اتوار, نومبر 04, 2007

استاد ہمارے (Our Teachers)

A poem for the builders of our society... Our Teachers

استاد ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
ان ہی سے ہیں افراد ضیاءبار ہمارے
جینے کا سلیقہ بھی ہمیں ان سے ملا ہے
احساسِ عمل ،فکر بھی ان ہی کی عطا ہے
ان ہی کی ہے تعلیم جو عرفانِ خدا ہے
ان ہی سے معطّر ہوئے افکار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
تاریک ہوں راہیں تو یہی راہ سجھائیں
اسرارِ دو عالم سے یہ پردوں کو اٹھائیں
سوئی ہوئی قوموں میں یہ ہمّت کو جگائیں
رہبر بھی یہ ،ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
اک نور کا مینار لبِ ساحلِ دریا
اک مشعلِ بیدار سرِ وادیِ صحرا
ہے ظلمتِ آفاق میں بس ایک ستارہ
ہے دستِ نگر ان کے بھی شہکار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
ان ہی سے ہیں افراد ضیاءبار ہمارے



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں