Thursday, December 06, 2007

الوداع (Goodbye)

الوداع

)تظمین(

)اسکول میں الودائی تقریب میں پیش کی گئی ایک نظم(

اشک آنکھوں میں جھلملائے ہوئے

دل میں طوفان اک اٹھائے ہوئے

لبِ اظہار تھر تھر ائے ہوئے

کیسا لمحہ یہ وقت لے آیا

پھر ملیں گے اگر خدا لایا ٭

لطف و مہر و وفا بھری باتیں

علم و دانش ادب کی سوغاتیں

جگمگائیں گی عمر بھر یادیں

ساتھ لے جائیں گے یہ سرمایہ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

اے میری درس گاہِ عرفاں جو

تجھ سے ہے علم کی ضیاءہر سو

میرے کردار میں تیری خوشبو

تجھ سے رازِ حیات ہے پایا

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

Saturday, December 01, 2007

میرا بھارت مہان (Mera Bharat Mahan!)

میرا بھارت مہان

م محبّت ہمیں اپنے پیارے وطن سے

ی یہاں کی زمیں سے یہاں کے گگن سے

ر رہے اس کی قسمت کا اونچا ستارہ

ا اسے رہبری کا ہو حاصل اجارہ

بھ بھٹکتی ہے تاریکیوں میں یہ دنیا

ا اسے ہند سے ہو میسّر اجالا

ر رہی یہ زمیں علم و عرفاں کا مسکن

ت تمدّن کا تہذیب و الفت کا گلشن

م ملے اس کی ندیوں میں امرت کے دھارے

ہ ہمالہ سے اونچے عزائم ہمارے

ا الگ ہے زمانے سے انداز اپنا

ن نرالے ہیں نغمے، جدا ساز اپنا