جمعہ, اگست 01, 2008

Zindagi (Nazm)



زندگی ( نظم)

مدّو جزر کے درمیاں
ابھر تے ڈوبتے
اک جزیرے میں یہ سوچتے سوچتے
عمریں گزر گئیں
کیا خوف سے آنکھ موندے ہو ئے
ہواؤں سے رحم و کرم پر دھڑکتے
کسی نرم پتّے کی مانند
سانس لینے ہی کا نام زندگی ہے ؟



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں