سوموار, ستمبر 15, 2008

RAMZANUL MUBARK رمضان المبارک اور ہماری غفلت شعاری


         
      رمضان المبارک اور ہماری غفلت شعاری 
محمّد اسد اللہ    

یوں تو خدا کی بے شمار نعمتیں ہر آ ن انسانوں پر بارش کی طرح برستی رہتی ہیں لیکن مقدّس ماہِ رمضان خدا کا اپنے بندوں پر ایک احسانِ عظیم ہے۔ اس با برکت مہینے میںابتدائی عشرہ کو رحمت ،دوسرے عشرہ کو مغفرت اور آ خری عشرہ کو جہنّم سے نجات کے لئے متعّین کر کے اللہ تعالیٰ نے گناہ گار روحوں کی نجات کا سامان اور مغفرت کے مواقع مہیّا فرمادئے۔ اسی کے ساتھ شیطان کو اس ماہ میں قید کرکے انسانوں کو گمراہ کر نے والی ایک زبر دست طاقت کو مقیّد کر دیا ،روزہ کی صورت میں کھانے پینے سے منع کرکے نفسانی قوّت کو سر اٹھانے سے روک دیا ۔اس سلسہ کی مصروفیات سے بھی ہمیں نجات مل گئی ۔ اور کیا چاہئے۔ ۔انسان اپنے دو دشمنوں نفس اور شیطان سے محفوظ خدا کی رحمت برس رہی ہے اب سوائے اپنی نجات کی فکر اور اپنے مالک کو راضی کر نے کے کو ئی کام نہیں ۔

قرآن مجید اورشبِ قدر 

قرآن مجید اسی ماہِ مبارک میں نازل ہوا ۔ہزار مہینوں سے افضل شبِ قدر جس میں ملائکہ نازل ہو تے ہیں خدا نے اسی ماہ کے آ خری عشرہ کی طاق راتوں میں رکھ دی ،گویا وقت کا تنگ پیمانہ بھی لامحدود وقت کی فراغت سے ہمکنار ہو گیا ۔ قرآن مجید کے ہر حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں رکھی ہیں ،رمضان المبارک میں زبردست آ فر یہ ہے کہ ہر نیکی کا اجر ستّر گنا بڑھا دیا ۔تاکہ لو گ خوب عبادت کریں اور اپنے نامۂ اعمال کو جو سال بھر خشک سالی کا شکار تھا بھر لیں ۔
اس کے باوجود یہ مشاہدہ ہے کہ لوگ ان برکتوں سے فیضیاب نہیں ہو تے ۔ظاہر یہ نقصانِ عظیم ہے ۔ایک طویل حدیث کے مطابق حضرت جبرئیل نے حضورﷺ کے سامنے یہ دعا کی کہ

ہلاک ہو جائے وہ شخص جو رمضان کا مہینہ پا ئے اور اس کی مغفرت نہ ہو ۔نبی کریم ﷺ نے اس پر آ مین کہی ۔ (اک روایت کی رو سے حضرت جبرئیل نے آپؑ سے آمین کہنے کی درخواست کی ۔)افسوس ہے ان لو گوں پر جو نہ تو اس مقدّس مہینے کی برکات سے فیض یاب ہو تے ہیں ۔نہ روزے، نہ نماز، نہ توبہ،نہ استغفار ۔نہ خدا سے تعلّق استوار کر تے ہیں ۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی چمن میں بہار آ ئی ہو ،پھول کھلے ،پرندے چہچہائے،معطّر ہوائیں چلیںمگر اندھے ،بہرے اور بے حس لو گوں نے نہ کچھ سنا ،نہ دیکھا ،نہ کچھ محسوس کیا۔

بعض لو گ ماہِ رمضان میں بھی بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں ۔ سنا ہے جب کسی بندہ سے کو ئی گناہ سر زد ہو جا تا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ لگا دیا جاتا ہے ۔ خدا کے حضور معافی مانگ لے تو اسے مٹا دیا جاتا ہے ، ورنہ وہیں رہ جا تا ہے۔ داغ پر داغ لگ لگ کر انسان کا دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔ پھر کو ئی اچّھی بات دل میں نہیں اترتی،ہدایت کا کلمہ اس پر اثر نہیں کر تا ،جیسے دل پر مہر کر دی گئی ہو ۔خد ا دین ،عبادت ،مسجد اور آ خرت کے ذکر سے بھی اسے وحشت ہو تی ہے ۔ یہ دل کا ایک خطرناک مرض ہے اور علاج اس کا یہ ہے کہ اس وحشت کو خدا کے ذکر ،کلامِ ربّانی کی تلاوت اور دینی مجلسوں میں شریک ہو کر دور کیا جا ئے ۔ رمضان کا مہینہ اور اس کی مجوّزہ عبادتیں اس مسئلہ کا بہتیرین حل ہیں کہ دل کی اجڑی ہو ئی بستی کو از سر نو بسایا جا ئے۔

اسی کے ساتھ ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ سال بھر دل دماغ اور روح پر گناہوں کی سیاہی اور گندے ماحول کی خباثت نے جو اثرات مرتّب کئے ہیں وہ اللہ کے ذکر ،قرآن کی تلاوت ،نمازوں کی کثرت اور روزے کی مشقّت سے دھل جائیں اور روح میں پا کیزگی در آ ئے ۔ ہمارے دل کا آ ئینہ صاف و شفّاف ہوجائے تاکہ اس کے بعد اس میں نورِ الٰہی اترے تو بندہ جذبۂ عبدیت اور اطاعت سے سر شار ہو کر اپنے مالک کے آ کے جھکے تو اسے بھی پیار آ جائے اور وہ ہماری مغفرت کا فیصلہ فرمادے ۔

   کام      آ خر      جذبہ  ٔ بے اختیار آ  ہی     گیا   
دل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا ۔
جگر مراد آ بادی                                             

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں