بدھ, جنوری 20, 2010

Urdu writing workshop in Nagpur تخلیقی ورکشاپ طلباء کے لٔے


Shaikh Mohammad Hashim ,Guest Editor of Tahzeebul Kalam
Eminent Writer Wakeel Najeeb 
Famous Critic Poet and Writer Dr. Sharfuddin Sahil 
........................................................................................................
ایک رپورٹ 
مولانا ابوالکلام آزاد ہا ئی اسکول و جو نیئر کالج میں 
تخلیقی ادب کے لئے ورکشاپ کا انعقاد

 ناگپور ..
وہ طلبا جو ادب میں اپنی پہچان بنانا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے اندر چھپی ہو ئی فطری صلاحیتوں کو پہچانیں اور پھر مخصوص صنفِ ادب کا انتخاب کر کے لگاتار طبع آ زمائی کریں ۔‘

 مشہور ادیب و محقق ڈاکٹر شرف الدین ساحل نے مولانا ابوالکلام آزاد ہا ئی اسکول و جو نیئر کالج میں منعقدہ، رائیٹنگ ورکشاپ کے کلیدی خطبہ میں طلبا کو مختلف اصنافِ ادب سے متعارف کر واتے ہو ئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ 
  اسی کالج کے پرنسپل جناب عبدالرؤف کی صدارت میں افتتاحی تقریب کا آغاز ایک طالبِ علم محمّد مصطفےٰ نے تلاوتِ کلامِ ربّانی سے کیا۔
 ہائی اسکول و جو نیئر کالج کے تقریباً دو سو طلبا نے اس ورکشاپ میں شرکت کی جو اسکول کے سالانہ مجلّہ تہذیب الکلام ۲۰۱۰؁ء کے لئے تخلیقی کام کرنا چاہتے تھے ۔ اس موقع پر بچّوں کے معروف ادیب و ناول نگار جناب وکیل نجیب نے طلباء کو زیادہ سے زیادہ کتابوں اور رسائل کے مطالعہ کا مشورہ دیا تاکہ وہ معیاری ادیبوں کے طرزِ تحریر اور مختلف اسالیب سے واقف ہو سکیں ۔ میگزین تہذیب الکلام کے مہمان مدیر جناب شیخ محمّد ہاشم نے ورکشاپ کے شرکاء طلبا کو ڈائری لکھنے کی ترغیب دی تاکہ لکھنے کی مشق کے ساتھ عمدہ اقوال ،اشعار اور ادیبوں کے افکار کا ذخیرہ بھی کر سکیں جو ان کے تخلیقی سفر میں معاون ثابت ہو۔
 
 میگزین کے مدیر اور معروف انشائیہ نگار ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے طلبا کو رسائل سے تحریریں نقل کر کے پیش کرنے یا چراکر اپنے نام سے چھپوانے کی بری عادت سے دور رہ کر، آسان اور اپنی دلچسپی کے مو ضوعات پر لکھنے کا مشورہ دیا ۔ 
 جناب ضیا اللہ خاں لو دھی نے طلبا ء کو سرِ ورق کے ڈیزائن بنانے سے متعلق مفید ہدایات دیں ۔ اس ورکشاپ میں جو نیئر کالج کی طالبات نے اپنی کاوشوں کو پیش کر کے دادِ تحسین حاصل کی ۔ 
 پرنسپل جناب عبدالرؤف نے اپنے صدارتی خطبے میں طلبا سے کہا کہ وہ پر اعتماد طریقے سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اپنے اساتذہ اور مقامی ادیبوں اور شاعروں کی رہنمائی حاصل کر کے زبان و ادب کی خدمت کا فریضہ انجام دیں ۔ 
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں