا تا مگر پیٹ کی مجبوری نے اسے بھی دوڑ نے پر مجبور کردیا ۔اپنے تھل تھلے جسم کے ساتھ بے تحاشا دورتے دوڑتے وہ دو بار بری طرح گرا ۔اس کے گھٹنے زخمی ہو گئے ۔ دھوتی پھٹ گئی ،مگر وہ کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر ما را مارا پھرتا رہا ۔ بڑی مشکل سے کھانے کے دو چار پیکٹ حاصل کر پایا اورانھیں لے کر وہ اپنے بیوی بچّوں کے پاس پہنچا تواس نے مجھے بڑی حقارت سے دیکھا ۔ بابو جی لوگ نوٹوں کو تو ہر جگہ لالچ اورمحبت بھری نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں ،مگر یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے رامو حلوائی جیسے دولت کے لالچی شخص کی نفرت بھری نظروں کا سامنا کرنا پڑا ۔ 

دوسرے دن اس علاقہ میں امدادی کیمپ لگایا گیا جہاں سے لوگوں کو کھانا کپڑا وغیرہ ملنے لگا ۔اس سیلاب سے لٹے پٹے لوگوں کی لمبی قطار میں رامو حلوائی بھی اپنے بیوی بچّوں کے ساتھ لاچار کھڑا تاتھا ۔میں اس وقت بھی اس کی جیب میں موجود تھا ۔ مگر اس کے کسی کام نہ آ سکتا تھا ۔ رامو حلوائی اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا اور اس کے پیچھے وہی لڑ کی اپنی بھائی کو کاندھے پر سوار کیے کھڑی تھی جسے کچھ دن پہلے رامو حلوائی نے اپنی دکان سے جھڑک کر بھگا دیا تھا ۔ اس لڑکی کے کانوں میں وہ جملے گونج اٹھے۔۔ 
’ چل بھاگ یہاں سے ۔ چلے آتے ہیں نہ جانے کہاں کہاں سے کوئی لنگر کھول رکھا ہے کیا؟ پیسے ہو تو بات کرو نہیں تو چلو آگے‘۔
’چلو آگے‘،رامو حلوائی کو کسی نے پیچھے سے دھکّا دیا ۔رامو حلوائی بھی شاید ان ہی جملوں میں کھویا ہوا تھا ۔ لوگ آگے بڑھ رہے تھے ۔ اس لڑکی نے رامو حلوائی کو دھیان سے دیکھااس کی نظریں جیسے اس سے پوچھ رہی تھیں،’ کیا آج تمہارے پاس بھی پیسہ نہیں ہے ؟جو ہماری طرح یہاں کھڑے ہو ‘
رامو حلوائی نے نظریں جھکا لیں ۔شرم کی وجہ سے یا اس لڑکی کی تیکھی نظروں سے بچنے کے لئے ۔ پھر وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑایا : اے اوپر والے! میری سمجھ میں آ گیا ،دنیا میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے ،مگر اتنی سی بات سمجھانے کے لیے اتنی بڑی باڑھ بھیجنے کی کیا جرورت تھی ‘۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بدھ, ستمبر 10, 2008

مہاتما گاندھی - اپنے افکار کے آ ءینے میں Thoughts of M.K.Gandhi


موہن داس کرم چند گاندھی

اپنے افکار کے آ ئینے میں


۱۔ اگر ہندوستان تلوار کے راستے کو اپناتا ہے تو ہو سکتا ہے اسے فوراً کامیابی حاصل ہو جائے لیکن اس صورت میں تشدّد بھرا بھارت میرے دل کا ٹکڑا نہیںہو سکتا ، پوری دنیا کو راستہ دکھانے کے لئے ہندوستان کا یہی مشن ہو نا چاہئے کہ جو بات اخلاقی طور پر غلط ہے وہ سیاسی طور پر بھی غلط ہے ۔

۲۔ جب تک ہندوستانی عورتیں عوامی زندگی میں حصّہ نہیں لیتیںتب تک ملک ترقّی نہیں کر سکتا ۔

۳۔ گناہ سے نفرت کرو گناہ گار سے نہیں ۔

۴۔ ’’ اس بڑھتی ہو ئی چھوا چھوت سے مجھے انتہائی تکلیف پہنچی ہے کیونکہ میں اپنے آپ کو ایک ایسا ہندو سمجھتاہوں جس میں ہندو دھرم کی روح پیوست ہو گئی ہے ۔ آج جس صورت میںہمارے ہاں چھوت چھات پائی جاتی ہے اس کے لئے مجھے کو ئی جواز ان سب کتابوں میں نہیں مل سکا جنھیں ہم شاستر کہتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ میںپہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ ہندو دھرم واقعی چھوت چھات کو جا ئز قرار دیتا ہے تو مجھے ہندو دھرم چھوڑنے میں کو ئی پس و پیش نہیں ہو گا ۔ کیونکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ سبھی سچّے مذاہب کو بنیادی سچّائیوں کے خلاف نہیں ہو نا چاہئے ۔

۵۔ اگر آنکھ کا بدلہ آنکھ ہو تو پو ری دنیا اندھی ہو جا ئے گی ۔

۶ ۔ شراب جسم اور روح دونوں کو فنا کر دیتی ہے ۔

۷۔ میں اپنی شخصیت کے اظہار کے لئے مکمّل آ زادی چاہتا ہوں ۔

نہ کہیں ہندو مر رہے ہیں نہ مسلمان مارے جا رہے ہیں ۔ ہر جگہ انسان مررہا ہے ۔

۸۔ ایک کمزور کبھی معاف نہیں کر سکتا ۔ معافی تو طاقتور کا اظہار ہے

۹۔ ہر گاؤں کو خود کفیل جمہوری اکائی ہو نا چا ہئے ۔

۱۰۔ایماندارانہ اختلاف ترقّی کی نشانی ہے ۔

سوموار, ستمبر 08, 2008

عورت The Woman (A short Story in Urdu )


عورت   -  افسانہ

 حقیقی واقعات پر مبنی ،عورت کے استحصال کی ایک کہانی ۔

۔ ’’ اس کا شوہر آٹو رکشا ڈرائیور تھا ، اچانک ایک حادثہ کا شکار ہو کر چل بسا۔ شوہر کی کمائی کے علاوہ اور کو ئی ذریعۂ روزگار نہ تھا ۔بچّوں کی پرورش اور تعلیم کا مسئلہ منہ پھاڑے کھڑا تھا ۔ جب کئی دن تنگی اور پریشانی کے گذرے تو اس نے یہ عجیب و غریب ارادہ کر لیا ۔ ٹوٹے پھوٹے آ ٹو کی مرمّت کر وائی اور اس طرح وہ اس شہر کی پہلی خاتون آ ٹو رکشا ڈرائیور بن گئی۔ آج جو سبق ہم پڑھنے جا رہے ہیں اسی خاتون کے متعلق ہے‘‘۔یہ کہہ کر میں نے کتاب کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھاکہ اس کلاس کی ذہین ترین طالبہ نغمہ بول پڑی ۔
’’سر عورت کیسے آٹو رکشا ڈرائیو ربن سکتی ہے ؟کلاس میں موجود طالبات کے چہروں پر بھی وہی سوال لکھا ہوا تھا ۔

’’بالکل بن سکتی ہے ، ہمارے شہر میں بھی چند عورتیں آ ٹو چلاتی ہیں ۔یہ چیز ابھی عام نہیں ہو ئی ہے ۔‘‘ میں نے طالبات کو سمجھانا شروع کیا ۔ ’’ لیکن جس شہر کی یہ کہانی ہے ۔ وہاں پہلے کبھی کسی عورت کو آ ٹو چلاتے ہو ئے نہیں دیکھا گیا تھا۔ حالات انسان سے کیانہیںکر واتے ۔پہلے تو اس پیشے میں مو جود مرد ڈرائیوروں نے اس کا خوب مذاق اڑایا۔فقرے کسے ،لیکن وہ عورت بھی دھن کی پکّی نکلی ۔زندگی کی جو جنگ اس نے لڑی وہ آ ج آ پ کے لئے ایک سبق بن گئی ہے‘‘۔
’’ سر آپ کے لئے فون ہے ۔ ‘‘ چپراسی دروازے پر کھڑا تھا۔
میں نے ان بچّوں کو سبق پڑھنے کے لئے کہا اور آ فس کی طرف چل دیا ۔ ’’ ہلو بھائی سائب ! میں کب سے کانٹیک کر ریا ہوں فونیچ نئی لگ را‘‘ فون پر ببلو تھا ۔اپنے مخصوص لب و لہجہ کے ساتھ ۔
’’ہاں، میرا فون دو دن سے خراب ہے ، سب ٹھیک تو ہے ؟‘‘
نئی بھا ئی ساب ۔ایک بری خبر ہے ،ایک کیا دو بری خبر ہے ۔سائیمہ باجی کا انتقال ہو گیا ۔
’’اوہ! انّا للٰہ و انّا الیہِ راجعون‘‘ ۔
’’آ پ کو فون کئے تھے مگر نئی لگا ۔ پھر اشرف ماسٹر سے اسکول کا نمبر لے کر لگایا ،اور جب باجی کو قبرستان لے کر گئے اور واپس آ ئے تو نانی جان کا بھی انتقال ہوگیا۔آج مغرب میں ملائیں گے آپ آ رئے نا؟ ‘‘
یا خدا !مجھے لگا جیسے میرے پیروںتلے سے زمین کھسک گئی ہو اور پورا کمرہ گھومنے لگا ۔ اچانک دو دو موتیں ۔

ایک گھنٹہ بعد میں شرالہ جانے والی بس میں کھڑ کی سے سر ٹکائے بیٹھا باہر تیزی سے بھاگتے مناظر کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ماضی کے سارے واقعات کسی فلم کے اسکرین کی طرح میرے ذہن کے پر دے پر ابھرنے لگے ۔ سائیمہ باجی ہمارے پڑوس میں رہا کرتی تھیں ۔ بچپن ہی سے میں انھیں خا لہ کہاکرتا تھا۔ دبلی، پتلی، شیرین لہجہ اپنائیت سے لبریز،ایسا محسوس ہو تا جیسے سر تا پا شفقت میں ڈوبی ہو ئی ہو ں۔ ایک چھوٹے سے مکان میں وہ رہا کر تی تھیں ،پھر جب جیل بیگ سے ان کی شادی ہو گئی تو ہمارے پڑوس میں آ کر رہنے لگیں۔ ان کی والدہ جنھیں ہم نانی کہا کر تے تھے ،وہ بھی ان کے ساتھ تھیں ۔اسی ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبے مدنا پور میں ان کی پر ورش ہو ئی تھی، وہیں تعلیم حاصل کی اور پھر ہمارے گاؤں کے ایک پرائمری اسکول میں ان کا تقرر ہو گیا۔ایک محنتی ، ذہین اورشریف استانی کی حیثیت سے انھوں نے بچّوں اور بستی والوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی تھی ۔ مجھے کسی نے ان کے متعلق بتا یا تھا کہ مدنا پور میں ا ن کے والد محنت مزدوری کر کے گذر بسر کیا کرتے تھے۔ ایک دن کسی کھیت میںبارش کے دوران پیڑ کے نیچے کھڑے تھے کہ اچانک اس پیڑ پر بجلی گر پڑی اور وہیں ختم ہو گئے ۔ پھر حالات کی نہ جانے کتنی بجلیاں ان کے پس ماند گان پر گریں ۔نانی جان نے بڑے صبر کے ساتھ خالہ جان اور ان کے بھائی عرفان کو پال پوس کر بڑا کیا ۔ ایک غریب بیوہ کے راستے میں جو مصیبت کے پہاڑ آ سکتے ہیں وہ سب انھوں نے ہمّت کے ساتھ طے کئے ۔

وقت کے ساتھ عرفان کمانے کے لائق ہو ا تو انھوں نے اسے ایسے دیکھنا شروع کیا جیسے وہ آنگن میں لگے بور سے لدے مہکتے ہو ئے آ م کے پیڑکو دیکھا کر تی تھیں جس میں اس بار پہلی مر تبہ پھل آ نے والے تھے ۔ ۔عرفان کی شادی ہو ئی اور چاند سی دلہن گھر آ ئی ۔ ان ہی دنوں ایک رات کچھ ایسی زبر دست ہو ا چلی کہ آم کا سارا بور زمین پر بچھ گیا ۔ شادی کے چند دنوں بعد ہی بہو نے اس گھر میں ماں بیٹی کا رہنا دشوار کر دیا۔عرفان کی بیوی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ دونوں عرفان کی محدود کمائی پر بوجھ ہیں ۔

چند ماہ گذرے ہو ں گے کہ بیوہ کی دعاؤں اور آ نسوؤں نے ایک نیا راستہ کھول دیا ۔ہمارے گاؤں میں سائمہ خالہ کا تقرر ایک پرائمری اسکول میں ہو گیا ۔ وہاں ایک کرائے کا مکان لے کر وہ دونوں ماں بیٹی رہنے لگے ۔ ملازمت کر تے ہو ئے دو تین برس گذرے ہو ں گے کہ ہمارے پڑوس میں رہنے والے مرزا جمیل بیگ سے سائمہ خالہ کا نکاح ہو گیا۔ ہم مرزا صاحب کو کسی حد تک جانتے تھے اس لئے اس خبر سے ہمیں کو ئی خو شی نہیں ہوئی ۔ پھر وہی ہو ا جس کا ڈر تھا، شادی کے بعد مرزا صاحب نے پر پر زے نکالنے شروع کر دئے ۔انھوں نے تو سائمہ خالہ کو سونے کا انڈا دینے والی مرغی سمجھ کر نکاح کیا تھا ۔ ہمارے سماج میں اب سروس والی بیوی سے شادی کرنا بھی تلاشِ روز گار کی ایک مقبول قسم ہے ۔

بیوی کی کمائی ہاتھ لگی تو مرزا صاحب کا ہاتھ کھل گیا ۔چند ہی مہینوں میں انھوں نے شراب اور بازاری عورتوں کے چکّر میں پھنس کر اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا ۔سائمہ خالہ خاموشی سے وہ سارے مظالم سہتی رہیں ۔ ان کی بے بسی اور خاموشی نے بیگ صاحب کے حوصلے بڑھا دئے۔نانی نے ان کی حرکتوں کے خلاف آ واز اٹھا ئی مگر ان کیآ واز میں وہ طاقت کہاں تھی کہ بیگ صاحب کا ہاتھ روک لیتی ۔وہ بذاتِ خود داماد کے گھر میں پناہ گزیں تھیں ۔ بیٹے کے گھر کی دہلیز پھلانگ کر آ ئی تھیں، اس طرف کا راستہ بند تھا ۔ لے دے کر بیٹی کی تنخواہ کا ایک سہارا تھا اور وہی اس گھر میں ان کے رہنے کا جواز بھی تھا۔ بیگ صاحب بھی اس بات کو خوب جانتے تھے کہ نانی کو الگ کر دینے سے وہ لکڑی ٹوٹجا ئیگی جس پر انھوں نے اپنے عیش و عشرت کا آ شیانہ بنایا تھا۔ سائمہ خالہ زندگی بھر ایک لدی ہو ئی شاخ کی طرح جھکی رہیں ۔

میرے آب و دانے نے مجھے اس زمین سے کسی پو دے کی طرح اکھاڑ کر شہر کا حصّہ بنا دیا تھا ۔ گاہے بگاہے ان لو گوں کی خبریں مجھ تک پہنچتی رہتی تھیں ۔ببلو کبھی کبھار شہر آ تا تو میرے گھر بھی چلا آ تا۔اسی کے ذریعے ایک دن مجھے پتہ چلا کہ بیگ صاحب نے دوسری شادی کر لی اور ایک ایک نیا گھر بنا کر نئی بیوی کو اس وہاں رکھ چھوڑا ہے۔پھرایک سال بعد خبر ملی کہ سائمہ خالہ کو بلڈ کینسر ہوگیا۔ بوڑھی نانی کے مقدّر میں نہ جانے اور کیا کیا لکھا تھا۔ ذہنی طور پر سبھی اس خبر کے لئے تیّار تھے کہ سائمہ خالہ اس دنیا میں نہیں رہیں۔

اپنی مٹّی سے دور ہونے کی ایک جان لیوا کسک جو شہر کے ہنگاموں میں ایسے چھپ جاتی ہے جیسے بارش کی پہلی بوچھار سے گاؤں کی کچّی سڑکوں پر اڑتی دھول دب جاتی ہے، اب پھر ابھر آ ئی تھی ۔بس دھیرے دھیرے اس بستی کے جانے پہچانے راستوں پر رینگ رہی تھی ۔مجھے ایسا محسوس ہو گویا میں اپنے ماضی کے شہر میںداخل ہو رہا ہوں ۔گاؤں کے راستے اب بھی ویسے ہی تھے ،دھول اڑاتے ہو ئے ۔ لو گوں کو چہروں پر وقت اپنے سفر کے نشان چھوڑ گیا تھا۔ بس دھیرے دھیرے آ گے بڑھ رہی تھی۔اسٹیشن قریب آ یا تو میں نے اپنا بیگ اور خود کو سنبھال اور بس رکتے ہی نیچے اتر آیا ۔ پہلے یہی قصبہ سائمہ خالہ اور نانی جان کے وجود سے کیسا بھرا بھرا لگتا تھا ۔ مجھے ایسا محسوس ہو ا جیسے وہ دونوں اپنے ساتھ اس قصبے کی ساری رونقیں سمیٹ کر لے گئے ۔

سائمہ خالہ کے گھر پہنچا تو نانی جان کو غسل دیا جا چکا تھا ۔ تھوڑی ہی دیر میں لوگ جناز لے کر قبرستان کی طرف چلنے لگے ۔ سائمہ خالہ کے پہلو ہی میں انھیں سپردِ خاک کر دیا گیا ۔ اسی دوران مجھے پتہ چلا کہ جب سائمہ خالہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو نانی جان لڑکھرا تی ہوئی دروازہ تک آ ئیں اور اشکبار نظروں سے بیٹی کے جنازہ کو جاتے ہو ئے دیکھتی رہیں۔ جب لوگ نظروں سے اوجھل ہو گئے تو ایک چینخ مار کر یہ کہا، ’’بیٹی سائمہ ! اب میں اس گھر میں کس منہ سے رہوں گی ؟‘‘ اور پھر وہ ایک کمزور مکان کی طرح وہیں ڈھ گئیں ۔ انھیں اٹھا کر وہیں بستر پر لٹا دیا گیا اس کے بعد وہ ہوش میں نہیں آئیں۔

دوسرے دن مجھے اپنے شہر روانہ ہو نا تھا۔ میں جب بس اسٹاپ پر پہنچا تو دیکھا اس چھوٹی سی بستی میں بڑی بڑی عمارتیں سر اٹھا نے لگی تھیں۔ اب اس گاؤں کے اندر سے ابھرتے ہوئے عفریت جیسے شہر نے اس بستی کو نگلنا شروع کر دیا تھا ۔ میرے قریب سے ایک آٹو رکشا گذرا جسے ایک عورت چلا رہی تھی ۔شہر کی طرح یہ مجبوریاں اب قصبوں میں داخل ہو چکی تھیں ۔ مگر یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔

مجھے حیرت سے اس منظر کو دیکھتے ہوئے ببلو نے کہا ۔ ’’ بھائی جان ! عورتاں آجکل بھؤت ترقّی کر لیاں، ادھر گاؤں گاؤں میں عورتاں آ ٹو چلانے لگ گیاں ‘‘
میری آ نکھوں کے آ گے سائیمہ خالہ کا چہرہ آ گیا جو ملازمت ملنے کے بعد اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی تھیں ۔ پھر لڑکھڑاتا ہوا نانی جان کا ہیولہ ابھرا اور گر کر زمین پر ڈھیر ہو گیا ۔

’’ببلو! عورت چاہے آ ٹو چلائے یا ہوائی جہاز ،دنیا والے عورت کی ترقّی کے کتنے ہی افسانے بناڈالیںحقیقت یہ ہے کہ عورت آج بھی اتنی ہی بے بس اور لا چار ہے جتنی کل تھی۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتوار, ستمبر 07, 2008


پیپل کا خط پپو کے نام 

A letter of a tree پیپل کا خط پپّو کے نام

پیپل  کا خط پپّو کے نام
A letter of a tree  
ماحولیات اور درختوں کی حفا ظت سے متعلق تخیٔل پر مبنی ایک تحریر ۔۔۔۔
پیارے پپو ! 
ابھی ابھی ٹھنڈی ہوا چلی تھی، میں نے تمہیں آواز دی تھی ۔ اپنے پتّوں کی ہزاروں ہتھیلیوں بجا بجا کر تمہیں پکارا مگر تم نے میری ایک نہ سنی۔ اسی لئے اپنے پتّوں پر لکھا ہوا یہ خط تمہیں بھیج رہا ہوں ۔ 
تم سوچ رہے ہوں گے بھلا ایک درخت کو کیا ضرورت پیش آ ئی کہ وہ پپو کو خط لکھے ؟ تم تو جانتے ہو دوست ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے ہیں ۔ سارے پیڑ پو دے انسانوں کے دوست ہی تو ہیں اور سچّاد وست وہی جو مصیبت کے وقت کا م آ ئے ۔ 
دوست کچھ دیر پہلے تم میری چھاؤں میں بیٹھے تھے ۔ ایک لکّڑھارا میرے بھائی یعنی آم کے پیڑ کو کاٹ رہا تھا ۔ تم کیسے پتّھر دل اسے ٹک لگائے دیکھتے رہے ۔ اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں ۔ اس ظالم کوسمجھایا نہیں کہ پیڑ کاٹے جا ئیں گے تو انسانوں کو اس کی کتنی بھا ری قیمت چکانی پڑے گی ۔ ذرا سوچو ہم انسانوں کے لئے کس قدر کا ر آ مد ہیں ۔ 
ہم جیتے جی لکڑیاں مہیّا کرتے ہیں ۔ بے رحمی سے کاٹ دئے جاتے ہیں تب بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔ ہماری لکڑیاں مکانوں کی چھت میں لگتی ہیں اور سائیبان بن کر سب کو راحت پہنچاتی ہیں ۔ذرا سوچو جس آ رام دہ کر سی پر تم بیٹھے ہو ئے یہ خط پڑھ رہے ہو وہ بھی تو لکڑی ہی کی بنی ہے ۔ یہ حکایت تو تم نے سنی ہو گی کہ صندل کے پیڑ پر کو ئی کلہاڑی چلائے تو وہ لکڑی اس کلہاڑی کو بھی خوشبو دار بنا دیتی ہے۔ خود دھوپ میں تپ کر انسانوں کو سایہ دینے والے پیڑ انسانیت کا کتنا بڑا درس دیتے ہیں ۔ ہماری شاخوں پر کھلے پھول فضا کو معطّر کر دیتے ہیں ۔ تمہارے ارد گرد بکھرے ہو ئے حسین مناظر کی یہ ساری خوبصورتی ہمارے ہی دم قدم سے ہے ۔ 
ہم سر سے پیر تک انسانیت کی خدمت میں جٹے ہو ئے ہیں ۔ ہماری جڑیں، پتّیاں، پھول، تنہ ،اور چھال سے نہ جانے کتنی دوائیں بنائی جا تی ہیں ۔ ربڑ سے بنی بے شمار چیزیں تم رات دن استعمال کرتے ہو بتاؤ یہ ربڑ آتا کہاں سے ہے ۔درختوں ہی سے نا؟ آج دنیا بھر میں فضائی آ لودگی بڑھ رہی ہے ۔ اس کی روک تھام کرنے سے انسان قاصر ہیںمگر اس زمین کی سلامتی اور اس کی فضا کے تحفّظ کے معاملے میں بھی ہم نباتات سب سے آ گے ہیں ۔ 
برسات کے پانی سے بہنے والی مٹّی کو زمین پر اگنے والی گھا س تھامے رہتی ہے ۔بارش کے پا نی کو پیڑپودے جذب نہ کریں تو سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ ہماری جڑیں مضبوط پنجوں کی طرح زمین کے کٹاؤ کا عمل روک کر مٹّی کی حفاظت کر تی ہیں۔ درختوں کی پتّیاں جھڑ جاتی ہیں تو کھاد بن کر زمین کی زرخیزی میں ضافہ کرتی ہیں ۔ ہماری لکڑیاں ایندھن کے طور پر کام آ تی ہیں ۔ اور کہیں ضروری ساز و سامان بن کر فائدہ مند ثابت ہو تی ہیں ۔ پرانے زمانے میں ہتھیار سے لے کشتیوں تک میں لکڑی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ لکڑی نہ صرف دفتروںاور گھروں کی استعمال کی چیزوں میں لگتی ہے بلکہ سجاوٹ کے کام بھی آ تی تھی ۔ 
لکڑی کے بنے جھولے اور کھلونے سے لے کر چتا میں جلنے والی،تابوت اور قبروں میں استعمال ہو نے والی لکڑی بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک درختوںنے ہر قدم پر انسان کا ساتھ نبھایا ہے ۔ 
دیکھو! وہ لکّڑ ھارا کلہاڑی اٹھائے ہو ئے ایک کے بعد دوسرا پیڑ کاٹتا چلا جا رہا ہے ۔ آج ان درختوں کی کل میری باری ہے ۔
اے دوست! کیا اس مصیبت کے وقت بھی تم کام نہ آ ؤگے ؟ جاؤ اس بے وقوف کو سمجھاؤ کہ ہو پیڑوں پر نہیں خود اپنے پیروں پر کلہاڑی چلا رہا ہے۔ درخت ا س زمیں کے پاؤں ہی نہیں ہاتھ بھی ہیں۔ فضاؤں میں پھیلے ہو ئے یہی دعاؤں کے ہاتھ خدا سے بارشیں مانگتے ہیں ۔ یہ دھرتی کاجسم بھی ہے اور روح بھی ۔ہماری پتّیوں سے یہ زمیں سانس لیتی ہے ۔ یہ پیڑ پو دے نہ ہوں گے تو زمین زندگی سے محروم ہو جائیگی۔ خدا کے لئے ہمیں زندگی سے محروم نہ کرو ۔ خدا حافظ ۔ 
تمہاری مدد کا منتظر 
پیپل کا پیڑ



ہفتہ, ستمبر 06, 2008

journey (Translated Marathi story into Urdu)


سفر
Urdu translation of a Marathi modern short story ..
مراٹھی کہاانی 
الف لیلوی کر دار سند باد جہازی کے تلمیحی پس منظر میں انوکھے انداز میں لکھی گٔی مراٹھی کہانی کا اردو ترجمہ ۔۔۔۔۔۔۔
لکشمن لونڈھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مترجم : محمّد اسد اللہ 

۔
لگتا ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں آ پ کے چہرے سے ظاہر حیرانی تو یہی بتا رہی ہے ،جیسے کسی کو رات خواب میں کو ئی مرا ہوا آدمی دکھا ئی دے اور اتنے وقت کے لئے محسوس ہو کہ وہ سچ مچ زندہ ہے ،مگر صبح اٹھنے کے بعد یقین ہو جائے کہ وہ تو حقیقتاً خواب ہی تھا ،اور اچانک وہ شخص اس کے رو برو آ کھڑا ہو ،کچھ اسی قسم کا نظر آ رہا ہے آ پ کا چہرہ ۔
میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ نے مجھے کہیں کسی خواب میں ہر گز نہیں دیکھا ۔ممکن ہے کسی تصویر میں کہیں دیکھا ہو مگر وہ تو بچپن کی بات ہے ۔اس کے بعد آپ کی میری کو ئی ملاقات نہیں ۔آپ نے مجھے دلال یا مول گاؤں کر کی کھینچی ہو ئی تصویر میں دیکھا ہو گا ۔آپ اس تصویر میں بھی مجھے پہچان نہیں پا ئے ہوں گے کیونکہ وہ تصویر بھی ہو بہو نہیں تھی ۔ اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ دلال یا مول گاؤں کر نے بھی مجھے دیکھا کہاں تھا ۔ انھوں نے فقط لوگوں کے سنے ہو ئے بیانات کے سہارے میری تصویر بناڈالی تھی ۔ اس لئے اس کا غلط ہونا فطری ہے ۔
دوسری بات یہ کہ آج آپ کے پاس وہ تصویر مو جود نہیں اور اگر ہو تی بھی تو موازنہ کر نے کے کام نہ آ تی کیونکہ میں اب بھی آپ کے رو برو کھڑا کہاں ہوں ۔میں تو اب بھی آپ کے لئے ایک آ واز ہی ہوں ۔آپ کہیں گے اندھا آدمی آ واز کے ذریعے انسان کو پہچان لیتا ہے ۔میں مانتا ہوں ۔لیکن کب؟ جب کہ اس اندھے نے اس شخص کی آ واز پہلے کبھی سنی ہو،اور جہاں تک میرا خیال ہے میری آ واز بھی شایدآپ پہلی مرتبہ سن رہے ہیں ۔میں نے لفظ شاید استعمال کیا ہے ۔یہ بھی ممکن ہے میری آ واز
 آ پ نے پہلے کہیں سنی ہو۔ لگتا ہے آپ نے مجھے اب بھی نہیں پہچانامیں وہ بوڑھا ہوں جو سند باد کو ملا تھا۔ساتویں سفر میں ۔ 
اس سے میری ملاقات ساتویں سفر میں ہو ئی تھی ۔یہ بات اس نے آ پ کو بتا ئی ہو گی ۔ ہے نا؟ یہ بھی ایک ادھوری سچّائی ہے ۔ مگر اس میں اس کا کو ئی قصور نہیں ۔میں پہلے سفر سے ہی اس کے ساتھ تھا،یعنی اس کی گردن پر سوار تھا۔ اسے اس بات کا قطعی علم نہ تھا ،یہ بات تو اسے ساتویں سفر میں معلوم ہو ئی ۔۔۔۔، اس کے بعد اس نے آ ٹھواں سفر نہیں کیا ۔ میں آ پ کو اگلے سوال کو بخوبی سمجھتاہوں کہ اس نے آ ٹھواں سفر کیوں نہیں کیا؟ یہی نا؟
بات دراصل یہ ہے کہ میں اس کے کاندھوں سے اتر گیا تو اس کاسفر کا سارا حوصلہ جا تارہا۔ 
سند باد نے کل سات سفر کئے ،کس لئے ؟ وہ خود کہتا ہے اسے گھومنے کا شوق تھا ۔ بے کا ربیٹھ نہیں سکتا تھا ۔ اگر بیٹھ رہتا تو انّر کمپلشن آ نے لگتا ۔ بعض لو گوں کا خیال ہے کہ ان تمام مسافتوں کے پیچھے دولت کے حصول کی ترغیب کار فر ما تھی۔ اور چند لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اس ملک کے بادشاہ کے حکم پر اسے یہ سفر اختیار کر نے پڑے ۔
ایک بات تو طے تھی کہ سفر سے واپسی پر سند باد ہر بار یہ طے کرتا کہ اب اتنی مسافتیں بہت ہو چکیں اب کسی سفر پر نہیں جانا ۔سفر کی صعوبتیں ،پریشانیاں ،دور دور بھٹکنا۔۔۔لیکن یہ تمام باتیں بے کار ثابت ہو تیں ۔وہ کون تھا جو یہ طے کرتا کہ اسے سفر نہیں کرنا؟ یہ طے کرنا اس کے بس میں تھا ہی نہیں،اور نہ یہ بادشاہ طے کر سکتا تھا۔یہ سب ان کے ہاتھوں میں نہیں تھا۔ 
۔۔۔۔یہ میرے اختیار میں تھا۔
میں ہی اس کی گردن پر سوار ہو کر اسے ہر بار دوڑاتا رہا ۔ اسے یہ محسوس ہو تا تھا کہ وہ سفر پر نکلا ہے مگر بالکل جھوٹ ۔اسے ہر بار سفر کے لئے کھینچ کر میں نے ہی باہر نکالا۔ سند باد نے ساتویں اور آ خری سفر کی پوری کہانی نہیں سنائی ۔میں سناتا ہوں ۔
سند باد بری طرح تھک چکا تھا۔سفر کی تکالیف ،دشواریاں اس کے علاوہ اسے کھانے پینے کے لئے کچھ نہ مل پایا ۔ سردی ،گرمی، بارش اور مو سمی ہواؤں میں اس اکیلے کا سفر ۔۔۔معاف کیجئے ہم دونوں کا،(وہ اور اس کے سر پر بیٹھا ہوا میں ) صرف اسے علم ہی نہیں تھا ۔ اسی لئے وہ اپنی دانست میں تنہا بھٹکتا رہا۔ مسلسل۔۔۔
ایک ایسی ہی تپتی ہو ئی دوپہر تھی اور پر سورج شعلے برسا رہا تھا ۔حدِّ نظر تک عرب کا ویران صحرا بکھرا پڑا تھا ۔راستے میں ملنے والے کھجوروں کے چند درخت تھے جو سائے کے بھی کام کے نہ تھے ۔۔۔۔اور دور نظر آ نے والا سراب ۔اتنے طویل سفر کے بعد یہ جان کر بھی کہ وہ سراب ہے سند باد پا گل ہواٹھا اور اس کے پیچھے دوڑنے لگا ۔ ۔۔
سند باد اور اس کے سر پر سوار میں ۔اس طرح کا تھا یہ سفر ۔
دوپہر کسی قدر ڈھل گئی ،مگر دھوپ کی شدّت اور تمازت اسی طرح بر قرار تھی ۔تب سند باد کو پانی کا ایک چشمہ نظر آیا ۔ سچ مچ کے پانی کا ایک چشمہ۔۔ وہ تیزی سے دوڑتا ہوا اس کے قریب پہنچا ۔سورج کی تیز شعائیں پانی سے منعکس ہو کر سند باد پر پڑیں اور وہ اسی وقت اندھا ہو گیا ۔ مگر وہ چشمہ عام قسم کے پانی کا ذخیرہ نہ تھا ۔ لو گ اسے مقدّس چشمہ کہتے تھے ۔چلّوسے پانی لینے کے لئے سند باد جھکا ہی تھا کہ اس کی بینائی لوٹ آ ئی اور پانی میں ابھرے ہو ئے عکس میں اسے دکھائی دیا کہ کو ئی اس کی گردن پر سوار ہے ۔کو ئی یعنی میں ۔۔۔۔ جس وقت اسے میرے وجود کا احساس ہوا اس لمحے کے بعد سند باد سند باد نہ ر ہا ۔اسی وقت سے یہ بات اس کے ذہن میں گھوم،تی رہی کہ کسی طرح وہ میرا بوجھ اپنے کاندھے سے اتار پھینکے ۔ اس کے بعد وہ لعل و جواہر اور سونا چاندی کے علاقے بھلا بیٹھا ۔ ان ممالک کی شہزادیوں سے غافل ہو گیا اور سب کچھ بھول گیا ۔ اب اس پر ایک ہی فکر سوار تھی کہ مجھے کسی طرح سر سے اتار پھینکے ۔ 
مجھے اس لمحے کے بعد سند باد سے خوف آ نے لگا ۔ میں کون ہوں یہ جان لینے کے بعد اس نے مجھ سے چھٹکارا پا نے کی کو شش شروع کی میں اسی وقت جان گیا کہ اب میں سند باد کے سر پر زیادہ دنوں تک بیٹھ نہیں سکوں گا ۔آ خر کار میں نے اسے سمجھانے کا ارادہ کیا ۔ میں نے اسے صاف صاف بتایا کہ ۔۔۔۔ ’’دیکھو سند باد ! تم مجھے پھینک سکتے ہو ،ختم نہیںکر سکتے ۔ مجھے لا فانیت کا شراپ ہے تم ایک فانی انسان ہو ۔تھوڑے دنوں کے بعد تم مر ہی جا ؤ گے ۔مجھے اس دنیا کے آ خر تک زندہ رہنا ہے اس لئے تم مجھے کسی دوسری جگہ بھجوادو ۔لیکن مجھے کسی کا سر چاہئے جہاں میں بیٹھ سکوں ۔ سند باد کو پہلے تو میرا خیال پسند نہ آ یا ۔یعنی اپنے سر کا بوجھ کسی دوسرے کے سر منڈھ دینا،لیکن اس کے سوا کو ئی دوسرا راستہ نہ تھا ۔ میں اسے خبر دار کر چکا تھا کہ جب تک مجھے کسی دوسرے شخص کے سر پر بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں ملے گی ،تم آ زاد نہیں ہو سکتے بالآخر وہ مجبوراً تیّار ہو گیا ۔ ایک دن اس نے مجھے اطلاع دی کہ’’ میںنے ایک سر ڈھونڈنکالا ہے چھے سات سال کا ایک بچّہ ہے ، ابھی اس کا سر چھوٹا ہے ۔ممکن ہے ابھی بیٹھنے کے لئے جگہ کم پڑے لیکن عمر کے ساتھ یقیناً اس کا سر بڑا ہو گا ۔ تب تم بہ آ سانی وہاں بیٹھ سکو گے ۔ مجھے اس کی بات پسند آ ئی ۔ اور ایک دن لعل و جواہر ،سونا چاندی کی کانیں ،شہزادیوں کی کہانیاں سناتے سناتے اس کی لا علمی کا فائدہ اٹھاتے ہو ئے ۔۔۔۔،دیکھئے آ پ کو یاد آ تا ہے کیا کہ سند باد نے آ پ کی بے خبری میں اپنا بوجھ آ پ کے سر منڈھ دیا اورخود آ زاد ہو گیا ۔ 
۔۔۔۔اور اس کے بعد سند باد کو آ ٹھویں سفر کی ضرورت ہی پیش نہ آ ئی ۔ ۔۔ ۔مگر اس دن کے بعد آ پ کا سفر شروع ہو گیا۔ 



Maulana Abul Kalam Azad


میرا پسندیدہ رہنما ۔ مو لانا ابوالکلام آ زاد
School Essay 
Maulana Abul Kalam Azad  

اس دنیا میں ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ۔ ملک و قوم کے لئے انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں ، ایسی عظیم شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حرفوں سے لکھے ہیں ۔ ان میں سیاسی رہنما ، سماجی خدمت گار ،مذہبی پیشوا، مفکّر ،شاعر ادیب وغیرہ سبھی ہیں ۔ ایسے ہی لو گوں کے بارے میں شاعرِ مشرق علّامہ اقبال نے کہا تھا ۔ 
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے 
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا 
ہمارے ملک کی ایسی ہی عظیم اور مثالی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد،میرے پسندیدہ رہنما ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آ زاد ایک سیاسی رہنما اور مجاہدِ آزادی ہی نہ تھے بلکہ ایک تعمیری سوچ رکھنے والے شعلہ بیان مقرر اور بیدار ذہن علمَِ دین بھی تھے ۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کئی شعبوں کا احاطہ کئے ہو ئے تھی ۔ وہ ایک بے مثال مفکّر ،مدبّر ،مفسّرِ قرآن،دانشور ، ادیب و صحافی بھی تھے ۔ انھوں نے اپنی ان خدا داد صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے استعمال کیا ۔
مولاناآزاد کے آ باء و اجداد شہنشاہ بابر کے زمانے میں افغانستان سے یہاں آکر آ باد ہوگئے تھے ۔ مولانا آزاد ۱۱! نومبر ۱۸۸۸ میں مکّۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔مولانا کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ۔اسی تعلیم و تربیت کا اثر تھا علم و ادب سے انھیں گہرا شغف رہا ۔ انھیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ انھوں نے کم عمری ہی میں علم و ادب کی تصنیف کا سلسہ شروع کردیا تھا اور ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خاصے مشہور ہو گئے تھے ۔جب انھیں ایک علمی تقریب میں مدعو کیا گیا اور وہ وہاں پہنچے تو مولانا آ زاد کو دیکھ کر لو گ یہ سمجھے کہ یہ مولانا آزاد کے بیٹے ہیں ۔ ان کی خدا داد ذہانت اور صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ سروجنی نائیڈو نے ان کے متعلق کہا تھا کہ مو لانا ابوالکلا م آ زاد جب پیدا ہو ئے تو پچاس سال کے تھے ۔ 
مولانا آ زاد نے مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ جنگِ آ زادی کی کئی تحریکو ںمیں حصّہ لیا اور کئی مرتبہ جیل گئے ۔پنڈت جوہر لعل نہرو انھیں’ میرِ کارواں‘ کہا کرتے تھے ۔ مولاناآ زاد نے پندرہ سال کی عمر میں کلکتّہ سے رسالہ’ لسان الصدق ‘جاری کیا تھا ۔ انھوں نے’ الہلال‘ اور’ البلاغ‘ جیسے رسائل شائع کر کے ہندوستان کی عوام کے دلوں میں آزادی حاصل کر نے کا جذبہ پیدا کیا ۔
مولانا آ زاد ایک صاحبِ طرز ادیب بھی تھے ۔ان کا اسلوبِ نگارش نہایت دلکش تھا ۔ ان کی تحریر میں عربی اور فارسی الفاظ کے علاوہ فارسی اشعار کا کثرت سے استعمال ہوا کر تا تھا ۔ ان کے اسی طرزِ تحریر کی وجہ سے علمی حلقوں میں ان کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا ۔جنگِ آزادی کے دوران جب انھیں احمد نگر کی جیل میں قید کیاگیا تھا وہاں انھوں نے جو خطوط لکھے وہ بعد میں ’غبارِ خاطر‘ کے نام سے شائع ہو ئے ۔ یہ دلچسپ اور معیاری خطوط ہمارے ادب کا حصّہ ہیں ۔ اس کتاب کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ 
ان خطوط سے پتہ چلتاہے کہ مو لانا کی شخصیت کتنی پہلو دار تھی ۔ ان کے سینے میں ایک حسّاس اور درد مند دل تھا جونہ صرف انسانوں بلکہ جانداروں کے لئے بھی دھڑکتا تھا ۔
مولانا آ زاد قومی یکجہتی کے زبردست حامی تھے ۔ مطالبۂ پاکستان کی پر زور مخالفت کر نے والوں میں ان کا نام سرِ فہرست ہے ۔
۱۹۲۳ کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں انھوں نے سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے جو تقریر کی تھی اس میں

 کہا تھا:
’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآ ئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج ۲۴ گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتّحاد سے دست بر دار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بر دار ہو جا ؤں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہو ئی تو یہ ہندوستان کا ن٘قصان ہو گا لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے ‘‘(خطباتِ آ زاد) ۔مولانا آ زاد کسی بھی قیمت پر قومی ایکتا کو قائم رکھنا چاہتے تھے ۔
مولانا آ زاد کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم ہو نے کا شرف حاصل ہے ۔ اس وقت ملک کئے حالات ایسے نہ تھے کہ کو ئی آ سانی سے تعمیری کام انجام دے سکے اس کے باوجود مولانا نے مفت پرائمری تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے یونی ورسٹی گرانٹ کمیشن کے قیام پر زور دیا ۔ مولانا نے تعلیم کے میدان میں جو کارنامے انجام دئے اس نے آ زاد بھارت کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 
مولاناآزاد جیسے عظیم لوگ صدیوں میں کبھی کبھا ر ہی پیدا ہو تے ہیں ان کی زندگی ، ان کے خیالات اور کارنامے ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔ 
مت سہل ہمیں جانو ،پھر تا ہے فلک بر سوں تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیںمیرا پسندیدہ رہنما ۔ مو لانا ابوالکلام آ زاد 
اس دنیا میں ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ۔ ملک و قوم کے لئے انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں ، ایسی عظیم شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حرفوں سے لکھے ہیں ۔ ان میں سیاسی رہنما ، سماجی خدمت گار ،مذہبی پیشوا، مفکّر ،شاعر ادیب وغیرہ سبھی ہیں ۔ ایسے ہی لو گوں کے بارے میں شاعرِ مشرق علّامہ اقبال نے کہا تھا ۔ 
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے 
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا 
ہمارے ملک کی ایسی ہی عظیم اور مثالی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد،میرے پسندیدہ رہنما ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آ زاد ایک سیاسی رہنما اور مجاہدِ آزادی ہی نہ تھے بلکہ ایک تعمیری سوچ رکھنے والے شعلہ بیان مقرر اور بیدار ذہن علمَِ دین بھی تھے ۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کئی شعبوں کا احاطہ کئے ہو ئے تھی ۔ وہ ایک بے مثال مفکّر ،مدبّر ،مفسّرِ قرآن،دانشور ، ادیب و صحافی بھی تھے ۔ انھوں نے اپنی ان خدا داد صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے استعمال کیا ۔
مولاناآزاد کے آ باء و اجداد شہنشاہ بابر کے زمانے میں افغانستان سے یہاں آکر آ باد ہوگئے تھے ۔ مولانا آزاد ۱۱! نومبر ۱۸۸۸ میں مکّۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔مولانا کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ۔اسی تعلیم و تربیت کا اثر تھا علم و ادب سے انھیں گہرا شغف رہا ۔ انھیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ انھوں نے کم عمری ہی میں علم و ادب کی تصنیف کا سلسہ شروع کردیا تھا اور ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خاصے مشہور ہو گئے تھے ۔جب انھیں ایک علمی تقریب میں مدعو کیا گیا اور وہ وہاں پہنچے تو مولانا آ زاد کو دیکھ کر لو گ یہ سمجھے کہ یہ مولانا آزاد کے بیٹے ہیں ۔ ان کی خدا داد ذہانت اور صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ سروجنی نائیڈو نے ان کے متعلق کہا تھا کہ مو لانا ابوالکلا م آ زاد جب پیدا ہو ئے تو پچاس سال کے تھے ۔ 
مولانا آ زاد نے مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ جنگِ آ زادی کی کئی تحریکو ںمیں حصّہ لیا اور کئی مرتبہ جیل گئے ۔پنڈت جوہر لعل نہرو انھیں’ میرِ کارواں‘ کہا کرتے تھے ۔ مولاناآ زاد نے پندرہ سال کی عمر میں کلکتّہ سے رسالہ’ لسان الصدق ‘جاری کیا تھا ۔ انھوں نے’ الہلال‘ اور’ البلاغ‘ جیسے رسائل شائع کر کے ہندوستان کی عوام کے دلوں میں آزادی حاصل کر نے کا جذبہ پیدا کیا ۔
مولانا آ زاد ایک صاحبِ طرز ادیب بھی تھے ۔ان کا اسلوبِ نگارش نہایت دلکش تھا ۔ ان کی تحریر میں عربی اور فارسی الفاظ کے علاوہ فارسی اشعار کا کثرت سے استعمال ہوا کر تا تھا ۔ ان کے اسی طرزِ تحریر کی وجہ سے علمی حلقوں میں ان کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا ۔جنگِ آزادی کے دوران جب انھیں احمد نگر کی جیل میں قید کیاگیا تھا وہاں انھوں نے جو خطوط لکھے وہ بعد میں ’غبارِ خاطر‘ کے نام سے شائع ہو ئے ۔ یہ دلچسپ اور معیاری خطوط ہمارے ادب کا حصّہ ہیں ۔ اس کتاب کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ 
ان خطوط سے پتہ چلتاہے کہ مو لانا کی شخصیت کتنی پہلو دار تھی ۔ ان کے سینے میں ایک حسّاس اور درد مند دل تھا جونہ صرف انسانوں بلکہ جانداروں کے لئے بھی دھڑکتا تھا ۔
مولانا آ زاد قومی یکجہتی کے زبردست حامی تھے ۔ مطالبۂ پاکستان کی پر زور مخالفت کر نے والوں میں ان کا نام سرِ فہرست ہے ۔
۳ ۱۹۲؁ء کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں انھوں نے سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے جو تقریر کی تھی اس میں کہا تھا:
’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآ ئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج ۲۴ گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتّحاد سے دست بر دار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بر دار ہو جا ؤں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہو ئی تو یہ ہندوستان کا ن٘قصان ہو گا لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے ‘‘(خطباتِ آ زاد) ۔مولانا آ زاد کسی بھی قیمت پر قومی ایکتا کو قائم رکھنا چاہتے تھے ۔
مولانا آ زاد کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم ہو نے کا شرف حاصل ہے ۔ اس وقت ملک کئے حالات ایسے نہ تھے کہ کو ئی آ سانی سے تعمیری کام انجام دے سکے اس کے باوجود مولانا نے مفت پرائمری تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے یونی ورسٹی گرانٹ کمیشن کے قیام پر زور دیا ۔ مولانا نے تعلیم کے میدان میں جو کارنامے انجام دئے اس نے آ زاد بھارت کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 
مولاناآزاد جیسے عظیم لوگ صدیوں میں کبھی کبھا ر ہی پیدا ہو تے ہیں ان کی زندگی ، ان کے خیالات اور کارنامے ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔ 
مت سہل ہمیں جانو ،پھر تا ہے فلک بر سوں تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیںمیرا پسندیدہ رہنما ۔ مو لانا ابوالکلام آ زاد 
اس دنیا میں ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ۔ ملک و قوم کے لئے انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں ، ایسی عظیم شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حرفوں سے لکھے ہیں ۔ ان میں سیاسی رہنما ، سماجی خدمت گار ،مذہبی پیشوا، مفکّر ،شاعر ادیب وغیرہ سبھی ہیں ۔ ایسے ہی لو گوں کے بارے میں شاعرِ مشرق علّامہ اقبال نے کہا تھا ۔ 
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے 
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا 
ہمارے ملک کی ایسی ہی عظیم اور مثالی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد،میرے پسندیدہ رہنما ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آ زاد ایک سیاسی رہنما اور مجاہدِ آزادی ہی نہ تھے بلکہ ایک تعمیری سوچ رکھنے والے شعلہ بیان مقرر اور بیدار ذہن علمَِ دین بھی تھے ۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کئی شعبوں کا احاطہ کئے ہو ئے تھی ۔ وہ ایک بے مثال مفکّر ،مدبّر ،مفسّرِ قرآن،دانشور ، ادیب و صحافی بھی تھے ۔ انھوں نے اپنی ان خدا داد صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے استعمال کیا ۔
مولاناآزاد کے آ باء و اجداد شہنشاہ بابر کے زمانے میں افغانستان سے یہاں آکر آ باد ہوگئے تھے ۔ مولانا آزاد ۱۱! نومبر ۱۸۸۸ میں مکّۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔مولانا کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ۔اسی تعلیم و تربیت کا اثر تھا علم و ادب سے انھیں گہرا شغف رہا ۔ انھیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ انھوں نے کم عمری ہی میں علم و ادب کی تصنیف کا سلسہ شروع کردیا تھا اور ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خاصے مشہور ہو گئے تھے ۔جب انھیں ایک علمی تقریب میں مدعو کیا گیا اور وہ وہاں پہنچے تو مولانا آ زاد کو دیکھ کر لو گ یہ سمجھے کہ یہ مولانا آزاد کے بیٹے ہیں ۔ ان کی خدا داد ذہانت اور صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ سروجنی نائیڈو نے ان کے متعلق کہا تھا کہ مو لانا ابوالکلا م آ زاد جب پیدا ہو ئے تو پچاس سال کے تھے ۔ 
مولانا آ زاد نے مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ جنگِ آ زادی کی کئی تحریکو ںمیں حصّہ لیا اور کئی مرتبہ جیل گئے ۔پنڈت جوہر لعل نہرو انھیں’ میرِ کارواں‘ کہا کرتے تھے ۔ مولاناآ زاد نے پندرہ سال کی عمر میں کلکتّہ سے رسالہ’ لسان الصدق ‘جاری کیا تھا ۔ انھوں نے’ الہلال‘ اور’ البلاغ‘ جیسے رسائل شائع کر کے ہندوستان کی عوام کے دلوں میں آزادی حاصل کر نے کا جذبہ پیدا کیا ۔
مولانا آ زاد ایک صاحبِ طرز ادیب بھی تھے ۔ان کا اسلوبِ نگارش نہایت دلکش تھا ۔ ان کی تحریر میں عربی اور فارسی الفاظ کے علاوہ فارسی اشعار کا کثرت سے استعمال ہوا کر تا تھا ۔ ان کے اسی طرزِ تحریر کی وجہ سے علمی حلقوں میں ان کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا ۔جنگِ آزادی کے دوران جب انھیں احمد نگر کی جیل میں قید کیاگیا تھا وہاں انھوں نے جو خطوط لکھے وہ بعد میں ’غبارِ خاطر‘ کے نام سے شائع ہو ئے ۔ یہ دلچسپ اور معیاری خطوط ہمارے ادب کا حصّہ ہیں ۔ اس کتاب کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ 
ان خطوط سے پتہ چلتاہے کہ مو لانا کی شخصیت کتنی پہلو دار تھی ۔ ان کے سینے میں ایک حسّاس اور درد مند دل تھا جونہ صرف انسانوں بلکہ جانداروں کے لئے بھی دھڑکتا تھا ۔
مولانا آ زاد قومی یکجہتی کے زبردست حامی تھے ۔ مطالبۂ پاکستان کی پر زور مخالفت کر نے والوں میں ان کا نام سرِ فہرست ہے ۔
۱۹۲۳ء کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں انھوں نے سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے جو تقریر کی تھی اس میں کہا تھا:
"آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآ ئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج 24 گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتّحاد سے دست بر دار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بر دار ہو جا ؤں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہو ئی تو یہ ہندوستان کا ن٘قصان ہو گا لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے ‘‘(خطباتِ آ زاد) ۔مولانا آ زاد کسی بھی قیمت پر قومی ایکتا کو قائم رکھنا چاہتے تھے ۔''
مولانا آ زاد کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم ہو نے کا شرف حاصل ہے ۔ اس وقت ملک کئے حالات ایسے نہ تھے کہ کو ئی آ سانی سے تعمیری کام انجام دے سکے اس کے باوجود مولانا نے مفت پرائمری تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے یونی ورسٹی گرانٹ کمیشن کے قیام پر زور دیا ۔ مولانا نے تعلیم کے میدان میں جو کارنامے انجام دئے اس نے آ زاد بھارت کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 
مولاناآزاد جیسے عظیم لوگ صدیوں میں کبھی کبھا ر ہی پیدا ہو تے ہیں ان کی زندگی ، ان کے خیالات اور کارنامے ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔
مت سہل ہمیں جانو ،پھر تا ہے فلک بر سوں
تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیں