منگل, ستمبر 16, 2008

M.K.Gandhi and National Integration (Urdu)


مہاتما گاندھی اور قومی یکجہتی ۔
محمّد اسد اللہ 

انسانی تاریخ کے صفحات آ ج بھی ان عظیم انسانوں کے کارناموں سے جگمگا رہے ہیںجنھوں نے انسانی زندگی کی بقا اورترقّی کی خاطر اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ ایسی ہی تاریخ ساز شخصیات میں موہن داس کرم چند گاندھی کا شمار کیاجا تا ہے ۔ ان کے ہمہ جہت شخصیت اور گراں قدر کارناموں نے انھیں با بائے قوم اور مہاتما گاندھی کے نام سے مقبولیت کا تاج پہنایا۔ عام آ دمی کے ذہن میںمہاتما گاندھی کی شخصیت کا پہلا تاثر ایک بے سر و ساماں درویش کا ہے جس نے اپنے نظریۂ عدم تشدّد کی بنیاد پر جنگِ آ زادی کا صور پھونکا اور اس ملک میں قدم جما چکی برٹش سر کار کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ 

گاندھی جی کی شخصیت کے اس انقلابی پہلو سے قطع نظر ہم ان کیی خیالات و افکار کا جائزہ لیں تو ان کے ہاں ہمیں ایک جامع اور مر بوط نظامِ زندگی کے شواہد ملتے ہیں ۔ مہاتما گاندھی ایک قابل رہنما ،بہترین انسان اور مفکّر بھی تھے وہ فلسفی نہ تھے لیکن انھوں نے دنیا کے سامنے ایک ایسا طرزِ زندگی اور مسائلِ حیات سے نبر دآ زما ہو نے کے لئے ایسا موثّر طریقۂ کار تجویز کیا جس کی افادیت دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے
   اہنسا..عدم تشدّد
۔ گاندھی جی کے نظریات میں سب سے اہم اہنسا یعنی عدم تشدّد ہے جسے انھوں نے باضابطہ ایک طریقۂ حیات قرار دیا ہے ۔
تشدّدآج نہ صرف قومی پیمانے پر بلکہ عالمی سطح پر ایک بھیانک مسئلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مختلف طبقات ،ممالک ،ذاتوں اور مذاہب کے درمیاں غیر ہم آ ہنگی نے پوری دنیا میں تشدد کی لہر دوڑادی ہے اور ساری دنیا اس مسلہ کا حل تلاش کر رہی ہے ۔ گاندھی جی کی تقریروں کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انھوں نے ذات،مذہب علاقائیت ،رنگ و نسل اور لسانی سطح پر مختلف طبقات کے درمیان ہم آ ہنگی پیدا کر نے کی ایک دیانت دارانہ کو شش کی تھی ۔قومی یکجہتی کا یہی نظر یہ ان کی فکر کا بنیا دی پتّھر ہے جس پر وہ ایک خوشحال قوم کی تعمیرِ کر نا چاہتے تھے ۔ 

گاندھی جی کی قومی یکجہتی کا نظریہ اس قومی روایت پر مبنی معلوم ہو تا ہے کہ جس کے مطابق یہ پو ری کا ئنات خدا کا کنبہ ہے ( الخلق ُ عیال اللہ )یہی روایت ہندو مذہب کی کتابوں میں بھی مختلف الفاظ کے ساتھ آ ئی ہے ۔ گاندھی جی کی آ فاقی فکرنے انھیں رنگ و نسل ،ذات وبرادری اور علاقائیت کے امتیازات سے اوپر اٹھ کر سوچنے پر مجبور کیاتھا ۔ اسی انسانی دوستی کا پر تو ان کے خیالات پر پڑا ۔شاید اسی لئے اردو کے مشہور شاعر مجاز لکھنوی نے گاندھی جی کے انتقال پر ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔

  ہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیا 
انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا ۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں