منگل, اپریل 21, 2009

اردو منی کہانیاں Mini Kahaniyan (Urdu)

منی کہانی ۔ ایک نوٹ
محمّد اسد اللہ 

ادب کو عام طور پر دو حصّوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نثر اور نظم ۔نثر میں کئی اصناف ہیں۔ مثلاً ۔ داستان، ناول، افسانہ، ڈرا ما، سوانح، سفرنامہ، خطوط ،مضامین وغیرہافسانہ یا کہانی عام طور پر مختصر ہوتی ہے۔ ناول طویل ہوا کرتا ہے ۔ لیکن ان دونوں میں مختصر اور نئی اصناف میں ایک صنف ہے مختصرافسانہ جسے ہم کہانی بھی کہتے ہیں۔

منشی پریم چند سے لے کر سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، کرشن چند اور راجندر سنگھ بیدی نے اردو میں عمدہ افسانے لکھ کر اپنی پہچان بنائی۔
ان مختصر کہانیوں کے علاوہ ایسی کہانیاں بھی لکھی گئیں جو چند سطروں پر مشتمل تھیں۔ انھیں منی کہانی یا افسانچہ کا نام دیا گیا۔افسانچہ کی ابتدا اردو میں منٹو کے سیاہ حاشیے سے ہوئی تھی۔۱۹۴۸ ء میں سیاہ حاشیے کی شکل میں ان کے افسانچے منظر عام پرآئے کچھ لوگ افسانچہ کے ڈانڈئے عربی ادب اورخلیل جبران کے مقولوں ، شیخ سعدی کی حکایتوں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صنف لطیفے اور پہلی سے قریب لگتی ہے اس لیے اسے ایک نیا نام دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔جس طرح داستانوں کے بعد ناول ،ناول کے بعد مختصر افسانہ وقت کی ضرورت ثابت ہوئے اسی طرح منی افسانہ بھی افسانے کے بعد موجود دور میں زندگی کی ایک ضرورت اور حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔
اردو میں منٹو کے بعد جو گیندرپال نے اس صنف پر خصوصی توجہ دی۔کسی موضوع کو کم لفظوں میں بیان کرکے اس میں طویل کہانی کا تاثر پیدا کر دینا منی کہانی کی خصوصیت ہے۔

مختصر کہانی صرف بات کو مختصر کہنے سے نہیں بنتی بلکہ اس سے اس طرح بیان کیا جا تا ہے کہ بات پڑھنے والے کے دل میں اتر جائے۔ افسانچہ میں افسانہ نگار چند جملوں میں وہ بات کہہ جاتا ہے جیسے کہنے کے لئے دوسرے افسانہ نگار کو سینکڑوں الفاظ درکار ہوتے ہیں۔ ان چند جملوں میں زندگی کے صرف ایک مختصر حصّے پر روشنی پڑتی ہے اور بہت کچھ چھوڑدیا جاتا ہے جسے پڑھنے والا اپنی سمجھ سے مکمل کرکے بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔
کچھ لوگوں نے منی کہانی لکھنے کے فن کو چاول پر قل ھو اللہ لکھنے اور انگلی پر پربت اٹھانے کا ہنر قرار دیا ہے۔


اردو کی چند  منی کہانیاں یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔
٭۔ فاصلے

میں ان دنوں کئی بار اپنے راکٹ میں بیٹھ کر چاند
تک ہو آیا ہوں، لیکن ایک مدّت ہوگئی دس قدم چل کر اپنے بھائی سے ملنے نہیں گیا۔
 
۔ غرقاب

’’میں ایک عرصہ سے ایک سمندری جہاز میں نوکر ی کرتا ہوں‘‘
پہلے پہل جب میرا سمندر سے رابطہ ہوا تو مجھے لگتا تھا۔ میں اس میں ڈوب جاؤں گا۔ مگر اب مجھے لگتا ہے کہ سمندر ہی میرے اندر ڈوب گیا ہے۔
٭
طالب زیدی

۱۔ محروی
’’جب سے دشمنوں کی پہچان ہوئی ہے۔
دوستوں سے محروم ہو گیا ہوں۔‘‘

۔ شگون

’’وزنی ٹرک کے نیچے آکر سیاہ بلی تارکول کی سڑک پر بچھ گئی تھی۔ خدا جانے اس کا راستہ کس نے کاٹا تھا۔‘‘
٭
نسیم محمد جان
       
۱۔ آدم خور
’’بھئی یہاں تو چھ کا ؤ نڑز تھے‘‘
’’ہاں‘‘
کہاں چلے گئے سب لوگ ؟‘‘
’’آدم خور کھاگیا ‘‘
کیا ؟
سامنے دیکھو۔۔۔۔ ایک کمپیوٹر لگ گیا ہے‘‘
٭

رتن سنگھ

۔ احتیاط

ہنستے ناچتے خوشیاں مناتے ایک ہجوم کو قریب آتا دیکھ کر ایک بھکاری نے اپنے تین چار سال کے بچے کو جلدی سے گودمیں اٹھا لیا اور ایسی آڑ میں لے گئی جہاں سے بچہ ان رنگ رلیاں منانے والوں کو نہ دیکھ سکے۔‘‘ نابابانا وہ بڑ بڑاتے جارہی تھی۔
’’میرے ننگے بھوکے بچے نے اگر ہنسنا سیکھ لیا تو کل کو اسے بھیک کون دے گا۔٭

3 تبصرے:

  1. مختصر نگاری ایک بہت مشکل صنف ہے۔ میں نے اس پر کچھ طبع آزمائی کی ہے اور ناکام رہنے کے بعد میرا خیال یہ ہے کہ نئے خیال اور نئے تخلیق کاروں کے لئے یہ صنف نامناسب ہے۔

    ہاں ایسے خیالات جو پہلے دیگر اصناف میں مختلف پیراؤں میں بیان ہوچکے ہوں جیسا کہ اوپر کی چند کہانیوں کے مرکزی خیالات ہیں۔ تب ان کو اختصار کے ساتھ بیان کرنا خیال کی تاثیر کو مزید بڑھادیتا ہے اور پڑھنے والا بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. یہ سچ ہے کہ بعض لکھنے والوں نے منی کہانی کے فنّی تقاضوں کو سمجھے بغیر منی کہانیاں لکھنے کی کوشش کی اور سہل پسندی کا راستہ اپنایا ۔ اس سے منی کہانی کے فن کو نقصان پہنچا ہے ۔ تبصرہ کے لئے شکریہ
    ۔محمّد اسد اللہ

    جواب دیںحذف کریں
  3. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں