جمعرات, اپریل 30, 2009

Mini Kahaniسعادت حسن منٹو


سعادت حسن منٹو
منی کہانیاں
۔ ہمیشہ کی چھٹی

پکڑ لو۔۔۔۔ پکڑلو۔۔۔ دیکھو جانے نہ پائے۔
شاید تھوڑی سی دوڑ دھوپ کے بعد پکڑلیاگیا
جب نیزے اس کے آر پار ہونے کے لئے آگے بڑھے
تو اس نے لرزاں آواز میں گڑگڑاکر کہا۔
مجھے نہ مارو، مجھے نہ مارو، تعطیلوں میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔

دعوت عمل

آگ لگی تو سارا محلہ جل گیا۔۔ صرف ایک دوکان بچ گئی۔۔۔۔۔
جس کی پیشانی پر یہ بورڈ آویز اں تھا۔
’’یہاں عمارت سازی کا جملہ سامان ملتا ہے۔‘‘

۔کرامات

لوٹا ہوا مال برآمد کرنے کے لئے پولس نے چھاپے مارنے شروع کئے۔ لوگ ڈر کے مارے لوٹا ہوا مال رات کے اندھیرے میں باہر پھینکنے لگے ۔ کچھ ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنا مال بھی موقع پا کر اپنے سے علیحدہ کردیا تاکہ قانونی گرفت سے بچ سکیں۔ ایک آدمی کو بہت وقت پیش آئی اس کے پاس شکر کی دو بوریاں تھیں جو اس نے پنساری کی دوکان سے لوٹی تھیں۔ ایک تو وہ جوں توں رات کے اندھیرے میں پاس والے کنوئیں میں پھینک دیا لیکن جب دوسری اٹھا کر اس میں ڈالنے لگا تو خودہی ساتھ ساتھ چلا گیا۔ ۔۔۔۔ شورسن کر لوگ اکٹھا ہوگئے کنویں میں رسیاں ڈالی گئیں دوجوان نیچے اترے اور اس آدمی کو باہر نکال لیا لیکن چند گھنٹوں کے بعد وہ مرگیا۔
دوسرے دن جب لوگوں نے استعمال کے لئے اس کنویں سے پانی نکالا تو وہ میٹھا تھا۔اس رات اس آدمی کی قبر پر دئے جل رہے تھے۔٭

منگل, اپریل 21, 2009

اردو منی کہانیاں Mini Kahaniyan (Urdu)

منی کہانی ۔ ایک نوٹ
محمّد اسد اللہ 

ادب کو عام طور پر دو حصّوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نثر اور نظم ۔نثر میں کئی اصناف ہیں۔ مثلاً ۔ داستان، ناول، افسانہ، ڈرا ما، سوانح، سفرنامہ، خطوط ،مضامین وغیرہافسانہ یا کہانی عام طور پر مختصر ہوتی ہے۔ ناول طویل ہوا کرتا ہے ۔ لیکن ان دونوں میں مختصر اور نئی اصناف میں ایک صنف ہے مختصرافسانہ جسے ہم کہانی بھی کہتے ہیں۔

منشی پریم چند سے لے کر سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، کرشن چند اور راجندر سنگھ بیدی نے اردو میں عمدہ افسانے لکھ کر اپنی پہچان بنائی۔
ان مختصر کہانیوں کے علاوہ ایسی کہانیاں بھی لکھی گئیں جو چند سطروں پر مشتمل تھیں۔ انھیں منی کہانی یا افسانچہ کا نام دیا گیا۔افسانچہ کی ابتدا اردو میں منٹو کے سیاہ حاشیے سے ہوئی تھی۔۱۹۴۸ ء میں سیاہ حاشیے کی شکل میں ان کے افسانچے منظر عام پرآئے کچھ لوگ افسانچہ کے ڈانڈئے عربی ادب اورخلیل جبران کے مقولوں ، شیخ سعدی کی حکایتوں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صنف لطیفے اور پہلی سے قریب لگتی ہے اس لیے اسے ایک نیا نام دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔جس طرح داستانوں کے بعد ناول ،ناول کے بعد مختصر افسانہ وقت کی ضرورت ثابت ہوئے اسی طرح منی افسانہ بھی افسانے کے بعد موجود دور میں زندگی کی ایک ضرورت اور حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔
اردو میں منٹو کے بعد جو گیندرپال نے اس صنف پر خصوصی توجہ دی۔کسی موضوع کو کم لفظوں میں بیان کرکے اس میں طویل کہانی کا تاثر پیدا کر دینا منی کہانی کی خصوصیت ہے۔

مختصر کہانی صرف بات کو مختصر کہنے سے نہیں بنتی بلکہ اس سے اس طرح بیان کیا جا تا ہے کہ بات پڑھنے والے کے دل میں اتر جائے۔ افسانچہ میں افسانہ نگار چند جملوں میں وہ بات کہہ جاتا ہے جیسے کہنے کے لئے دوسرے افسانہ نگار کو سینکڑوں الفاظ درکار ہوتے ہیں۔ ان چند جملوں میں زندگی کے صرف ایک مختصر حصّے پر روشنی پڑتی ہے اور بہت کچھ چھوڑدیا جاتا ہے جسے پڑھنے والا اپنی سمجھ سے مکمل کرکے بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔
کچھ لوگوں نے منی کہانی لکھنے کے فن کو چاول پر قل ھو اللہ لکھنے اور انگلی پر پربت اٹھانے کا ہنر قرار دیا ہے۔


اردو کی چند  منی کہانیاں یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔
٭۔ فاصلے

میں ان دنوں کئی بار اپنے راکٹ میں بیٹھ کر چاند
تک ہو آیا ہوں، لیکن ایک مدّت ہوگئی دس قدم چل کر اپنے بھائی سے ملنے نہیں گیا۔
 
۔ غرقاب

’’میں ایک عرصہ سے ایک سمندری جہاز میں نوکر ی کرتا ہوں‘‘
پہلے پہل جب میرا سمندر سے رابطہ ہوا تو مجھے لگتا تھا۔ میں اس میں ڈوب جاؤں گا۔ مگر اب مجھے لگتا ہے کہ سمندر ہی میرے اندر ڈوب گیا ہے۔
٭
طالب زیدی

۱۔ محروی
’’جب سے دشمنوں کی پہچان ہوئی ہے۔
دوستوں سے محروم ہو گیا ہوں۔‘‘

۔ شگون

’’وزنی ٹرک کے نیچے آکر سیاہ بلی تارکول کی سڑک پر بچھ گئی تھی۔ خدا جانے اس کا راستہ کس نے کاٹا تھا۔‘‘
٭
نسیم محمد جان
       
۱۔ آدم خور
’’بھئی یہاں تو چھ کا ؤ نڑز تھے‘‘
’’ہاں‘‘
کہاں چلے گئے سب لوگ ؟‘‘
’’آدم خور کھاگیا ‘‘
کیا ؟
سامنے دیکھو۔۔۔۔ ایک کمپیوٹر لگ گیا ہے‘‘
٭

رتن سنگھ

۔ احتیاط

ہنستے ناچتے خوشیاں مناتے ایک ہجوم کو قریب آتا دیکھ کر ایک بھکاری نے اپنے تین چار سال کے بچے کو جلدی سے گودمیں اٹھا لیا اور ایسی آڑ میں لے گئی جہاں سے بچہ ان رنگ رلیاں منانے والوں کو نہ دیکھ سکے۔‘‘ نابابانا وہ بڑ بڑاتے جارہی تھی۔
’’میرے ننگے بھوکے بچے نے اگر ہنسنا سیکھ لیا تو کل کو اسے بھیک کون دے گا۔٭

جمعرات, اپریل 16, 2009

e-book on Environment in Urdu by Dr. Javed Ahmed




محترم ناظرین السّلام علیکم 

آج ہم اپنے بلاگ ۔ بزمِ اردو پر پہلی مرتبہ ایک 
e-book 
 ای بک   پیش کر رہے ہیں ۔

وسط ہند کے شہرناگپور سے قریب واقع کامٹی کے متوطّن ڈاکٹر جاوید احمد کی تصنیف ماحولیات اور انسان اردو میں ماحولیات سے متعلق ایک اہم کتاب ہے جو گزشتہ برس منظرِ عام پر آئی ہے ۔ 

ڈاکٹر جاوید احمد ،قدوائی ہا ئی اسکول و جو نیئر کالج، چندر پور سے پرنسپل پر خدمات انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوئے ہیں ۔ ان کے سائنسی موضوعات پر مبنی مضامین اور بچوں کے لئے لکھی گئی کہانیاں اور تراجم اردو کے مقتدر رسائل میں خراجِ تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔ ہم موصوف کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے اپنی اس گراں قدر تصنیف کے بزمِ اردو پر پیش کر نے کی اجازت دی ۔
 
ڈاکٹر جاوید صاحب سے اس پتہ پر رابطہ قاءم کیا جا سکتا ہے '
parvez77@rediffmail.com              

سائنس اور ماحولیات سے متعلق اردو میںمضامین اور کتابوں کی کمی عرصۂ دراز سے محسوس کی جاتی رہی ہے ۔اس لئے امّید ہے یہ کتاب۔، ماحولیات اور انسان، خاص طور پر تعلیمی اداروں، طلبا اور اساتذہ اور عام قارئین کے لئے بھی کار آمدو مفید ثابت ہو گی۔

ہمیں امّید ہے آپ ہماری اس پہلی پیشکش کا خیر مقدم کرکے مفید مشوروں سے نوازیں گے تاکہ مستقبل میں بھی ہم اس علاقے کی اہم مطبوعات کے وسیلے سے آپ سے رشتۂ خلوص استوار کرسکیں ۔
    آپ کی نیک خواہشات اور مشوروں کا منتظر ۔ 
محمّد اسد اللہ                                                                                               


Muslim voters aur voting مسلم ووٹر اور ووٹنگ


مسلمان عام طور پر ووٹ ڈالنے سے کیوں کتراتے ہیں ؟
یہ ایک سوال ہے جو حالیہ لوک سبھاالکشن کی ہنگا مہ آ رائیوں کے درمیان اکثر ذہنوں میں سر ابھارتا ہے۔

اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ عام مسلمان اپنے گزشتہ برسوں کے تجربات کی بنیاد پر منتخب ہو نے والی سیاسی پارٹیوں کی کا رکردگی سے بری طرح مایوس ہوا ہے اور مستقبل میں بھی سیاسی لو گوں سے کو ئی خاص امّید نہیں کی جا سکتی ۔ گویا اب الکشن میں ہمارے لئے ووٹ ڈالنے کا مقصد اچّھے حکمرانوں کا انتخاب کر نا نہیں ،بلکہ دو بُرے لو گوں میں سے کسی کم بُرے کو چنّا ہے ۔ لیکن جو لوگ اس میدان میں اترے ہیں ان پر ایک نظر ڈالئے تو لگتا ہے یہاں تو ساری ہی دال کالی ہے ۔یہ سبھی ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے ہیں ۔

بظاہر دو درختوں کی طرح جو کچھ فاصلے پر کھڑے نظر آ تے ہیں، لیکن ان کی جڑیں اندر سے ایک دوسرے سے ملی ہو ئی ہیں ، یہ سیاسی پارٹیاں حکومت بنانے کے لئے یا بالفاظِ دیگر کر سی حاصل کر نے کے لئے سیاسی گٹھ بندھن کے نام پر ایک ہوجائیںگی۔یعنی ہمیں ان لوگوں کو منتخب کر نا ہے جو اس میدان کے مرد ہیں اور آ ئے ہی اسی ارادہ سے ہیں کہ مال و دولت،شہرت حکومت حاصل کر یں گے ۔ان میں شائد ہی کو ئی ایسا ہوگا جو خالص خدمتِ خلق کا جذبہ لے کر آ یا ہو اور اپنی دنیا بنا ناا س کے پیشِ نظر نہ ہو، بلکہ ایسا کو ئی اس گلی میں آ ئے اور آخر تک اپنے ارادہ پر قائم رہ پائے حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے ( کہ نکٹو ں کی بستی میں کسی ناک والے کو ٹکنے نہیں دیا جاتا ) تو اس شخص کو سادہ لوح کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے اسی لئے اب سیاست میں شریف لوگ بہت کم گھستے ہیں (کیونکہ شریف آ دمی گھس پیٹھیا نہیں ہو تا) ۔بقول غالب ؔ

ہاں وہ نہیں خدا پرست ؛جا ؤ، وہ بے وفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں

ایک حکایت

ایک شخص کو پھانسی کی سزا دینے سے پہلے بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو بادشاہ نے کہا : آ ج ہماری بیٹی کا جنم دن ہے اس لئے ہم تم پر خاص عنایت کر نے والے ہیں ۔وہ آ دمی بہت خوش ہوا کہ ممکن ہے جان بخشی ہو جا ئے ۔ بادشاہ نے کہا : تمہارے سامنے تین کارڈ ہیں ان میں سے جو سہولت تمہیں پسند ہو اسے چن لو ۔ مجرم نے پہلا کارڈ اٹھایا اس پر لکھا تھا ’موت‘ ،اس نے گھبرا کر دوسرا کارڈاٹھایا ،اس پر درج تھا’موت‘ ۔اس نے اس امّید پر کہ یقینا یہی بادشاہ کی طرف سے خاص عنایت ہے تیسرا کارڈ اٹھایا اس پر بھی لکھا تھا ’موت‘۔
یہی حال ہمارے ووٹروں کا ہے خواہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو منتخب کریں نتیجہ وہی ہے ڈھاک کے تین پات !


مو جوددہ دور میں مسلمان سوچتے ہیںکہ ہم کو جن سے ہے وفا کی امیّد ،وہ نہیں جانتے وفا کیاہے ۔اسی لئے عام طور مسلمانوں کا بڑا طبقہ نہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کر وانے کے کئے دوڑ دھوپ کر تا ہے اور نہ مسلم ووٹر اپنا ووٹ بینک کتنا طاقتور ہے یہ بتانے کی فکر کر تے ہیں ۔
یہ اور بات ہے کہ بدلتے ہو ئے حالات نے اب خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے میں یہ شعور پید اکر دیا ہے کہ ہمیں ووٹ کا استعمال ضرور کر نا چاہئے ۔یہ نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ اگر ہم اپنی پسندیدہ پارٹی کو منتخب کروانے میں زیادہ دلچسپی نہ لیتے ہوں تو کم از کم ووٹ کی طاقت کا استعمال کر کے ان سیاسی جماعتو ں کو حکومت پر قابض ہو نے سے روک ضرور سکتے ہیں۔جو نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔

میںا یسے لو گوں سے بھی ملا ہوں جو اس بات کو فخرسے بیان کر تے ہیں کہ ہم نے نہ زندگی میں کبھی ووٹ نہیں ڈالا اور نہ اس اختیار کا استعمال کریں گے ۔یہ دراصل موجودہ سیاسی اداروں کی کالی کرتوت کے خلاف برہمی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے اور کہیں تو یہ خیال ان لو گوں کے دلوں میں جا گزیں ہے کہ یہاںے داغ تو کو ئی ہے ہی نہیں پھر
ہم ووٹ ڈال کر بد کر دار لو گوں کو حکومت کی کر سی پر بٹھا نے کا گناہ کیوں کریں ؟
یہ سچ ہو تب بھی وقت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ووٹ کا استعمال نہ کرنے سے اگر قوم و ملک کے لئے خطرہ بننے والے لوگ کرسی پر قابض ہو گئے تو اس صورت میں بھی ہم غفلت شعاری اور قوم کے مفادات کا تحفّظ نہ کر نے کے مجرم تو ہو نگے ہی ۔

بہتر یہ ہے کہ قومی مفاد کے پیشِ نظر اپنے ووٹ کا سوجھ بوجھ کے ساتھ استعمال کی جائے ۔

اتوار, اپریل 12, 2009

Saadat Hasan Manto -Ek Note


سعادت حسن منٹو۔
ایک نوٹ
By
Muhammad Asadullah

سعادت حسن منٹو اپنی شاہکار تخلیقات کے سبب ایک عظیم افسانہ نگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس عظمت کے اجزائے ترکیبی اس کا شفّاف اسلوب، بے باکی ،سماجی حقیقت نگاری انسانی شخصیات کا گہرا مطالعہ اور مشاہدہ ،نفسیات کا فنکارانہ تجزیہ ،افسانہ نگاری کے اسرار و رموز کا ادراک اور انھیں تخلیقی سطح پر برتنے کا ہنر اور دیگر کئی خوبیاں ہیں جنھیں منٹو کی امتیازی خصوصیات کے طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔اس کے باوجود منٹو کی کر دار نگاری جو ان سب پر بھاری ہے اسے ایک بلند پایہ فنکار ثابت کرتی ہے ۔ اس کی تخلیقات انسانی شخصیات کا ایک ایسا نگار خانہ ہے جہاں اس کے افسانوں کے پر دے سے کبھی ہمارے دلوں کو چھو لینے والی اور کبھی ہماری روح کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی انسانی صورتیں نمایاں ہو تی ہیں جو بلا شبہ اس کی فنکارانہ عظمت مین برابر کی شریک ہیں ۔

یہ سچ ہے کہ منٹو کے بیشتر کر داروں نے اسے فحش نگار کے لقب سے نوازا اور اس کے گرد ایک ایسا حصار کھینچ دیا کہ لو گ اس کا نام تک زبان پر لاتے ہو ئے کتراتے تھے ۔ یہ کردار ادب میں بڑے پیمانے پر مو ضوعِ بحث بنے اور ان کے انتخاب نے منٹو کو رسوا کیا البتّہ یہی بدنامِ زمانہ کر دار اس کے وجہ شہرت ثابت ہو ئے ،یہ الگ بات کہ کیچڑ میں کنول کی تلاش اور گہرے پا نیوں میں انسانی قدروں کے آبدار مو تیوں کی جستجو جو منٹو کی فطرت میں شامل تھی اس کا اصل ہنر ٹھہرا اور وہی اس کی عظمت کی بڑی دلیل بھی ہے ۔

منٹو کے یہاں مرد اور عورت دونوں کر داروں میں تنوّع رنگا رنگی کے علاوہ مختلف خصوصیات نظر آ تی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر کر داروں کی پیشکش میں ایسا لگتا ہے منٹو کی نظر انسانی فطرت کے اصل جو ہر کو تلاش کر رہی ہے اس کی اکثر کہانیاں اسی تلاش و جستجو کا ایک سلسلہ دکھائی دیتی ہیں ۔ موذیل ،بابو گوپی ناتھ، دودوا پہلوان ،ٹھنڈا گوشت ،منظور و کالی شلوار غیرہ ان کہانیوں کے نسوانی کر داروں میں سے برے ماحول اور برے افعال یا ناموافق حالات کا شکار ہو نے کے با وجود اپنی فطری نیکی کو اپنی شخصیت کی گہرائی میں چھپا ئے ہو ئے ضرور ہیں اور منٹو کی دروں بینی اسے بہر حال سطح پر لا کر ہمیں ایک حیرت آ میز مسرّت سے ہمکنا ر کر دیتی ہے ۔

اس کی فطری حیا اور نسوانیت بہر حال زندہ ہے اور منٹو کی نظریں ہر جگہ اسی کو ڈھونڈتی رہتی ہیں ۔ افسانوی کرداروں سے قطع نظر حقیقی شخصیات میں بھی منٹو اسی جو ہر کا متلاشی ہے ۔ اسکی تحریروں میں عصمت چغتائی ،پری چہرہ نسیم وغیرہ خاکوں میں بھی ان کرداروں کے اقوال و احوال اور اضطراری کیفیات میں منٹو ان کے اندر چھپے انسان کی جستجو میں رہتا ہے ۔ فسادات پر لکھے گئے اس کے افسانے جو سیاہ حاشئے کے نام سے شائع ہو ئے اس کی اسی انسان پرستی کے مظہر ہیں ۔ اس ماحول میں جس نے انسان کی درندگی ابھر آ ئی تھی اور انسان بنے رہنا بڑا مشکل ہو گیا تھا یا یوں کہئے اپنی جان کی حفاظت کی خاطر حملہ کر نا اس موحول کی ضرورت تھی ، انسانیت بہر حال انسان میں زندہ تھی ۔ منٹو کے افسانے اسی انسان دوستی کے علمبردار ہیں اس سلسے میں اس کے افسانے موزیل ،بابو گوپی ناتھ قابلِ ذکر ہیں ۔

سوموار, اپریل 06, 2009

Urdu Short Story .Koshish


کو شش 
کہانی 
محمّد اسد اللہ 

دسمبر کا مہینہ تھااور شہر بھر کے اسکولوں میں کھیل کود اور تحریری و تقریری مقابلوں کی بہار آئی ہوئی تھی ۔ فرحانہ کا شمار اس کے اسکول کی بہترین مقرّرین میں ہوا کرتا تھا ۔یوں بھی وہ بہت باتونی لڑکی تھی ،بلا کی ذہین اور خوبصورت بھی ۔ہرقسم کے تقریری مقابلوں اور مباحثوں میں اسے اسکول کی نمائندگی کے لئے بھیجا جاتا تھا ۔صالحہ اس کی ہم جماعت تھی ۔فرحانہ کی ان سب خوبیوں کے باوجود نہ جانے کیوں کلاس ٹیچر نے صالحہ کو مانیٹر بنارکھا تھا ،یہ بات فرحانہ کو ہمیشہ کھٹکتی تھی ۔ 
سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ اچانک ایک عجیب سا واقعہ پیش آیا ۔ شہر کے کسی اسکول میں تقریری مقابلہ ہونے والا تھا ۔ فرحانہ کا نام اسکول کی جانب سے بھجوا دیا گیا ۔ابھی تقریر کو چار پانچ دن باقی تھے کہ اچانک فرحانہ نے طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بنا کروہاں جانے سے انکار کر دیا ۔کلا س ٹیچر نے فیصلہ سنا دیا کہ اس کی جگہ اب صالحہ جائے گی ۔صالحہ نے سنا تو اس کے پیروں تلے کی زمین کھسک گئی ۔اس نے زندگی میں کبھی تقریر نہیں کی تھی ۔ تقریر کے عنوان پر نظر ڈالی تو اسے محسوس ہوا وہ چکرا کر گر پڑے گی ۔اسقدر مشکل عنوان کہ اپنے طور پر سے کچھ کہنا چاہے تو ایک لفظ نہ بول سکے۔

صالحہ کی سہیلیوں نے اسے بتایا کہ فرحانہ اسی مشکل عنوان کی وجہ سے تقریر یاد نہ کر پائی اور انکار کردیا ۔ ۔’ تمہارا نام بھی ٹیچر کو اسی نے سجھایا کہ تم بھی تقریر نہ کر سکو اور سب کے سامنے خوب بے عزّتی ہو ‘۔ شبانہ نے یہ کہ کر صالحہ کے رہے سہے حواس بھی اڑا دئے ۔ ان ہی دنوں اسکول میں کئی مضامین کا ڈھیر سارا ہوم ورک دیا گیا تھا وہ سارا کام بھی پہاڑ بن کر کھڑا تھا ۔اس حالت میں اس کی امّی اسے یہ کہ کر ڈھارس بندھاتی رہیں کہ تمہیں انعام تھوڑا ہی جیتنا ہے تم بس کسی طرح تقریرکرلو ۔نہ ٹیچر اس کی پریشانی سمجھنے کو تیّار تھیں نہ گھر میں کوئی اسکی حالت کا اندازہ کرنے والا تھا اسے محسوس ہوا وہ بالکل اکیلی ہے۔

آخر وہ دن آپہنچا ۔ہال میں اس کی امّی اور ابّو دونوں موجود تھے لیکن ان کا ہونا نہ ہونا اس کے لئے برابر تھا ۔تقریری مقابلہ شروع ہوا اور سب سے پہلے جس مقرّر کے نام کا اعلان کیا گیا اسے سنتے ہی صالحہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا یہ اسی کا نام تھا ۔تبھی اس کے ابّو کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے :جو گھبرا گیا اس نے سب کچھ کھو دیا۔ صالحہ نے اپنے آپ کو سنبھالا اور دھیرے دھیرے مائک کی طرف بڑھنے لگی ۔وہاں پہنچ کر جو کچھ یاد تھا وہ سب اگل دیا ۔اس کے بعد اسکا ذہن کورے صفحہ کی طرح صاف تھا ۔وہ رک گئی اور آگے کے جملے یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔اسے کچھ لڑکیوں کے ہنسنے کی آوازیں سنائی دیںجن میں فرحانہ کی ہنسی نمایاں تھی۔ گھبرا ہٹ میں اسے کچھ بھی سجھائی نہ دیا تو وہ کچھ دیر خاموش کھڑی رہی اور اسٹیج سے اتر آئی ۔تقریر کے بعد امّی ابّو سے سامنا ہوا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے ۔ اس نے اسی دن فیصلہ کرلیا کہ اب وہ کبھی تقریر نہیں کرے گی ۔ 

اس واقعہ کا اس کے دل و دماغ پراتنا بر اثر پڑا کہ وہ ہمیشہ خاموش رہنے لگی ۔کلاس روم میں کسی سوال کا جواب دینے کے لئے کھڑی ہوتی تو اس محسوس ہوتا گویا مائک اس کے سامنے رکھا ہے اور پورا ہال لوگوں سے بھرا ہوا ہے اور اسے زور زور سے ہنسنے کی آواز سنائی دے رہی ہے ۔ گھبراہٹ سے وہ پسینہ پسینہ ہو جاتی ۔ایک دن اس کی کلاس ٹیچر نے اس کے ابّو، ارشاد صاحب کوبلوا بھیجا اور اس کی یہ حالت بتائی ۔ اس کے ابّو کہنے لگے گھر پر تو ایسی کو ئی بات نہیں ہوتی ،ہاں وہ کچھ گم سم سی رہنے لگی ہے ۔ا س شام صالحہ کے والد اور والدہ میں اس مسئلہ پر کچھ بات چیت ہوئی اور پھرجیسے یہ معاملہ ختم سا ہو گیا ۔دو چار دن گزر گئے ۔اس دوران صالحہ کے ابّو کسی گہری سوچ میں رہے ۔پھرایک رات جب کھانے سے فارغ ہونے کے بعد سب لوگ چھت پر ٹہل رہے تھے صالحہ کے ابّو نے کہا :’آؤ کوئی کھیل کھیلتے ہیں۔‘
’کون سا کھیل؟‘آصف نے پوچھا۔
’ایسا کرتے ہیں عدالت عدالت کھیلتے ہیں ، ہم جج بن جائیں گے اور تم لوگ باری باری وکیل بن کرمقدمہ لڑوگے ۔‘
صالحہ کی امّی نے کہا:’ مگر یہ تو بتائیے آخر مجرم کون بنے گا ،آپ تو پہلے ہی جج بن بیٹھے ‘۔

’مجرم۔۔ مجرم ؛‘ ابّو نے ادھر ادھر دیکھا ان کی نظر آصف کے جوتوں پڑی ،’ہاں یہ رہا مجرم ،یہ جوتا۔سبھی جانتے تھے کہ اس گھر میں اکثر جوتے ادھر ادھر پڑے رہتے تھے ۔صالحہ کے ابّو اکثر چیختے رہتے کہ ان جوتوں کو کوئی ان کے لئے مقرر کی گئی جگہ رکھتا کیوں نہیں ؟
اسی پرصالحہ کے دونوں بھائیوں میں لڑائی ہوا کرتی ۔امتیاز نے موقع کا فائدہ اٹھا کر فوراً اعلان کردیا:’آصف کے جوتوں کو عدالت میں حاضر کیا جائے ۔‘
امّی ہمیشہ آصف کی طرف داری کیا کرتی تھیں اس لئے وہ وکیلِ صفائی بن گئیں ۔صالحہ کو معلوم تھا کہ اس کے ابّو کو جوتوں کا ادھر ادھر پڑے رہنا بالکل پسند نہیں اور وہ جج بھی تھے اس لئے صالحہ نے جوتوں کے خلاف مورچہ سنبھال لیا ۔عدالت کی کاروائی شروع ہوتے ہی صالحہ کی بڑی بہن نازیہ نے جوتوں کے خلاف فردِ جرم پڑھنی شروع کی ۔

آصف کے جوتوں پر سب سے پہلا الزام یہ ہے کہ وہ گھر میں ہمیشہ ادھر ادھر ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں ، دوسرا الزام یہ کہ ربڑ کے پاپوش پر تلوں میں لگی مٹّی اور گرد صاف کئے بغیر ہی گھر میں داخل ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے گھر میں ریت مٹّی اور گندگی داخل ہو جاتی ہے ۔اور تیسرے یہ وہ شو ریک پر کبھی نہیں پائے جا تے جہاں انہیں ہمیشہ ہونا چاہئے ۔‘
الزام پڑھے جانے کے بعد امّی جوتوں کا بچاؤ کرنے کے لئے آگے بڑھیں ۔’مائی لارڈ،جوتوں پر جو الزام لگایا گیا ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے ۔جوتے لاوارثوں کی طرح ادھر ادھر پڑے رہتے ہیں تو اس کے قصور وار جوتے کس طرح ہو سکتے ہیںیہ ذمّہ داری تو جوتا پہنّے والے کی ہے۔ ‘
جوتوں کے مالک محمّد آصف عدالت میںحاضر ہو ں ‘ ۔امتیاز نے ہانک لگائی ۔
صالحہ نے آصف پر لگائے گئے الزامات دہرائے تو جج صاحب یعنی ارشاد صاحب نے پوچھا :’کیا تم اپنے جوتوں کی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہو ‘۔
’جی ‘، آصف نے کہنا شروع کیا ۔ ’ میں جوتو ں کی صفائی میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ گھر میںپالش کی ڈبیا ختم ہو گئی ہے اور آپ امّی کے بار بار یاد دلانے کے باوجود آپ بازار سے پالش کی ڈبیا لانے میں ناکام رہے ہیں ۔اس لئے جوتوں کی ٹھیک طرح سے صفائی نہیں ہو پا رہی ہے ۔‘
’آرڈر ، آرڈر ، تم عدالت کی توہیں کر رہے ہو ۔ ‘صالحہ کے ابّو پاس پڑا لکڑی کا ڈنڈا میز پر زور زور سے ٹھونکتے ہوئے بولے ۔ ’ مسٹر آصف کیا تم پر لگایا گیا الزام تمہیں منظور ہے ؟‘
’حضور ! اسکول میں کتابوں کا بوجھ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ مجھے جوتے سنبھالنے کی فرصت ہی نہیں مل پاتی ۔ ‘صالحہ نے فوراً ٹوکا :’جج صاحب ،یہ اپنی کتابیں بھی ٹھیک سے نہیں رکھ پاتے میں ہی انھیں سنبھال کر رکھتی ہوں ، اور یہ اکثر کھیل میں مگن رہتے ہیں ۔ 

اسی طرح دیر تک جرح چلتی رہی ۔ سب اس انوکھے کھیل میں کھوئے رہے ۔عدالت پھر دوسرے دن کے لئے ملتوی کردی گئی ۔ د و تین دن تک یہی ہوتا رہا ۔کسی کو مجرم بنا کر اس پر الزام لگائے جاتے ،کوئی وکیل بنکر اسے بچانے کی کوشش کرتا ۔کوئی گواہ بنتا ۔ ایک رات ارشاد صاحب نے یہ اعلان کیاکہ آج بجائے عدالت کے مباحثہ ہوگا۔ 
’بحث کس بات پر ہوگی ؟‘ امتیاز نے پوچھا ۔ 
’کوئی اچھّا سا عنوان مقرر کر لیتے ہیں ؟ 
کچھ سوچ کر صالحہ کی امّی نے ایک عنوان پیش کیا : ’گھر سنبھالنے میں امّی کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے یا ابّو کو ‘۔

آئندہ شام جب گھر میں پڑوس سے بٹّو ،انجم اور رانی بھی آئے ہوئے تھے ،مباحثہ شروع ہوا ۔بٹّو کو صدرِ جلسہ بنا دیا گیا اور رانی مہمانِ خصوصی کی کرسی پر براجمان ہو گئی ۔ آصف نے امّی کی حمایت میں تقریر شروع کی ۔ جنابِ صدر ،معزز مہمانانِ خصوصی ، اور لایقِ احترم امّی،ابّو اور حاضرین!
میں آج اپنی امّی کی حمایت میں اپنے خیالات پیش کرنے کے لئے آپ کے سامنے حاضر ہوں۔ 
میں اپنی تقریر کی ابتدا حضور کی اس حدیث سے کرتا ہوں کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنّت ہے ۔ اور وہ ہماری امّی ہی ہیں جن کی وجہ سے ہمارا گھر جنّت کا نمونہ بنا ہوا ہے ۔ اس حقیقت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ امّی کی وجہ سے ہی ہمارے گھر کی گاڑی چلتی ہے ۔وہ نہ ہوںتو کسی کو ایک وقت کا کھانا تو در کنار ایک بوند چائے بھی نہیں مل سکتی ،اس بات کو تو ہمارے ابّو بھی مانتے ہیں ۔ امّی نہ ہوں تو گھر کی کوئی چیز ٹھکانے نہیں رہتی ۔ امّی اگرہر ایک کو ٹوکتی اور بولتی نہ رہے تو گھر کا سارا نظام بگڑ جائے ۔ابّو تو زیادہ تر گھر سے باہر ہی رہتے ہیں اور گھر آنے کے بعد بھی ٹی۔وی اور اخبار میں کھوئے رہتے ہیں ۔

اب صالحہ کی باری تھی ۔اس نے ابّو کی موافقت میں بولنا شروع کیا ۔’ ابھی میرے فاضل بھائی نے امّی کی ذمّہ داریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ،میں امّی کے مرتبہ اور عزّت و احترام کو دل سے تسلیم، کرتی ہوں اور ان کی اتنی ہی عزّت بھی کرتی ہوں اور یہ بھی جاسنتی ہوں کہ میں اپنے چمڑے کی جوتیاں بنا کر بھی انھیںپہنادوں تو ماں کے احسانات کا حق ادا نہیں ہو سکتا لیکن حقیت کا اقرار اپنی جگہ ہے ،اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارا گھر ایک گاڑی کی طرح ہے اور امّی اور ابّو اس کے دو پہیّے ہیں ۔ آپ اچھّی طرح جانتے ہیں کہ ایک پہیّہ والی گاڑی تو صرف سرکس میں ہی چلتی ہے ۔ یہاں امّی گھر سنبھالتی ہیں تو ابّو آفس ۔ان کی تنخواہ ہماری اس گھر کی گاڑی میں پیٹرول کا کام کرتی ہے ۔گھر سے باہرکتنے ہی کام ہیں جن کے لئے ہمیں ابّو پرمنحصر رہنا پڑتا ہے ۔اسی لئے میں[L: 8] یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ابّو کی اہمیت بھی امّی سے کسی طرح کم نہیں۔ 

اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ ان بچّوں کو ہر شام کوئی نیا موضوع دیا جاتا جس پر سب اپنی رائے پیش کرتے اور مباحثہ ہوتا ۔کبھی موضوع ہوتا ٹوتھ پیسٹ اہم ہے یا برش کبھی اس بات پر بحث ہوتی کہ اگر اختیار دیا جائے تو آپ شمع بننا پسند کریں گے یا جگنو ؟کیوں ؟اور کبھی اس بات پر دلیلیں پیش کرتے کہ انگریزی ذریعۂ تعلیم بہتر ہے یا اردو بعض اوقات سبزی خوروں اور گوشت خوروں کا مقابلہ ہوتا تو کبھی سائنس اور آرٹس کا۔ 
چند مہینوں تک گھر میں یہ سلسہ چلتا رہا ۔دھیرے دھیرے صالحہ اس قابل ہوگئی کہ وہ کسی بھی موضوع پر ذراسی تیّاری میں دس پندرہ منٹ تک آسانی کے ساتھ بول سکتی تھی ۔ اس دوران وہ رسائل ، کتابیں اور اخبارات کا مطالعہ بھی کرتی رہی تھی اس کی عام معلومات بھی اچھّی خاصی تھی ۔ 

دیوالی کی چھٹّیاں شروع ہونے والی تھیں ۔ان دنوں اردو پڑھانے والی ٹیچر چھٹّی پر گئی ہوئی تھیں چند مہینوں کے لئے ایک نئی ٹیچر کا تقرّر ہواتھا ۔ ایک دن وہ کلاس میں آئیں تو بجائے سبق پڑھانے کے انھوں نے بورڈ پر ایک عنوان لکھا ،’تندرستی ہزار نعمت ہے ‘۔ اور کلاس کی سبھی لڑکیوں سے کہا ؛آپ میں سے ہر ایک کو باری باری اس موضوع پر جس قدر بول سکتی ہیں بولنا ہے۔ جو کچھ نہیں بول سکتیںانھیں بھی کم از اکم چار جملے ضرور ادا کرنے ہیں ۔ ورنہ اپنی جگہ کھڑا رہنا ہے ۔ جب صالحہ کی باری آئی تو اس نے اپنے خیالات پیش کرنے شروع کئے اور سبھی اسے حیران نظروں سے دیکھتے رہے۔اس کے شاندار اندازِ بیا ن اور خود اعتمادی کو دیکھ ٹیچر نے اس کی خوب تعریف کی اور کہا در اصل یہ تو ایک ٹیسٹ تھا ۔ شہر کے مشہور انعامی تقریری مقابلہ کے لئے کسی طالبہ کے انتخاب کے لئے ۔اور یہ فی البدیہہ تقریری مقابلہ شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں منعقد ہوگا ۔ ہر سال یہ ایک مباحثہ کی شکل میں ہوا کرتا تھا اور عام طور پر فر حانہ اس میں رٹی رٹائی تقریر کرنے پہنچ جاتی ۔اس بار جب ٹیچر نے اسے کلاس میں دئے گئے موضوع پر اپنے خیالات پیش کرنے کو کہا تو وہ خاموش کھڑی رہی ۔ اس تقریری مقابلہ کے لئے صالحہ کو چن لیا گیا تو وہ بری طرح چڑ گئی اوراپنی جگہ کھڑی ہو کر ٹیچر سے کہنے لگی :میڈم اس مقابلہ کے لئے تو ہر سال ہمارا نام بھیجا جاتا ہے ۔ ٹیچر نے دھیرے سے مسکرا کر کہا : اس بار صرف نام نہیں بھیجا جائے گا ،بولنے والوں کو بھیجا جائے گا ،اور تم نے تو اس موضوع پر ایک جملہ تک نہیں کہا وہاں جا کر کیا کروگی ۔؟ 

آخر وہ دن آپہنچا جب ایک شاندار ہال میں منعقد کئے گئے تقریری مقابلہ میں شریک ہونے کے لئے پہنچی اس کے امّی ابّو بھی ساتھ تھے ۔ اس کے نام کا اعلان کیا گیا تو وہ پورے اعتماد کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھی ۔ اس کے حصّہ میںجو پرچی آئی اس پر عنوان درج تھا :’زندگی زندہ دلی کا نام ہے‘ ۔صالحہ نے اپنے مخصوص انداز میں[L: 8] بولنا شروع کیا جیسے جیسے وہ بولتی رہی ہال تالیوں سے گونجتا گیا ۔ 
تمام تقریریں ختم ہونے کے بعد جب نتائج کا اعلان کیا گیا تو وہ مارے خوشی کے اچھل پڑی ،اسے پہلے انعام کا مستحق قرار دیا گیا تھا۔ 
،،،،،،،،،،،،،،


جمعہ, اپریل 03, 2009

Being Friendly With Students - Generation Gap


 Being Friendly With Students 

Generation Gap

Muhammad Asadullah

Sometimes these teachers loose the sense of dignity and become friendly with their students with no barrier


Yesterday someone asked me, what is the generation gap?

I tried to explain him by examples from day today life. The first event narrated by a retired teacher. Near about forty years ago when he had just joined his duty in a high school. At that time movies were the most popular source of entertainment. Seeing a new movie on first day amidst crowd in a theatre had its own charm. Religious minded people sternly condemned films .Teachers too sermonized against it, still, particularly young teachers would not hold back themselves from the attraction of silver screen.


Now a day’s television had wiped out all those notions, as theatre has itself entered in every home through the T.V. frame. Now these things seem to be unbelievable.

Mr.’s., the teacher was, once, in a queue for purchasing ticket of a new movie. One of his students came near him and offered for purchasing his ticket by saying, Sir,Bhid Bahut Hai Laiye Main Aap Ka Ticket Nikal Kar La Deta Hoon. He took ten Rupees Note and disappeared in crowd and returned with ticket just a few moment .Mr. S says “That was the last film I saw in a theater never visited any theatre after that.


Last month a new teacher appointed in our school .The most remarkable thing about such types of people become popular among students in no time. Their efforts to develop student, enthusiasm towards their duties and ambitious character take them closer to the pupils. Sometimes these teachers loose the sense of dignity and become friendly with their students with no barrier. Once the newly appointed teacher was also in the queue for purchasing ticket of a new movie. He also experienced same situation with his student but with a slight difference as Mr.S had gone through. His student came near him and said “Sir,Bheed Bahot hai, Please Aap Meri Bhi Ticket Le Len Kya? (Sir, it is too much crowdie, Will you please purchase a ticket for me too?


Once I was busy in shopping along my wife in a market, one of my students saw us and come near us and introduced her mother. The girl had left school four years ago. She informed me that she had been married and before leaving inquired about my health. My wife surprised, how free your students are with you! I said,”There is nothing wrong if they talk with their teacher in a market place.What would you have done if you have been in her place?”
My wife told me,’ Students of our time had never talked like this, if I was your student, I would have departed just after a simple Assalamo -Alaikum.

I think much water had been flown under the bridge of time. Students of past not only full of respect but they were so afraid from their teachers that they never dared to ask questions related to the subjects. Modern students have no hesitation to raise his objections too.


Last year a teacher shared his experiences of board work with me. He said that many times students write their mobile numbers in answer papers and more over, the convenient time too when they me be contacted. According to the board’s instructions such cases should be informed to the board authority for disciplinary action, but teachers rarely adopt this thorny way, some time to avoid unnecessary trouble and mostly to rescue students from spoiling their future. The most astonishing aspect of this phenomenon is that these students feel nothing wrong in inviting the teachers for corrupt practices.

It also reveals that students offer dealing for unfair means to these valuers because some of them had got positive response from other corner. Such practices are spreading in society by irresponsible, greedy and corrupt teachers.


New generation is no doubt advance as per requirement of their age, the time has also been changed and the mentors of this period have also been metamorphosed.


بدھ, اپریل 01, 2009

Ghazal- Kabhi Batil Bhaga Kar Haq Ko Le Jata Hai Basti Se


غزل
محمّد اسد اللہ



میں پاکٹ کی طرح خود کو کہیں پر بھول آ یا ہوں
یہاں رہتے ہو ئے مجھ کو تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے

کبھی باطل بھگا کر حق کو لے جاتا ہے بستی سے
کبھی حق بھیس میں باطل کے آ کر منہ چڑھا تا ہے

سوا مسدود راہوں سے ،ہوا کے کون آ ئے گا ؟
نہ جانے کس کی خاطر یہ دیا اب جھلملاتا ہے

کبھی اندیشۂ باطل ہمیں سونے نہیں دیتا
کبھی حق نیم شب دروازہ آ کر کھٹکھٹاتا ہے

چٹانوں کی طرح ہم ہیں مگر ٹوٹ ے ہو ئے بھی ہیں
یہاں ہرپل بکھر نے کا ہمیں اندیشہ رہتا ہے

فضائیں ایک مدّت سے اذانوں کو ترستی ہیں
یہاں ہر شخص سچّائی کو بس کانوں میں کہتا ہے