جمعرات, اکتوبر 02, 2008

غزل ۔ وہ جو تھا خواہشوں کے خانے میں


غزل 
محمّد اسد اللہ
 
وہ جو تھا خواہشوں کے خانے میں 
مل نہ پا یا ہمیں زمانے میں 

کٹ گئے دن بہار کے آ خر 
اک میرے آشیاں بنانے میں 

دست و بازو کو کیوں تھکاتے ہو 
تم میرا صبر آزمانے میں 

بات کر تے ہیں دل ملانے کی 
ہاتھ مصروف گھر جلا نے میں 

تم سے بڑھ کر نہیں ہے جان عزیز 
خود کو کھویا ہے تم کو پا نے میں 

اب نہ یادِ خدا نہ فکرِ جہاں 
سب ہی الجھے ہیں آ ب و دانے میں


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں