ہفتہ, جولائی 05, 2008

Bukhar بخار


بخار
(انشاءیہ)
محمّد اسد اللہ
ناگپور


نہ جانے کیوں مجھے اکثر یہ محسوس ہو تا ہے گویا بخار بھی کسی مہمان کی طرح ہے ۔ یہ عام طور پر شرعی مہمان کی طرح آ تا ہے اور دو تین دن سے زیادہ نہیںٹھہرتا ۔اس کے آتے ہی ہم ڈاکٹر انجکشن اور دوائی کی فکر میں لگ جاتے ہیں دیکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ بخار کو بھگانے کی تیّاریوں ہو رہی ہیں ،حالانکہ یہ سب اس معزز مہمان کی خاطر مدارت کے لیے ہو تا ہے ۔ کئی عدد گو لیاں ،انجکشن ،پھل اور دواؤں کے علاوہ کافی کی کئی پیالیاں حلق سے نیچے اتارنے کے بعد بخار جب رخصت ہو نے لگتاہے تو مریض چپکے سے اس کے کان میں کہتا ہے ،۔۔۔۔۔ بھائی ! کبھی کبار ادھر آ تے رہا کرو ، اسے اپنا ہی گھر سمجھو ۔تمہارے آ نے سے مجھے آ رام مل جاتا ہے ، ورنہ گھر میں میرے آ رام کی کسے فکر ہے ۔ تم ہی ان سب کو سمجھا سکتے ہو ، تمہا را کہا کو ئی نہیں ٹالتا ۔ تمہارا حوالہ نہ مو جود ہو تو چھٹّی کی دراخواست تک منظور نہیں ہو تی ۔
میں اکثر محسوس کر تا ہوں کہ بخار یا بیماری ایک بڑی طاقت ہے جو ہماری مصروفیات بھری زندگی کے پہیے کو روک دیتی ہے ۔ ہمیں بخار میں مبتلا کر کے قدرت یہ سوچنے پر مجبور کر تی ہے کہ اس دنیا کا سارا کام ہمارے ہی دم قدم سے نہیں ہے جیسا کہ ہمارا گمان ہے ۔ہم زندگی کی ہماہمی میں ذرا دیررک کر یہ سوچتے ہیں کہ ہی باور کراکے ہمیں کہیں بیوقوف تو نہیں بنایا جا رہا ہے کہ دنیا کی مشین کے سارے پرزے ہمارے ہی چلانے سے چل رہے ہیں ۔
بخار در اصل ایک مراقبہ ہے جس میں مریض پر انکشافات کے نت نئے در وازے کھلتے ہیں ۔ بخار میں جہاں ہمیں بر ے برے خواب دکھائی دیتے ہیں وہیں کچھ حقیقتیں بھی ہمارے آگے دست بستہ حاضر ہو تی ہیں ۔انسان کے سامنے اس کی شخصیت کے دونوں پہلو آ ئینہ ہو جاتے ہیں کہ حد درجہ کا رآ مد سمجھا جانے والا انسان وقت پڑے تو اتنا ہی ناکارہ بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ ہماری خوبیوں کے سارے پتّے کھل جاتے ہیں اور جن پتّوں پر تکیہ تھا وہی ہوا دینے لگتے ہیں ۔
بخار کے با رے میں لو گ باگ کچھ بھی کہیں ،ڈاکٹروں کی رائے جو بھی ہو میرا یقین ہے کہ بخار انسان کی ایک اندرونی ضرورت ہے ۔ بخار ہماری ہڈّیو ں اور خون کی تہ نشیں مو جوں میں بے کسی کی زندگی گذارتا ہے ۔ اندر ہی اندر لا وے کی طرح پکتا رہتا ہے ۔ ہماری شخصیت کے وہ اجزا جنھیں اپنی کسمپر سی اور عدم توجّہی اور زمانے کی نا قدری کا احساس آتش زیر پا رکھتا ہے ،جسم کے اندریکجا ہونے لگتے ہیں ۔ہماری سوچوں کے پنڈال مین جلسے منعقد ہو تے ہیں ،تقریریں ہو تی ہیں ،زمانے کو کوسا جاتاہے اور ایسی جگہ سے بھاگ چلنے کا مشورہ ہو تا ہے جہاں چارہ گر کو ئی نہ ہو اور نو حہ خواں کو ئی نہ ہو۔
ہماری ہستی کے ایسے تمام بے کل اجزا کا یہ مجمع جسم کے شہر میں ۔’’ شہر بند ‘‘ کا نعرہ لگا کر ہڑتال پر نکل پڑتا ہے تب جسم جاں سلگنے لگتے ہیں۔چھینکوں پر چھینکیں آ نے لگتی ہیں ۔ دردِ سر ہمارے پو رے وجود کا احاطہ کر لیتا ہے،تب آس پاس کے لوگ دوڑ دوڑ کر آ تے ہیں ۔ خیریت دریافت کر تے ہیں ۔ ’ بھئی کیا ہوا ،بخار کیسے آ گیا ؟ اس قد ر دوڑدھوپ اچّھی نہیں ،کچھ اپنی صحت کا خیال رکھو ،وغیرہ وغیرہ ۔
تسلّی کے یہ کلمات دواؤں کی مہک کی طرح فضا میں بکھر جا تے ہیں ۔اندھا کیا چاہے د و آ نکھیں ۔ ہمارے اندر چھپا بیٹھا بخاربھی دراصل یہی چاہتا ہے کہ کو ئی ہمارے حال پر ترس کھائے اور ہمدردی کے دو میٹھے بول بول کر ہمارا کلیجہ ٹھنڈا کردے ۔ ہم رات دن جن لو گوں کے لئے مرے جا رہے ہیں انھیں ہماری خدمات کا احسا س ہو ۔
عام حالات میں یہ فضا مفقود تھی ۔ بخار اپنے ساتھ ہمدردی کا موسم لایا ۔ لوگ اندھے آ ئینوں کی طرح تھے بخار نے ان میں ایک صحت مند آ ئینہ فٹ کر دیا جس میں ہمارا اصل چہرہ دکھائی دینے لگا ۔ اس آئینہ میں ہمدردی کا وہ عکس ابھر آ یا جس کی پیاس ہی بخار کا پیش خیمہ تھی ۔ عیادت اور مزاج پرسی کے آئینے میں نظر آ نے والے چہرے کو بخار نے در یافت کیا۔ اگر بخار اڑیل ٹٹو بن کر اس عکس کو ڈھونڈ نہ نکالتا تو وہ ہمیں کبھی نظر نہ آ تا۔ بخار نے ہی ملنے جلنے والو ں کے جذبات کو ظاہر کر دیا ۔ان عطر دانوں کو کھول دیا جن میں اپنائیت ،محبّت اور ہمدردی کا عطر بھرا ہوا تھا ۔بس پھر کیا تھا ہر طرف ایک خوشگوار محبّت بھرا ماحول پید ہو گیا ۔
واقعی بخار بڑے کا م کی چیز ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں