Sunday, March 28, 2010

تمام تعریفیں اللہ کے لٔے ۘ محمّد شریف ،ناگپور


تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے
،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،
محمّد شریف ،ناگپور
 
ءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءء
اس پوسٹ کو کسی اخبار یا رسالہ میں تقل کرنے کی صورت میں بلاگ کا پتہ 
  دینا لازمی ہے        http://bazmeurdu.blogspot.com/
ءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءء
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی معرفت کے لئے پیدا کیا ہے اور قرآن پاک اللہ کی معرفت کی کتاب ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے :
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون
۔ ترجمہ : ’’ ہم نے نہیں پیدا کیا جن اور انسان کو مگر اپنی عبادت کے لئے ‘‘۔
اس کے بارے میں مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ لیعبدون کا مطلب لیعرفون ہے یعنی تاکہ معرفت حاصل کریں۔

انسان کا کام ہے کہ اللہ کی صفات میں غور کریں اور دیکھیں کہ وہ اپنی صفات میں کیسا ہے؟ مثلاً ایک صفت اللہ کی یہ ہے کہ وہ رب ہے۔ غور کریں کہ اس کا نظام ربوبیت کیسا عجیب وغریب ہے۔ اللہ کی ایک چھوٹی سی مخلوق اور انسان کے نزدیک اتنی حقیر ہے کہ اگر ہاتھ لگ جائے تو اسے مسل کر ختم کر ڈالے۔ اتنی چھوٹی جسامت کہ انسان اس کے تمام اعضاء کو اپنی برہنہ آنکھوں سے دیکھ بھی نہیں سکتا جب تک کہ خوردبین کا استعمال نہ کرے۔ وہ مچھر ہے ، لیکن دیکھئے کہ اللہ نے اس حقیر مخلوق کو ہزاروں انسانوں کی روزی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ مجھے نہ کاٹے اسی کے لئے کتنی انڈسٹریز چل رہی ہے۔ مچھر دانیاں بننے کے کارخانے ، مختلف قسم کی جلانے والی ایسی اگربتیاں کہ ان کے دھویں سے مچھر بھاگ جائے۔ ایسی ٹکیا جو بجلی سے گرم ہو کر مچھروں کو مارنے والا دھواں پیدا کریں۔ اور ایسے مائعات جن کے بخارات مچھروں کو ختم کردیں۔ یہ سب کارخانے مچھر کی وجہ سے چل رہے ہیں جن میں ہزاروں لوگ کام کرکے اپنی روزی حاصل کررہیں ہیں۔ یہ نظام ربوبیت ہے۔ اسی طرح اگر ی مچھر کاٹ ہی لے تو مختلف قسم کی بیماریاں جیسے ملیریا ، ڈینگو، چکن گنیا ظاہر ہوتی ہیں۔ جو کتنے ڈاکٹرس اور اسپتال میں کام کرنے والے اسٹاف کی روزی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ پھر ان بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی کتنی صنعتیں ، فیکٹریاں ہیں اور ان میں کام کرنے والے سیکڑوں ، ہزاروں لوگ ہیں جو اس حقیر مچھر کی وجہ سے روزی حاصل کرتے ہیں۔ اور انسان مچھر سے اپنی روزی حاصل کررہا ہے۔

اس سے آگے بڑھئے تو دوسری بیماریوں پر بھی غور فرمالیجئے۔کتنی ایسی بیماریاں ہیں جو مچھر سے بھی چھوٹی مخلوق ، جس کو انسان دیکھ بھی نہیں سکتا ، وائرس اور بیکٹریا سے پیداہوتی ہیں۔ وہ اپنی روزی حاصل کرتے ہیں اور انسان بیمار ہوکر کتنوں کی روزی کا ذریعہ بنتا ہے۔ تمام ڈاکٹرس ، اور اسپتالوں میں کام کرنے والے تمام لوگ اور دوائیوں کی فیکٹریوں اور عمل جراحی یا بیماریوں کی شناخت میں استعمال ہونے والے تمام آلات اور مشینوں کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے تمام لوگ بیماریوں ہی کے سبب سے اپنا رزق پاتے ہیں۔ 

یہی وہ اللہ ہے جس نے اپنا تعارف کرایا :
ان اللہ ھوالرزاق ذوا لقوۃ المتین۔
ترجمہ : ’’ یقینا وہی اللہ ہے جو رزق پہنچانے والا ، بڑی زبردست قوت والا ہے ‘‘۔
ھو ربنا ورب کل شئی
وہ ہمارا اور تمام چیزوں کا پالنہار ہے۔ اس کے سامنے اپنا سر جھکادو اور مسلمان ہوجاؤ۔ یعنی اللہ کے فرمانبردار ہوجاؤ کہ حقیقی مسلمان ہونا یہی ہے۔

پھر ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مصیبت میں ڈال کر دوسری مخلوق کو روزی پہنچائی۔ بلکہ بیماری میں انسان کو روحانی غذا ملتی ہے۔ آدمی جب بیمار ہوتا ہے تو وہ اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔ دعا اور استغفار کے ذریعہ اللہ کے قریب ہوجاتا ہے۔ بغیر توجہ کے بھی بیماری میں اللہ کی طرف سے گناہوں کی معافی کا وعدہ ہے۔ اگر وہ اپنی بیماری کی وجہ سے کچھ اعمال کو نہ کر سکے تو صحت کے زمانہ میں جو اعمال کیا کرتا تھا اس کا اجر بغیر کئے ہی اللہ تعالیٰ اس کو مرحمت فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نے حضور ؐ سے بخار کی فضیلت سنی کہ بخار میں پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں تو انہوں نے اللہ سے دعا مانگ لی کہ اے اللہ مجھے ایسا بخار دے جو موت تک میرا پچھا نہ چھوڑے مگر اس طرح کہ بخار کی وجہ سے میرے کاموں میں حرج نہ ہو چنانچہ صحابہ کرام نے دیکھا کہ وہ صحابی زندگی بھر بخار میں رہے جب بھی انہیں کوئی ہاتھ لگاتا ان کا بدن بخار میں جلتا ہوا پاتا مگراس کی وجہ سے ان کا کوئی کام بھی نہ رکتا تھا۔ بیماری تو بیماری ہے مگر اللہ تعالیٰ ایساکریم ہے کہ بیمار کی بیمار پرسی کرنے والے کو بھی محروم نہیں کرتا۔ حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص کسی بیمار مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو اگر صبح کو عیادت کرتا ہے تو شام تک ۷۰! ہزار فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کوعیادت کرتا ہے تو صبح تک ۷۰! ہزار فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔

پھر آیئے اللہ کی شان ربوبیت کی طرف۔ اللہ نے زمین کے تمام جانداروں کی رزق کی ذمہ داری اپنے اوپر لی ہے۔ فرمایا : وما من دآبۃٍ فی الارض الا علی اللہ رزقھا ۔ ’’ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کے رزق کی ذمہ داری اللہ پر نہ ہو ‘‘۔ 
دیکھئے اللہ رب العالمین کس شان سے اپنے بندوں کو روزی پہنچاتا ہے۔ ایک موچی (چمار) پر نظر ڈالئے اس کی چھوٹی سی دوکان جس میں چند پالش کی ڈبیاں، دوتین برش، چھٹاک دو چھٹاک کیلے، جوتوں کے لئے چند آلاتِ مرمت۔ مگر اسی مختصر سی دوکان سے اس کی ساری ضرورتیں پوری ہورہی ہے۔ اسی دوکان سے اس کے بیٹے ، بیٹیوں کی شادی ہورہی ہے ، اسی دوکان سے اس کا گھر بن رہا ہے، اسی دوکان سے زندگی کے تمام لوازمات پورے ہورہے ہیں۔ یہی اللہ ہے جو اس کی روزی کا انتظام فرمارہا ہے۔ بڑے بڑے کاروبار ، بڑے بڑے عہدے، منظم ذریعہ معاش یہ محض انسان کی ہوس ہے ورنہ اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتا ہے جہاں سے بندہ کو گمان بھی نہ ہو۔ ایک مرتبہ ایک صحابی رسول مقداد بن اسودؓ حاجت سے فراغت کے لئے مدینہ طیبہ سے باہر گئے ۔ قضاء حاجت کے لئے بیٹھے تھے کہ ایک چوھانمودار ہوا جس کے منھ میں چند اشرفیاں (سونے کے سکے) تھے وہ انہیں حضرت مقداد بن اسود کے سامنے لا کر ڈال گیا۔ پھر دوبارہ اور سہ بارہ اسی طرح کئی بار آکر اس نے اشرفیاں لا لا کر ڈالیں۔ آخر میں ایک خالی تھیلی بھی لاکر ڈال دی اور گویا اشارہ تھا کہ اب ختم ہے یا یہ اشارہ تھا کہ تھیلی میں ڈال کر لیجاؤ۔ انہوں نے گنا تو ۱۷! اشرفیاں تھیں۔ وہ انہیں وہیں چھوڑ کر حضور صلعم کے پاس گئے اور قصہ سنایا اور مسئلہ پوچھا تو حضور صلعم نے فرمایا کہ انہیں لے لو وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے۔ یہ ہے نظام ربوبیت اگر اللہ پر بندہ بھروسہ کرے تو گمان کے خلاف اللہ تعالیٰ روزی کا انتظام کرتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الرازقین


Friday, March 26, 2010

Taleem e Niswan Womens Education تعلیمِ نسواں








تعلیمِ نسواں



,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
یوں تو تعلیم و تربیت کی ضرورت ہر دور میں محسوس کی جاتی رہی ہے ۔ دورَ جدید کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی ضرور ت اہمیت اور افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ آج دنیا جس برق رفتاری سے ترقّی کی منزلیں طے کر رہی ہے اس سے اہلِ علم بخوبی واقف ہیں ۔ نئے نئے علوم کے ساتھ ہی تحقیق و تدوین کا کام بھی اس قدر تیز رفتاری سے جاری ہے کہ دنیا انگشت بدنداں ہے ۔




  مسلمانوں پر علم کا حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ طلوعِ اسلام کے بعد مسلمانوں نے مختلف میدانوں میں جو کار ہائے نمایاں انجام دئے  وہ تاریخ کے صفحات پر رقم ہیں ۔ اسلام نے دیگر شعبوں کی طرح حصولِ علم کے معاملہ میں مرد و زن کے مابین کوئی تفریق نہیں کی۔ نبی ِکریم ﷺ کاارشاد ہے۔: 

 طلب العلم فریضۃُ علی کلِ مسلم و مسلمۃ
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد اور عورت )پر فرض ہے۔

اس معاملہ میں دینی و دنیاوی علوم کی بھی تخصیص نہیں رکھی گئی ۔ مسلمان برائیوں سے محفوظ رہے اس لئے مسلمان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ برائیوں سے بھی آگاہ رہے ۔ 

 ماں کی گود کو انسان کی پہلی درسگاہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔


 یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں وارد ہوتے ہی اس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ ماں کی آغوش سے شروع ہو جاتا ہے اور تا دمِ آخر جاری رہتا ہے ۔ بچّے کی صحیح تعلیم و تربیت کا فریضہ ماں ہی بخوبی انجام دے سکتی ہے ۔ یہاں ہمیں ایک نکتہ یہ بھی ملتا ہے کہ استاد کے اندر بھی اگر ماں کی سی شفقت ، محبّت اورطالبِ علم کی خیر خواہی کا جذبہ موجود ہو توتعلیم کے تمام مراحل آسان اور پر اثر ہو جاتے ہیں ۔

 عام طور ہر کہا جاتا ہے کہ
ہر کامیاب شخص کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے ۔ 

 خواہ وہ سکندرِ اعظم کی ماں ہویا شیواجی کی جیجا ماتا ۔انگریزی زبان میں بھی اسی مفہوم کو ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔

 The hands that rock the craddle,rule the world
جو ہاتھ جھولا جھلاتے ہیں، حقیقتاًوہی ہاتھ اس دنیا پر راج کرتے ہیں۔

 تاریخ کے صفحات اس قول کی تصدیق کرتے ہیں۔ آج دنیا کے حالات پر نظر ڈالئے تو پتہ چلے گا کہ دنیا کیسے کیسے انقلابات سے دوچار ہے ۔ ان حالات میں خواتین کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں ۔
ان کے لئے گھریلو فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ دنیا جہاں کے حالات سے با خبر رہنا بھی لازمی ہو گیا ہے ۔ 

یوں تو ہر مومن کے لئے لازمی ہے کہ وہ ہر خطرہ سے باخبر ہواور ایمان سمیت اپنی حفاظت خود کرے ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا ۔
ایک انگریز کا قول ہے
:
An intelligent person is the one

 whose feet are planted in his
country and his eyes 
 should survey the whole world.
یہ وقت کا تقاضا ہے کہ عورتیں بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں، اسلئے کہ تعلیم انسان کو بہترین زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے ۔

 دنیا کی عظیم المرتبت شخصیات نے خواتین کے مرتبہ کو سمجھا اور ان کا احترام کیا۔ .
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنّت ہے ۔

 یہ سچ ہے کہ عورت کو دنیا میں مختلف کردار نبھانے ہوتے ہیں ۔ کبھی ماں بن کر تو کبھی بہن کی صورت میں ، کبھی بیوی کے روپ میں اور کبھی بیٹی بن کران تمام مدارج میں اس کے ذمّہ داریاں بھی بدلتی رہتی ہیں ۔ اسے نئے نئے حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ ان تمام مدارج سے کامیابی کے ساتھ گزرنے کے لئے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ۔ اگر عورت علم اور انسانیت سے عاری ہو تو اس کی موجودگی اچھّے خاصے گھر کو جہنّم میں تبدیل کر سکتی ہے اور اس کا اعلیٰ کردار پورے خاندان کے لئے نعمت اور برکت ثابت ہو سکتا ہے اس معاملہ میں تعلیم موثر کردار ادا کرتی ہے ۔  


 ہمارے عہد میں جو سماجی مسائل اور بہروپ جنم لے رہے ہیں خواہ وہ کسی مذہب و ملّت سے تعلق رکھتے ہوں اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کی تعلیم و تربیت میں کہیں نہ کہیں کوئی خامی ضرور رہ گئی تھی انسان صحیح تعلیم کے بعد ہی انسان بنتا ہے ورنہ تعلیم اس کے لئے الزام بن کر رہ جاتی ہے ۔

Tuesday, March 23, 2010

Naat .. Aamir Usmani نعت ۔۔۔ عامر عثمانی ۔۔

<><><><><><><><><><><><><><><><><><><><>
 نعت 
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
عامر عثمانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیر ذکر آ تاہے
دماغ و دل میں اک خوابیدہ محشر جا گ جا تا ہے

ابل پڑتے ہیں سوتے بیکراں جذبے محبّت کے
ابھر آ تے ہیں خا کے تیری صورت تیری سیرت کے

کبھی جی چاہتا ہے تیری معصومی کے گُن گا ؤں
کبھی جی چاہتا ہے سادگی کا ذکر کرڈالوں

کبھی کہتا ہے دل زہد و ورع سے ابتدا کر لوں
کبھی کہتا ہے دل دریا دلی کا تذکرہ کر لوں

کبھی ذکرِ جمالِ دلنشیں پر جی مچلتا ہے
کبھی عہدِ رسالت شوق کے سانچے میںڈھلتا ہے

کبھی قصّہ سنانا چاہتا ہوں تیرے بچپن کا
بہت سادہ، بہت معصوم سنجیدہ لڑکپن کا

کبھی حیرت فزا غزوات پھر جا تے ہیں آ نکھوں میں
حنین و بدر کے دن رات پھر جا تے ہیں آ نکھوں میں

کبھی تیری صداقت ولولہ انگیز ہو تی ہے
کبھی تیری رواداری تحّیر خیز ہو تی ہے

کبھی تیرے کمالِ صبر پہ دل وجد کر تا ہے
تخیل میں تِرے اوصاف کا پر چم ابھرتا ہے

کبھی تیری جفاکو شی پہ آنکھیں ڈبڈباتی ہیں
تصوّر سے تِرے فاقوں کے، نبضیں چھوٹ جا تی ہیں

کبھی جلوے ابھرتے ہیں تیری مہماں نوازی کے
یتیموں ،بے سہاروں ،بے کسوں کی چارہ سازی کے

مسلسل کشمکش ہو تی ہے الفاظ و معانی میں
میں بہہ جا تا ہوں اک خاموش طوفاں کی روانی میں
کہوں کیاکس طرح یہ فیصلہ مجھ سے نہیں ہوتا
خود اپنی الجھنوں کا تجزیہ مجھ سے نہیں ہو تا
<><><><><><><><><><><><><><><><><><><>

Sunday, March 21, 2010

رات اک خاموش ہے ۔۔۔ نظم Rat Ik Khamosh Hai ..A poem in Urdu


رات اک خا موش ہے
ہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
سیما پٹھان 
ھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھ
رات اک خا موش ہے
راستے پر 
آ ہٹیں گنتی ہو ئی 
 
آ سماں پر 
چاند کی محفل سجی ہے 
جھلملا تے ہیں ستارے 
گنگنا تی ہیں ہوائیں 

فاصلوں پر آ ہٹیں ہیں 
تیرے آ نے کی خبر دیتی ہو ئیں 

پاس آ تی بھی نہیں 
دور جا تی بھی نہیں 
مجھ کو یوں لگتا ہے جیسے 
میرے اندر 
رات اک خا موش ہے

راستے پر 
آ ہٹیں گنتی ہو ئیں 
دور تک 
کتنے تارے ،
کتنی آ نکھیں ۔،
راستے پر 
اپنی پلکوں کو بچھا ئے 
منتظر آ مد کی تیرے !


Saturday, March 20, 2010

بے رخی سے کچھ تو اندازہ لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔شاہد کبیر


بے رخی سے کچھ تو اندازہ لگا 

ڈھل چکا ہے حسن اب غازہ لگا

شاہد کبیر

Shairi Qran aur Ahadees Ki Raoshnio mein۔شاعری ۔ قرآن و احادیث کی روشنی میں۔ ۔۔


اس بلاگ پر پیش کی جانے والی تحریریں
مواد میں تبدیلی کٔے بغیر نقل کی جاسکتی ہیں ۔
اخبار یا رسالوں میں اشاعت کی صورت میں
یہ ضروری ہےکہ بلاگ کاپتہ 
 http://bazmeurdu.blogspot.com/
 بھی شایع کیا جاْۓ ۔

طططططططططططططططططططططططططططططططططططططططططططططط
ڈاکٹرافروز جہاں،ناگپور
طططططططططططططططططططططططططططططططططططططططططططططط

نبیِ کریم ﷺنے جب اہلِ عرب کے درمیان اسلام کی دعوت پیش کی تھی تو ان میں سے بعض لوگوں نے آپؑ کو بدنام کرنے کی غرض سے طرح طرح کی باتیں بنانی شروع کیں،کبھی آپ کو کاہن ،جادوگر بتاتے کبھی شاعر ۔قرآن مجید میںنبی کریم ﷺ کے متعلق یہ وضاحت کی گئی کہ آپ شاعر نہیں ہیں بلکہ آپ ؑتو پیغامِ حق لے کر آئے ہیں اور یہ کہ آپ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے۔آپ کی تمام تر ہدایات من جانب اﷲ ہیں ۔

یہ حقیقت ہے کہ شاعر کی باتیں محض تخیلات ہو تی ہیں ، تحقیق سے اسے لگاؤ نہیں ہوتا ہے اس لئے اس کی باتوں سے بجز گرمیِ محفل یا وقتی جوش اور واہ واہ کے کسی کو مستقل ہدایت نہیں ہوتی ۔شاعروں میں قول و فعل کا تضاد پایا جاتا ہے ۔اسی لئے شاعروں سے مستقل ہدایت کی امید رکھنا بے سود ہے ۔ قرآن مجید میں شاعری کے متعلق ارشادِ ربّانی ہے ۔ اور شاعروں کی بات پر چلیں وہی جو بے راہ ہیں ۔ تو نے نہیں دیکھا

ہادیِ برحق نبی کریم ؑ کی صحبت میں قرآ ن مجید سن سن کر ہزاروں آدمی نیکی اور پرہیز گاری پر آئے ۔ زندگیوں میں انقلاب برپا ہوااور قرآن کی تعلیمات نے سارے عالم میں رشد و ہدایت کو عام کیا ۔ اس کے برعکس انسانی طبیعت پر شاعری کااثر وقتی طور پر ظاہر ہوتا ہے اور شاعری اکثر و بیشتر گمراہی کا سبب بنتی ہے۔ شاعر جو مضمون پکڑ لیتے ہیں اسی کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں کسی کی تعریف کی تو آسمان پر چڑھا دیا، مذمّت کی تو ساری دنیا کے عیب اس میں جمع کردئے ۔ موجود کو معدوم اور معدوم کوموجود ثابت کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ غرض جھوٹ ،مبالغہ اور تخئیل کے جس جنگل میں نکل گئے پھر مڑ کر نہیں دیکھا ۔ اسی لئے شعر کی نسبت مشہور ہے ۔ ’اکذب او احسن او‘ (جتنا اس میں جھوٹ شامل ہوگا اتنا ہی وہ شعر اچھاہو گا)

شعر پڑھو تو معلوم ہو کہ رستم سے زیادہ بہادر اور جاکر ملو تو پرلے درجے کے ڈرپوک ،کبھی دیکھو تو ہٹّے کٹّے ہیں اور اشعار پڑھو تو خیال ہو کہ نبضیں ساکت ہو چکی ہیں ۔حالی ؔ نے مسدّس میں ان کے جھوٹ کا خوب نقشہ کھینچا ہے ۔ غرض ایک پیغمبرِ خدااور وہ بھی خاتم الانبیا ﷺ کو اس جماعت سے کیا لگاؤ ،اسی لئے فرمایا : وما علّمنا الشعر وما ینبغی لہُ،

اور ہم نے آپ کو شاعری نہیں سکھا ئی اور شاعری آپ کے شایانِ شان بھی نہیں ۔آپ کی جو بات سنی جاتی وہ عمل میں بھی صحابہ کرام کو نظر آتی تھی ۔ بھلا شاعر ایسے کہاں ہوتے ہیں ؟ مگر جو کوئی شعر میں خداکی حمد بیان کرے یا نیکی کی ترغیب دے، کفر کی مذمّت کرے یا گناہ کی برائی بیان کرے یا کافر کی ہجو کرے تو یہ اس کا جواب دے یا اس کو ایذا پہنچائی ہو تو اس کا جواب بے حداعتدال سے دیاتو ایسا شعر عیب نہیں ،چنانچہ حضرت حسّان بن ثابت ؓ ایسے ہی اشعار کہتے تھے اسی لئے حضور ؑ نے فرمایا کہ ان کافروں کا جواب دے ،روح القدس تیرے ساتھ ہے ۔ حضرت حسّان کے لئے مسجد میں منبر رکھوا یا گیا تھا وہ اس پر فخریہ اشعار پڑھا کرتے تھے حضرت کعب بن زہیر ؓ نے اپنا قصیدہ ’بانت سعاد‘حضور ﷺ کے سامنے پڑھا اور مشرّف بہ اسلام ہو گئے ۔ امام مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ نے عمر بن الشرید ؓ کو امیّہ بن ابی الصالت کے اشعار سنانے کا حکم فرمایا ۔ انھوں نے اشعار سنائے آپ ؑ ہر شعر کے بعد فرماتے ،’ہیہ‘ اور سنا یہاں تک کہ انھوں نے ایک سو اشعار سنائے ۔
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم ؑ کے یہاں ایک حدی خواں تھا جسے انجشہ کہتے تھے وہ خوش الحان تھا ۔ ایک موقع پر اس نے کچھ اشعار پڑھے تو آپ ؑنے فرمایا ،

رویدک یا انجشہ لا تکسرالقواریر ، (اے انجشہ ٹھہر، صنفِ نازک کے دلوں کو گھائل نہ کر )۔ امام مسلم نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ ہم نبی اکرم ؑساتھ عرج جا رہے تھے ایک شاعر نے شعر پڑھنا شروع کیا تو آپ نے فرمایا ، شیطان کو پکڑ لو یاس کو روکو ،اگر کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھر جائے ۔ اس سے اشعار کی مذمّت ظاہر ہے ۔

شرح السنہ میں حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے آپ ؐ نے فرمایا ،مومن اپنی تلوار اور زبان دونوں سے جہاد کرتا ہے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے بیشک تم شعر کے ذریعے مشرکین کو تیر سے بھی زیادہ گھایل کرتے ہو ۔اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ انّ من الشعر حکمہ ( بیشک شعر میں حکمت کی باتیں بھی ہوتی ہیں۔ اس سے مراد مواعظ و امثال ہیں جن کو شعرا نظم کریں اور لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں ۔ امام ابو داؤد نے حضرت ابو ہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے ’ کہ بعض بیانات جادو بھرے ہوتے ہیں اور بعض علم میں جہل کا آمیزہ ہوتے ہیں اور بعض اشعار حکمت سے پر ہوتے ہیں ۔صحابہ اور صحابیات میں بے شمار شعراء گزرے ہیں ۔ صحابیات میں حضرت فاطمہ ؓ، حضرت عائیشہ ؓ اور حضرت خنسائؓ کے اشعار کا بہت بڑا ذخیرہ ملتا ہے ۔

٭٭٭

Wednesday, March 17, 2010


 جدید شاعر، شریف احمد شریف نہیں رہے ۔۔
  
ناگپور 
۱۷!مارچ 
شہر ناگپور کے معروف شاعر شریف احمد شریف آج ایک طویل علالت کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔انّا للہ و انّا الیہ راجعون ۔

شریف احمد شریف نہ صرف جدید شعرا ء میں ایک معتبر مقام کے حامل تھے بلکہ گذشتہ چند برسوں کے دوران انھوں نے بچّوں کے لئے کہانیاں اور نظمیں لکھ کر ادبِ اطفال میں بھی اپنی شناخت قائم کر لی تھی ۔ منفرد لب و لہجہ ، جدید حسّیت اور دل کو چھو لینے والے انداز میں زندگی کے حقائق کا انکشاف ان کی شاعری کی اہم خصوصیات ہیں۔
ان کا شعری مجموعہ ’کارِ جہاں بینی ‘ ادبی حلقوں میں دادِ تحسین حاصل کر چکا تھا ۔ انھوں نے عالم اسلام اور معاشرتی مسائل پر چند ایسی منظومات بھی تخلیق کی تھیں جن میں بڑی بے باکی کے ساتھ سماجی حقائق کو بے نقاب کیا تھا۔
بہت زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہو تے ہوئے بھی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ ان کی تنقیدی بصیرت ان مضامین اور مختلف کتابوں پرتحریر کئے گئے تبصروں سے بھی آشکار ہے جنھیںادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ 

اللہ ربّ العزّت انھیں اپنے جورِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر کی تفیق دے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل 
شریف احمد شریف 
ناگپور
ککککککککککککککککککککککککککککککک
شکایتیں ہیں ہمیں اپنی چشمِ تر سے بھی 
کبھی یہ ابرِ گریزاں تو کھل کے بر سے بھی
بہت حسین ہے شامِ وصال کا منظر 
پرندے لوٹ کے آنے لگے سفرسے بھی
یہی نہیں کہ تری انجمن میں جی نہ لگا
عجیب دل ہے کہ وحشت زدہ ہے گھر سے بھی 
ہمارے دل پہ نزولِ وحی تو ہو تا ہے 
وہ شعلہ بن کے پکارے کبھی شجر سے بھی 
رہا نہ لفظ سے رشتہ کو ٔی معانی کا
وہ بدّعا کہ دعا ہو،گٔی اثر سےے بھی
یہی وہ گھر ہے کہ جس میں شریف رہتا تھا
عیاں شکوہِ فقیری ہے بام ودر سے بھی
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، 
ایک نظم بچّوں کے لٔے 
ییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییی
ایک بتاشہ دودھ سا اجلا ، اک چاندی کا پیسہ چاند 
وہ دیکھو آکاش پہ نکلا ، گول سی روٹی جیسا چاند


چاند میں بیٹھی بڑھیا نانی کات رہی ہے سوت اپنا 
جانے کتنی صدیوں سے وہ دیکھ رہی ہے کیا سپنا 


اس کی کٹیا سے کچھ آگے ایک محل ہے سونے کا 
اس میں اک تالاب ہے جس میں زرد کنول ہے سونے کا 

کہتے ہیں تالاب میں ہر دم شہد کی نہریں بہتی ہیں 
یہ بھی سنا ہے اسی محل میں سندر پریاں رہتی ہیں 


اڑتے اڑتے راتوں میں وہ دنیا میں آجاتی ہیں 
جھولے میں سوتے بچّوں کو میٹھے خواب دکھاتی ہیں 

نٹ کھٹ سی جب کوئی پری بچّے کو بوسہ دیتی ہے 
تب ننھے کے ہونٹوں پر مسکان سی لہریں لیتی ہے 

چاند کی اس دنیا کے بچّو! راز تو سارے جانے کون 
آموں اور امرود کے اس میں باغ بھی ہیں پر مانے کون



Monday, March 15, 2010

Tasveer bolti hai ..تصویر بولتی ہے


دونوں  کا  ملنا مشکل   ہے  

  دونوں  ہیں  مجبور   بہت 

اس کے پا ٔوں میں مہندی لگی ہے 

میرے پا ٔوں میں چھالے ہیں ۔

عمیق حنفی 

Thursday, March 11, 2010

Hamare bhi hain maharban-- Afsana - Urdu

ہمارے بھی ہیں مہر باں کیسے کیسے

ڈاکٹر سروشہ نسرین 

ناگپور

ھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھ

یوں تو اکثر دیکھا اور سنا گیا ہے کہ بادشاہ، نواب، رئیس، اور امیر اپنے بچوں کی سالگرہ بڑی دھوم دھام، بڑے ٹھاٹ باٹ، بڑی ہنگامہ آرائی اور بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ مہینوں قبل اس کی تیاری شروع کر دیتے ہیں اور اس جشن کو یادگار بناتے ہیں تا کہ دور دور تک ان کے نام کا چرچا ہو۔ عام لوگو ں اور غریبوں میں اس کا رواج نہیں کی مانند تھا۔ مگر اب یہ رواج عام ہے۔ معمولی سے معمولی حیثیت کا انسان بھی اب اپنے بچے کی سالگرہ دھوم دھام سے منانے کے چکر میں قرض دار ہو جاتا ہے لیکن اس کام کو انجام دئے بغیر سانس نہیں لیتا۔ رشتہ داروں، محلے والوں اورپڑوسیوں پر اپنا رعب جمانے کی ہوڑ میں بعد کو ہفتوں فاقے کرتا ہے اور مہینوں محنت کشی سے اپنی صحت خراب کر تا ہے۔ بلا شبہ یہ فلموں اور ٹی۔وی۔ کی دین ہے جس نے لوگوں کو بغیر سوچے سمجھے، بغیر جانے بوجھے اپنی اندھی تقلید پر مجبور کیا ہے۔ میرے دونوں بیٹے، میں اور میرے شوہر اس اندھی تقلید کے تو قائل نہیں ہیں۔ ہاں اتنا ضرور کرتے ہیں کہ جس بیٹے کا برتھ ڈے ہو اس کے چند خاص دوستوں کو مدعو کر ان کی خاطرمدارات کرکے ہلکی پھلکی تفریح کا انتظام کر لیا جائے۔
اس روز میرے بیٹے فرقان کی سالگرہ تھی اس کے چند دوست اور میرے دونوں بھائی کے بچے اسے برتھ ڈے وش کرنے کے لیے تین بجے آنے والے تھے۔ میں جب ڈیوٹی کے بعد دو بجے کے قریب گھر کے لیے روانہ ہوئی تو راہ میں میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ سبھی بچوں اور فرقان کی پسند کی چند مٹھائیاں اور کچھ نمکین ساتھ لیتی چلوں تا کہ سبھی کو خوش کر سکوں۔ بچوں کا برتھ ڈے اگر ان کی مرضی اور ان کی دلی خواہش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے منایا جائے تو وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں۔ ان کی سال بھر کی پڑھائی بھی بڑی دلجوئی اور لگن کے ساتھ ہوتی ہے۔ سال بھر فرمانبرداری کروانے کے لیے بس ایک دن کی یہ ہمّت افزائی فائدے مند ثابت ہوتی ہے۔ میں نے اسی خیال کے مدنظر گاڑی صدر کے پارکنگ پلیس میں پارک کی اور مٹھائی کی ایک شاندار ہوٹل میں قدم رکھا تا کہ میں اپنے چھوٹے بیٹے فرقان کو سال بھر کے لیے خو ش کر سکوں۔

ٍہوٹل میں داخل ہونے کے بعد میں نے حلوائی سے کہا،’’بھےّا، یہ مٹھائی آدھا کلو، یہ کھوا کیک ایک کلو، یہ نمکین ایک کلو، یہ سموسے دس پلیٹ، وہ بالو شاہی کا ایک پیکٹ پیک کر دینا‘‘ اسے اس طرح کی ہدایات دے کر میں مڑنے کو تھی کہ اسی وقت میری پشت سے آواز آئی ،’’ہلو عائشہ دیدی نمستے کیا خرید رہی ہیں آپ؟‘‘میں نے دیکھا میرے قریب ہی ہماری کالونی کی بیوٹیشین وبھا کھڑی ہے۔ میں نے کہا،’’ میرے چھوٹے بیٹے کا برتھ ڈے ہے، اس کے چند دوست آنے والے ہیں۔ انہیں کے لیے کچھ مٹھائیاںخرید ی ہیں۔‘‘ وہ آگے بڑھی اور مجھ سے بولی، ۔’’ دیدی یہ مٹھائی کیسی ہے‘‘ میں نے کہا، ’’ اس مٹھائی کو تو میں کئی مرتبہ آزما چکی ہوں، بہت عمدہ اور بے حد لذیذ ہے‘‘۔وبھا بولی،’’تب تو میں یہ مٹھائی خرید لیتی ہوں۔ اچھا دیدی نمکین میں آپ نے کیا خریدا؟‘‘ میں نے جو دو چیزیں خریدیں تھی ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،۔۔’’ یہ دو چیزیں ہیں۔‘‘ وبھا بولی،’’یہ چیزیں میرے بچوں کو بھی ضرور پسند آئیں گی۔ میں یہ بھی خرید لیتی ہوں۔‘‘

اس دوران مٹھائی والا میری بتائی ہوئی چیزیں پیک کر چکا تھا۔ اس نے میری طرف بل بڑھاتے ہوئے کہا،’’ میڈم، یہ آپ کا بل اور یہ آپ کی بتائی ہوئی چیزیں۔۔۔‘‘اس نے یہ کہتے ہوئے چیزوں کا پیکٹ میری طرف بڑھایا تو ان چیزوں کو لینے سے پہلے میں نے بل ادا کرنا ضروری سمجھا۔میں نے پرس کھولا اور اس میں روپیوں کا چھوٹا بٹوا تلاش کرنے لگی لیکن وہ مجھے کہیں دکھائی نہ دیا۔ میں نے پرس کے ایک ایک خانے کی چین کھول کر بٹوا تلاش کیا۔ وہ پرس میں ہوتا تو ملتا مگر وہ تووہاں تھا ہی نہیں۔بٹواشاید صبح کے کاموں کی کی عجلت میں گھر سے نکلتے وقت وہیں چھوٹ گیا تھا۔ ہوٹل میں مٹھائی کے اور بھی خریدار موجود تھے۔ سب کے سامنے اتنی بڑی شرمندگی اور خجالت کے احساس سے میرے ماتھے پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے۔ آج سے پہلے ایسا موقع کبھی نہ آیا تھا کہ میں نے پرس گھر میں بھول کر کبھی شاپنگ کی ہو۔ مارے شرم کے میں پانی پانی ہوئی جارہی تھی۔ یوں لگنے لگا تھا کہ زمیں پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں اور اس خجالت اور شرمندگی سے چھٹکارا پا جاؤں لیکن یہ صرف میرے تصور کا وہم تھا ایسا کچھ نہ ہو سکا۔ میں نے حلوائی سے کہا،’’ میں اپنا پرس گھر پر بھول آئی ہوں، تم یہ پیکٹ یہیں رہنے دو۔ میں ابھی جا کر پیسے لے آتی ہوں۔‘‘یہ کہہ کر میں وہاں سے ہٹنے کو ہوئی تبھی حلوائی نے وبھا کی طرف بل بڑھایا۔ وبھا نے اسے روپیے دینے کے لیے پرس کھولا تو اس میں مجھے بہت سے نوٹ دکھائی دیے۔ میں نے اپنے دل میں خیال کیا یہ میری کالونی کی رہنے والی ہے۔ اگر اس کے سامنے اپنی مجبوری ظاہر کی جائے تو یہ مدد کر سکتی ہے۔ جب وبھا نوٹ گن کر حلوائی کو دینے لگی تو اسی وقت میں نے سر گوشی کے انداز میں وبھا کے قریب جا کر کہا، ’’ وبھا، میں اپنا پرس گھر بھول آئی ہوں۔ بل ادا کرنے کے لیے میرے پاس روپئے نہیں ہیں‘‘ لیکن وبھا کے کان پر جوں تک نہ رینگی وہ بد ستور اپنے کام میں مشغول رہی۔

مجھے گمان گزرا شاید وبھا نے میری بات نہیں سنی میں نے دوبارہ ذرا اونچی آواز میں اس سے کہا، ’’ وبھا، میں اپنا پرس گھر بھول آئی ہوں۔ بل ادا کرنے کے لیے میرے پاس روپئے نہیں ہیں۔‘‘ ایسی لاپرواہی مجھ سے زندگی میں پہلی مرتبہ سرزد ہوئی ہے۔’’میرے پاس بل ادا کرنے کے لیے روپئے نہیں ہیں ، کیا تم میری مدد کروگی؟ میں گھر پہنچتے ہی روپے اپنے بیٹے کے ہاتھوں تمہارے گھر بھجوا دوں گی لیکن وہ بدستور اسی طرح انجان بن کر اِدھر اُدھر، نیچے ،اوپر دیکھتی رہی پھر مٹھائی والے سے فوراً پیسے لے کر اپنا پیکٹ اٹھا کر وہاں سے نکل کھڑی ہوئی اور اس طرح بے مروتی کا مظاہرہ کرتی رہی جیسے وہ مجھے جانتی تک نہیں۔ میری وہاں موجودگی سے وہ لا علم ہے۔وبھا کی اس بے مروتی نے میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی سلب کر لی۔ مجھے بھولے سے بھی اس بات کا گمان نہ تھا کہ وہ اس طرح کا برتاؤ کرے تھے۔

میں مٹھائی کی دکان سے باہر نکل آئی۔ میں حیران و پریشان ہو کر تھوڑی دیر سوچتی رہی کہ مجھے کیا کرنا چاہئے، کیونکہ گھر وہاں سے آٹھ کلو میٹر کی دوری پر تھا۔ گھر جا کر واپس لوٹنے تک گھر پر برتھ ڈے منانے کے لئے اکٹھا ہوئے بچوں کو مٹھائی کے لئے لمبے انتظار سے بور ہونا پڑتا اور بچے غیر ضروری انتظار کو برداشت نہیں کرتے۔ مجھے دفعتاً اپنی دوست فیروزہ کا خیال آیا جو اس علاقے میں رہتی تھی۔ میں نے پرس سے موبائیل نکالا، سے فون کر کے اپنی مجبوری ظاہر کرتے ہوئے کہا، مجھے ا بھی دوسو روپیوں کی ضرورت ہے۔ میں بھگت کنور رام ہوٹل کے قریب کھڑی ہوں‘‘۔ فیروزہ بولی،’’ تم دو منٹ انتظار کرو، میں ابھی پہنچتی ہوں۔‘‘ میں پانچ منٹ ہوٹل کے قریب فیروزہ کے انتظار میں کھڑی رہی لیکن مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے میں ایک صدی سے وہاں اس کے انتظار میں براجمان ہوں۔ شرمندگی اور خجالت الگ میرے دل کو کچوٹ رہی تھی۔ خدا خدا کر کے ان پانچ منٹوں کی برسوں لمبی انتظار کی گھڑی ختم ہوئی۔ میری دوست نے میرے قریب آ کر مجھے روپئے دئے۔میں نے روپئے لیتے ہوئے اس سے کہا،’’ میری محسن بہت بہت شکریہ، تم نے بہت مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا اور مجھے بہت بڑی شرمندگی سے بچا لیا۔ میں تمہاری احسان مند ہوں۔ کل میں تمہارے روپئے لوٹا دوں گی۔ فیروزہ بولی،’’ ارے نہیں اس میں کونسی بڑی بات ہے۔ اگرہم دوست ہو کر ایک دوسرے کے کام نہ آئیں تو پھر ایسی دوستی کس کام کی۔اچھا میں چلتی ہوں۔ تمیں دیر ہو رہی ہو گی۔ فرقان کو میری طرف سے سالگرہ کی مبارکباد دینا ،کہتی ہوئی وہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئی اور میں نے ہوٹل میں جا کر بل ادا کیا اور اپنا خریدا ہوا سامان لے کر باہر نکل آئی۔ اپنی کار میں بیٹھ کر گھر کے لیے روانہ ہو گئی۔

مکان کے پورچ میں گاڑی کھڑی کی تو بچے دوڑتے ہوئے آئے اور کار سے سامان نکال کر لے گئے۔ وہ سبھی میرے منتظر تھے۔ ان کے چہروں کی چمک، مسرت اور حوشی کے احساس نے میرے ذہن سے ساری الجھن، ساری کلفت اور ساری پریشانی کو جھٹک کر نکال باہرکیا۔ اب میں خود کو بے حد ہلکا محسوس کرنے لگی۔ میں ان کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے فرقان کی برتھ ڈے پارٹی کی تیاری میں مصروف ہو گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں بچوں کی مدد سے ناشتہ ٹیبل پر لگا دیا گیا۔ ان سبھی نے مل کر مٹھائیوںکابھر پور لطف اٹھایا۔ سیر ہو کر کھا نے کے بعد آرام سے باتیں کرتے بیٹھے تھے کہ میرے بڑے بیٹے فیضان نے کہا، ’’ آپ لوگوں کے لئے میری طرف سے بھی ایک سرپرائز ایٹم ہے۔ سبھی بچوں نے جھپٹ کر اسے گھیر لیا اور بولے، ’’ بھائی جان بتائیے نا آپ ہمارے لئے کیا لائے ہیں؟‘‘ فیضان بولا،’’ بوجھو تو جانوں! جب تک تم لوگ خود اس چیز کا نام نہ بتاؤ گے، وہ چیز تمہیں نہیں ملے گی۔‘‘ کوئی بولا’’چاکلیٹ‘‘ کوئی بولا’’کولڈرنک‘‘ کوئیبولا’’شربت‘‘کوئی بولا’’پیسٹری‘‘، میرے چھوٹے بھائی کا بیٹا جو ان تمام بچوں میں سب سے چھوٹا تھا، دور کی کوڑی ڈھونڈھ لایا۔ اسے اپنے پسند کی چیز جلد یاد آگئی۔ وہ بولا،’’ بھائی جان مجھے اس چیز کا نام پتہ ہے۔‘‘ فیضان بولا،’’ اچھا تم ہی بتا دو اس چیز کا نام کیا ہے۔ ان میں سے تو کوئی پہچان نہ سکا۔‘‘ وہ بولا،’’آئس کریم‘‘ فیضان بولا۔’’بالکل ٹھیک!تم نے صحیح پہچانا۔ صرف تم ہی اس چیز کا نام بتا سکے اس لئے سا پوری آئس کریم تمہیں ہی کھانے کو ملے گی۔ وہ بہت خوش ہو کر فیضان سے چمٹ گیا۔ فیضان نے بڑے پیار سے اسے گود میں اٹھا لیا اور اسے لئے ہوئے فرج کے قریب پہنچ کر آئس کریم کا ڈبہ فرج میں سے نکالنے لگا تھا کہ تب تک سبھی بچوں نے اسے گھیر تے ہوئے کہا، ’’ آئس کریم توہمیں بھی چاہئے۔‘‘
میں نے آگے بڑھ کر فیضان کے ہاتھوں سے آیس کریم کا ڈبہ لیتے ہوئے کہا، ’’ آئس کریم سبھی کو ملے گی پر ایک شرط پر۔‘‘ سبھی نے بیک آواز ہو کر پوچھا ،’’ وہ کیا؟‘‘ میں بولی،’’ تم سب کو ہال میں جا کر خاموشی سے بیٹھنا ہو گا۔ میں تھوڑی دیر میں سب کو آئس کریم لا کر دیتی ہوں۔‘‘ سبھی بچے تیزی سے ہال کی طرف بڑھ گئے اور حاموشی سے صوفوں پر جا کر بیٹھ گئے۔ میں نے آئس کریم کٹوریوں میں نکال کر سبھی کو پیش کی۔ سبھی نے بہت دل کھول کر بھائی جان کے آئس کریم کی داد دی۔ اسے خوب پیار کیا۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے فیضان سے کہا،’’ میرے دس ایٹم کھا کر انہیں اتنی خوشی نہ ہوئی، تمہارے ایک ایٹم نے انہیں باغ باغ کردیا ۔ سبھی بھائی جان کے نام کی مالا جپ رہے ہیں۔‘‘ فیضان بولا،’’ واہ پھر! میری لائی ہوئی چیز ہی ایسی تھی جو ہر بچے، بوڑھے اور جوان کو حوش کر دیتی ہے۔ میری نظر سے ایسا کوئی شخص آج تک نہیں گزرا جس نے آئس کریم کھانے سے انکار کیا ہو۔ میں بولی،’’ بس بس ! اپنی لائی ہوئی چیز کی تعریف کے پل باندھنا بند کرو۔‘‘ وہ ہنسنے لگا جس میں اس کا ساتھ میں نے بھی دیا۔

بچوں کے جانے کے بعد فیضان سے مخاطب ہو کر میں نے کہا ،’’بیٹا پتا ہے آج کیا ہوا؟‘‘ وہ بولا ’’بتائیے کیا ہوا‘‘۔ میں نے کہا ’’ میں جو روپیوں کا چھوٹا بٹوا پرس میں
رکھتی ہوں وہ آج لے جانا ہی بھول گئی۔مٹھائی کی دوکان میں پہنچ کر مٹھائی خریدنے کے بعد جب میں نے بل ادا کرنے کے لئے پرس دیکھا تب مجھے پتہ چلا تو بٹوا تو پرس میں ہے ہی نہیں۔‘‘ فیضان بولا،’’ ممی پھر آپ نے اتنی ساری چیزیں کیسے خریدی؟‘‘میں نے کہا،’’ جانتے ہو میں جب مٹھائی خرید رہی تھی تب وہاں اپنی کالونی کی بیوٹیشین وبھا ہے نا ،وہ بھی مٹھائی لینے پہنچی۔فیضان بولا،’’ اچھا تب شاید آپ نے وبھا آنٹی سے پیسے ادھار لئے ہونگے۔‘‘ میں بولی’’ بیٹے تم میری بات پوری طرح سن لو گے تو حیران رہ جاؤ گے۔‘‘ وہ بولا،’’ممی ، آخر ایسا کیا ہوا ہے؟‘‘ میں بولی،’’تم تو جانتے ہو جب بھی ضرورت پڑتی ہے، میں وبھا کے ہی بیوٹی پارلر جاتی ہوں۔ ہر مرتبہ ڈیڑھ سو، دو سو روپئے کا بل ہو تا ہے اور میں اسی وقت ادا کر دیتی ہوں، ایک دو مرتبہ تو ایسا بھی ہوا ہے کہ میں نے اس کے پارلر سے گھر فون کیاتو اسنے اسکے بھی پیسے مجھ سے وصول کئے اور میں نے بلا پس و پیش، ادا کئے، وہ مجھے تقریباً پندرہ سالوں سے جانتی ہے۔ یہاں تک کہ تمہاری مامی سے تو اس کی اچھی خاصی دوستی بھی ہے۔ تمہاری مامی تو اکثر وبھا کے گھر پکوان بنا بنا کر بھیجتی ہیں۔ وبھا کو اپنے یہاں عید اور پارٹیوں میں مدعو کرتی ہیں‘‘۔

فیضان بولا،’’ ہاں ممی یہ تمام باتیں تو میں بھی جانتا ہوں لیکن ان تمام باتوں سے آپ ظاہر کیا کرنا چاہتی ہیں؟‘‘ میں بولی،’’ اس کی اصل وجہ ہی تو میں تمہیں بتانے جارہی ہوں۔ جب مٹھائی کی دکان میں مجھ پر یہ بات ظاہر ہوئی کے میں اپنا بٹوا گھر بھول آئی ہوں تو اس وقت تمہاری وبھا آنٹی بھی مٹھائی خرید کر بل ادا کر رہی تھی۔ میں نے دیکھا اس کا پرس نوٹوں سے بھرا ہے۔ میں نے سوچا چلو اسی سے روپئے لے لیتی ہوں۔ گھر آ کر تمہارے ہاتھوں اس کے روپئے لوٹا دوں گی۔ روپئے مانگنے سے پہلے تو وہ مجھ سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔ کون سی مٹھائی، کون سا نمکین اچھا ہے۔ اس کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی تھی لیکن جیسے ہی روپیوں کی بات آئی و ہ مجھ سے اس طرح کترانے لگی جیسے اس نے مجھے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔میں نے اس کے قریب جاکر بات کر نے کی کو شش کی تو اس نے اپنا چہرہ دوسری جانب کر لیا ۔ فوراً اپنی گاڑی پر سوار ہو کر اس طرح غائب ہو گئی جیسے اسے مجھ سے کو ئی خطرہ لا حق ہو یہ سن کر فیضان نے کہا ’ممّی یہ تو بے مروّتی کی حد ہو گئی ۔ جب وہ آ پ کو جانتی ہیں تو انھوں نے خود آ پ سے کہنا چاہئے تھا کہ دیدی یہ روپئے لوبعد میں مجھے لو ٹا دیجئے گا ۔ یہ تو کھلی ہو ےی موقع پرستی ہے ۔ بیڈمینرس !
فرقان بولا ،’ممّی میرا پہلا سوال تو جوں کا توں ہی رہا ،شوبھا آنٹی نے آ پ کو روپئے نہیں دئے تو آ پ ڈھیر ساری چیزیں کیسے لا ئیں ؟ ‘

میں نے کہا ،’ بیٹا!ہمارے بھی ہیں مہر باں کیسے کیسے ۔ وبھا نے بے مروّتی دکھا ئی تو کیاہوا ،جانے کے بعد جب میں گھر سے نکلی تو مجھے اپنی سہیلی فیروزہ کا خیال آیا ۔ میں نے اسے فون کیا تو اس نے فوراً میری مدد کی ۔پانچ منٹ میں وہ روپئے لے کر وہاں پہنچ گئی ۔فیضان بولا ،’ اسے کہتے ہیں دوستی ،شاید ایسے ہی موقع پر کسی نے کہا ہو گا ،’ زندگی کے رنگ کئی رے‘ ،ایک انسان نظروں کے سامنے کسی شناسا کو مصیبت میں دیکھ کر منجدھار میں چھوڑ گیا لیکن دوسرے انسان کو پتہ چلا تو وہ دوڑ کر مدد کے لئے چلا آ یا ۔ کل فیروزہ آ نٹی کو روپئے لو ٹاتے ہو ئے میری جانب سے بھی شکریہ ادا کر دیجئے گا۔ میں نے کہا ضرور ۔ آ ج کے واقعے سے مجھے یہ سبق مل گیا ہے کہ میںآئندہ کبھی اپنا پرس بھولنے کی غلطی نہیں کروں گی ۔ ہماری یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ کار کے رکنے کی آ واز آ ئی ۔ میرے شوہر کار سے اتر کر آ ئے اور کہنے لگے ، فرقان ! چلو، تمہارے لئے برتھ ڈے گفٹ خرید تے ہیں ۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوکر بولے ،’ چلو سبھی چلتے ہیں ،گفٹ خرید نے کے بعد ہم ڈنر بھی باہر ہی کریں گے ۔
ہم سبھی تیّار ہوکران کے ساتھ روانہ ہو گئے ۔

Tuesday, March 09, 2010

Tasveer bolti hai


چلی بھی جا جرسِ غنچہ کی صدا پہ نسیم

کہیں  تو   قافلۂ نو بہار   ٹھہرے    گا

Monday, March 08, 2010

yeh bhi chori hai یہ بھی چوری ہے؟


یہ بھی چوری ہے؟


 
محمّد شریف ،ناگپور



gggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggggg



چوری اسلام میں ایک ایسا گھناؤنا جرم ہے جس کی سزا دوسرے تمام جرائم سے بالکل الگ ہے کہ ادمی زندہ رہ کر بھی بے بس اور محتاج ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا : السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما ’ چور چاہے مرد ہو یا عورت اس کے ہاتھ کاٹو
  
چوری ایک معروف عمل ہے جس کو سب ہی جانتے ہیں کہ کسی کا مال یا کوئی چیز اس سے اور سب سے چھپ کر اس طرح سے لے لی جائے کہ وہ اپنی ہی ملک بن جائے۔ لیکن چوری کی بعض شکلیں اور بھی ہیں جسے لوگ چوری نہین سمجھتے اور اللہ کی نظرمیں چور ہونے کی وجہ سے اپنے ہاتھ کٹوادیتے ہیں۔ اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے بظاہر ہاتھ نہیں کٹتے لیکن آدمی پر اللہ کی طرف سے ایسے حالات ڈالے جاتے ہیں کہ وہ ہاتھ ہونے کے باوجود بے بس ومجبور ہوجاتا ہے۔ اور اس طرف نگاہ بھی نہیں جاتی ان ہی میں سے ایک بجلی کی چوری ہے ۔ چاہے اپنے گھر، فیکٹری، دکان کسی بھی جگہ بغیر میٹر لئے ڈائرکٹ تار کھیچ کر بجلی کا استعمال کرے یا میٹر ہونے کی صورت میں کچھ ایسا انتظام کرے کہ میٹر کم ریڈینگ بتائے۔ یہ مہذب چوری ہے لیکن انفرادی کسی کے مال کی چوری سے زیادہ سنگین ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک میں بجلی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے یاتو وہ کسی company کی ہے یا پھر حکومت کا محکمہ ہے۔ ہر حال میں یہ کسی فرد کی چوری سے زیادہ خطرناک ہے۔ جس کا وبال دنیا میں بھی اٹھانا پڑتا ہے اور آخرت میں بھی۔ حکومت اس پر چاہے گرفتار کرے یانہ کرے لیکن اللہ جس کے سامنے ہر ایک کو جوابدہ ہونا ہے۔ وہ علم وخبیر، سمیع و بصیر ہے۔ کوئی چیز اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف سے اعمال کو لکھنے والے فرشتوں کا بھی باقاعدہ نظام ہے۔ جس کی قرآن میں خبر دی گئی ہے۔ ان علیکم لحافطین ۔ کراماً کاتبین۔ یعلمون ما تفعلون۔ ترجمہ ’’ یقینا تم پر ہمارے محافظ فرشتے مقرر ہیں جو کراماً کاتبین ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو جانتے ہیں ‘‘۔

اللہ کا نظام یہ ہے کہ اگر آپ نے ایک طرف غلط طریقہ سے کوئی منفعت حاصل بھی کرلی تو اللہ تعالیٰ کوئی دوسرا راستہ اس کی تلافی کا پیدا کردیتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ نے خود بھی اپنے اوپر ظلم کو حرام کرلیاہے۔ اور آپس میں بھی کسی پر ظلم کی اجازت نہیں دی۔ اگر کوئی ظلم کرتا ہے تو اس کا بدلہ ضرور پاتا ہے۔بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے سمجھ میں نہ آئے تو اور بات ہے۔اس لئے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور تمام مسلمانوں کو اس جرم سے روکنے کی کوشش کریں۔ ہم کسی پر زبردستی بے شک نہیں کرسکتے لیکن سمجھاتو سکتے ہیں۔ دوسرے لوگ مانیں یا نہ مانیں ہم اپنی ذمہ داری پوری کردیں۔

دوسری شکل چوری کی کم ٹکٹ یا بغیر ٹکٹ کے ریل میں سفر کرنا یا کروانا یا قانون سے زائد سامان لیجانا ہے۔ بعض لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بچہ ہے قانوناً اس کی ٹکٹ لگتی ہے مگر نہیں لیتے یہ سوچ کرکہ بچہ چھوٹا دکھتا ہے۔ ریلوے ملازمین کو چھوٹا دیکھتاہے مگر اللہ تو آپ کے بچہ کو جانتا ہے۔وہ آپ کا بھی خالق ہے اور آکی اولاد کا بھی ۔ اگر آپ نے یہاں پیسے بچا بھی لئے تو اللہ اس پر قادر ہے کہ وہ آپ سے کہیں اور آپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی خرچ کروادے۔

چوری کی ایک قسم ریلوے اسٹیشن پر بغیر پلیٹ فارم ٹکٹ لئے جانا ہے۔ چاہے ریلوے گیٹ پر Ticket Collector آپکا رشتہ دار ہو لیکن اس کو یہ اختیار کہاں حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے بغیر پلیٹ فارم ٹکٹ کے اندر آنے دے۔ یہاں کچھ نہیں ہوگا مگر اللہ کے یہاں آپ چوری کی سزا کے مستحق ہوگئے۔ جس طرح چور آپ کی نظر میں ذلیل سمجھا جاتا ہے اسی طرح آپ بھی اللہ کی نظر میں ذلیل ہوگئے۔ اور جو اللہ کے یہاں ذلیل ہو جائے وہ کہیں بھی عزت نہیں پاسکتا۔

چوری کی ایک قسم کام کی چوری ہے۔ ملازمین جس خدمت پر مامور ہیں انہیں اسی کی تنخواہ دی جاتی ہے۔ اگر وہ تنخواہ تو پوری لیں لیکن کام پورانہ کریں تو یہ بھی چوری میں شامل ہے چاہے یہ ملازمت سرکاری ہویا پرائیویٹ۔ دنیا میں بظاہر اس پر کوئی مواخذۃ ہویا نہ ہو لیکن جولوگ اللہ پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بھگتنا اسے بھی پڑیگا۔

اس قسم کی چوری کی اور بھی شکلیں ہیں جس کو ہم چوری نہیں سمجھتے اور بعض لوگ یہ تاویل کردیتے ہیں کہ یہ حکومت کی چوری ہے اور حکومت میں ہمارا حق ہے۔ اگر حق ہے تو آپ جائز طریقہ سے کیوں نہیں لے سکتے۔ بعض لوگ یہ کہہ کر جواز پیدا کرلیتے ہیں کہ ہندوستان دارالسلام نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے لیکن ہندوستان دارالحرب بھی نہیں ہے۔ بلکہ ہندوستان دارالامن اور دارالمعاہدہ ہے۔ بلا استحقاق ہم حکومت سے یا حکومت کی جائیداد سے منتفع نہیں ہوسکتے۔

Sunday, March 07, 2010

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مزاحیہ نظم ۔۔۔۔۔ کچھ سبق بھی پڑھا ءیںگی باجی


///////////////////////////////////////////////////

باجی

مزاحیہ نظم  

ککککککککککککککککککککک 

محمّد توحید الحق 

کامٹی 

////////////////////////////////////////////////

جب بھی اسکول آٔیں گی باجی 

گھر کی باتیں بتأیں گی باجی

گود میں ہو اگر کوءی بچّہ 

ساتھ اس کو بھی لا ْیں گی باجی

ہو مو باءیل سے جب انھیں فرصت 

کچھ سبق بھی پڑھا ءیںگی باجی

آءینہ پر نگاہ پڑ تے ہی

من ہی من مسکرأیں گی باجی

دیکھ کر دوسروں کاسوٹ نیا

دل کو دن بھر جلأیں گی باجی

کتنی ہیں چھٹّیاں مہینے میں

یاد سب کو دلاءیں گی باجی

آ ج تنخواہ ملی ہے میڈم کو

آج شاپنگ پہ جا ءیں گی باجی

یہ بتانے کو کل تھی سال گرہ

کیک اسکول لاءیں گی باجی

آج چھٹّی پہ ہیں بڑی آ پا

آج گپ شپ لڑاءیں گی باجی

آج اسکول میں جو فنکشن ہے

آ ج بن ٹھن کے آ ءیں گی باجی

گیٹ پر لینے آ ءے  ہیں مسٹر

وہ کھڑے ہیں‘ بتاءیں گی باجی

جب کہ ابّو ہی کر تا دھرتا ہیں

کس کو خاطر میں لا ءٰیںگی باجی 

Saturday, March 06, 2010

سورج ہو ں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ ۔۔۔ غزل ۔۔ شکیب جلالی


شکیب جلالی 

غزل

ککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککک 

مرجھا کے کا لی جھیل میں گرتے ہؤے بھی دیکھ

سورج ہو ں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ

 

ہر چند راکھ ہو کے بکھر نا ہے راہ میں 

جلتے ہو ٔے پروں سے اڑا ہو ں مجھے بھی دیکھ

عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر 

دیمک نے جو لکھے وہ کبھی تبصرے بھی دیکھ

بچھتی تھی جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں 

اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ

 

کیا شاخِ با ثمر ہے جو تکتا ہےفرش کو

نظریں اٹھا شکیب کبھی سامنےبھی دیکھ 

تصویر بولتی ہے


را ت  کی تنہأیوں کو سوچ  کر 

چاءے کی دو پیالیاں ہنسنے لگیں

بشیر بدر 

Thursday, March 04, 2010

Hayat Mang Ke Laye Hain Hum Madine se


درِ رسول پہ مرنے کی آ رزو کیسی   

حیات مانگ کے لا ٔے ہیں ہم مدینے سے 

طرفہ قریشی 

Wednesday, March 03, 2010

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِِ تحریر کا

کاغذ کی کترنوں کو بھی کہتے ہیں لو گ پھول 

خوشبو کا اعتبار ہی کیا سونگھ کے بھی دیکھ

شکیب جلالی 


Ladkiyon Ki Taleem Aur Nae Halat تعلیمِ نسواں



تعلیمِ نسواں اور بدلتے ہؤے حالات 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لمحۂ فکریہ 

انعام الرحیم، ناگپور 
کککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککک

اس کائنات کا تمام تر نظام مکمّل طور پر اعتدال اور توازن پر قائم ہے ۔خالقِ کائنات نے قرآن کریم میں اور سرورِ کائنات ﷺ نے احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے اوراعتدال اور میا نہ روی کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے ۔
قدرت نے سماج کو مرد و زن میں تقسیم کیا ہے اور ان دونوں کی تعلیم و تربیت ،ضروریات ،حقوق و فرائض ،اور دائرۂ کار کا تعین ان دونوں کی فطری ساخت کے مطابق کیا ہے ۔اسی وجہ سے پوری کائنات اعتدال پر قائم ہے ۔اگر انسان قدرت کے متعین کردہ دائرۂ اختیار سے نکل کر خود کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط پر سماجی و معاشرتی نظام کوکھڑا کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ کا فطری توازن خود بخود بگڑ نا شروع ہو جائے گا اور سماجی زندگی بکھراؤ کا شکار ہو جائے گی جس کا مشاہدہ ہم دورِ حاضر میں کر رہے ہیں ۔ 

بین الذات شادیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
INTERCASTE MARRIAGE

گذشتہ چند برسوں میں شہر ناگپور میں ایک مسلم انجینئر لڑکی اور ایک ڈاکڑ لڑکی نے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ غیر مسلم رسم و رواج کے مطابق شادی کرکے ہندو مذہب کو اختیار کرلیا ۔ اس واقعہ نے ہر ذی ہوش مسلم کے دل کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس واقعہ کے بعد نہ صرف اس شہر میں بلکہ ملک گیر پیمانے پر اس قسم کے بیشمار واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔اور ان میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے اس کے باوجود مسلم والدین میں بین الذات شادیوں کو جدید تہذیب کا حصّہ سمجھ کر بخوشی قبول کیا جا رہا ہے ۔ موجودہ تحقیق سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مسلم لڑ کیوں کا بین الذات شادیوں MARRIAGE INTERCASTE 
کا تناسب دوسری قوموں کے مقابلہ میں زیادہ ہے ۔ اسی وجہ سے اس موضوع پر قلم اٹھانا پڑا۔

تحریکِ آزادیِ نسواں کے اثرات 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دورِ جدید میں مساواتِ مرد و زن ،عورتوں کی تعلیم و تربیت ،عورتوں کے حقوق ،روزگار ،معاش ،اور ان کی آزادی کو بنیاد بنا کر عالمی پیمانہ پر کئی تحریکیں چلائی جاتی رہی ہیں جن میں ایک نام نہاد تحریک، تحریکِ آزادیِ نسواںWOMEN'S LIBERATION بھی ہے ۔اس تحریک کا محرّک کون ہے ؟اس کی جائے پیدائش کیا ہے ؟اور اس تحریک کی غرض و غایت کیا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات جانے بغیر امّتِ مسلمہ کا ہر خاص و عام اس کی تقلید کر رہا ہے۔مسجدوں کے منبر و محراب ، مسلم محلّوں ،گلی کوچوں اور چھوٹے بڑے جلسوں میں بھی اس کی حمایت میں آوازیں سنائی دیتی ہیں۔اس تحریک کی تبلیغ میں علماء، دانشور،مفکّر ، ادیب، شاعر،سرپرست ، اساتذہ اور مصلحینِ قوم اس قدر منہمک ہوئے کہ قوم کے لڑکوںکو عضوِ ناکارہ سمجھ بیٹھے ، ان پر تعلیم و تربیت، ،معاش،روزگار،حقوق و فرائض ،اخلاق و اصلاح وغیرہ کے دروازے دانستہ یا نادانستہ طور پر بند کردئے گئے ۔امّتِ مسلمہ کے نوجوانوں کی کثیر تعداد آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے کہ الاماں والحفیظ ۔یہ نوجوان اس کے نتیجے میں جس بے راہ روی کی طرف جا رہے ہیں ان سے کو ئی قبیح فعل ایسا نہیں بچا جس کا ارتکاب انہوں نے کیا نہ ہو۔ ذرائع ابلاغ میں امّت کے ان نوجوانوں کے کارناموں کا کافی چرچا ہے ۔یہ صورتِ حال امّتِ مسلمہ کے حق میں نہایت خطرناک ہے۔ عالمی تحریکِ آزادیِ نسواں ،مساواتِ مرد و زن کی جدّو جہد اور موجودہ تعلیمی نظام اور ماحول کا جو ردِّ عمل ان نوجوانوں میں ظاہر ہورہا ہے اس کے نتیجہ میں ان میں اپنی تہذیبی قدریں ،شرم و حیا ،ادب لحاظ اور احترام سب کچھ مٹتا جا رہا ہے ۔ موجودہ تعلیمی نظام کا تربیتی و اصلاحی پہلو سے خالی ہونا،اس خرابی کا ایک اہم سبب ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؂ 


جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن 
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت 


الحاد اور بے راہ روی 

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم 

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ 


انگریزوں کی آمد کے بعد مغربی تہذیب کو جو زبردست فروغ حاصل ہوا اس نے ہندوستان کے سبھی ریفارمرس کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔مسلم علماء اور دانشوروں کے سامنے اس وقت کفر و الحاد اور مغرب پرستی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بے راہ روی ،آوارگی اور جنسی انارکی ایک زبردست فتنہ کی شکل میں منہ پھاڑے کھڑی تھی۔ آزادی کے بعد امّت کا ایک بڑا طبقہ اس الحاد کے معاملہ میں کسی حد تک بے فکر سا ہوگیا اس کا سبب شاید یہ بھی رہا ہو کہ ہمارے سماج میں اپنی تہذیبی قدروں کی بازیافت کا شعور پیدا ہوا اور مختلف مذہبی تحریکوں نے ہمارے اندر دین کو مضبوطی سے تھامنے کا جذبہ پیدا کردیا چنا نچہ الحاد سے کسی حد تک امن نصیب ہوا ،لیکن آج شعبۂ تعلیم میں تعلیمِ نسواں کے فروغ اور مخدوش ماحول نے الحاد کے اس سوئے ہوئے جن کو دوبارہ جگا دیا ہے ۔ 
معاشی عدم استحکام کے اثرات 
موجودہ دور میں ہر قوم میں تعلیمِ نسواں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اس کی ایک اہم وجہ معاشی عدم استحکام بھی ہے ۔ بڑھتی ہوئی ضروریاتِ زندگی اور اچّھے رشتوں کی تلاش بھی اس کا ایک محرّک ہے ۔لڑکی کا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بر سرِ روزگار ہونا اس کے مستقبل اور خوشحال ازدواجی زندگی کا ضامن سمجھا جاتا ہے جو ہرحالت میں صحیح ثابت نہیں ہوتا ۔چونکہ لڑکیوں کے معاشی استحکام کو ان کی فطری ضروریات کا متبادل سمجھاجانے لگا ہے ،معاشی ا ستحکام نے لڑکیوں اور ان کے والدین میں انانیت پیدا کردی ہے جس نے زندگی سے مفاہمت کے سارے دروازے بند کر دئے ہیں ۔بے جوڑ رشتے قائم ہونے لگے ہیں جن میں معمولی کھٹ پٹ سے بکھراؤ پیدا ہوجاتا ہے ۔

یہ سچ ہے کہ تعلیمی بیداری نے لڑکیوں میں تعلیم کا گراف کچھ اونچا کردیا ہے لیکن دوسری طرف مسلمانوں میں لڑکے تعلیم کے میدان میںپسماندگی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ مسلم طلباء میں تعلیم کے شعبہ میں آگے بڑھنے والوں کی شرح اسقدر کم ہے کہ اس معاملہ میں اربابِ حل و عقد اور مصلحینِ قوم کو فکر مند ہوکر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہئے ۔  لڑکیوں کے کثیر تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے سے لڑکوں کو جن خرابیوں میں مبتلا کیا ہے ان میں ان کا کام چور ہونا ،کاہلی ، غیر ذمّہ داری ہٹ دھرمی اورتشدد پر آمادہ ہونا اہم ہیں ۔تصوّر کیجئے ایک ایسی قوم کا جس میں بیشمار لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور چند نوجوان پڑھے لکھے ہیں ۔کیا یہ عدم توازن ایک فتنہ بن کر نہیں ابھرے گا ۔ کیا اس صورتِ حال سے ایک صحت مند معاشرہ کی توقّع کی جا سکتی ہے ؟
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طویل مدّتی تعلیم کے لڑکیوں پر اثرات
،،،،،،،،،،،،،

دورِ حاضر میںلڑکیوں کے والدین یا سرستوں نے لڑکیوں کو قومی اثاثہ سمجھ کر اپنی ضروریات ، و خواہشات،اور جذبات کی تسکین کا بوجھ ان کے کمزور کاندھوں پر ڈال دیا ہے اور اپنے ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے طالبات کو طویل مدّتی پروفیشنل کورسسیس میں داخلہ دلوا کر ان کی زندگی اور عمر کے اہم حصّہ کو داؤ پر لگا رہے ہیں ۔اسی لئے ان لڑکیوں میں چڑچڑا پن ،افسردگی،اور نفسیاتی امراض گھر کرنا شروع کردیتے ہیں ۔یہ عوامل بعض اوقات انھیں سماج سے بغاوت پر بھی آمادہ کردیتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ بین الذات شادیوں کا رواج ہماری قوم میں بھی وبا کی طرح پھیلنے لگا ہے ۔ تربیتی ،اخلاقی و اصلاحی زیور سے آراستہ بے شمار لڑکیاں جبراً صبر کرکے اور اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئیں ۔یہ تمام باتیں رسول اﷲ ﷺ کی تعلیمات سے سراسر انحراف ہے ۔ اسی لئے اس کے برے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ لڑکیوں کے بالغ ہونے پر ان کے نکاح میں جلدی کرو ،ورنہ سماج میںجو فتنہ و فساد برپا ہوگا اس کی ذمّۃ داری والدین پر ہوگی ۔

چند تجاویز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں طالبات کی تعلیم پر توجّہ دی جا رہی ہے وہیں طلبا کی تعلیمی پسماندگی کا بھی کچھ علاج کیا جائے۔ 

۲۔قوم کے ہمدرد اور مصلحین اس مسئلہ پے سنجیدگی سے غور کریں اور ایسے ادارے قائم کریں جہاں صرف لڑکیوں کی تعلیم کا ،انتظام ہو اور وہ ہر طرح کی بے راہ روی اور گمراہیوں سے محفوظ رہ کر تعلیم حاصل کر سکیں ۔

۳۔ ہمارے مسلم اداروں میں سے بھی اکثرکو اس بات کی قطعی پروا نہیں ہوتی کہ وہاں موجود خراب نظامِ تعلیم اور دیگر بد انتظامیوں کی وجہ سے قوم کی بیٹیوں کووہ گمراہیوں کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں ۔ اس سلسہ میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ 

۴۔ موجودہ صورتِ حال میں لڑکیوں کے سر پرستوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ تعلیمی ، معاشی اور نسبی معیار کو چھوڑ کر زند گی سے مفاہمت کو ترجیح دیں ۔

۵۔ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم اور پروفیشنل کورسیس میںداخلہ دلوانے سے پہلے لڑکیوں کی فطری ساخت اور اسلامی نقطۂ نظر کا بھی خیال رکھیں 

۔ مذکورہ کورسیس طویل مدّتی نہ ہوں ۔

۷۔ کالج کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہاں کا ماحول صاف ستھرا ، بے راہ روی اور آوارگی سے پاک ہو ۔
۸۔ ایسے کالج کو ترجیح دی جائے جہاں لڑ کوں اور لڑ کیوں کے اختلاط کی گنجائش کم ہو ۔ 

۹۔لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے قلیل مدّتی کورسیس مناسب ہیں اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کورسیس معاش و روز گار سے منسلک ہوں تاکہ وہ جلد از جلدمعاشی اعتبار سے مستحکم ہوسکیں ۔ 

۱۰۔ لڑکیوں کو خواہ وہ اسکول میں زیرِ تعلیم ہوں یا کالج میں ان کے اوقات اور مصروفیات کی خبر گیری نہایت ضروری ہے۔ والدین کو ان کے ساتھیوں اور ملاقاتیوں کا علم بھی ہونا چاہئے ۔

امّتِ مسلمہ کے ہر فرد کی یہ ذمّہ داری ہے کہ وہ اس صورتِ حال سے امّت کو باہر نکالنے کی کوشش کرے ۔ ملک گیر پیمانے پیمانے پر ایک ایسی تحریک چلانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے مسلم لڑکوں اور نو جوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا جاسکے اور خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے لئے انھیں آمادہ کیا جائے تاکہ ہماری معاشرتی زندگی میں جو عدم تواز ن بڑھتا جارہا ہے اسے توازن میں بدلا جا سکے۔

تتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتت