منگل, ستمبر 30, 2008


عید آ ٔی ہے

دلوں میں پیار جگانے کو عید آ ٔی ہے

ہنسو کہ ہنسانے کو  عید آ ٔی ہے

   

مسرّتوں کے خزانے دٔے خدا نے ہمیں

ترانے  شکر کے گانے کو  عید آ ٔی ہے

مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے

چمن دلوں کا سجانے عید آ ٔی ہے

خوشا کہ شیرو شکر ہو گٔے گلے مل ک

خلوص دل کا دکھانے کو عید آ ٔی ہے

 آٹھا دو دوستو اس دشمنی کو محفل سے

شکایتوں کے بھلانے  کو عید آ ٔی ہے

 

کیا تھا عہد کہ خوشیاں جہاں میں بانٹیں گے

اسی طلب کے نبھا نے  کو عید آ ٔی ہے  

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں