اتوار, ستمبر 07, 2008

A letter of a tree پیپل کا خط پپّو کے نام

پیپل  کا خط پپّو کے نام
A letter of a tree  
ماحولیات اور درختوں کی حفا ظت سے متعلق تخیٔل پر مبنی ایک تحریر ۔۔۔۔
پیارے پپو ! 
ابھی ابھی ٹھنڈی ہوا چلی تھی، میں نے تمہیں آواز دی تھی ۔ اپنے پتّوں کی ہزاروں ہتھیلیوں بجا بجا کر تمہیں پکارا مگر تم نے میری ایک نہ سنی۔ اسی لئے اپنے پتّوں پر لکھا ہوا یہ خط تمہیں بھیج رہا ہوں ۔ 
تم سوچ رہے ہوں گے بھلا ایک درخت کو کیا ضرورت پیش آ ئی کہ وہ پپو کو خط لکھے ؟ تم تو جانتے ہو دوست ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے ہیں ۔ سارے پیڑ پو دے انسانوں کے دوست ہی تو ہیں اور سچّاد وست وہی جو مصیبت کے وقت کا م آ ئے ۔ 
دوست کچھ دیر پہلے تم میری چھاؤں میں بیٹھے تھے ۔ ایک لکّڑھارا میرے بھائی یعنی آم کے پیڑ کو کاٹ رہا تھا ۔ تم کیسے پتّھر دل اسے ٹک لگائے دیکھتے رہے ۔ اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں ۔ اس ظالم کوسمجھایا نہیں کہ پیڑ کاٹے جا ئیں گے تو انسانوں کو اس کی کتنی بھا ری قیمت چکانی پڑے گی ۔ ذرا سوچو ہم انسانوں کے لئے کس قدر کا ر آ مد ہیں ۔ 
ہم جیتے جی لکڑیاں مہیّا کرتے ہیں ۔ بے رحمی سے کاٹ دئے جاتے ہیں تب بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔ ہماری لکڑیاں مکانوں کی چھت میں لگتی ہیں اور سائیبان بن کر سب کو راحت پہنچاتی ہیں ۔ذرا سوچو جس آ رام دہ کر سی پر تم بیٹھے ہو ئے یہ خط پڑھ رہے ہو وہ بھی تو لکڑی ہی کی بنی ہے ۔ یہ حکایت تو تم نے سنی ہو گی کہ صندل کے پیڑ پر کو ئی کلہاڑی چلائے تو وہ لکڑی اس کلہاڑی کو بھی خوشبو دار بنا دیتی ہے۔ خود دھوپ میں تپ کر انسانوں کو سایہ دینے والے پیڑ انسانیت کا کتنا بڑا درس دیتے ہیں ۔ ہماری شاخوں پر کھلے پھول فضا کو معطّر کر دیتے ہیں ۔ تمہارے ارد گرد بکھرے ہو ئے حسین مناظر کی یہ ساری خوبصورتی ہمارے ہی دم قدم سے ہے ۔ 
ہم سر سے پیر تک انسانیت کی خدمت میں جٹے ہو ئے ہیں ۔ ہماری جڑیں، پتّیاں، پھول، تنہ ،اور چھال سے نہ جانے کتنی دوائیں بنائی جا تی ہیں ۔ ربڑ سے بنی بے شمار چیزیں تم رات دن استعمال کرتے ہو بتاؤ یہ ربڑ آتا کہاں سے ہے ۔درختوں ہی سے نا؟ آج دنیا بھر میں فضائی آ لودگی بڑھ رہی ہے ۔ اس کی روک تھام کرنے سے انسان قاصر ہیںمگر اس زمین کی سلامتی اور اس کی فضا کے تحفّظ کے معاملے میں بھی ہم نباتات سب سے آ گے ہیں ۔ 
برسات کے پانی سے بہنے والی مٹّی کو زمین پر اگنے والی گھا س تھامے رہتی ہے ۔بارش کے پا نی کو پیڑپودے جذب نہ کریں تو سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ ہماری جڑیں مضبوط پنجوں کی طرح زمین کے کٹاؤ کا عمل روک کر مٹّی کی حفاظت کر تی ہیں۔ درختوں کی پتّیاں جھڑ جاتی ہیں تو کھاد بن کر زمین کی زرخیزی میں ضافہ کرتی ہیں ۔ ہماری لکڑیاں ایندھن کے طور پر کام آ تی ہیں ۔ اور کہیں ضروری ساز و سامان بن کر فائدہ مند ثابت ہو تی ہیں ۔ پرانے زمانے میں ہتھیار سے لے کشتیوں تک میں لکڑی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ لکڑی نہ صرف دفتروںاور گھروں کی استعمال کی چیزوں میں لگتی ہے بلکہ سجاوٹ کے کام بھی آ تی تھی ۔ 
لکڑی کے بنے جھولے اور کھلونے سے لے کر چتا میں جلنے والی،تابوت اور قبروں میں استعمال ہو نے والی لکڑی بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک درختوںنے ہر قدم پر انسان کا ساتھ نبھایا ہے ۔ 
دیکھو! وہ لکّڑ ھارا کلہاڑی اٹھائے ہو ئے ایک کے بعد دوسرا پیڑ کاٹتا چلا جا رہا ہے ۔ آج ان درختوں کی کل میری باری ہے ۔
اے دوست! کیا اس مصیبت کے وقت بھی تم کام نہ آ ؤگے ؟ جاؤ اس بے وقوف کو سمجھاؤ کہ ہو پیڑوں پر نہیں خود اپنے پیروں پر کلہاڑی چلا رہا ہے۔ درخت ا س زمیں کے پاؤں ہی نہیں ہاتھ بھی ہیں۔ فضاؤں میں پھیلے ہو ئے یہی دعاؤں کے ہاتھ خدا سے بارشیں مانگتے ہیں ۔ یہ دھرتی کاجسم بھی ہے اور روح بھی ۔ہماری پتّیوں سے یہ زمیں سانس لیتی ہے ۔ یہ پیڑ پو دے نہ ہوں گے تو زمین زندگی سے محروم ہو جائیگی۔ خدا کے لئے ہمیں زندگی سے محروم نہ کرو ۔ خدا حافظ ۔ 
تمہاری مدد کا منتظر 
پیپل کا پیڑ



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں