Friday, October 12, 2007

Hamd


حمد
حمد و ثنا اسی کی جس نے جہاں بنایا
مٹّی میں جان ڈالی آرامِ جاں بنایا
غنچے کھلائے اس نے پھولوں کو تازگی دی
اظہارِ التجا کو حرف و بیاں بنایا
پیروں تلے ہمارے ممتا بھری زمیں دی
مشفق سا اپنے سر پر اک آسماں بنایا
راہیں اسی کی صنعت سمتیں اسی کی قدرت
بخشے ہیں ہم قدم بھی اور کارواں بنایا
بربادیوں رکھ دی امن و اماں کی صورت
عشرت کد وں کو اس نے عبرت نشاں بنایا
لفظوں کی ساری دنیا اس کی ثنا سے قاصر
اک لفظِ کن سے اس نے سارا جہاں بنایا

No comments:

Post a Comment