جمعہ, اکتوبر 26, 2007

خواب نگر (Khwab nagar)

خواب نگر

آئوخواب نگر چلتے ہیں
آئوخواب نگر چلتے ہیں

ڈھونڈنے ایسی بستی جس میں خوشحالی بھی بستی ہو
خون نہ ہو پانی جیسا نہ موت جہاں پر سستی ہو
امن اور چین جہاں کے باسی رعنائی سر مستی ہو

آؤخواب نگر چلتے ہیں

خواب نگر میں سنتے ہیں کچھ پیڑ بھی اونچے اونچے ہیں
جن کی شاخوں پر جھولا کرتے سپنوں کے خوشے ہیں
سپنوں کی گٹھلی کے اندر رستے راج محل کے ہیں

آئوخواب نگر چلتے ہیں

خوابوں میں رس گلّے ،بالو شاہی ،حلوہ پوری ہو
بریڈ پکوڑے ،شاہی ٹکڑے گپ چپ اور کچوری ہو
بریانی کے ساتھ ہو قلیہ ،روٹی بھی تندوری ہو

آئوخواب نگر چلتے ہیں

سونے چاندی کی دیواریں ،اونچے اونچے بنگلے ہوں
ہیروں کا آنگن ہو اور بلّوریں سارے جنگلے ہوں
دم بھر میں دھنوان ہمارے شہر کے سارے کنگلے ہوں

آئوخواب نگر چلتے ہیں

اچّھے انساں بننے کا اک پیارا خواب سجائیں
آئو ہم اس دھرتی کے چاند ستارے بن جائیں
سچ ہو جائیں خواب ہمارے ایسا کچھ کر جائیں

آئو خواب نگر چلتے ہیں
آئو خواب نگر چلتے ہیں




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں