منگل, دسمبر 16, 2008

نظم ۔۔۔۔۔میں اپنی مٹّی سے خالی


میں اپنی مٹّی سے خالی ہوتا جا رہا ہوں 
                      ۔۔نظم ۔۔۔

ہویدا ہیں مجھ میں وسعتیں پھر 
میں اپنی مٹّی سے خالی ہوتا جا رہا ہوں
ابھر رہی ہے صدا ئے تیشہ یہاں تو ہر سو 
اور گر گر کے ڈھیر ہو تے جا رہے ہیں 
میری انا کے کٹے صنوبر
جیسے سرحد سے آ رہی ہو ں
شکست کی بار بار خبریں 
میری رگوں میں دھنسی ہو ئی ہر 
جڑ اکھاڑ ی جا رہی ہے ۔ 

افق کے اس پار نم ہو ائیں
آ ندھیوں کے سفر کا سامان باندھتی ہیں 
پہاڑ کی جڑ میں اک فرشتہ 
زمین میں سوئے زلزلوں کو جگا رہا ہے 
پرانے صندوق میں چھپا ایک زرد چوہا 
میری قمیصوں کی آ ستینیں کتر رہا ہے 

ہویدا ہیں مجھ میں وسعتیں پھر
لمحہ لمحہ 
میں اپنی مٹّی سے خالی ہوتا جا رہا ہوں۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں