جمعرات, نومبر 22, 2007

آگے بڑھتے جائےں گ (We march ahead)

آگے بڑھتے جائےں گے


آکاش کھلا ہے آئو چلو

مٹّھی میں سورج بھرلو

چاند ستاروں کو چھولو

ہم یہ کر کے دکھائیں گے

آگے بڑھتے جائیں گے

مشکل سے گھبرائیں کیا

خطروں سے ڈر جائیں کیا

ہارے تو شرمائیں کیا

آگے بڑھتے جائیں گے

جیون ہے اک بار ملا

جینے کو سنسار ملا

ہر اک سے ہے پیار ملا

ہم قرض بھی یہ لوٹائیں گے

آگے بڑھتے جائیں گے

جینا ہے بے مقصد کب

کہتا ہے یہ ہم سے رب

وہ راضی تو اپنا سب

اس کو خوش کر جائیں گے

آگے بڑھتے جائیں گے

جیت کے اک دن آئیں گے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں