Thursday, June 04, 2026

Ise Na Padhiye Please

 


            اسے نہ پڑھئے ، پلیز!
    (انشائیہ )
محمد اسد اللہ
9579591149

براہ کرم آ پ یہ مضمون نہ پڑھئے ! آ پ کے کسی کام کا نہیں ۔اس رسالے  میں آ پ کی ضیافتِ طبع کے لیے اور بھی عمدہ قسم کے پر مغزمضامین جمع کئے گیے ہیں،

 آ پ ان سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں، معلومات میں بھی اضافہ ہوگا۔۔۔۔۔
ارے ! آ پ پڑھتے چلے جارہے ہیں ۔ اسے چھوڑ دیجئے پلیز ، آ گے بڑھ جائیے ۔ اسے نہ پڑھنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگااور پڑھ کر بھی کوئی فائدہ نہیں ۔ ایسا کام کیوں کیاجائے جس سے تضیعِ اوقات کے سواکچھ حاصل نہ ہو۔ دنیا میں بے شمار ایسی کتابیں رسالے اور تحریریں ہیں جن کا مطالعہ انسان کے لئے بے حد نفع بخش ہے ۔ بعض نگارشات انسان کو اندر تک جھنجھوڑ ڈالتی ہیں اور اس کی زندگی بدل کررکھ دیتی ہیں ۔ یقین مانئیے یہ اس قسم کی تحریر ہر گز نہیں ہے، آ پ بلا وجہ اس میں اپنا سر نہ کھپائیں ۔۔۔۔،۔ آ پ مانتے کیوں نہیں ؟ایک بار کہہ دیا کہ اسے نہ پڑھیں تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔ کیا اس مضمون میں سر خاب کے پر لگے ہیں جو
 آ پ پڑھتے چلے جارہے ہیں۔


بڑے ادب کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ شوقِ مطالعہ کے ہاتھوں آ پ اتنے ہی بے بس ہیں تو دنیا میں پڑھنے کے لیے بے شمار چیزیں پڑی ہیں ۔اخباروں میں چھپی جھوٹی خبریں پڑھئیے ،وہ سچی خبریں بھی پڑھئیے ،جو ان اخباروں سے ایسے غائب ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
سوشل میڈیا پر آ ئیے ۔ واٹس ایپ میسیج دیکھئے ۔ تھوک کے بھاؤ سے مبارکباد کے پیغامات ، تحسین و آ فرین کے روح افزا جملے ، تعریفی کلمات ، عیادت کے سندیسے ، تعزیتی فقرے ،گھٹیا لطیفے ،نصیحتیں اور اقوالِ زرین ،ملفوظاتِ حکمت ،مظاہرِ حماقت وغیرہ دعوتِ مطالعہ دے رہے ہیں ،وہاں اقبال اور غالب ؔکے نام کے ساتھ پیش کئے گئے وہ گھٹیا ، بے تکے، پٹری سے اترے ہوئے بے وزن اشعار ملاحظہ فرمائیے جو ان عظیم شعرا کو ان کی حیات میں سنائے جاتے تو یقیناً ان کی تاریخِ وفات کچھ اور پیچھے سرک جاتی ۔


راستے پر آ ئیے اور رنگوں کی طرح بدلتے ہوئے ان شاہراہوں کے نام پڑھیئے، شہروں کے ناموں کے تغیرات سے عبرت حاصل کیجئے ، اشتہارات ،سائین بورڈ ،ہدایات اور دیواروں پر لکھے جملوں کی بے بسی پڑھئیے مثلا (اشتہاروں کے درمیان )یہاں اشتہار لگانا منع ہے ،( کوڑے کے ڈھیر پر )یہاںکچرا ڈالنا منع ہے ،(بدبو دار دیوار پر )یہاں پیشاب کر نا منع ہے ،اور ( ایسی ہی کسی دیوارِقہقہہ پر طنز یہ تیور کے ساتھ ) دیکھو دیکھو یہاں ایک گدھا ۔۔۔،وغیرہ وغیرہ اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں آ پ کے ذوقِ مطالعہ کی منتظر ہیں ۔بجلی پانی،وغیرہ کے بل، بنک کاپاس بک، رسوئی گیس کا ریکارڈ بک اور ان سب کو پڑھنے والوں کے ماتھے کی شکنیں وغیرہ ۔ان سب کو پڑھتے پڑھتے تھک جائیں تو لوگوں کے چہرے پڑھئے ،زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے اس کا مطالعہ کیجئے ،غرض پڑھنے پر آ ئیں تو یہاں ہزاروں چیزیں ہیں ۔خدارا اس ایک مضمون کو بخش دیجئے ۔
جنابِ من! آ پ کا مسئلہ یہ ہے کہ آ پ صرف پڑھتے ہیں اور پڑھتے ہیں،سنتے کہاں ہیں ،کتابیں اور مضامین آ پ سے باتیں کرتی ہیں،کچھ کہنا چاہتی ہیں ،آ پ سے کچھ مانگتی ہیںمگر شاید کان پور میں ہڑتال ہے یا عقل کنواں ( اکل کنواں )میں کر فیو لگا ہوا ہے ،آ پ کو صرف پڑھنے کا ہَو کا ہے ۔ آ پ کتابیںپڑھتے ہیں، ان کی بات سنتے کہاں ہیں ۔ہم ،اتنی دیر سے کہے جارہے ہیں کہ اسے نہ پڑھئیے مگر آ پ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔


اس تحریر میں مضمون جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں، جیسا کہ آ ج کل بیشتر مضامین میں ہوا کرتا ہے اور جو آ پ اس قدر انہماک کے ساتھ پڑھ رہے ہیں یہ اس قبیل کی چیزوں میں بد ترین مضمون ہے ۔ مذکورہ تحریروں پر اکثر کسی مضمون کا دھوکہ ہوتا ہے ،اس مضمون میں وہ بھی نہیں ہے ۔اُن فالتومضامین میں آ خر تک ہر سطر پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے گویا آ پ پیاز کے چھلکے اتار رہے ہیں ،کچھ پانے کی امید کسی سراب کی طرح آ پ کو آ گے بڑھنے پر مجبور کرتی رہتی ہے ۔سیاسی رہنماؤں کے وعدوں کی طرح لگتا ہے آ ج نہیں تو کل کچھ ضرور حاصل ہوگا۔مگر آخر میں پیاز یعنی مضمون کے ختم ہونے پر کچھ بھی ہاتھ نہیں آ تا سوائے ایک ناگوار بوکے جو پیاز چھیلنے کے بعد انگلیوں سے چمٹ جاتی ہے ۔ تاہم لگتا ہے کہ جس چیز کی جستجو تھی وہ تو نہ ملی ،بلکہ کچھ بھی نہ ملا مگر اس بہانے سے آ پ نے دنیا دیکھ لی۔ اپنی ہٹ دھرمی کے سبب،بار بار روکنے کے باوجود جس نگارش کوآ پ مسلسل پڑھے چلے جارہے ہیں ،اس سے آ پ کو وہ احساس بھی حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اس میں کچھ ہے ہی نہیں ۔ سوائے روک ٹوک کے جو ہمارے اکثر مضامین میں ہوا کرتی ہے،مگر وہاں کچھ تو ہوتا ہے جس سے روکا جاتا ہے تاکہ آ پ اپنے قدم روک لیں اور دنیا کا یا کم از کم آ پ ہی کا بھلا ہو ،یہاںآ پ کو کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئے گی جسے اپنانے سے آ پ کو خبر دار کیاجارہا ہے ،سوائے ایک مضمون کے جس کے مطالعے سے آ پ کو منع کیا جارہا ہے مگر آ پ ایسے ڈھیٹ ہیں کہ بار بار دی جانے والی ہدایت کو نظر انداز کر کے اس طرح آ گے چلے جارہے ہیں جیسے ، ۔۔۔، خیر اب ہم کیا کہیں!
آ پ پڑھتے کیوں ہیں ؟ اس سوال پر کبھی آ پ نے غور کیا ہے ؟
)
بعض لوگ اتنا پڑھتے ہیں کہ ان کے پاس غور کر نے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔یعنی کتابیں انھیں یہ موقع ہی نہیں دیتیں،بس خود سے چمٹائے رکھتی ہیں اور خود کو پڑھوائے چلی جاتی ہیں(


کچھ لوگ یہ کارِ خیر اس لیے انجام دیتے ہیں تاکہ با خبر رہیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے ،جب سے اس کے بنانے والے نے ’ہوجا ‘کہہ کر اس پرپھونک ماری ہے یہاں ہر لمحہ کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہتا ہے ۔ کچھ لوگ بامقصد زندگی گزارنے کے عادی ہیں وہ بنئے کا پوت بن گئے ہیں جو بغیر کچھ دیکھے کہیں گرتا بھی نہیں اس قسم کے صاحبان صرف وہ کتابیں پڑھتے ہیں جن کی افادیت اظہر من الشمس ہے مثلا بینک پاس بک۔ اب دنیا میں ایسے لوگوں کی آ بادی میں بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے ۔ علم و اد ب ،فلسفہ ،نفسیات وغیرہ کی کتابیں ان کے قیمتی معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ بعض لوگ صرف امتحان کی ان کتابوں کو دیکھنا پسند کرتے ہیں جن کی مدد سے انھیں ڈگر ی حاصل کر نی ہے اس کے بعد وہ ان کتابوں کو کباڑی کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں ۔
عام موضوعات کی کتابیں بھی عام آ دمی کی طرح بے وقعت ہو کر رہ گئی ہیں ۔ انھیں کوئی پوچھتا نہیں ۔ علم تو علم ہے کہیں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔میرے دل میں آ پ کی بڑی عزت ہے کہ آ پ بلا امتیاز کسی بھی قسم کی تحریر پڑھ جاتے ہیں ۔اب کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ ۔
تاہم ان دنوں شائع ہونے والی سینکڑوں کتابوں کی طرح میں آ پ کو دھوکہ نہیں دینا چاہتا۔ ان کتابوں کے مصنفیں وہ بازیگر ہیں جو قارئین کو کھلا دھوکہ دیتے ہیں ۔وہ نہ اپ کی اخلاقی یا روحانی تربیت کرتے ہیں ،نہ حفاظت، نہ ہی کسی صنف میں طبع
آ زمائی کر کے اس کی آ بیاری کرتے ہیں ،نہ وہ آ پ کی خدمت میں ایسی تخلیقات پیش کرتے ہیں جن سے طبیعت میں بالیدگی اور فرحت پیدا ہو،آپ کی شخصیت کسی نئے افق سے آ شنا ہو۔ وہ صرف اس لیے لکھتے ہیں کہ انھیں ادبی دنیا میں ادیب اور قلم کار بن کر ابھر نا اور شہرت پانا ہے۔ میراایسا کوئی ارادہ نہیں ہے نہ ہی میں ادب میں کوئی نئی ادبی صنف ایجاد کر کے اس ایجادِ بندہ کے زور پر مشہور ہونا چاہتا ہوں ۔میں تو بس یونہی آ پ کا ظرف،جذبہ فرمانبرداری اور مطالعہ پر عمل درآ مد کی صلاحیت آ زمانے کے لیے اور اپنے صبر کا امتحان لینے کے لیے کاغذ قلم لے کر بیٹھ گیا ہوں ۔
ہاں، تو بتائیے آ پ مطالعہ کیوں کرتے ہیں ؟


علم حاصل کرنے کے لیے؟ زندگی ،دنیا ، کائنات ، لوگو ں اور چیزوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کے لیے؟ یعنی اپنی معلومات میںاضافہ کر نے کے لیے ؟ ( تاکہ لوگوں پر رعب ڈالا جاسکے اورانھیں نیچا دکھایا جاسکے ،بعض لو گ تو صرف اتنا ہی اور ویسا ہی پڑھتے ہیں جس سے یہ مقصد حاصل ہو جائے) آ پ کے مطالعے کا مقصد خود کو بہتر بنانا ،سنوارنا،اچھا انسان بننا ،دوسروں کو پڑھا کر ان مقاصد کا حاصل کرنا ہے یا بس ٹائم پاس کرنا ؟ آ جکل وقت گزاری کااعلیٰ ترین آ لہ سوشل میڈیا ہے اسی لئے لوگ فیس بک کو عام کتابوں پر ترجیح دیتے ہیں ۔ کتابوں میںعموماً کتابیں ہی ہوا کرتی ہیں۔( اور کبھی کبھی وہ بھی نہیں ہوتیں ) جبکہ فیس بک پری چہرہ اور بے پر کے چہروں سے بھرا پڑا ہے ۔ وہاں یہ مسئلہ بھی نہیں کہ،’ تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں ۔‘اس کے علاوہ بھی وہاں او ر بہت سے مواقع موجود ہیں ۔اس کے بر عکس کتابیں چار دیواری میںبند محض ایک دقیانوسی قسم کی چیز بن کر رہ گئی ہیں ۔ اب کتابوں کے دیوانے بہت کم رہ گئے ہیں اور جو ہیں وہ دیوانے ہی سمجھے جاتے ہیں ۔بعض لوگ کتابیں اور رسائل صرف اس لئے خرید تے ہیں تاکہ انھیں ڈرائینگ روم میں سجاکر اپنے شوقِ مطالعہ اور دانشوری کااعلان کیاجائے اور یہاں ایسے فنکار بھی موجود ہیں جو خرید نے اور پڑھنے کی زحمت اٹھائے بغیر بھی یہ ڈھنڈورا پیٹ لیتے ہیں ۔

دیکھئے ،نا ۔۔ نا ۔۔ کہنے کے باوجود آ پ یہاں تک چلے آ ئے ۔کیوں پڑھ رہے ہیں آ پ ! کیا آ پ بھی دنیا کے ان بے شمار لوگوں میں سے ہیں جو بے سوچے سمجھے کام کرتے چلے جاتے ہیں ۔کتابیں چھوڑئیے ، وہ بندگانِ خدا تو زندگی بھی ایسے گزارتے ہیں کہ بس جینا ہے ، جی رہے ہیں ۔انھیں یہ بھی پتہ نہیں ہوتا ہے کہ کیا پڑھنا ہے اور کیوں ۔سچ ہی ہے ،کتاب کوئی نماز تو ہے نہیں جس کے پڑھنے کے لیے باقاعدہ نیت کرنی پڑے ۔مثلا: نیت کرتا ہو ں میں، مطالعہ کی، اس کتاب کے ،خاص واسطے انجینیرنگ کے امتحان کے،منھ میرا نوکری شریفہ کی طرف ۔ اس قسم کی کتابیں ان الفاظ کی ادائیگی کے بغیر ہی پڑھی جاتی ہیں ۔ڈگری ملنے کے بعد پھر کوئی ان کی طرف ایک نگاہِ غلط انداز ڈالنا بھی پسند نہیں کرتا۔ بلا وجہ کتاب یا رسائل خرید نا اور پھر انھیں سینت سنبھال کر رکھنا کوئی عقلمندی نہیں ہے ۔ ڈگری مل جائے تو لوگ (ایک ہی سانس میں ) سب سے پہلے وہ کتابیں اور ٹھنڈی سانس چھوڑتے ہیں ۔ انھیں ٹھکانے لگانے کے بعد وہ نوکری حاصل کر نے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں ۔

دنیا پڑھے لکھے لوگوں سے بھری پڑی ہے جن میں سے بیشتر اس طرح زندگی گزار رہے ہیں جیسے ان کے لیے کالا اکشر بھینس برابر ہو۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود انھیں انسانیت ، ادب، تہذیب اور شائستگی سے کوئی لگاؤ نہیں بلکہ خد ا واسطے کا بیرہے ۔واشنگ مشین سے نکلے ہوئے کپڑے یقینا صاف ستھرے ہوسکتے ہیں،ہمارے تعلیمی نظام کے اگلے ہوئے افراد کا انسان ہونا ضروری نہیں ہے ۔ غالبؔ نے اسی موقع کے لیے کہا تھا ۔آ دمی کو بھی میسر نہیں انسا ں ہونا ۔آ خر اتنا پڑھ لکھ کر کیا ہوا۔ اسی لیے یہ عرض ہے کہ آ پ جو اس مضمون کو صحیفۂ آ سمانی سمجھ کر پڑھنے پر مصر ہیں ،اگر اس سے دست بردار ہوجائیں تو قیامت نہیں آ جائے گی ۔ قیامت سے یاد آ یا کہ آ سمانی کتابوں سے حروف کا اڑجانا بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ۔ان دنوں یہ حال ہے زمینی کتابوں میں الفاظ کی بھر مار ہے مگرمعانی مائلِ پر واز ہیں ،لکھنے والے بے پر اڑانے لگے ہیں ۔ یوں بھی ہر تحریر ادبِ عالیہ نہیں ہوتی اور جو آپ کے پیشِ نظر ہے وہ تو قطعی نہیں ہے ۔ اس لئے براہِ کرم اس سے صرفِ نظر کریں ہمارے علم و ادب کا بڑا حصہ اسی لائق ہے اور یہ مضمون بھی اس میں شامل ہے ۔



یہ مضمون اگر آ پ پہلی ہی تنبیہ پر چھوڑ دیتے تو میری خواہش ہوتی کہ آ پ کے گلے میں فر مانبر داری کا ایک خوبصورت سا تمغا ڈال دوں مگر دنیا میں تمغا ، انعام ،اعزاز ، معاوضہ وغیرہ یہ چیزیں ہی سب کچھ نہیں ہیں، اسی لئے مخلصین ان کی تمنا کے بغیر بھی بہت سے ہفت خواںطے کرتے ہیں۔ یہی مہم بذاتِ خود اس مہم جوئی کا حاصل ہوتی ہے ۔ کبھی کشور کشائی ہمیںآ مادہِسفر کرتی ہے اور کبھی کوئی سر کشی در در بھٹکاتی ہے ۔کچھ نہ ملنے میں بھی بہت کچھ مل جاتا ہے جو اس سفرکا حاصل ہوا کرتا ہے،کچھ نہیں تو عبرت یا تجربہ ہی سہی ۔ افسوس! اس شوق مطالعہ سے آ پ کو وہ بھی حاصل نہ ہوا ۔یقین آ گیا؟میں غلط نہ تھا۔
آ خر منع کر نے کے باوجود آ پ نے کمالِ ڈھٹائی کے ساتھ یہ پورا مضمون پڑ ھ ڈالا ۔خیر کیا کریں ،یہ پوری دنیا ہی چھوٹے بچوں کا ایک ایسا گھر ہے جہاں لاکھ روکنے ٹوکنے کے باوجود بچے وہ سب کر گزرتے ہیں جو ان کے جی میں آ تی ہے کہ من مانی کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہے ۔کچھ ملے نہ ملے ،دل کو چین تو مل ہی جاتا ہے ۔
.


Saturday, May 30, 2026

Mujhe Kitabon Se Bachao ,,Inshaiya


 مجھے کتابوں سے بچاؤ )انشائیہ )
محمدا سدا للہ
Zarnigar2006@gmail.com


دنیا میں بے شمارآ فتیں ، بلائیں اور مصیبتیں پائی جاتی ہیں جن میں سے کچھ زمینی ہیں کچھ آ سمانی ۔ان سے بچاؤ کی خاطر ہم رات دن دعائیں مانگتے ہیں ۔بلاؤں کی اس قطار میں طوفان ،زلزلے ،اور فسادات ہیں،اس میں نصف بہتر بھی کھڑی ہیں ۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آ خر الذکر، اول الذکر تمام مصیبتوںکا مجموعہ ہے ۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بیگم کو ارضی و سماوی دونوں قسم کی بلاؤں میں شمارکیا جاتا ہے کیونکہ مشہور ہے :
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آ سمان کیوں ہو
مصائب کی اس فہرست میں یقینا کہیں بھی کتابوں کا ذکرنہیں ہے ۔پھر ہم کیوں کتابوں سے پناہ مانگ رہے ہیں ؟
کتابوں کی اشاعت سے متعلق موجودہ صورتِ حال سے اگر آ پ واقف ہیں تو یہ جانتے ہوں گے کہ آ سمانی کتابوں کے منکریں کے علاوہ زمینی کتابوں سے بیزار لوگوں کا بھی ایک بڑا طبقہ روئے زمیں پر موجود ہے ۔ یقیناکتابیں علم کا خزانہ ہیں اور نعمت کہلاتی ہیں ،تاہم وقت اور انسانوں کو بدلتے اور رحمتوں کو زحمتوں میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی ۔یہی کچھ فی زمانہ کتابوں کے ساتھ ہو رہا ہے ۔بہت زیادہ وقت نہیں گزرا اردو کے کسی نامور محقق کا ایک بیان ہم نے کسی رسالے میں پڑھا (پھر چند دیگر ادیبوں نے بھی اس بیان کو دہرادیا )بہر حال اس محقق نے اپنے مداحوں اور دوستوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ تحفتاً انھیں اپنی کتابیں نہ بھجوائیں کیونکہ اب ان کے گھر میں کتابیں رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہے ۔ یہ پڑھ کر اس صاحبِ علم کے بارے میں ہمارے نیک خیالات اور خوش فہمیوں کے سارے قلعے مسمار ہوگئے بلکہ غصّہ بھی آ یا کہ جس زبان نے انھیں یہ مرتبہ عطا کیا اس کی کتابوں کی ایسی تحقیر!

کل جس صورتِ حالو ہم قابلِ نفریں سمجھتے تھے وقت نے ہمیں ان ہی حالات میں لا کھڑا کر دیا ہے۔مذکورہ محقق کے نظریاتِ بد میں آ ج ہم خود کو گھرا ہوا پاتے ہیں ۔ہم اب کتابوں سے اسی طرح بیزار ہیں جیسے کوئی مفلس کثرتِ اولاد سے پریشان ہوجاتا ہے اور ہم اس پریشانی کی واحد مثال نہیں ہیں ،بے شمار مل جائیں گے ، خاص طور پر ادیب اور شاعر ۔

ادیبوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کتابوں کے درمیان جنم لیتے ہیں اور پھر کتابیں ان سے تولّد ہونے لگتی ہیں ۔ تخلیقا ت کو اولادِ معنوی کہا جاتا ہے ۔یہ اور با ت ہے کہ موجودہ دور کی اکثر تخلیقات میں معنویت مفقود ہے اور اولادیت باقی رہ گئی ہے ۔ کبھی یہی معنویت کتابوں کو گھر میں سینت سنبھال کررکھنے کا جواز تھی اب کتابوں کا پھیلتا ہوا مادی وجودانھیں گھر سے چلتا کرنے کا سبب ہے ۔ اب اکثر لوگ اپنے گھروں میں کتابیں سجا کر مہذب اور تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں ، ظاہر ہے ڈگریاں تو کتابوں ہی کی مدد سے حاصل کی جاتی ہیں ۔ ہمارے ایک شناسا خود کو ادیب ثابت کر نے کے لیے ان ہی کتابوں کو محبوب کی زلفوں کی طرح گھر بھر میں بکھرا کر رکھتے ہیں ۔ کوئی ادیب ،ناقد یا محقق اگر واقعی ادبی کام انجام دے رہا ہے تو اس کی الماریوں میں کتابیں دھول کھاتی پڑی نہیں رہ سکتیں اور نہ انھیں سجا نے کا اسے ہوش ر ہ پاتا ہے ۔ کتابوں کی تزئین کاری ہوش والوں ہی کا کمال ہے۔
بھلا ہو اردو اکادمیوں کا اور سر کاری اداروں کا جن کی فیاضیوں کے طفیل ہماری کتابیں دھڑا دھڑ چھپ کر آ نے لگیں تو ایسا لگا ہمارا غریب خانہ، ہمارا گھر نہیں رہا ’کتاب گھر ‘

بد قسمتی سے ہم بھی ادیب ہیں اور چند دوستوں کے اصرار پر ان کی کتابوں پر تبصرے چھپوانے کی خطا کر بیٹھے چنانچہ اب کئی ادیبوں کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی ہر کتاب پر ایک مضمون یا تبصرہ لکھیں۔اسی دوران ایک مقامی رسالے کے ایڈیٹر نے ہمیں پکڑا کہ کوئی مبصر نہیں مل رہا ہے یہ کہہ کر یہ ذمہ داری اور کتابوں کا ایک بنڈل تھمادیا۔ ستم ظریفی یہ کہ جن ادیبوں کی وہ کتابیں تھیں ان کو خبر ملتے ہیں انھوں نے بھی اپنی نہ صرف تازہ تصنیف بلکہ پچھلی تمام کتابیں بھجوادیں کہ ان کی روشنی میں کچھ لکھو ۔انھیں کیسے سمجھاتے کہ ہمارا دولت کدہ پہلے ہی تجلی زار بنا ہوا ہے ۔ ہمارے گھر میں ہماری اپنی ڈیڑھ درجن کتابوں کے بنڈلوں کے علاوہ ہمارے شوقِ مطالعہ کا حاصل کتابیں اور قلم کاروں اور دوستوں کی سوغاتیں،غرض سارا گھر کتابوں سے بھر گیا۔ گھر والے اس طوفانِ ادب سے گھبراگئے ۔

ہم نے جب مکان تعمیر کیا تھا تواس نیک کام کے دوران یہ بھلا بیٹھے کہ ہمارے اندر کتابوں کے مطالعے کا شوقین شخص اور ایک ادیب بھی تشریف فر ما ہے ۔ عام لوگوں کی طرح ہم نے گھرمیں کتابوں کا کوئی کمرہ نہیں رکھا ۔ وقت کے ساتھ جب گھر کے مکین پھولنے پھلنے لگے تو ہمارامکان اس قدر سکڑتا ہوا محسوس ہونے لگا کہ اس کا ’گھر پن‘خطرے میں گھر گیا۔ تب ہم نے کچھ کر نے کی ٹھانی ۔کسی نہ کسی چیز کو تو دیس نکالا دینا ہی تھا ؛نظرِانتخاب سب سے پہلے کتابوں پر پڑی، بلکہ لگتا ہے وہ پہلے ہی سے نظر میں تھیں ،بس کھٹکٹنے کا عمل ذرا دیر میں شروع ہوا۔ اب جو ان کتابوں پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ کتابیں پورے گھر میں اس طرح پھیلی ہوئی ہیں جیسے کسی ملک میں بے کاری اور بے روز گاری پھیل جاتی ہے ۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ تھاکہ ان کتابوں کا اپنا کوئی ملک یعنی کمرہ نہیں تھاجہاں کی شہریت انھیں حاصل ہوتی ۔ وہ مختلف کمروں مثلاً ڈرائینگ روم ،بیڈ روم ،اسٹور روم ،حتیٰ کہ کچن ( کوکنگ سے متعلق کتابیں )اورگاہے بگاہے ڈائینگ روم کے ٹیبل پر بھی پڑی ہوئی پائی جاتی تھیں ۔ جہاں پڑھا وہیں چھوڑ دیاگیا ۔

بیوی کے لیے تو خیر ان کی حیثیت سوتن کی تھی ،مگر گھر کے دیگر افراد کے ٹھکانوں پر بھی کتابوں نے غاصبانہ قبضہ کر رکھاتھا۔ ہرچند ہم ہر دوچار ماہ بعد پڑھی ہوئی یا فضول کتابوں کو چور اچکوں اور اٹھائی گیروں کی طرح پکڑ پکڑ کر شہر کی لائیبریری کے حوالے کر آ تے تھے ۔ایک سست قسم کے لائبریرین نے تو ایک مرتبہ ہمیں سخت سست بھی کہہ ڈالا ۔اس کا یہ جملہ اب تک یاد ہے کہ ’جناب ! لوگ لائبریری میں کتابیں لینے آ تے ہیں اور آ پ کتابیں دینے ۔ ‘بات در اصل یہ تھی کہ ہمارے اس لینے کے دینے پڑجانے پر اس کا کام بڑھ جاتا تھا،رجسٹر میں کتابوں کی انٹری جو کرنی پڑتی تھی ۔

کتابوںکو لائبریریوں اور ضرورت مند اور غیر ضرورتمند دوستوں کے حوالے کر کے ہم اکثر خود کو احساسِ جرم کا شکار پاتے ہیں ۔ یہ احساس ایسا ہی ہے جو ان باضمیر یا سست ضمیر لوگوں کو ہوا کرتا ہے جو اپنے بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آ تے ہیں ۔کبھی کتابیں ہماری سوجھ بوجھ اور دانشمندی کی مائی باپ تھیں اب ان کتابوں کا کوئی مائی باپ نہیں ہے ۔
ہم کتابوں کے مجرم ہیں اس لیے کہ ہم انھیں چھپواتے ہیں؛ خریدتے ہیں ،بیچتے ہیں ، ان کے پی ڈی ایف جمع کر کے یا انھیں الماریوں میں سجا کر اور لوگوں کو ان کی تعداد بتا کر ان پر رعب جماتے ہیں ، کتابوں سے شہرت پاتے ہیں ، ان کی مدد سے ملازمت اور عہدے حاصل کرتے ہیں ،انھیں اونچی ایڑی کی سنڈل بنا کر پہنتے ہیں اور خود کو سماج میں اونچا اٹھاتے ہیں ، ان کی مدد سے لوگوں کو نیچا دکھاتے ہیں، مگر انھیں پڑھتے نہیں یا کم پڑھتے ہیں اور زیادہ بتاتے ہیں ۔ کتابوں کا ہم پر یہ حق ہے کہ ان کا مطالعہ کیا جائے ۔ ہم یہ حق ادا نہ کر کے ان کے مجرم ہیں مگر یہاں معاملہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا ہے ۔میں جب بھی کتابوں کو الماریوں میں دیکھتا ہوں
بیوی کے لیے تو خیر ان کی حیثیت سوتن کی تھی ،مگر گھر کے دیگر افراد کے ٹھکانوں پر بھی کتابوں نے غاصبانہ قبضہ کر رکھاتھا۔ ہرچند ہم ہر دوچار ماہ بعد پڑھی ہوئی یا فضول کتابوں کو چور اچکوں اور اٹھائی گیروں کی طرح پکڑ پکڑ کر شہر کی لائیبریری کے حوالے کر آ تے تھے ۔ایک سست قسم کے لائبریرین نے تو ایک مرتبہ ہمیں سخت سست بھی کہہ ڈالا ۔اس کا یہ جملہ اب تک یاد ہے کہ ’جناب ! لوگ لائبریری میں کتابیں لینے آ تے ہیں اور آ پ کتابیں دینے ۔ ‘بات در اصل یہ تھی کہ ہمارے اس لینے کے دینے پڑجانے پر اس کا کام بڑھ جاتا تھا،رجسٹر میں کتابوں کی انٹری جو کرنی پڑتی تھی ۔
کتابوںکو لائبریریوں اور ضرورت مند اور غیر ضرورتمند دوستوں کے حوالے کر کے ہم اکثر خود کو احساسِ جرم کا شکار پاتے ہیں ۔ یہ احساس ایسا ہی ہے جو ان باضمیر یا سست ضمیر لوگوں کو ہوا کرتا ہے جو اپنے بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آ تے ہیں ۔کبھی کتابیں ہماری سوجھ بوجھ اور دانشمندی کی مائی باپ تھیں اب ان کتابوں کا کوئی مائی باپ نہیں ہے ۔
ہم کتابوں کے مجرم ہیں اس لیے کہ ہم انھیں چھپواتے ہیں؛ خریدتے ہیں ،بیچتے ہیں ، ان کے پی ڈی ایف جمع کر کے یا انھیں الماریوں میں سجا کر اور لوگوں کو ان کی تعداد بتا کر ان پر رعب جماتے ہیں ، کتابوں سے شہرت پاتے ہیں ، ان کی مدد سے ملازمت اور عہدے حاصل کرتے ہیں ،انھیں اونچی ایڑی کی سنڈل بنا کر پہنتے ہیں اور خود کو سماج میں اونچا اٹھاتے ہیں ، ان کی مدد سے لوگوں کو نیچا دکھاتے ہیں، مگر انھیں پڑھتے نہیں یا کم پڑھتے ہیں اور زیادہ بتاتے ہیں ۔ کتابوں کا ہم پر یہ حق ہے کہ ان کا مطالعہ کیا جائے ۔ ہم یہ حق ادا نہ کر کے ان کے مجرم ہیں مگر یہاں معاملہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا ہے ۔میں جب بھی کتابوں کو الماریوں میں دیکھتا ہوں
بیوی کے لیے تو خیر ان کی حیثیت سوتن کی تھی ،مگر گھر کے دیگر افراد کے ٹھکانوں پر بھی کتابوں نے غاصبانہ قبضہ کر رکھاتھا۔ ہرچند ہم ہر دوچار ماہ بعد پڑھی ہوئی یا فضول کتابوں کو چور اچکوں اور اٹھائی گیروں کی طرح پکڑ پکڑ کر شہر کی لائیبریری کے حوالے کر آ تے تھے ۔ایک سست قسم کے لائبریرین نے تو ایک مرتبہ ہمیں سخت سست بھی کہہ ڈالا ۔اس کا یہ جملہ اب تک یاد ہے کہ ’جناب ! لوگ لائبریری میں کتابیں لینے آ تے ہیں اور آ پ کتابیں دینے ۔ ‘بات در اصل یہ تھی کہ ہمارے اس لینے کے دینے پڑجانے پر اس کا کام بڑھ جاتا تھا،رجسٹر میں کتابوں کی انٹری جو کرنی پڑتی تھی ۔
کتابوںکو لائبریریوں اور ضرورت مند اور غیر ضرورتمند دوستوں کے حوالے کر کے ہم اکثر خود کو احساسِ جرم کا شکار پاتے ہیں ۔ یہ احساس ایسا ہی ہے جو ان باضمیر یا سست ضمیر لوگوں کو ہوا کرتا ہے جو اپنے بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آ تے ہیں ۔کبھی کتابیں ہماری سوجھ بوجھ اور دانشمندی کی مائی باپ تھیں اب ان کتابوں کا کوئی مائی باپ نہیں ہے ۔
ہم کتابوں کے مجرم ہیں اس لیے کہ ہم انھیں چھپواتے ہیں؛ خریدتے ہیں ،بیچتے ہیں ، ان کے پی ڈی ایف جمع کر کے یا انھیں الماریوں میں سجا کر اور لوگوں کو ان کی تعداد بتا کر ان پر رعب جماتے ہیں ، کتابوں سے شہرت پاتے ہیں ، ان کی مدد سے ملازمت اور عہدے حاصل کرتے ہیں ،انھیں اونچی ایڑی کی سنڈل بنا کر پہنتے ہیں اور خود کو سماج میں اونچا اٹھاتے ہیں ، ان کی مدد سے لوگوں کو نیچا دکھاتے ہیں، مگر انھیں پڑھتے نہیں یا کم پڑھتے ہیں اور زیادہ بتاتے ہیں ۔ کتابوں کا ہم پر یہ حق ہے کہ ان کا مطالعہ کیا جائے ۔ ہم یہ حق ادا نہ کر کے ان کے مجرم ہیں مگر یہاں معاملہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا ہے ۔میں جب بھی کتابوں کو الماریوں میں دیکھتا ہوں,ہم پر کتابوں کا یہ حق ہے کہ انھیں پڑھا جائے ۔مصیبت یہ ہے کہ ہم یہ حق ادا نہیں کرتے بلکہ بعض لکھنے والے بھی اس کارِ فصول سے جان چراتے ہیں ۔ اس سلسلے میں دوران گفتگو ایک نوخیز ، ابھرتے ہوئے ،بلکہ اچھلتے ہوئے ادیب نے اپنی گردن ٹیڑھی کر کے یہ بتا یا کہ وہ پڑھتے نہیں صرف لکھتے ہیں ۔ ہم نے وجہ جاننے کی کو شش کی تو فرمانے لگے ،دوسروں کی کتابیں پڑھنے سے ہمار ا رائٹنگ اسٹائیل خراب ہوتا ہے ۔ ہم نے کہا: بڑے ادیبوں کی تصانیف کے مطالعے میں تو یہ خطرہ نہیں ہے ۔کہنے لگے ایک دو مرتبہ کوشش کی تھی مگر میرے اندر احساسِ کمتری پیدا ہونا شروع ہوگیا ۔بھلا ایک رائٹر میں اعتماد کی کمی پیدا ہوجائے تو وہ کیسے لکھے گا۔

یہ تو ایک ادیب کی رائے تھی ،کسی حد تک صحیح بھی تھی کہ گھٹیا کتابیں یقینا ہمارے ذوق کو متاثر کرتی ہیں ۔عام طور پرہم کتابیں پڑھتے ہیں نہ اوروں کو پڑھنے دیتے ہیں کہ اچھی کتابیں ہمیں جینے کی جو راہ بتاتی ہیں،ہم اس پر چلنا نہیں چاہتے کیونکہ ہم نے اپنے الگ راستے بنا رکھے ہیں ،پھر ان پر کون چلے گا۔ میں جب کبھی الماریوں کے شیشوں سے جھانکتی ہوئی عمدہ اور عظیم کتابوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے وہ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہمیں اس قید خانے سے باہر نکالو ،ہمیں بھی اپنی زندگی کے سفر میں شریک کرلو اور کبھی میرا جی چاہتا ہے کہ لوگوں کو ان کتابوں کی جگہ قید کر دوں اوران کتابوں کو وہاں سے آ زاد کر کے سماج،سیاست ،ادب ،مذہب اور تعلیم و تدریس وغیرہ کے سب میدان ان اچھی اچھی کتابوں کے حوالے کر دوں کہ ،لو ، زندگی کے سارے شعبے اب تم سنبھالو! ہم نے تو ہر جگہ کھیل بگاڑنے کے سوا کچھ کیا ہی نہیں ۔
عام آ دمی کا کتابوں سے کبھی نہ کبھی ایک تعلق ضرورہوا کرتا ہے خواہ درسی کتابوں کی صورت میں ہو یا بینک کے پاس بک کی شکل میں ۔ ہم ٹھہرے ادیب ۔کتابیں ہمارا اوڑھنا بچھونا ہیں ۔(ہم انھیں بچھاتے ہیں اور لوگ اوڑھتے ہیں ؂،اوڑھی ہوئی چیزوں کو اتار پھینکنا کس قدر آ سان ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ) در اصل مکان کی تعمیر کے وقت یہ قطعی خیال نہ آ یا کہ زندگی کے اس سفر میں کتابیں بھی ہماری ہم سفر ہیں اور ضروریاتِ زندگی کا حصہ ہیں ۔ہمارے گھروں میں مرغیوں، کبوتروں ، بکریوں ،کتّوں اور دیگر جانوروں کی رہائش کا انتظام کیا جاتا ہے ۔کتابوں کے لیے ایک کمرہ بنانے کا خیال تک نہیں آ تا ،شاید اس لیے کہ کتابیں بے جان چیزیں ہیں ۔ وہ تو چھپکلیوں ، مکڑیوں ،مچھروں، کاکروچ اور چیونٹیوں کی طرح گھر کے کسی کونے میں رہ سکتی ہیں ۔
گذشتہ ماہ ایک صاحب نے جن سے ہماری جان نہ پہچان، کہیں سے ہمارا پتہ حاصل کر لیا اور کتابوں کا ایک بنڈل ہمارے نام داغ دیا ۔ پہلے یہ مصیبت ایک فون کی شکل میں نازل ہوئی ۔کسی کوریئر سینٹر سے کال کر کے بتایا گیا کہ آ پ علاقے میں ہماری خدمات معطل ہیں اس لیے اپنا پارسل آ پ کو خود ہی ہمارے آ فس سے لے جانا پڑے گا۔اس ڈر سے کہ کوئی اہم چیز نہ ہو ہم ہفت خواں طے کر کے اس آ فس پہنچے تو دیکھا اس بنڈل میں کسی نے اپنے سات شعری مجموعے بھجوادئے تھے ۔ کتابوں کی رسید کی اطلاع نہ دینا بد اخلاقی ہے یہ سوچ کر ہم نے انھیں فون کیا تو ادھر سے حکم صادر ہوا کہ جناب اب ان کتابوں پر تبصرے بھی لکھ دیجئے ۔ ہم نے تنگ آ کر وہ کتابیں کسی نیکی کی طرح ایک مقامی لائیبریری کے دریا میں ڈال دیں اور اب ہم اسی نامور محقق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہ اعلان کر تے ہیں کہ خدا کے لیے ہمیں کتابیں نہ بھجوائیں کیونکہ اب کتابوں کے لیے اب صرف ہمارے دل میں جگہ بچی ہے ،گھرمیں نہیں ہے اورجو کتابیں ہمیں عزیز ہیں ان کے پی ڈی ایف ہم نے موبائیل اور کمپیوٹر کے دل میں ناکام حسرتوں کی طرح محفوظ کر رکھے ہیں ۔


         شروع شروع میں ہمیں یہ شکایت رہی کہ کتابیں تو چھپ گئیں مگر ادبی دنیا نے انھیں نظر بھر کر دیکھا تک نہیں مگر جلد ہی نظر انداز کئے جانے کا یہ گلہ جاتا رہا کہ اب کتابیں گھر والوں کی نظر میں آ نے لگی تھیں بلکہ کھٹکنے لگی تھیں ۔ مذکورہ تصانیف دوائے دل تو تھی نہیں کہ کاروبار آ گے بڑھتا ،شومیِ قسمت سے سر مہ مفت نظر ثابت ہوئیں ۔ہم نے کسی سے ان کے فروخت نہ ہونے کا ذکر کیا تو کہنے لگے: جناب ان کا ولیمہ کر وائیے ، دھوم دھام سے رسمِ اجراء کا جشن منا ئیے ۔ ایک ہی کتاب کا کئی شہروں میں،’ مکرر ارشاد ہے‘ کہہ کر اجرا دہرائیے ۔ شہر کے ادب نواز موٹے مرغوں کو پکڑئیے ۔کتاب بیچنے کے کئی شریفانہ طریقے ہیں ۔ صرف اچھا ادیب ہونا کافی نہیں ہے ،اسے اچھا بز نس مین ہونا چاہئیے ورنہ ایسا آ دمی وقت گزرنے پر ادیب بھی نہیں رہ پاتا ،آ ثارِ قدیمہ بن جاتا ہے ۔ جنابِ عالی آ پ تو کتاب چھپواکر اپنے منھ میں دہی جما کر بیٹھ گئے ۔ادب کے کاروبار میں ایسے رنگ نہیں چڑھتا’ لو دھی لودھی ‘ کہہ کر پھیری والے کی طرح اسے بیچنا پڑتا ہے ۔ اگر آ پ بذاتِ خود اپنی کتاب کی شان میں ایک جملہ بھی کہیں گے تو ادب کے وہ چرب زبان ستون جو دوسروں سے اپنی تصانیف پر تھوک کے بھاؤ سے مضامین لکھواکر چھپواتے ہیں ،آ پ کے سر پر خود ستائی کا الزام لگا کرستانے سے باز نہ آ ئیں گے ۔ ا ن کی اس حرکت میں یہ پیغام چھپا ہے کہ آ پ بھی دوسروں سے یا دوستوں کے نام سے اپنی اور کتاب کی شان میں قصیدے لکھوا کر دنیا کو بتائیے کہ اب اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرہ ۔

 ( خواہ کسی کی ذاتی ملکیت ہو یا عوامی لائبریری کی )مجھے محسوس ہوتا ہے ؛ الماری میں کتابیں نہیں جیل کے اندر قطار میں بیٹھے ہوئے مجرم ہیں ۔

محمد اسد اللہ ، ۳۰ گلستان کالونی ، ناگپور ،( مہاراشٹر) ۴۴۰۰۱۳