ہفتہ, جنوری 17, 2009

A Poem for children (Urdu)ایسا ہو جیسا ہے گمان

ایسا ہو جیسا ہے گمان
(نظم )
محمّد اسد اللہ 
.....................................................
ایساہو جیسا ہے گمان

دنیا ہو یہ باغ سمان

پھول پرندوں کی مانند

چہکے مہکے ہر انسان 




رہے شہر میں امن و امان 

لوگ بھی سارے عالی شان 

ہر چہرے پر سجی رہے 

کھلی کھلی سی اک مسکان 




ایسے بھی ہو تیر کمان 

کام کرے جادو سمان

ر کے سب کنگالوں کو 

پل بھر میں کر دے دھنوان




ایسا بھی ہو ایک مکان

جس میں خوش ہو ہر انسان 

جب بھی سجا ہو دستر خوان

رنگ برنگے ہو پکوان


1 تبصرہ: