سوموار, فروری 16, 2009

childhood pachpan بچپن کی یادیں

بچپن کی یادیں 
محمّد اسد اللہ
childhood
pachpan
،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،
بچپن ہماری زندگی کا یقینا سنہرا دور ہے ۔اس کی حسین یادیں تا عمر ہمارے دل و دماغ کے نہاں خانوں میں جگمگا تی رہتی ہیں ۔ انگریزی کے مشہور شاعر جان ملٹن نے اسے جنّتِ گمشدہ یعنی کھوئی ہو ئی جنّت کہا ہے ۔جب بھی ہم اپنے بچپن کے بارے میں سوچتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ کاش ہم ایک بار پھر چھوٹے سے بچّے بن جا ئیں ۔بچپن میں ہم گھر بھر کے دلارے اور سب کی آنکھ کے تارے تھے ہر کو ئی ہمیں لاڈ پیار کیا کر تا تھا ۔بچپن کی سہانی یادیں اس قدر دلکش ہو ا کر تی ہیں کہ انھیں یاد کر کے شاعر بے اختیار پکار اٹھتا ہے ۔ 

یادِ ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا 

میں جب بھی اپنے بچپن کے بارے میں سوچتا ہوں تو اپنے والدین کی وہ بے لوث محبّت اور شفقت یا د آ تی ہے ۔ نانا نانی ،دا دا دادی کا دلار اور ان کا ہمارے لیے فکر مند رہنا ۔ہماری تعلیم و تربیت اور کھانے پینے کی دیکھ بھال کر نا ، بھائی بہنوں کا ستا نا ، اسکول کے کاموں میں ہماری مدد کر نا ، سب یاد آ تا ہے اور یا د آ تے ہیں،بچپن کے وہ سارے دوست جن کے ساتھ ہم گھنٹوں کھیلا کرتے تھے۔ بچپن کے کھیل اس قدر دلچسپ ہوا کر تے تھے کہ دوستوں کے ساتھ یا میدان میں کھیلتے ہو ئے ان میں مگن ہو کر کھا نا پینا اور اپنے گھر جانا بھی بھول جاتے تھے ۔ بچپن ہر قسم کی فکر ،دشمنی کینہ ،کپٹ اور برائیوں سے پاک ہوا کر تا ہے اسی لیے تو بچوں کو فرشتہ کہاجاتا ہے ۔
میں ہمارا گھر جس جگہ واقع تھا ۔ اس کے قریب ایک ندی اور وسیع میدان تھاجس کے پیچھے گھنا جنگل تھا۔ میدان میں ہم طرح طرح کے کھیل کھیلا کرتے اور کبھی اپنے دوستوں کے ساتھ جنگل میں نکل جاتے،جہاں بیریوں کی جھاڑیاں اور املی کے بڑے بڑے پیڑ تھے ۔ جنگل سے املی اور بیر چنتے اور دوسرے پھل پھول جمع کر لاتے ۔ اکثر وہاں ہمیں اتنی دیر ہو جاتی کہ واپسی پر گھر میں امّی کی ڈانٹ سننی پڑ تی۔امّی کی ڈانٹ تو اور بھی کئی باتو ں پر کھاتے رہے مگر اصل ڈر لگتا تھا ابّو کی ڈانٹ سے اسکول نہ جانے اور نماز نہ پڑھنے پر تو یاد ہے کبھی مار بھی پڑی تھی۔ 
مجھے یاد ہے کہ ایک دن جب ہم بیر کی تلاش میں جھاڑیوں میں گھوم رہے تھے ۔ میرے ساتھ میرے دوست امجد ،اسلم اور ماجد بھی تھے ۔ امجد اچانک’’ سانپ سانپ ‘‘کہہ کر چینخ پڑا ۔یہ سنتے ہی ہمارے پیروں تلے کی زمین نکل گئی اور جب ہم سب نے قریب ہی زمین پر ایک بڑا کالاسانپ رینگتا ہوا دیکھا تو بد حواس ہو کر سب وہاں سے بھاگ کھڑے ہو ئے ۔گھر پہنچنے تک پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا ۔ اس کے بعد کئی دنوں تک جنگل جانے کی کسی کی ہمّت نہیں ہو ٔی ۔
 
اسی طرح ایک مر تبہ عید کی خریداری کے لیے امّی اور ابّو کے ساتھ بازار گئے تھے ۔شاپنگ کر تے کرتے امّی اور ابّو آ گے نکل گئے اور میں ایک دکان پر کھلو نے دیکھنے میں کھویا رہا ۔جب ہو ش آ یا تو گھبر کر ادھر ادھر ڈھونڈتا رہا ۔بہت دیر تک رو تا ہوا بھٹکتا رہا ۔آ خر قریب کی ایک مسجد سے جب اعلان ہو ا تو کچھ لوگ مجھے وہاں پہنچا آ ئے جہاں امی اور ابّو میرا بیچینی سے انتظار کر رہے تھے ۔ 
بچپن کی یادوں میں دوستوں کے ساتھ ہو نے والی لڑائیاں بھی ہم کبھی نہ بھول پا ئیںگے ۔ اسکول میں نئے نئے دوست بن گئے تھے۔ان کے ساتھ خوب شرارتیں کرتے ۔ ذرا سی بات پر کٹّی کر بیٹھتے، لیکن زیادہ دنوں تک اس حالت میں دوست سے دور رہنا مشکل ہو جاتا اور کسی نہ کسی بہانے سے دوستی کر بیٹھتے ۔ بچپن ان تمام برائیوں سے دور تھا جو انسان سے خوشیاں چھین لیتی ہیں ۔ہمارے دلوں میں کسی کے لیے برائی نہ تھی ۔بچپن ایسی ہی معصوم یا دوں سے عبارت ہے ۔ اسی لئے ہر شخص کے دل میں کبھی نہ کبھی یہ خیال ضرور آ تا ہے کہ کاش اس کے بچپن کے وہ سہانے دل کسی طرح لو ٹ آ ئیں ۔لیکن یہ کسی بھی طرح ممکن نہ
یں ۔ 

اب بھی بچپن کے دوست یاد آ تے ہیں ۔ان کے ساتھ گزارے ہو ئے لمحات یاد آ تے ہیں تو ان کے چھن جانے کا افسوس ہو تا ہے ایسا محسوس ہو تا ہے جیسے ہم سے ہمارا بچپن نہیں کوئی قیمتی سرمایہ چھن گیا ہو۔کاش پھر سے لوٹ آ ئیں بچپن کے وہ سہانے دن !

1 تبصرہ:

  1. انسان کی عمر نہیں بڑھتی، انسان کی یادوں کی گٹھڑی کا وزن بڑھتا ہے۔ بے شک اسد صاحب یادوں میں بچپن کی یادوں کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہتا ہے۔ اور یہ بھی تو سچ ہے کہ گیا وقت پھر ہاتھ ٓتا نہیں

    جواب دیںحذف کریں