بدھ, اکتوبر 01, 2008



خیال پارے    .1 

مقصدِ زندگی 

ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں ؟ 
ہماری زندگی کا کیا مقصد ہے؟ 

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صدیوں سے مفکّر،فلسفی،دانشور اور ادیب و شاعر تلاش کرتے رہے ہیں ۔ 
ہر شخص اپنے زاویے سے زندگی کو دیکھتا ہے ۔
ایک نکتۂ نظر یہ بھی : 
خدا نے حضرتِ آ دم کو ان کی ایک خطا پر عتاب کے بعد اس دنیا میں بھیجا تھا ۔ہم ان ہی حضرتِ آدم کی اولاد ہیں۔کیا یہ ممکن نہیں کہ اس عتاب کا کچھ حصہّ وراثت میں ہمیں بھی ملاہو؟
ہمارے جدِّ امجد سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک معیّن مدّت تک انھیں یہاں زندگی گذارنی ہے اور پھر وہ جنّت میں ( جو ان کا اصل گھر ہے ) لو ٹیں گے ۔
یہی طریقہ کار اولادِ آ دم کے ساتھ بھی ہے ۔دنیا کو کار گاہِ عمل قرار دیا گیا۔ 
اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدّس کتاب قرآن مجید میں اس کو واضح بھی فر مادیا کہ موت اور حیا ت کو اس لئے بنا یا گیا تاکہ دیکھیں کو ن اچّھے اعمال کر تا ہے ۔ 
گو یا اب ہمارے سامنے کارِ جہاں یہ ہے کہ اسے اس طرح انجام دیا جا ئے کہ خدا راضی ہو ۔ ہوم کمینگ یعنی جنّت میں جانے کے لئے ایک ایسا انسان بن کر دکھا نا ہے جو واقعی وہاں رہنے کے لائق ہو ،اسے اس مملکت میں شہریت اسی صورت میں ملے گی جب وہاں کی شرائط پوری کرے ۔ اس کی سب سے بڑی شرط یہی ہے کہ خدا سے اس کا تعلّق اس درجہ تک پہنچ جائے کہ 
خدا بندے سے خود پو چھے بتا تیری رضا کیا ہے ؟ 
چنانچہ زندگی، اپنے مالک کو راضی کر نے کی تمام تر سعی کا نام ہے ۔ 
اور 
عبادات،اعمالِ صالحہ،خدا کی مخلوقات پر رحم ،حسنِ سلوک ،مصائب پر صبر ،قربانیاں ،جہاد ، ،خدا کے بندوں سے خدا کا تعارف کروانے کی کوششیں اور دین کی محنت یہ سب رضائے الٰہی تک پہنچنے کے راستے ہیں ۔ 

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی 
میں اسی لئے مسلماں ،میں اسی لئے نمازی 
اقبال

1 تبصرہ:

  1. آپ کو عید مبارک۔

    شاید آپ کے بلاگ پر تبصرے کرنے میں کوئی مسئلہ ہے، کل بھی کیا تھا لیکن وہ نظر ہی نہیں آیا۔

    جواب دیںحذف کریں