اتوار, اکتوبر 14, 2007

malik


اے دو جہاں کے مالک
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
سبزہ دیا زمیں کو سورج کو روشنی دی
ٹھنڈک ہوا میں بھر دی پھولوں کو روشنی دی
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
چڑیوں کے چہچہے ہیں ہونٹوں پہ قہقہے ہیں
بہنے لگیں ہوائیں جھرنے امڈ پڑے ہیں
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
منزل کا تُو پتہ دے راہیں سجھائے تُو ہی
تُو تشنگی بڑھائے چشمہ دکھائے تو ہی
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
دن تھک گیا تو تُو نے شب کا دیا بچھونا
تارے سجادئے اور اک چاند بھی اگایا
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
رشتوں کو دی حلاوت ماں باپ کی محبتّ
ہمجولیوں کی الفت رحم و وفا ، مروّت
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں