منگل, اگست 12, 2008

poem on independence celebration

یہ سنسار ہمارا ہے
محمّد اسد اللہ
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اِس دھرتی کے ہم واسی ہیں، یہ پریوار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


اِس کے موسم ،لوگ یہاں کے، ہم کو جان سے پیارے ہیں


اِس کی ندیاں ، اس کے جھرنے، سب امرِت کے دھارے ہیں


اِس کے رِیت رواج ہمارے جیون کے بھی سہارے ہیں


پھول اور کانٹے سبھی ہمارے یہ گلزار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


گنگا جمنا کی لہروں سی ساری اس کی بھاشائیں


رنگ برنگے سبھی مذاہب ،پھولوں جیسی آشائیں


کسی بھی گو شے میں رہتے ہوں، ہندوستانی کہلا ئیں


رنگوں کی کثرت میں وحدت کا اظہار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


گاندھی، نہرو، مولاناآزاد ہمارے اپنے تھے


سب کی آ نکھوں میں بھارت کی آزادی کے سپنے تھے


اسی نرالی یکجہتی کے منتر ہمیں بھی جپنے تھے


لہو سے ہم نے اسے لکھا ہے ،یہ شہکار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں