جمعرات, اپریل 16, 2009

Muslim voters aur voting مسلم ووٹر اور ووٹنگ


مسلمان عام طور پر ووٹ ڈالنے سے کیوں کتراتے ہیں ؟
یہ ایک سوال ہے جو حالیہ لوک سبھاالکشن کی ہنگا مہ آ رائیوں کے درمیان اکثر ذہنوں میں سر ابھارتا ہے۔

اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ عام مسلمان اپنے گزشتہ برسوں کے تجربات کی بنیاد پر منتخب ہو نے والی سیاسی پارٹیوں کی کا رکردگی سے بری طرح مایوس ہوا ہے اور مستقبل میں بھی سیاسی لو گوں سے کو ئی خاص امّید نہیں کی جا سکتی ۔ گویا اب الکشن میں ہمارے لئے ووٹ ڈالنے کا مقصد اچّھے حکمرانوں کا انتخاب کر نا نہیں ،بلکہ دو بُرے لو گوں میں سے کسی کم بُرے کو چنّا ہے ۔ لیکن جو لوگ اس میدان میں اترے ہیں ان پر ایک نظر ڈالئے تو لگتا ہے یہاں تو ساری ہی دال کالی ہے ۔یہ سبھی ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے ہیں ۔

بظاہر دو درختوں کی طرح جو کچھ فاصلے پر کھڑے نظر آ تے ہیں، لیکن ان کی جڑیں اندر سے ایک دوسرے سے ملی ہو ئی ہیں ، یہ سیاسی پارٹیاں حکومت بنانے کے لئے یا بالفاظِ دیگر کر سی حاصل کر نے کے لئے سیاسی گٹھ بندھن کے نام پر ایک ہوجائیںگی۔یعنی ہمیں ان لوگوں کو منتخب کر نا ہے جو اس میدان کے مرد ہیں اور آ ئے ہی اسی ارادہ سے ہیں کہ مال و دولت،شہرت حکومت حاصل کر یں گے ۔ان میں شائد ہی کو ئی ایسا ہوگا جو خالص خدمتِ خلق کا جذبہ لے کر آ یا ہو اور اپنی دنیا بنا ناا س کے پیشِ نظر نہ ہو، بلکہ ایسا کو ئی اس گلی میں آ ئے اور آخر تک اپنے ارادہ پر قائم رہ پائے حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے ( کہ نکٹو ں کی بستی میں کسی ناک والے کو ٹکنے نہیں دیا جاتا ) تو اس شخص کو سادہ لوح کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے اسی لئے اب سیاست میں شریف لوگ بہت کم گھستے ہیں (کیونکہ شریف آ دمی گھس پیٹھیا نہیں ہو تا) ۔بقول غالب ؔ

ہاں وہ نہیں خدا پرست ؛جا ؤ، وہ بے وفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں

ایک حکایت

ایک شخص کو پھانسی کی سزا دینے سے پہلے بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو بادشاہ نے کہا : آ ج ہماری بیٹی کا جنم دن ہے اس لئے ہم تم پر خاص عنایت کر نے والے ہیں ۔وہ آ دمی بہت خوش ہوا کہ ممکن ہے جان بخشی ہو جا ئے ۔ بادشاہ نے کہا : تمہارے سامنے تین کارڈ ہیں ان میں سے جو سہولت تمہیں پسند ہو اسے چن لو ۔ مجرم نے پہلا کارڈ اٹھایا اس پر لکھا تھا ’موت‘ ،اس نے گھبرا کر دوسرا کارڈاٹھایا ،اس پر درج تھا’موت‘ ۔اس نے اس امّید پر کہ یقینا یہی بادشاہ کی طرف سے خاص عنایت ہے تیسرا کارڈ اٹھایا اس پر بھی لکھا تھا ’موت‘۔
یہی حال ہمارے ووٹروں کا ہے خواہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو منتخب کریں نتیجہ وہی ہے ڈھاک کے تین پات !


مو جوددہ دور میں مسلمان سوچتے ہیںکہ ہم کو جن سے ہے وفا کی امیّد ،وہ نہیں جانتے وفا کیاہے ۔اسی لئے عام طور مسلمانوں کا بڑا طبقہ نہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کر وانے کے کئے دوڑ دھوپ کر تا ہے اور نہ مسلم ووٹر اپنا ووٹ بینک کتنا طاقتور ہے یہ بتانے کی فکر کر تے ہیں ۔
یہ اور بات ہے کہ بدلتے ہو ئے حالات نے اب خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے میں یہ شعور پید اکر دیا ہے کہ ہمیں ووٹ کا استعمال ضرور کر نا چاہئے ۔یہ نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ اگر ہم اپنی پسندیدہ پارٹی کو منتخب کروانے میں زیادہ دلچسپی نہ لیتے ہوں تو کم از کم ووٹ کی طاقت کا استعمال کر کے ان سیاسی جماعتو ں کو حکومت پر قابض ہو نے سے روک ضرور سکتے ہیں۔جو نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔

میںا یسے لو گوں سے بھی ملا ہوں جو اس بات کو فخرسے بیان کر تے ہیں کہ ہم نے نہ زندگی میں کبھی ووٹ نہیں ڈالا اور نہ اس اختیار کا استعمال کریں گے ۔یہ دراصل موجودہ سیاسی اداروں کی کالی کرتوت کے خلاف برہمی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے اور کہیں تو یہ خیال ان لو گوں کے دلوں میں جا گزیں ہے کہ یہاںے داغ تو کو ئی ہے ہی نہیں پھر
ہم ووٹ ڈال کر بد کر دار لو گوں کو حکومت کی کر سی پر بٹھا نے کا گناہ کیوں کریں ؟
یہ سچ ہو تب بھی وقت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ووٹ کا استعمال نہ کرنے سے اگر قوم و ملک کے لئے خطرہ بننے والے لوگ کرسی پر قابض ہو گئے تو اس صورت میں بھی ہم غفلت شعاری اور قوم کے مفادات کا تحفّظ نہ کر نے کے مجرم تو ہو نگے ہی ۔

بہتر یہ ہے کہ قومی مفاد کے پیشِ نظر اپنے ووٹ کا سوجھ بوجھ کے ساتھ استعمال کی جائے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں