سوموار, جنوری 25, 2010

Paisa Hi Sab Kuch Nahi. پیسہ ہی سب کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..... Mohammad Shareef


پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے

محمّد شریف ،ناگپور

ہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ

ایک صاحب سے مجھے کچھ رقم مستعار لینی تھی ، جس کا وہ مجھ سے وعدہ کرچکے تھے، میں نے انہیں فون کیا تو نوکر نے اٹھایا ، میں نے پوچھا صاحب ہیں؟ اس نے پوچھا آپ کون ؟ میں نے اپنا نام بتایا۔ اس نے صاحب کو جو قریب ہی کھڑے یا بیٹھے ہوگے ، میرا نام بتایا ، صاحب نے کہا ، بول دے صاحب نہیں ہیں۔ اس آواز کو میں نے بھی سن لیا اور پھر نوکر نے بھی مجھ سے کہہ دیا ،صاحب نہیں ہے۔ میں نے فون رکھ دیا۔ میں بھی خود دار آدمی ہوں، سمجھ گیا کہ یہ دینا نہیں چاہتے، اس کے بعد سے نہ اس کا کوئی ذکر کیا نہ فون کیا۔ بات تو ختم ہوگئی۔ میراکام بھی کہیں اور سے پورا ہوگیا۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ یہ مقابلہ مال اور عمل کا تھا۔ ان صاحب نے اپنی ہوشیاری سے مال بچالیا اور عمل خراب کرلیا۔ حالانکہ یہاں مال صرف عارضی طور پر کچھ مدت کے لئے قبضہ سے نکلنے والا تھا ضائع ہونے والا نہیں تھا، لیکن انہوں نے ضائع ہونے کے موہوم خوف سے اپنا عمل خراب کر کے آخرت کو نقصان پہنچایا۔ ایک تو انہوں نے جھوٹ کا ارتکاب کیا جو گناہ کبیرہ ہے۔ دوسرے وعدہ خلافی کی۔ وہ بھی گناہ کبیرہ ہے۔ تیسرے اپنے وقار کو میرے نزدیک کم کرلیا۔ اگر وہ پہلے عذر کردیتے تو کوئی نقصان نہیں تھا۔ اکثر لوگوں میں یہ بیماری پائی جارہی ہے کہ وہ پیسے ہی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں عمل کی پرواہ نہیں کرتے۔

نیک آدمی کے لئے مال اچھی چیز ہے لیکن اتنی اچھی نہیں کہ اس کے لئے اپنا عمل خراب کیا جائے جبکہ مال کی ملکیت بھی عارضی ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ مال کی محبت آدمی کے خمیر میں رکھی گئی ہے۔ انہ لحب الخیر لشدید ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان خیر کی محبت میں بہت شدید ہے۔ اور یہاں خیر سے مراد مال ہے۔ یہ مال آدمی کے لئے خیر اسی وقت تک ہے جب تک کہ آدمی اس مال سے اپنی آخرت بنائے۔ اگر مال کے ذریعہ اپنی آخرت کو بگاڑتا ہے تو اس مال سے بڑھ کر کوئی شر نہیں ہے۔ کہ مال کی فروانی آدمی کو اللہ سے اور آخرت سے غافل کردیتی ہے۔ جب آدمی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے میں کمزور ہوتا ہے یعنی جب یقین میں ضعف ہوتا ہے تو سب سے کم درجہ یہ ہے کہ آدمی مال میں اسراف یعنی فضول خرچی اختیار کرتا ہے۔ یہ اللہ سے بُعد کا پہلا زینہ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان اللہ لایحب المسرفین ۔ ’’ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ‘‘۔

جب اللہ تعالیٰ کسی کو پسند نہ کرے تو وہ اللہ سے قریب کیسے ہوسکتا ہے۔ بہت سے لوگ نماز روزہ وغیرہ عبادات کر کے اللہ سے قریب ہونے کا گمان کرتے ہیں جبکہ اسراف نے انہیں اللہ سے دور کردیا ہے۔ یہ تو آدمی کی بھی فطرت ہے کہ جب انسان کسی کو ناپسند کرتا ہے تو اس سے قریب ہونا نہیں چاہتا بلکہ اس سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آدمی مال کو سب کچھ سمجھتا ہے اور مال کی بہتات ہوجاتی ہے تو دوسرا قدم یہ اٹھتا ہے کہ آدمی تبذیر میں پڑجاتا ہے۔ تبذیر یعنی بے موقع اور بے محل خرچ کرنا یہ اسراف سے بڑا ہے اس کے بارے میں قرآن پاک کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ بے محل خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہے۔ ان المبذرین کانو اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربہ کفورا ۔ یہ شیطان کا بھائی بن گیا یعنی ہم مشرب اور ہم مسلک بن گیا تو ایسا انسان بھی اللہ کا ناشکرا قرار دیا جائیگا ۔ اور ناشکری ایسی بُری چیز ہے کہ آدمی کو اللہ سے بھی دور کردیتی ہے اس کے دوسرے اعمال بھی برباد ہوجاتے ہیں اور اس سے نعمتیں بھی زائل ہوجاتی ہے۔ شیطان کا کیا حال ہوا حالانکہ وہ بڑا عبادت گذار تھا مگر اس کی نا شکری کی وجہ سے مردود قرار دیا گیا اور اس کی ساری عبادتوں پر پانی پھر گیا۔ اور اس کی ساری نعمتیں چھن گئیں۔ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے لیکر قیامت تک جب تک کوئی اس کا نام لیگا لعنت کے ساتھ نام لیگا۔ یہی حال شیطان کے تمام رشتہ داروں یعنی مبذرین کا ہوتا ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنا چاہئے۔ جب آدمی مال کی تکثیر کی وجہ سے اور آگے بڑھتا ہے تو وہ گناہون میں خرچ کرنے والا بنتا ہے۔ جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ جہنمیوں کی صفات میں یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ وہ دنیا میں بڑے عیش کی زندگی گذارا کرتے تھے انھم کانو قبل ذالک مترفین اس لئے ضروری ہے کہ آدمی مال کی زیادہ حرص اور لالچ نہ کرے بلکہ بقدر ضرورت پر قناعت کرے۔ مال کو حدیث میں فتنہ کہا گیا ہے۔ اور فتنہ کو قرآن پاک میں قتل سے بھی زیادہ اشد اور قتل سے بڑا بتایا گیا ہے الفتنۃ اشد من القتل اور الفتنۃ اکبر من القتل مال کے حصول میں اللہ کے حکموں کی رعایت کرے اور جب مال آجائے تو اس کے جمع رکھنے میں بھی اللہ کے حکم کو دیکھے اور خرچ کرے تو اس میں بھی اللہ کے حکم ہی کو اصل سمجھے۔ نہ خرچ کرنے میں بھی اللہ کا حکم اصل ہو۔ مال کی کمی کے خوف سے خرچ کرنے سے رکنا اللہ پر توکل میں کمی کی دلیل ہے۔ جبکہ تو کل پر اللہ تعالیٰ نے اپنے کافی ہوجانے کا وعدہ کیا ہے۔ ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ ’’ جو اللہ پر توکل کرلے اللہ اس کے لئے کافی ہے ‘‘۔ اللہ پر توکل نہ کرنے والا اللہ کی کفایت سے نکل جاتا ہے۔

جب کسی کے پاس مال ہوتا ہے تو عام طور پر اس کی نظر اللہ سے ہٹ جاتی ہے اور وہ مال ہی پر بھروسہ کرنے لگتا ہے۔ اور یہ اللہ کی سنت ہے کہ بندہ جس پر بھروسہ کرتا ہے اور جس سے امید کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کے حوالہ فرمادیتا ہے۔ یہ ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن آدم جس چیز سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کو بندہ پر مسلط کردیتا ہے اور جس چیز سے ابن آدم امید باندھتا ہے اسی کے حوالہ کردیتا ہے۔ اس وقت امت میں عموماً یہ مرض سرایت کرچکا ہے کہ لوگ مال ہی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں اور یہ یقین کررہے ہیں کہ مال ہی سے سب کچھ ہوتا ہے اور مال کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لئے اللہ نے بھی مال کے حوالہ کردیا کہ مال کماؤ پھر تمہارے کام بنائیگے۔ اس لئے ساری دنیا مال کے لئے دوڑرہی ہے۔ مال کے لئے اپنے وطنوں کو عزیز واقارب کو چھوڑ چھوڑ کر غیر ممالک میں پڑے ہوتے ہیں۔ غیر مسلم اگر مال کے لئے ایسا کریں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ان کے لئے تو دنیا ہی جنت ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمان مال کے لئے مارا مارا پھر رہا ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنی خاندانوں کو ہندوستان ، پاکستان، میں چھوڑ کر دوبئی۔ ابوظبی، شارجہ اور سعودی عرب اور کویت اور قطر میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر تھوڑی روزی پر قناعت کرتے تو چین وسکون کے ساتھ اپنے بیوی بچوں اور خاندان کے لوگوں میں اپنے وطن میں بہترین زندگی گذار سکتے تھے۔ یہ مال ہی کا فتنہ ہے جس نے وطن سے بے وطن کردیا ۔ یہ مال کمانے کی حرص کی ایسی وبا ہے کہ اس کے لئے سب راضی بھی ہیں۔ ان بیرونی ممالک میں ملازمت یا کاروبار کے لئے جانے والوں کو کوئی روکنے والا نہیں ہے نہ بیوی بچے اپنے شوہر یا والد کی جدائی پر ناراض ہے نہ ماں باپ ، بیٹے کی جدائی سے خفا ہیں کہ مال کی امید ہے۔ کسی مولوی صاحب اور مفتی صاحب کو بھی اس کی تو فیق نہیں ہوتی کہ وہ اپنے اقربا یا متعلقین میں سے جو بیرون مال کے لئے جارہا ہو اس سے روکے۔ جبکہ حضورؐ کا ارشاد ہے کہ بہترین روزی وہ ہے جو آدمی کو اپنے وطن میں ملے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کمانے کے لئے باہر ملک جانا ناجائز یا حرام ہے۔ لیکن اس میں دین کا ضرر ضرور ہے۔ باہر رہ کر جب مقصد ہی دنیا ہوتا ہے تو آدمی دین کی پرواہ نہیں کرتا ادھر بیوی بچے بھی آزاد ہوجاتے ہیں۔ شوہر کی غیر موجودگی میں گھر کی حکومت بیوی کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ وہ شوہر کے پیچھے خود بھی من مانی زندگی گذارتی ہے اور بچے بھی آزادی میں پرورش پاتے ہیں۔ پھر مال کی کثرت پورے گھرانہ کو اسراف اور تبذیر اورترف میں مبتلا کر دیتی ہے اور آخر کار دنیا بھی برباد ہوتی ہے اور دین تو پہلے ہی گیا ہوتا ہے۔ جس کی مذمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔

ایک جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے انما الحیاۃ الدنیا لھو ولعب دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے۔ ایک جگہ فرمایا وماالحیوۃ الدنیا الا متاء الغرور یعنی دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے سوائے دھوکہ کے سامان کے۔اس لئے مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ مال کے چکر میں نہ پڑے۔

حضورؐ نے فرمایا اجملوفی الطلب یعنی اپنی طلب میں اختصار کرو۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ضروری ہے کہ مال کمانے میں ہمیشہ اس کا خیال رکھے کہ کوئی ایسا کاروبار یا ملازمت نہ اختیار کر ے جس میں دین پر چلنا مشکل ہو۔ ایسا شغل جس میں دین پر چلنا اور اللہ کے اوامر کو پورا کرنا مشکل ہو اس کا اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ عام طور پر آج کے مسلمان اس کا لحاظ نہیں کرتے۔ بس تنخواہ اچھی ہونا چاہئے ، چاہے دین رہے یا نہ رہے۔ ایسے پیسے سے کیا بھلا ہوگا جس میں دین برباد ہوجائے۔ دینی غیرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم ایسا پیشہ بھی نہ اختیار کریں جس میں ہمیں اپنا کلچر چھوڑنا پڑے۔ مثلاً ہندوستان میں ملٹری اور پولس کے لئے پابندی ہے کہ وہ داڑھی نہیں رکھ سکتے تو کیا ضروری ہے کہ ہم پولس یا فوج میں بھرتی ہوں۔ روزی کے ہزاروں دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی وہ ماحول جہاں پابندی تو کسی چیز کی نہیں ہے مگر پھر بھی آدمی کا دین پر رہنا مشکل ہو ایسے ماحول میں بھی اپنا پیشہ یا کاروبار نہ کرے ، چاہے کتنی ہی بڑی تنخواہ مل سکتی ہو۔ مسلمان پر حلال کمائی فرض ہے ، لوگ سمجھتے ہیں صرف کمانا فرض ہے۔ نہیں بلکہ حلال کمائی فرض ہے اور وہ بھی دوسرے فرائض کے بعد، جہاں نماز نہ ہوسکتی ہو۔ اور حرام سے نہ بچا جاسکتا ہو وہ کمائی ناجائز ہے۔ حضورؐ کا ارشاد ہے کسب الحلال فریضۃ بعد الفرائض یعنی حلال کمائی فرض ہے دوسرے فرائض کے بعد۔ یہ بات خوب اچھی طرح اپنے ذہن میں بٹھائیں کہ پہسہ ہی سب کچھ نہیں ہے۔ بلکہ اصل دین ہے۔ دین داری کے ساتھ اگر پیسہ آتا ہے اور دینداری کے ساتھ ہی پیسہ خرچ بھی ہوتا ہو تو نیک آدمی کے لئے مال اچھی چیز ہے وہ اس میں دنیا اور آخرت کا نفع اٹھا سکتا ہے۔ جس مال سے دین خراب ہوتا ہو جس مال سے آخرت برباد ہوتی ہو وہ خود کو مارنے کے مترادف ہے۔ ایسے مال کا کیا کرینگے جس سے ہمارا محبوب اللہ ہم نے ناراض ہوجائے۔ ایمان والوں کا محبوب تو اللہ ہے

الذین امنوا اشد حب للہ ’’ جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں ‘‘۔

اسی لئے اللہ کے رسول نے امت کو دعا سکھائی ہے اللھم اجعل حبک احب الی من نفسی و اھلی ومن الماء البارد یعنی اے اللہ مجھے اپنی محبت عطا فرما جو میری جان سے اہل وعیال سے اور سخت پیاس کی حالت میں ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

3 تبصرے:

  1. میں تو طلب اور رسد کے کُلیہ پر عمل کرتا ہوں ۔ کسی چیز کے پیچھے جتنا بھاگيں وہ اتنا ہی نایاب ہو جاتی ہے خواہ زر ہو یا زن ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. اچھا مضمون ہے۔ افتخار انکل زر والی بات تو سمجھ آئی، زن والی بات بھی سمجھا دیں اگر تو۔۔۔۔۔ :)

    جواب دیںحذف کریں
  3. ہان اجمل صاب حکیم خرم کی حلوے والی بات سنیں

    جواب دیںحذف کریں