اتوار, دسمبر 14, 2008

review تبصرہ



گلّی ڈنڈا۔ایک تجزیہ

ڈاکٹر محمّد اسد اللہ

گلّی ڈنڈا ان چند اہم افسانوں میں شامل ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے یہ پریم چند کے خاص رنگ کی نمائندگی کرتا ہے ۔دیہی زندگی اور اس سے جڑے ہوئے افراد کی فطری سادگی ،غر یبی کے ہاتھوں ستائے ہو ئے لوگوں ا ورنخوت و پندار سے سرشار آسودہ حال طبقہ کے درمیان پائی جانے نفسیاتی کشمکش اور تفاوت پریم چند کے مرغوب موضوعا ت ہیں۔ اس خاص شعبہ میں جس قدر مہارت کا ثبوت انھوں نے پیش کیا ہے شاہد ہی کسی ادیب کو یہ اعزاز حاصل ہو ا ہو۔گلّی ڈنڈا بھی اسی قسم کی ایک نمائندہ تحریر ہے۔

افسانہ کی ابتدا بڑی سہج اور فطری انداز لئے ہوئے ہے ۔۔۔’میں‘ کے حوالے سے بچپن کی یادوں کی گرہیں یکے بعد دیگرے کھلنے لگتی ہیں۔آپ بیتی کا لب و لہجہ قاری کو اپنے اعتماد میں لے لیتا ہے اور بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک ناسٹیلجیائی کیفیت کی حامل تحریر ہے مگر بہت جلدافسانہ نگار انگریزی اور د یسی کھیلوںکا موازنہ کرکے ہمیں اس فضا کچھ دیر کے لئے باہر نکال کر اپنے مخصوص تصوّرات کے تبلیغ کا اہم فریضہ انجام دینے لگتا ہے ۔:

ولایتی کھیلوں میں سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ ان کے سامان بہت مہنگے ہوتے ہیں ۔جن تک کم از کم ایک سو خرچ نہ کیجئے کھلاڑیوں میں شمار ہی نہیں ہوسکتا ۔یہاں گلّی ڈنڈا ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکری چوکھا رنگ دیتا ہے ۔لیکن ہم انگریزی کھیلوں پر ایسے دیوانے ہو رہے ہیں کہ اپنی سب چیزوں سے ہمیں نفرت سی ہو گئی ہے ۔‘
(گلّی ڈنڈا )
افسانہ آگے بڑھتا ہے اور کھیل کا رنگ چڑھتے ہی ہم اس فضا میں سانس لینے لگتے ہیں جہاںایک ایک سطر میں گاؤں کی سیدھی سادی زندگی اپنی مخصوص مہک بکھیرنے لگتی ہے ۔ گلّی ڈنڈے کے حوالے سے مصنّف نے بچّوں کی دنیا میں پائی جانے والی معصومیت اور رنگا رنگی کو نمایاں کیا ہے۔

بچپن کی یادوں میں گلّی ڈنڈا ہی سب سے شیریں یاد ہے وہ علی الصبح گھر سے نکل جانا، وہ درخت پر چڑھ کر ٹہنیاں کاٹنا ،وہ جوش و خروش، وہ لگن ،وہ کھلاڑیوں کے جمگھٹے ،وہ پدنا پدانا ۔وہ لڑائی جھگڑے ،وہ بے تکلّف سادگی جس میں چھوت چھات اور غریب و امیر کی کوئی تمیز نہ تھی ۔جس میں امیرانہ چونچلوں کی،غرور اور خود نمائی کی گنجائش نہ تھی۔‘ ۔۔۔۔۔ گلّی ڈنڈا
گلّی ڈنڈا میں مصنف کے علاوہ سب سے اہم کردار ہے، گیا،ایک معمولی چمار کا بیٹا اور مصنّف تھانے دار کا بیٹا ہے۔ آگے چل کر ایک ضلع انجینئر بن جاتا ہے اسکی تعلیم شہر ہی میں ہوئی لیکن جب وہ ضلع نجینئر بن کر اسی گاؤں لوٹتا ہے جہاں اس نے بچپن میں گیا کے ساتھ بہت سا وقت گزارا تھا وہ ان تمام یادوں کے ساتھ گاؤں لوٹا ہے مگر وقت کے پُل تلے بہت سا پانی گزر چکا ہے ۔ گلّی ڈنڈا کھیل کے دوران کی گئی نا انصافیاں ابھی تک اس کی یادداشت کا حصّہ ہیں۔ وہ گیا کو ڈھونڈ نکالتاہے اور دوبارہ وہی کھیل کھیلنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔

یوں کہا جاتا ہے کہ بچپن معصوم اور ہر قسم کے امتیازات سے پاک ہوا کرتا ہے ۔اس طرف پریم چند نے بھی مذکورہ بالا اقتباس میں اشارہ کیا ہے، لیکن اس کے باوجو
بچّوں کے دل و دماغ میں موجود اس بھید بھاؤ کی جڑوں کو پریم چند نے بڑی خوبی کے ساتھ ظاہر کیا ہے ۔

جب گیا نے میرا امرود کھایا تو پھر اسے مجھ سے داؤ لینے کا کیا حق حاصل ہے ۔۔۔امرود دو پیسے کے پانچ والے تھے جو گیا کے باپ کو بھی نصیب نہ ہوں گے ۔۔۔میں تھانے دار کا لڑکا ایک نیچ ذات کے لونڈے کے ہاتھوں پٹ گیایہ مجھے اس وقت بھی بے عزّتی کا باعث معلوم ہوا ۔ ‘۔۔۔۔۔ گلّی ڈنڈا

ظاہر ہے یہ افسانہ اس دور کی تحریر ہے جب سماج میں معاشی برتری سے زیادہ ذات پات کا بھید بھاؤ ایک اہم مسئلہ تھا اس کی گونج ہمیں پریم چند کی دیگر تحریروں میں بھی سنائی دیتی ہے ۔گیا بھی اسی طبقہ سے تعلّق رکھتا ہے جو اسی احساسِ کمتری کا شکار ہے ۔اس کے بارے میں یہ بیان ملاحظہ فرمائیے

مجھ سے دو تین سال بڑا ہوگا،دبلا لمبا ،بندروں کی سی پھرتی ،بندروں کی سی لمبی لمبی انگلیاں،بندروں کی سی جھپٹ گلّی کیسی ہی ہو اس پر اس طرح لپکتا تھا جس طرح چھپکلی کیڑوں پر لپکتی ہے۔ معلوم نہیں اس کے ماں باپ کون تھے، کہاں سے آئے تھے ۔کیا کھاتا تھا پر تھا ہمارے کلب کا چمپین ۔جس کی طرف وہ آجائے اس کی جیت یقینی تھی ۔‘ ۔۔۔۔ گلّی ڈنڈا
پریم چند کا یہ مخصوص انداز ہے وہ اکثر انسانی فطرت میں موجود صفات کی نشاندہی کے لئے جانوروں کی مثالیں استعمال کرتے ہیں مثلاً مشہور افسانہ کفن میں مادھو اور گھیسو کو کنڈلی مار کر سوئے ہوئے دو اژدہوں سے تشبیہ دی گئی ہے ۔گیا کے کردار میں وجہ تشبیہ محض اس کے جسمانی قوّت اور چستی پھرتی کو ظاہر کرتی ہے ۔البتّہ یہ جاندار اپنے شکار کے لئے جو رویّہ اپناتے ہیں اس کے نمونے گیا کے کردار میں افسانہ کے آخری حصّہ میں دکھائی دیتے ہیں ۔لیکن گیا کے کردار کی اصل خوبی یہ ہے کہ حسبِِمراتب کالحاظ اور انسانیت کا پاس اس کی شخصیت کو بلندی عطا کرتا ہے ۔ گیا کا کردار جہاں دیہی زندگی کی جفاکشی اور سادگی کا مظہر ہے وہیں ہٹ دھرمی اور اس کے اندر چھپی ہوئی انسانیت خلوص اور محبّت کی بھی نمائندگی کرتا ہے ۔بچپن میں وہ اپنا داؤ حاصل کرنے پر پوری طرح بضد تھا ۔

ہاں میرا داؤ دئے بغیر نہیں جا سکتے۔‘
’میں تمہارا غلام ہوں ؟‘
’ہاں تم میرے غلام ہو۔‘
’میںگھر جاتا ہوں دیکھو تم میرا کیا کر لیتے ہو ۔‘
’گھر کیسے جاؤ گے کوئی دل لگی ہے داؤں دیا ہے داؤں لیں گے ‘(گلّی ڈنڈا )

لیکن مصنّف جب ایک بڑے عہدیدار کی حیثیت سے اس کے آگے آتا ہے تو وہ اس کی برتری کو احتراماً قبول کرلیتا ہے ۔اس کی ساری بدعنوانیوں کو ایسے نظر انداز کردیتا ہے جیسے وہ کوئی بچّہ ہو ۔گاؤں لوٹنے کے بعد دوبارہ اس کے ساتھ گلّی ڈنڈا کھیلنے کی خواہش کو وہ نہ صر ف پورا کرتا ہے بلکہ داؤ لینے کی باری آتی ہے تو وقت زیادہ ہونے کا بہانہ کرکے آگے بڑھ جاتا ہے کہ مصنف یہ سوچنے لگتا ہے شاید اس کی کھیلنے کی مشق چھوٹ گئی ہے ۔ اسکے بعد اگلے دن ہونے والے میچ میں اس کا کھیل یہ ثابت کرتا ہے کہ اس میں وہی دن خم باقی ہے ۔

پدانے والوں میں ایک نوجوان نے کچھ بے عنوانی کی اس کا دعویٰ تھا کہ میں نے گلّی دبوچ لی ہے۔ گیا کا کہنا تھا کہ گلّی زمین سے لگ کر اچھلی ہے، اس پر دونوں میں تال تھونکنے کی نوبت آئی ۔ نوجوان دب گیا ۔گیا کا تمتمایا ہوا چہرا دیکھ کر وہ ڈر گیا‘۔ ۔۔۔۔۔
گلّی ڈنڈا

پریم چند نے اس افسانہ میں انسانی رشتوں کی بدلتی ہوئی نوعیت کو بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ا اعلیٰ عہدہ اور مرتبہ حاصل ہونے کے ساتھ ہی بہت سی چیزوں کے چھِن جانے کی کسک بھی گلّی ڈنڈا میں پوری طرح نمایاں ہے ۔

میں اب افسر ہوں ۔یہ افسری میرے اور اس کے درمیان اب دیوار بن گئی ہے میں اب اس کا لحاظ پا سکتا ہوں ادب پا سکتا ہوں لیکن اس کا ہمجولی نہیں بن سکتا ۔۔۔یہ عہدہ پا کر اب میں اس کے رحم کے قابل ہوں وہ اب مجھے اپنا جوڑ نہیں سمجھتا ۔وہ بڑا ہو گیا ہے میں چھوٹا ہوگیا ہوں‘ ۔۔۔۔۔۔ گلّی ڈنڈا

گلّی ڈنڈا پریم چند کے مشہور افسانوں میں شامل ہے اس میں انسانی نفسیات کے نازک گوشوں کی عکاسی نہایت خوبصورت انداز میں کی گئی ہے ۔اس کا آپ بیتی کا انداز قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنی گرفت میںرکھتا ہے اورایک متاثر کن کردار گیا کی واضح چھاپ ہمارے دل و دماغ پر چھوڑ جاتا ہے ۔ ٭


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں