Wednesday, April 27, 2011

تعلیم اور والدین کی ذمّہ داریاں


تعلیم اور والدین کی ذمّہ داریاں
رفعت انصاری ،ناگپور

ایک مشہو ر انگریز مفکّر کا قول ہے کہ بچّے کی تربیت کا وقت اس کی پیدائش سے ۱۸ سال پہلے شروع ہو تا ہے اور یہ وقت اس کے والدین کے بچپن کا ہو تا ہے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچّوں کی تعلیم و تربیت میں والدین کو کس قدر اہم ذمّہ داری نبھانی ہے ۔
بچّے جب دو یا تین سال کی عمر کو پہنچنے میں توحسّاس والدین اپنی استطاعت کے مطابق اس کی تعلیم کی طرف توجّہ دیتے ہیں اور اسے بہتر اسکول میں داخلہ دلانے کی کوشش کر تے ہیں۔وہ نہیں چاہتے کہ اس سلسلے میں کو ئی کمی رہ جا ئے کہ یقیناً یہ ذمّہ داروالدین کے فرائض میں شامل ہے ۔اس قسم کے والدین بچّوں کی تعلیمی سر گر میوں پر نظر رکھتے ہیں ۔وہ جانچتے ہیںکہ ان کے بچّے نے اچّھی طرح سبق یاد کیا یا نہیں ۔ جواب نفی میں ہو تو اسکی وجوہات تلاش کر تے ہیں۔ انھیں دور کر نے کی ہر ممکن کو شش کرتے ہیں ۔بچّے کی مددہمّت افزائی ،حسنِ سلوک ،رفاقت ،بھر پورتوجّہ،یہ ایسے اوزار ہیں جن سے وہ اپنی اولاد کو ایک پتّھر سے ہیرے کی طرح تراش لیتے ہیں۔ایسا طالبِ علم جہاں اسکول میں اساتذہ کی نگرانی میں چار پانچ گھنٹے گزارتا ہے وہیں بقیہ انّیس بیس گھنٹے اپنے والدین کی سرپرستی میں رہتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے والے والدین اس کی تربیت میں کو ئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔اسکول میں تعلیم اور گھر میں تربیت کے تمام مواقع مہیّا ہو تے ہیں۔


اس کے برعکس والدین کا ایک بڑا طبقہ ایسابھی ہے جو اپنے بچّے کو اسکول میں داخلہ دلوا کراپنے آ پ کو اس کی تعلیمی ذمّہ داریوں سے بری سمجھتا ہے ۔ ان کے خیال میں بچّے کی تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمّہ داری اساتذہ کی ہے ۔تعلیمی سال کے شروع میں ایک جماعت سے دوسری جماعت میں داخلہ دلا کر اوراس کلا س کی درسی کتابیں اور کاپیاں مہیّا کر وا کر وہ اس کے تعلیمی حقوق سے دست بر دار ہو گئے ہیں اور انھوں نے گو یا بچّے پر احسانِ عظیم کر دیا۔پھر سال بھر اسکول کے اوقات کے بعدبچّے کی سر گر میوں کی نگرانی کی وہ بالکل ضرورت محسوس نہیں کر تے ۔انھیں صرف یہ معلوم ہو تا ہے کہ ان کا بچّہ فلاں اسکول میں صبح سے دو پہر تک تعلیم حاصل کر تا ہے ۔بعض والدین کواپنے بچّے کے کلاس، سیکشن ،رول نمبر اور کلاس ٹیچر کا بھی علم نہیں ہو تا ۔سر پرستوں کی میٹنگ جو اسکول اور کالجوں میں طلباء کی تعلیمی ترقّی سے والدین کو آ گاہ کر نے کے لئے طلب کی جاتی ہے، اس میں ان والدین کی حاضری دس فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی ۔


مذکورہ بالا والدین کی دو نوں قسمیں ہمارے سماج میں مو جود ہیں اور ان کے برتاؤ کے دور رس اثرات طلباء کی پو ری زندگی پر پڑتے ہیں ۔یہ سچ ہے کہ وہ بچّہ جو اسکول کی چند گھنٹوں کی زندگی کے بعد والدین کی سرپرستی میں رہتاہے یقینا اس پر اس کے گھر کے افراد،ماحول،سماج اور ارد گرد جا ری سرگر میوں کے زبردست اثرات پڑتے ہیں ۔ حسّاس اور ذمّہ دار والدین اپنے بچّو ں کو صحت مند ماحول اور تعلیمی و تربیتی فضا مہیّا کر تے ہیں ۔وہ اپنے بچّوں کو یہ احساس دلا تے ہیں کہ وہ ایک دوست کی طرح ان کی ہر مشکل آ سان کر نے والے ہیں اور اس کے لئے انھیں کسی کا چہرہ تکنے کی ضرورت نہیں ۔ایسے بچّوں میں خود اعتمادی ،تعلیم سے دلچسپی،اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر کامیاب ہو نے کا شوق پورے شباب پر ہو تا ہے۔



ہو تا جا تا ہے ۔ خدا نخواستہ بدقسمتی سے اسکول کا ماحول مناسب نہ ہو اور اساتذہ کرام طلباکے اندر تعلیمی روح پھونکنے کے جذبے سے خالی ہوں تو نسل در نسل بچّوںکا مستقبل تباہ ہو ئے بغیر نہ رہے گا۔ ان حالات میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ ئے گا ،جو تعلیمی ادارے مو جود ہو نے کے با وجودتعلیمی پسماندگی کا شکا رہو گا۔مسلم معاشرہ ان دنوںاسی افسوس ناک صورتِ حالت سے گذر رہا ہے ۔



اسی لئے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ’گھر‘پر جو بچّو ں کے لئے اسکول کے اوقات کے بعد کی تربیت گاہ ہے،خصوصی توجّہ دیں ۔بچّوں کی روزانہ تعلیمی سرگرمیوں پر نظر رکھیں ۔تعلیمی معاملات میںبھی ان کی بھر پور مدد کریں ۔ان کے دوست اور معاون بنیں ۔

Sunday, April 24, 2011

Chakbast


Saturday, April 16, 2011

1857. Mirza Ghalib


مرزا غالب ؔ نے غدر کی تباہ کاریاں ان الفاظ میں بیان کی ہیں ۔
گھر سے بازار میں نکلتے ہو ئے
زہرہ ہو تا ہے آ ب انساں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرّہ ذرّۂ خاک
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا

1857 خواجہ حسن نظامی . جنگ آزادی کی ایک کہانی

۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کی ایک کہانی

خواجہ حسن نظامی

1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں ، خاص طور پر علما اور مغلیہ خاندان پر جو قیامت برپا کی وہ تاریخ کا المناک باب ہے۔ ہزاروں بے گناہ پھانسیوں کی بھینٹ چڑ ھادیے گئے اور شہزادیاں اور شہزادے کسمپرسی اور بے بسی کی اذیت ناک تصویر بن کر رہ گئے۔ اس ہنگامے میں کئی لوگوں کو غلط فہمی کے سبب بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اردو کے مشہور ادیب خواجہ حسن نظامی نے ان واقعات کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا ہے ۔ اس سلسلے کی ایک کہانی یہاں پیش کی جا رہی ہے۔

جس زمانے میں دہلی پر گولہ باری ہو رہی تھی اور شہر کے سب باشندے بھاگ رہے تھے اس وقت یوسف کے چچا نے یوسف کے باپ سے کہا کہ انجام برانظر آتا ہے بہتر ہے کہ یوسف کا نکاح کردیاجائے۔ تاکہ جب ہم سب باہر نکلیں تو پردے کی دقّت نہ رہے۔ یوسف کے باپ نے اس رائے کو پسند کیا اور یوسف کی شادی ہوگئی مگر نکاح ہوتے ہی خبر ہوئی کہ انگریزی فوج دہلی میں داخل ہوگئی اور بادشاہ قلعے سے نکل کر مقبرہ ہمایوں میں چلے گئے۔ یوسف کے والدین او ر سب کنبے والے بھی رتھوں میں بیٹھ کر بھاگے اور سیدھے قطب صاحب پہنچے ۔ یوسف نے اس وقت تک دلہن کا چہرہ بھی نہ دیکھا تھا۔ قطب صاحب میں جہاں ٹھہرے وہ جگہ بہت خراب تھی اور اتنی کہ اس کنبے کا گزارہ دشوار تھا۔ دستور کے مطابق اس پریشانی میں بھی دلہن نے شرم وحیا کا لحاظ رکھا۔ آدھی رات کو جب لوگ سوگئے تو فوج آئی اور اس نے سب مردوں کو گرفتار کرلیا۔ اور نام معلوم کرکے یوسف ، اس کے باپ اور چچا کو ساتھ لے گئے۔ جس وقت یوسف رخصت ہوا اس کی ماں بے قرار ہوگئی۔ اور اس نے رورو کر کہا کہ یہ میری بیس برس کی کمائی ہے۔ یہ میرا کلوتا بیٹا ہے اس کے بغیر زندہ نہیںرہوں گی کل اس کی شادی ہوئی ہے ابھی تو اس نے اپنی دلہن کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تم اسے کہاں لیے جاتے ہو اور کیوں لیے جاتے ہو۔ ایک فوجی نے کہا کہ یہ بڑا باغی مجرم ہے اس کو پھانسی دی جائے گئی تم اس سے آخری بارمل لو اب یہ دوبارہ تمہارے پاس نہیں آئے گا یہ سن کر یوسف کی ماں تو بے ہوش ہوکر گر پڑی۔

یوسف کی بیوی ابھی تک گھونگھٹ نکالے شرمائی ہوئی بیٹھی تھی فوجی کی یہ بات سن کر اس نے گھونگھٹ اٹھا دیا اور دونوں ہاتھ ملتے ہوئے کھڑی ہوگئی ۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہ نکلا۔ اس کے ہونٹ شدت غم سے لرز رہے تھے وہ منہ سے کچھ نہ بولی اور حسرت بھری نگاہوں سے یوسف کو دیکھنے لگی اور ٹکٹکی باندھ کر برابر دیکھتی رہی۔ یوسف بھی یہ منظر دیکھ کر بے تاب ہو گیا اور مایوس نظروں سے اپنی دلہن کو دیکھنے لگا۔ وہ بھی چپ تھا اور دلہن بھی چپ ۔ دلہن کی آنکھوں کا سرمہ آنسوؤں کے ساتھ بہ بہ کر سرخ وسفید رخساروں پر دھبے لگا رہا تھا اور یوسف کا چہرہ بھی یاس و ہراس سے زرد اور خشک ہو چکا تھا۔ یوسف اور اس کے چچا کے ہاتھ رسی سے باندھ دیے گئے اور سواران کو لے کر روانہ ہونے لگے تو یوسف کی دلہن نے بہت دھیمی آواز سے کہا ’’جاؤ میں نے مہر معاف کیا ‘‘

صبح کو یوسف اور اس کے چچا کو پھانسی دے دی گئی۔

1857

Thursday, April 14, 2011

غیر منقوطہ نعت .. ادیب رائے پوری..Ghair Manqoota Naat

نعت

غیر منقوطہ


aaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaa

ادیب رائے پوری

(پیدائش ۔ 1928 رائے پور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفات۔ 16 اکتوبر 2004 کراچی)

ااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااا


وہ محکوموں کا حامی اور مدد گار

وہ محکوموں کا ہمدم اور روادار

وہ اُمّی اور وہ امّ الکلامی

کرے اللہ سے وہ ہمکلامی

عصا اسلام کا وہ کملی والا

وحی اللہ کی اس کا حوالہ

سرودِ لا الہٰ اس کا دمامہ

کمالِ آ گہی ، اُس کا عمامہ

وہ صالح ،صلح کُل ،مسعود و محمود

وہی ہے حاصلِ آ رام و آ سود

وہ عاصم عدل کی سوداگری کا

اسی کے سر ہے سہرا،سروری کا

وہی اولادِ آ دم کا موکد

وہی احمد ﷺ وہی محمود و حامد

وہی ہمدم وہی ہر دکھ کا مرہم

درود اس کا ہمارا ورد ہر دم

سلام اے داعیِ وحی ِ الٰہی

سلام اے لا و الّا کی گواہی

سلام اے صلح کامل کے مدرس

سلام اے عدلِ دائم کے مو سس

o o o

Tuesday, April 12, 2011

Mehar Dulhan Ka Haque Urdu مہر ۔دلہن کا حق


مہر ۔دلہن کا حق


انجم آ راء ناگپور

دیگر قوموں کی طر ح مسلم سماج میں بھی خواتین ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ اسلام نے دین کے ذریعے عورتوں کو بہترین حفاظتی انتظامات مہیا کئے ہیں جن میں ان کا سماجی اور معاشی تحفظ بھی شامل ہے۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق عطا کئے ہیں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔اس کے باوجود آج اکثر مسلم گھرانوں میں خواتین حقوق سے محروم ہیں اور زیادتیوں کا شکار ہیں تو اس کی وجہ جہالت اور اسلامی اصولوں سے ناواقفیت ہے کہیں اسلام کے قوانین کو جاننے کے باوجود ان کی نافرمانی کر کے عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محرو م رکھا جاتا ہے۔

اسی کی ایک مثال ہمارے سماج میں مہر سے محرومی ہے۔ مہر دلہن کا حق۔ عام مشاہد ہ یہی ہے کہ نکا ح کے وقت مہر کی رقم طے تو کر لی جاتی ہے مگر ادائیگی نہیں کی جاتی بعض لوگ تو اسے ادا کرنے کی نیت تک نہیں کرتے ۔ ظاہر ہے یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔
اکثر مسلم خواتین نہ صرف مہر کے متعلق کچھ نہیں جانتیں بلکہ اسلام نے انھیں کون سے حقوق عطا کئے ہیں اس سے بھی ناواقف ہوتی ہیں اور نہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتی ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی میں قدم قدم پر مشکلات سے دوچار ہوتی ہیں۔ جب کہ اسلامی طریقے بہترین زندگی کی ضمانت ہیں۔


مہر کا رواج اسلام سے پہلے بھی تھا لیکن اسلام نے مردوں پر یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ نکاح کرنے پر عورتوں کو مہر ادا کریں اسلام سے پہلے لڑکی کا ولی مہر کا حقدار ہوا رتا تھا لیکن اسلام نے لڑکی کو جس کا نکاح ہو، مہر کا مالک قرار دیا ہے۔ کوئی بھی نکاح بغیر مہر کے صحیح نہیں ہوسکتا۔ نکاح کے وقت مہر طے کیا جاتا ہے ۔ مہر کی دو صورتیں ہیں۔
۱۔ مہر معجل: جو نکاح کے وقت ہی بہ عجلت،(فوراً:ادا کردیا جاتا ہے۔
۲۔ مہر موجل: سے مراد وہ مہر ہے جسے ادا کرنے کے لئے کوئی مدت طے کی گئی ہو یا مہلت دی گئی ہو یا بغیر کسی مخصوص مدت طے کئے اس کاادا کرنا طے پایا ہو۔
عام طور پر ہمارے یہاں نکاح کے وقت مہر معجل نقد یا زیورات کی شکل میں ادا کردیا جاتا ہے یہ ادائیگی مہر کی بہترین صورت ہے۔

قرآن نے مہر کے لئے ’صدقہ اور اجورون‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ صدقہ سے مراد وہ صدقہ جو سچائی اور ایمانداری سے دیا جائے اور خلوصِ نیت پر مبنی ہو نہ کہ ریا کاری اور احسان جتانے کے لئے ۔ قرآن نے مہر کے لئے جو دوسرا لفظ استعمال کیا ہ وہ نحلا ہے۔ نحلہ نحل سے ماخوذ ہے جس کے معنی شہد کے ہیں۔ جس طرح شہد کی مکھی بنا کسی ذاتی مفاد کے شہد کی پیداوار کرتی ہے اسی طرح مہر بھی بغیر کسی ذاتی فائدے کے دیا جاتا ہے۔
ہمارے سماج میں ایسے مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں کہ کسی مسلمان کے انتقال کے بعد اس کی بیوی کو شوہر کی نعش کے پاس لاکر گھر کی بڑی عورتیں اس عورت سے یہ کہتی ہے کہ اس کا مہر معاف کردو۔ظاہر ہے کہ یہ زبردستی ہے اور کسی کے حقوق زبردستی معاف نہیں کروائے جا سکتے۔اگر عورت دل سے معاف نہ کرے تو مرنے والے پر اس عورت کا حق باقی رہے گا جو اسے آخرت میں ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے یہاں شادی بیاہ میں فضول کاموں پر ہزاروں روپیہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے لیکن مہر ادا کرنے کے معاملے میں کوتاہی برتی جاتی ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لئے عوام میں بیداری پیدا کی جائے۔