بدھ, ستمبر 10, 2008

مہاتما گاندھی - اپنے افکار کے آ ءینے میں Thoughts of M.K.Gandhi


موہن داس کرم چند گاندھی

اپنے افکار کے آ ئینے میں


۱۔ اگر ہندوستان تلوار کے راستے کو اپناتا ہے تو ہو سکتا ہے اسے فوراً کامیابی حاصل ہو جائے لیکن اس صورت میں تشدّد بھرا بھارت میرے دل کا ٹکڑا نہیںہو سکتا ، پوری دنیا کو راستہ دکھانے کے لئے ہندوستان کا یہی مشن ہو نا چاہئے کہ جو بات اخلاقی طور پر غلط ہے وہ سیاسی طور پر بھی غلط ہے ۔

۲۔ جب تک ہندوستانی عورتیں عوامی زندگی میں حصّہ نہیں لیتیںتب تک ملک ترقّی نہیں کر سکتا ۔

۳۔ گناہ سے نفرت کرو گناہ گار سے نہیں ۔

۴۔ ’’ اس بڑھتی ہو ئی چھوا چھوت سے مجھے انتہائی تکلیف پہنچی ہے کیونکہ میں اپنے آپ کو ایک ایسا ہندو سمجھتاہوں جس میں ہندو دھرم کی روح پیوست ہو گئی ہے ۔ آج جس صورت میںہمارے ہاں چھوت چھات پائی جاتی ہے اس کے لئے مجھے کو ئی جواز ان سب کتابوں میں نہیں مل سکا جنھیں ہم شاستر کہتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ میںپہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ ہندو دھرم واقعی چھوت چھات کو جا ئز قرار دیتا ہے تو مجھے ہندو دھرم چھوڑنے میں کو ئی پس و پیش نہیں ہو گا ۔ کیونکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ سبھی سچّے مذاہب کو بنیادی سچّائیوں کے خلاف نہیں ہو نا چاہئے ۔

۵۔ اگر آنکھ کا بدلہ آنکھ ہو تو پو ری دنیا اندھی ہو جا ئے گی ۔

۶ ۔ شراب جسم اور روح دونوں کو فنا کر دیتی ہے ۔

۷۔ میں اپنی شخصیت کے اظہار کے لئے مکمّل آ زادی چاہتا ہوں ۔

نہ کہیں ہندو مر رہے ہیں نہ مسلمان مارے جا رہے ہیں ۔ ہر جگہ انسان مررہا ہے ۔

۸۔ ایک کمزور کبھی معاف نہیں کر سکتا ۔ معافی تو طاقتور کا اظہار ہے

۹۔ ہر گاؤں کو خود کفیل جمہوری اکائی ہو نا چا ہئے ۔

۱۰۔ایماندارانہ اختلاف ترقّی کی نشانی ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں