Wednesday, October 24, 2007

Chutti ka Zamana (vacation time)

چھٹّی کا زمانہ

اسکول بند ہیں سب اب سیر کو ہے جانا

لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا

بستہ کتاب کاپی سب چھٹّیاں منائیں

بارِگراں سے ان کے ہم بھی نجات پائیں

بستے میں جو بندھا ہے اس کو جہاں میں دیکھیں

کیا کیا کہاں چھپا ہے آ ؤ پتہ لگائیں

سنتے ہیں کچھ عجب ہے دنیا کا کارخانہ

لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا

آؤ سنیں کہانی ، کوئی نئی پرانی

نانی سنائیں یا پھر ، دادی کی ہو زبانی

اک راکشس بھی آئے ،ہو خوب کھینچا تانی

ایسی لڑائی ہو کہ آجائے یاد نانی

پھر خاتمہ میں آکر دشمن کا ہار جانا

لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا

بس کھیلنے کی خاطر یہ چھٹّیاں ملی ہیں

ہر سو کھلاڑیوں کی کچھ ٹولیاں بنی ہیں

لہرا رہے ہیں بلّے ، گیندیں اچھل رہی ہیں

فٹ بال کی بھی ٹیمیں میداں میں آ گئی ہیں

تگڑا مقابلہ ہے کچھ کرکے ہے دکھانا

لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا

ہر سمت ہر ڈگر پر چھٹی کا راج قائم

آنکھوں میں جھلملاتے ہیں سیر کے عزائم

جی چاہتا ہے صدیوں زندہ رہےں یہاں ہم

قائم رہے یہ چھٹّی ، دائم رہے یہ موسم

بس سوچ ہی تو ہے یہ ،ممکن نہیں یہ مانا

لکھنا ہے اب نہ پڑھنا بس چھٹیاں منانا



No comments:

Post a Comment