A blog by Muhammad Asadullah featuring Urdu articles, poetry, children's literature, translations, and other Urdu literary forms.
Wednesday, October 25, 2017
Tuesday, April 12, 2011
Mehar Dulhan Ka Haque Urdu مہر ۔دلہن کا حق

انجم آ راء ناگپور
دیگر قوموں کی طر ح مسلم سماج میں بھی خواتین ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ اسلام نے دین کے ذریعے عورتوں کو بہترین حفاظتی انتظامات مہیا کئے ہیں جن میں ان کا سماجی اور معاشی تحفظ بھی شامل ہے۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق عطا کئے ہیں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔اس کے باوجود آج اکثر مسلم گھرانوں میں خواتین حقوق سے محروم ہیں اور زیادتیوں کا شکار ہیں تو اس کی وجہ جہالت اور اسلامی اصولوں سے ناواقفیت ہے کہیں اسلام کے قوانین کو جاننے کے باوجود ان کی نافرمانی کر کے عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محرو م رکھا جاتا ہے۔
اسی کی ایک مثال ہمارے سماج میں مہر سے محرومی ہے۔ مہر دلہن کا حق۔ عام مشاہد ہ یہی ہے کہ نکا ح کے وقت مہر کی رقم طے تو کر لی جاتی ہے مگر ادائیگی نہیں کی جاتی بعض لوگ تو اسے ادا کرنے کی نیت تک نہیں کرتے ۔ ظاہر ہے یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔
اکثر مسلم خواتین نہ صرف مہر کے متعلق کچھ نہیں جانتیں بلکہ اسلام نے انھیں کون سے حقوق عطا کئے ہیں اس سے بھی ناواقف ہوتی ہیں اور نہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتی ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی میں قدم قدم پر مشکلات سے دوچار ہوتی ہیں۔ جب کہ اسلامی طریقے بہترین زندگی کی ضمانت ہیں۔
مہر کا رواج اسلام سے پہلے بھی تھا لیکن اسلام نے مردوں پر یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ نکاح کرنے پر عورتوں کو مہر ادا کریں اسلام سے پہلے لڑکی کا ولی مہر کا حقدار ہوا رتا تھا لیکن اسلام نے لڑکی کو جس کا نکاح ہو، مہر کا مالک قرار دیا ہے۔ کوئی بھی نکاح بغیر مہر کے صحیح نہیں ہوسکتا۔ نکاح کے وقت مہر طے کیا جاتا ہے ۔ مہر کی دو صورتیں ہیں۔
۱۔ مہر معجل: جو نکاح کے وقت ہی بہ عجلت،(فوراً:ادا کردیا جاتا ہے۔
۲۔ مہر موجل: سے مراد وہ مہر ہے جسے ادا کرنے کے لئے کوئی مدت طے کی گئی ہو یا مہلت دی گئی ہو یا بغیر کسی مخصوص مدت طے کئے اس کاادا کرنا طے پایا ہو۔
عام طور پر ہمارے یہاں نکاح کے وقت مہر معجل نقد یا زیورات کی شکل میں ادا کردیا جاتا ہے یہ ادائیگی مہر کی بہترین صورت ہے۔
قرآن نے مہر کے لئے ’صدقہ اور اجورون‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ صدقہ سے مراد وہ صدقہ جو سچائی اور ایمانداری سے دیا جائے اور خلوصِ نیت پر مبنی ہو نہ کہ ریا کاری اور احسان جتانے کے لئے ۔ قرآن نے مہر کے لئے جو دوسرا لفظ استعمال کیا ہ وہ نحلا ہے۔ نحلہ نحل سے ماخوذ ہے جس کے معنی شہد کے ہیں۔ جس طرح شہد کی مکھی بنا کسی ذاتی مفاد کے شہد کی پیداوار کرتی ہے اسی طرح مہر بھی بغیر کسی ذاتی فائدے کے دیا جاتا ہے۔
ہمارے سماج میں ایسے مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں کہ کسی مسلمان کے انتقال کے بعد اس کی بیوی کو شوہر کی نعش کے پاس لاکر گھر کی بڑی عورتیں اس عورت سے یہ کہتی ہے کہ اس کا مہر معاف کردو۔ظاہر ہے کہ یہ زبردستی ہے اور کسی کے حقوق زبردستی معاف نہیں کروائے جا سکتے۔اگر عورت دل سے معاف نہ کرے تو مرنے والے پر اس عورت کا حق باقی رہے گا جو اسے آخرت میں ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے یہاں شادی بیاہ میں فضول کاموں پر ہزاروں روپیہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے لیکن مہر ادا کرنے کے معاملے میں کوتاہی برتی جاتی ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لئے عوام میں بیداری پیدا کی جائے۔
Wednesday, September 08, 2010
Monday, August 09, 2010
Boodhe Ke Role Mein ...Inshaiye ..انشائیہ

[][][][][][][][][][][][][][][][][][][][][][][][][][]
,.,.,,,,,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,.,
ڈاکٹر سیّد صفدر
انشائیہ ایک نو خیز صنفِ ادب ہے اور ڈاکٹر محمّد اسد اللہ ایک نو عمر تخلیق کار ۔ محمّد اسد اللہ نے ایوانِ ادب میں قدم رکھا تو انشائیہ سے آ نکھ لڑی ۔اب حال یہ ہے کہ دونوں طرف برابر کی آ گ برابر لگی ہوئی ہے ۔ اس نشست میں مجھے انشائیہ اور اسد کے تعارف کاکوشگوار کام تفویض کیا گیا ہے ۔ مجھے دونوں ہی عزیز ہیں ۔اس لئے قلم ہے کہ لبّیک لبّیک پکار رہا ہے ۔محمّد اسد اللہ’بوڑھے کے رول میں‘حرمِ انشائیہ میں داخل ہو ئے ۔ہم سب جانتے ہیں کہ یہ رول تعلق کے باب میں اسمِ اعظم ہے ۔
روحِ تخلیق تک رسائی کی کوشش کا نام تنقید ہے ۔تنقید کے اس تخلیقی عمل نے شعر و ادب کی نئی دنیائیں دریافت کی ہیں۔ ان میں سے ایک انشائیہ بھی ہے ۔شاعری کے ضمن میں یہ بات معلوم ہو ئی کہ
ردیف و قوافی کے چکّر میں پھنس کر
کلامِ مقفّیٰ بھی نا شعر ہو تا ہے اکثر
کہ در اصل اشعار تخلیق کی جھیل کے خوبصورت کنول ہیں
وہ کشتی جو لے جا ئے ہم کو کنول تک۔
کنول تو نہیں ہے
وہ پا نی کہ جس میں کنول ہے۔کنول تو نہیں ہے۔ ( کرشن مو ہن ۔کنول تو نہیں ہے )
اصل شعر کو مو ضوع سے الگ کو نے کی کو شش میں پیکر پسندوں نے مستور حسنِ معنی کی ایک جھلک کو مجسّم کر نا شروع کیااور یوں مختصر نظم وجو د میں آ ئی جیسے مادّے میں مستورجوہری توانائی یا زندہ جسم کی جین دریافت ہوئی ہے۔ اسی طرح سفر ناموں،خطوط ،مضامین اورطنز و مزاح کی رگوں میں دوڑتی توانائی کی دریافت انشائیہ کے نام سے مو سوم ہو ئی ۔
انشائیہ معروض کی جزیات کے بیان کا نام نہیں ،اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے اور دکھانے کا عمل بھی نہیں ہے۔انشائیہ نگار معروض کے ان مخفی گو شوں کو ضبطِ تحریر میں لا تا ہے کہ غیر فنکار جن کے نظارے کی بصارت سے محروم ہو تا ہے ۔ اس بات کی تو ضیح کے لئے آ ندرے بریتون کا یہ بیان ملاحظہ فر ما ئیے ۔
گلاب کا پھول گلاب کا پھول ہے
گلاب کا پھول گلاب کا پھول نہیں ہے
پھر بھی گلاب کا پھول گلاب کا پھول ہے ۔ (بریتون ۔بحوالہ: ماہنامہ شب خون ۔الہٰ باد ۔شمارہ ۱۰۱۔ص ۱)
تخلیق کار گلاب کے پھول کو اس طرح دیکھتا ہے کہ وہ گلاب کا پھول نہیں ہے بمع اس کے کہ وہ گلاب کا پھول بھی ہے ۔قطرہ فنکار کے لئے صرف قطرہ نہیں ہے بلکہ قطرہ بمع دجلہ ایک نیااور انوکھا مظہر ہے ۔جب تک یہ نظر میسّر نہیں ہو تی، آ دمی تخلیق کا رنہیں ہو سکتا۔ اور انشائیہ نگار تو بالکل نہیں ہو سکتا ۔ دفتر سیاہ کر نا آ سان ہے مگر ایک مصرعِ تر کی تخلیق مشکل ہے کہ اس عمل میں شاعر کا سیروں لہو خشک ہو تا ہے ۔انشائیہ کہ افسانہ و افسوں کے خول میں محصور ہو نے کا انکاری ہے ۔ شاعری اورشاعری میں بھی غزل سے بہت قریب ہے ۔انشائیہ کا ہر ٹکڑا غزل کے شعر کی طرح آ زاد بالذات ہو تا ہے ۔ انشائیہ نگار غزل گو ئی کی طرح ایک نازک کا رگذاری ہے ۔اس کے لئے زبر دست تخلیقی توانائی در کار ہے ۔
کلاس روم ٹیچینگ کے ذریعے تخلیقی نظر کا حصول ممکن نہیں ہے ۔فنکار کی تربیت ادب پا روں سے ممکن ہے ۔محمّد اسد اللہ نے جوانی کی راتیں مرادوں کے دن مشرق و مغرب کے انشائیہ نگاروں کی معیت میں بسر کئے ہیں ۔جدید دنیا میں سماجی ،جغرافیائی ،لسانی اور ثقافتی سر حدیں ٹوٹ رہی ہیں ۔فرد کی ذات کی حدیں وسیع تر ہو تی جا رہی ہیں ۔ایک ادیب کو تو توسیعِ ذات کے لئے Multilingual ہونا بھی ضروری ہو گیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد اسد اللہ خوش نصیب ہیں کہ انھیں براہِ راست انگریزی ،اردو ،مراٹھی اور ہندی ادب تک بے تکلّف دسترس حاصل ہے ۔ادب کی دنیا ہماری خاک ،آب و باد کی دنیا سے وسیع ہو تی ہے ۔ مختلف زبانوں پر دسترس نے محمّد اسد اللہ کی تخلیقی دنیا کو وسیع تر بنا دیا ہے ۔اس لئے ان کی تخلیقی فکر مختلف الجہت اور کثیر اللون ہو گئی ہے ۔ڈاکٹر وزیر آ غا نے اس کتاب کے پیش لفظ میں اسد اللہ کو یوں دادِ سخن دی ہے ۔
’ محمّد اسد اللہ نے گہری سے گہری بات کے بیان میںتازہ کاری اور اپج کا مظاہرہ کیا ہے ۔اس کے ہاں ندرتِ خیال ہے جو بنے بنائے تراشیدہ اقوال کی پیوست پر ہمیشہ سے خندہ زن رہی ہے ۔ ‘
اور ڈاکٹر انور سدید یہ اعتراف کر تے ہیں کہ ’محمّد اسد اللہ کو ’ ایک ان دیکھی دنیا سے باتیں کر نے کا ملکہ حاصل ہے ۔ ‘
اب اس ان دیکھی دنیا کے کچھ مناظر بھی ہم دیکھتے چلیں ۔’بوڑھے کا رول ادا کر تے کر تے کیا ہوا ملاحظہ فر مائیے:
’ کل ہی کی بات لیجئے ،اپنے آ پ سے وفاداری کا تہیہ کر کے میں اپنے اندر اترا اور آ واز لگائی ۔’ اے ،میرے میں!ذرا باہر آ میں تیرا وفادار بن کر زندگی گذارنا چاہتا ہوں ،ایک لمحہ کے توقف سے ایک انتہائی نحیف و نزار بوڑھا لا ٹھی ٹیکتا ہوا باہر آ یا۔ میں اسے دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا اس بوڑھے کی طرح جس کی اولاد نا خلف نکل گئی ہو ۔۔۔‘
کیوں صاحب ذمّہ داریاں ہم بھی اٹھاتے ہیں کیا اس اقتباس کو پڑھ کر ایک بے نام مگر گرانبار جذبہ کا کتھارسس نہیں ہو تا؟اور کی ہم اپنے تئیں جذباتی سطح پر سبک بار محسوس نہیں کر تے ؟ یہی وجہ ہے کہ اپنی تخیلی ریاست میں شعراء کو قبول نہ کر نے والا افلاطون بھی حکمِ امتنائی جاری کر نے سے پہلے پھولوں اور خوشبوؤں سے فن کار کا استقبال کر نے کی ہدایت دیتا ہے ۔
محمد اسد اللہ کے انشائیوں میں پے در پے ایسے اقتباسات چلے آ تے ہیں گو یا کہہ رہے ہوں کہ دیکھو اس طرح سے سخن ور سہرا کہتے ہیں ،اسی انشائیے ’ بو ڑھے کو رول میں ‘ سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے ۔
’نہ صرف بڑھاپا بلکہ زندگی ہی زبردستی کا سودا ہے ،بچّہ دنیا میں قدم رکھتے ہی احتجاجی چینخوں سے فضا کا سینہ چھلنی کر دیتا ہے۔ہم نو مولو د کے احتجاج کو طربیہ نغمہ تصوّر کرکے خوشیاں مناتے ہیں ۔بچّہ ہماری نا عقلی پر چراغ پا ہو کر چینختا ہے کہ کن احمقوں میں آ پھنسا۔‘
’ سنجیدگی بڑھاپے کا امتیازی وصف ہے ہوش سنبھالتے ہی یہ وصفِ خاص مجھے ودیعت ہوا تو مجھے لگا کہ میری زندگی کے کالج سے کھلنڈرا نو جوان رسٹی کیٹ کر دیا گیا ہے ۔ ‘
’ میں نے چوں چرا کی تو حالات نے ڈانٹ پلا ئی کہ دیکھتے نہیں دنیا کا کیا حال ہے ،تمہارے اطراف حشر بر پا ہے اور تمہیں جوان ہو نے کی سوجھی ہے ۔‘
ہے نا غزل کی سی بات کہ اشعار چلے آ رہے ہیں اندر سے کو ئی کہتا ہے مکرّر ارشاد اور ہم بار بار اس اقتباس کو دہراتے ہیں ۔
مر حوم احمد جمال پاشا نے کہ خود ایک اچّھے انشائیہ نگار اور انشائیے کے پا رکھ تھے ڈاکٹر اسد اللہ کے تعلق سے لکھا ہے کہ
’وہ مو ضوع کا داخلی سفر اس انداز سے طے کر تے ہیں کہ ایک ان دیکھی دنیا کے بالکل نئے مظاہرقاری اچک اچک کر دیکھنے لگتا ہے ۔‘
معروض تواسد کے لئے ایک وسیلہ ہے ۔در اصل اس وسیلے سے جس ان دیکھی دنیا کے مظاہر قاری اچک اچک کر دیکھنے لگتا ہے وہ اس کی ذات کے بطون میں تخلیق ہو تے ہیں ۔وہ یہاں خلّاق علی الاطلاق ہو تا ہے ۔ کہ :
اپنی خلق کی ہو ئی بسیط زمین پر
سمٹتا پھیلتاجارہا ہوں میں
خدائے لم یزل کی سانس کی طرح ( قاضی سلیم)
اسی لئے محمّد اسد اللہ نے مانتین کے اس قول کو کتاب کا سر نامہ بنانا گویا یہ دعویٰ کر نا ہے کہ فن کار نے تخلیق کے رازِ دروں کا سراغ پا لیا ہے ۔اور اندرونی صفحات پرپھیلے انشائیے اس دعوے کی تصدیق کر تے ہیں جس قلم نے دعویٰ کی ہے وہ دلیل بھی فراہم کر تا ہے کہ انگشتِ شہادت بھی ہے ۔ راقم نے ابتدا ء میں مصنّف کو ٹو کا بھی تھا کہ آ پ کی منزل وزیر آ غا نہیں محمّد اسد اللہ ہے ۔ابتدائی انشائیوں ’ انڈا ،نیچر کی گود میں ‘ اور ڈائری میں اور کسی حد تک نا فرمانی میں بھی وہ وزیر آ غا تلاش کرتے پھر تے نظر آ تے ہیں۔
بوڑھے کے رول میں ،انھوں نے محمّد اسد اللہ کو پا لیا ہے اور بڑے اعتماد کے ساتھ اپنی رفاقت میں سر گرمِ سفر ہیں ۔ ’بو ڑھے کے رول میں ‘،’بخار ‘اور ’ گنگنانا‘ایسے انشائیے ہیں جن کا پڑھنا میں سعادت سمجھتا ہوں ۔ میں دعا کر تاہوں کہ اردوادب کے ہرشیدائی کو یہ سعادت نصیب ہو ۔ لکھنے کی حد تک تو مجبوری ہے کہ ’ایں سعادت بزورِ بازو نیست‘،مگر پڑھنے کی سعادت کچھ ایسی مشکل نہیں کہ صرف ۳۵ روپئے میں حاصل ہو سکتی ہے ۔
Wednesday, March 03, 2010
Ladkiyon Ki Taleem Aur Nae Halat تعلیمِ نسواں


انعام الرحیم، ناگپور
اس کائنات کا تمام تر نظام مکمّل طور پر اعتدال اور توازن پر قائم ہے ۔خالقِ کائنات نے قرآن کریم میں اور سرورِ کائنات ﷺ نے احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے اوراعتدال اور میا نہ روی کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے ۔
قدرت نے سماج کو مرد و زن میں تقسیم کیا ہے اور ان دونوں کی تعلیم و تربیت ،ضروریات ،حقوق و فرائض ،اور دائرۂ کار کا تعین ان دونوں کی فطری ساخت کے مطابق کیا ہے ۔اسی وجہ سے پوری کائنات اعتدال پر قائم ہے ۔اگر انسان قدرت کے متعین کردہ دائرۂ اختیار سے نکل کر خود کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط پر سماجی و معاشرتی نظام کوکھڑا کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ کا فطری توازن خود بخود بگڑ نا شروع ہو جائے گا اور سماجی زندگی بکھراؤ کا شکار ہو جائے گی جس کا مشاہدہ ہم دورِ حاضر میں کر رہے ہیں ۔
بین الذات شادیاں
گذشتہ چند برسوں میں شہر ناگپور میں ایک مسلم انجینئر لڑکی اور ایک ڈاکڑ لڑکی نے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ غیر مسلم رسم و رواج کے مطابق شادی کرکے ہندو مذہب کو اختیار کرلیا ۔ اس واقعہ نے ہر ذی ہوش مسلم کے دل کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس واقعہ کے بعد نہ صرف اس شہر میں بلکہ ملک گیر پیمانے پر اس قسم کے بیشمار واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔اور ان میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے اس کے باوجود مسلم والدین میں بین الذات شادیوں کو جدید تہذیب کا حصّہ سمجھ کر بخوشی قبول کیا جا رہا ہے ۔ موجودہ تحقیق سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مسلم لڑ کیوں کا بین الذات شادیوں MARRIAGE INTERCASTE
کا تناسب دوسری قوموں کے مقابلہ میں زیادہ ہے ۔ اسی وجہ سے اس موضوع پر قلم اٹھانا پڑا۔
تحریکِ آزادیِ نسواں کے اثرات
دورِ جدید میں مساواتِ مرد و زن ،عورتوں کی تعلیم و تربیت ،عورتوں کے حقوق ،روزگار ،معاش ،اور ان کی آزادی کو بنیاد بنا کر عالمی پیمانہ پر کئی تحریکیں چلائی جاتی رہی ہیں جن میں ایک نام نہاد تحریک، تحریکِ آزادیِ نسواںWOMEN'S LIBERATION بھی ہے ۔اس تحریک کا محرّک کون ہے ؟اس کی جائے پیدائش کیا ہے ؟اور اس تحریک کی غرض و غایت کیا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات جانے بغیر امّتِ مسلمہ کا ہر خاص و عام اس کی تقلید کر رہا ہے۔مسجدوں کے منبر و محراب ، مسلم محلّوں ،گلی کوچوں اور چھوٹے بڑے جلسوں میں بھی اس کی حمایت میں آوازیں سنائی دیتی ہیں۔اس تحریک کی تبلیغ میں علماء، دانشور،مفکّر ، ادیب، شاعر،سرپرست ، اساتذہ اور مصلحینِ قوم اس قدر منہمک ہوئے کہ قوم کے لڑکوںکو عضوِ ناکارہ سمجھ بیٹھے ، ان پر تعلیم و تربیت، ،معاش،روزگار،حقوق و فرائض ،اخلاق و اصلاح وغیرہ کے دروازے دانستہ یا نادانستہ طور پر بند کردئے گئے ۔امّتِ مسلمہ کے نوجوانوں کی کثیر تعداد آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے کہ الاماں والحفیظ ۔یہ نوجوان اس کے نتیجے میں جس بے راہ روی کی طرف جا رہے ہیں ان سے کو ئی قبیح فعل ایسا نہیں بچا جس کا ارتکاب انہوں نے کیا نہ ہو۔ ذرائع ابلاغ میں امّت کے ان نوجوانوں کے کارناموں کا کافی چرچا ہے ۔یہ صورتِ حال امّتِ مسلمہ کے حق میں نہایت خطرناک ہے۔ عالمی تحریکِ آزادیِ نسواں ،مساواتِ مرد و زن کی جدّو جہد اور موجودہ تعلیمی نظام اور ماحول کا جو ردِّ عمل ان نوجوانوں میں ظاہر ہورہا ہے اس کے نتیجہ میں ان میں اپنی تہذیبی قدریں ،شرم و حیا ،ادب لحاظ اور احترام سب کچھ مٹتا جا رہا ہے ۔ موجودہ تعلیمی نظام کا تربیتی و اصلاحی پہلو سے خالی ہونا،اس خرابی کا ایک اہم سبب ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
الحاد اور بے راہ روی
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
انگریزوں کی آمد کے بعد مغربی تہذیب کو جو زبردست فروغ حاصل ہوا اس نے ہندوستان کے سبھی ریفارمرس کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔مسلم علماء اور دانشوروں کے سامنے اس وقت کفر و الحاد اور مغرب پرستی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بے راہ روی ،آوارگی اور جنسی انارکی ایک زبردست فتنہ کی شکل میں منہ پھاڑے کھڑی تھی۔ آزادی کے بعد امّت کا ایک بڑا طبقہ اس الحاد کے معاملہ میں کسی حد تک بے فکر سا ہوگیا اس کا سبب شاید یہ بھی رہا ہو کہ ہمارے سماج میں اپنی تہذیبی قدروں کی بازیافت کا شعور پیدا ہوا اور مختلف مذہبی تحریکوں نے ہمارے اندر دین کو مضبوطی سے تھامنے کا جذبہ پیدا کردیا چنا نچہ الحاد سے کسی حد تک امن نصیب ہوا ،لیکن آج شعبۂ تعلیم میں تعلیمِ نسواں کے فروغ اور مخدوش ماحول نے الحاد کے اس سوئے ہوئے جن کو دوبارہ جگا دیا ہے ۔
معاشی عدم استحکام کے اثرات
موجودہ دور میں ہر قوم میں تعلیمِ نسواں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اس کی ایک اہم وجہ معاشی عدم استحکام بھی ہے ۔ بڑھتی ہوئی ضروریاتِ زندگی اور اچّھے رشتوں کی تلاش بھی اس کا ایک محرّک ہے ۔لڑکی کا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بر سرِ روزگار ہونا اس کے مستقبل اور خوشحال ازدواجی زندگی کا ضامن سمجھا جاتا ہے جو ہرحالت میں صحیح ثابت نہیں ہوتا ۔چونکہ لڑکیوں کے معاشی استحکام کو ان کی فطری ضروریات کا متبادل سمجھاجانے لگا ہے ،معاشی ا ستحکام نے لڑکیوں اور ان کے والدین میں انانیت پیدا کردی ہے جس نے زندگی سے مفاہمت کے سارے دروازے بند کر دئے ہیں ۔بے جوڑ رشتے قائم ہونے لگے ہیں جن میں معمولی کھٹ پٹ سے بکھراؤ پیدا ہوجاتا ہے ۔
یہ سچ ہے کہ تعلیمی بیداری نے لڑکیوں میں تعلیم کا گراف کچھ اونچا کردیا ہے لیکن دوسری طرف مسلمانوں میں لڑکے تعلیم کے میدان میںپسماندگی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ مسلم طلباء میں تعلیم کے شعبہ میں آگے بڑھنے والوں کی شرح اسقدر کم ہے کہ اس معاملہ میں اربابِ حل و عقد اور مصلحینِ قوم کو فکر مند ہوکر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہئے ۔ لڑکیوں کے کثیر تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے سے لڑکوں کو جن خرابیوں میں مبتلا کیا ہے ان میں ان کا کام چور ہونا ،کاہلی ، غیر ذمّہ داری ہٹ دھرمی اورتشدد پر آمادہ ہونا اہم ہیں ۔تصوّر کیجئے ایک ایسی قوم کا جس میں بیشمار لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور چند نوجوان پڑھے لکھے ہیں ۔کیا یہ عدم توازن ایک فتنہ بن کر نہیں ابھرے گا ۔ کیا اس صورتِ حال سے ایک صحت مند معاشرہ کی توقّع کی جا سکتی ہے ؟
طویل مدّتی تعلیم کے لڑکیوں پر اثرات
دورِ حاضر میںلڑکیوں کے والدین یا سرستوں نے لڑکیوں کو قومی اثاثہ سمجھ کر اپنی ضروریات ، و خواہشات،اور جذبات کی تسکین کا بوجھ ان کے کمزور کاندھوں پر ڈال دیا ہے اور اپنے ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے طالبات کو طویل مدّتی پروفیشنل کورسسیس میں داخلہ دلوا کر ان کی زندگی اور عمر کے اہم حصّہ کو داؤ پر لگا رہے ہیں ۔اسی لئے ان لڑکیوں میں چڑچڑا پن ،افسردگی،اور نفسیاتی امراض گھر کرنا شروع کردیتے ہیں ۔یہ عوامل بعض اوقات انھیں سماج سے بغاوت پر بھی آمادہ کردیتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ بین الذات شادیوں کا رواج ہماری قوم میں بھی وبا کی طرح پھیلنے لگا ہے ۔ تربیتی ،اخلاقی و اصلاحی زیور سے آراستہ بے شمار لڑکیاں جبراً صبر کرکے اور اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئیں ۔یہ تمام باتیں رسول اﷲ ﷺ کی تعلیمات سے سراسر انحراف ہے ۔ اسی لئے اس کے برے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ لڑکیوں کے بالغ ہونے پر ان کے نکاح میں جلدی کرو ،ورنہ سماج میںجو فتنہ و فساد برپا ہوگا اس کی ذمّۃ داری والدین پر ہوگی ۔
چند تجاویز
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں طالبات کی تعلیم پر توجّہ دی جا رہی ہے وہیں طلبا کی تعلیمی پسماندگی کا بھی کچھ علاج کیا جائے۔
۲۔قوم کے ہمدرد اور مصلحین اس مسئلہ پے سنجیدگی سے غور کریں اور ایسے ادارے قائم کریں جہاں صرف لڑکیوں کی تعلیم کا ،انتظام ہو اور وہ ہر طرح کی بے راہ روی اور گمراہیوں سے محفوظ رہ کر تعلیم حاصل کر سکیں ۔
۳۔ ہمارے مسلم اداروں میں سے بھی اکثرکو اس بات کی قطعی پروا نہیں ہوتی کہ وہاں موجود خراب نظامِ تعلیم اور دیگر بد انتظامیوں کی وجہ سے قوم کی بیٹیوں کووہ گمراہیوں کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں ۔ اس سلسہ میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔
۴۔ موجودہ صورتِ حال میں لڑکیوں کے سر پرستوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ تعلیمی ، معاشی اور نسبی معیار کو چھوڑ کر زند گی سے مفاہمت کو ترجیح دیں ۔
۵۔ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم اور پروفیشنل کورسیس میںداخلہ دلوانے سے پہلے لڑکیوں کی فطری ساخت اور اسلامی نقطۂ نظر کا بھی خیال رکھیں
۷۔ کالج کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہاں کا ماحول صاف ستھرا ، بے راہ روی اور آوارگی سے پاک ہو ۔
۸۔ ایسے کالج کو ترجیح دی جائے جہاں لڑ کوں اور لڑ کیوں کے اختلاط کی گنجائش کم ہو ۔
۹۔لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے قلیل مدّتی کورسیس مناسب ہیں اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کورسیس معاش و روز گار سے منسلک ہوں تاکہ وہ جلد از جلدمعاشی اعتبار سے مستحکم ہوسکیں ۔
۱۰۔ لڑکیوں کو خواہ وہ اسکول میں زیرِ تعلیم ہوں یا کالج میں ان کے اوقات اور مصروفیات کی خبر گیری نہایت ضروری ہے۔ والدین کو ان کے ساتھیوں اور ملاقاتیوں کا علم بھی ہونا چاہئے ۔
امّتِ مسلمہ کے ہر فرد کی یہ ذمّہ داری ہے کہ وہ اس صورتِ حال سے امّت کو باہر نکالنے کی کوشش کرے ۔ ملک گیر پیمانے پیمانے پر ایک ایسی تحریک چلانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے مسلم لڑکوں اور نو جوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا جاسکے اور خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے لئے انھیں آمادہ کیا جائے تاکہ ہماری معاشرتی زندگی میں جو عدم تواز ن بڑھتا جارہا ہے اسے توازن میں بدلا جا سکے۔
تتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتت
Saturday, February 27, 2010
On Eid E Milad سیرتِ رسول


قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ ، والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم ، تراھم رکعاً سجداً یبتغون فضلاً من اللہ ورضوانا ، سیماھم فی وجوھھم من اثراالسجود ، ذالک مثلھم فی التوراۃ و مثلھم فی الانجیل کذرغٍ اخرج شطہ فازرہ فاستغلظ فاستوٰی علٰی سوقہ یعجب الزرع لیغیظ بھم الکفار ، وعداللہ الذین اٰمنوا وعملوا الصالحات منھم مغفرۃ واجراً عظیماً ۔
ترجمہ : ’’ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جولوگ آپؐ کے ساتھ ہیں وہ کفار پر بہت شدید اور آپس میں بہت مہربان ہیں۔ تم دیکھوگے کہ کبھی رکوع میں ہیں اور کبھی سجدے میں۔ اللہ کی طرف سے اس کے فضل اور رضا مندی کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ تم ان کے چہروں پر کثرت سجود کے نشانات دیکھ سکتے ہو۔ یہ ان کی مثال توراۃ میں بیان کی گئی ہے اور انجیل میں ان کی یہ مثال بیان کی گئی ہے کہ شروع میں وہ بہت کمزور جیسے کہ کونپل نکلتی ہے پھر وہ اپنے تنہ پر سیدھی کھڑی ہوتی ہے اور تناور درخت بن کر کسانوں کو بھی تعجب میں ڈالتی ہے ایسے یہ صحابہ ہیں شروع میں کمزور پھر ایسے قوی کہ کفار دیکھ کر غصہ میں آجائیں کہ یہ کیا ہوگیا۔ اللہ کا وعدہ ہے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ، مغفرت کا اور اجر عظیم کا ‘‘
ان آیات میں والذین معہ سے مراد بالاتفاق صحابہ کرام ہیں۔ اور یہ تمام اوصاف جو بیان کی گئی ہیں صحابہ کرام میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ والذین معہ میں قیامت تک آنے والے وہ تمام اہل ایمان بھی داخل ہیں جو مقصد رسالت میں آپ کے ساتھ ہیں یعنی جو دعاۃ الی اللہ ہیں۔ یادوسرے الفاظ میں جو مبلغین حضرات ہیں۔ اس لئے کہ ان آیات میں صحابہ کرام کی صفات بیان کرنے سے پہلے حضورؐ کا رسول ہونا بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے تمام مبلغین چاہے وہ کسی زمانہ کے ہوں وہ ان آیات کے مصداق ہیں اور انہیں اپنے اندر ان اوصاف کا پیدا کرنا ضروری ہے۔ ان میں سب سے پہلی صفت کفار کے ساتھ بوقت جنگ شدت اور قوت ہے اور آپس میں یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ مہربانی کرنا جس میں اخلاق کے تمام پہلو شامل ہیں۔ داعی الی اللہ حضرات کے لئے جن میں علماء کرام تو بدرجہ اولیٰ شریک ہیں اپنے اخلاق کو مزین کرنا لازمی ہے۔ ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا جذبہ ہو بلاتفریق رنگ و نسل ہر مسلمان کا بھلا چاہنا ہو۔
مسلمان کی طرف سے جو ایذائیں پہنچیں ان کو بھی صبر و ضبط کے ساتھ جھیلنا یہ بھی اخلاق میں شامل ہے نہ کسی سے اپنے نفس کے لئے انتقام لینا ہے اور نہ ہی کسی کے لئے بددعا کرنا ہے۔ یہی حضورؐ کی سیرت کا نمونہ ہے۔ اپنے حقوق جو دوسروں پر ہوں انہیں چن چن کر ادا کرنا ہے کوئی حق اپنے ذمہ باقی نہ رہ جائے بلکہ حق سے زیادہ دینے کی کوشش کرنا ہے۔ صرف برابر کا معاملہ نہ ہو بلکہ ایثار اور اکرام کا معاملہ ہو۔ اپنا حق جو دوسروں پر ہے اسے معاف کردیا جائے۔ اپنا حق لینے کے لئے کسی سے لڑائی جھگڑا نہ ہو نہ رشتہ داروں سے نہ پڑوسیوں سے نہ عام مسلمانوں سے نہ سفر کے ساتھیوں سے نہ اپنوں سے نہ غیروں سے۔ ان اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہو کر ہم جب دین کی محنت کرینگے تو ہم والذین معہ میں شریک ہونگے۔
دوسری صفت جو لوگ رسول اللہؐ کے ساتھ ہیں کثرت عبادت ہے۔ عبادت تو انسان کا مقصد زندگی ہے۔ اللہ نے انسان کو اپنی بندگی ہی کے لئے پیدا کیا ہے۔ پھر یہ دوسروں کو اللہ کی بندگی اور عبادت کی دعوت دینے والا خود کیسے اللہ کی عبادت میں کوتاہی کرسکتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ترجمہ : ’’ میں نے نہیں پیدا کیا جن اور انسان کو مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں ‘‘۔ عبادت میں سب سے پہلے نماز ہے۔ نماز میں سب سے پہلے فرض نماز ہے۔ اس کی پابندی ہو کہ ہر فرض نماز جماعت کے ساتھ اور تکبیر اولیٰ کے ساتھ پڑھی جائے۔ اس میں خود حضورؐ کا نمونہ عمل موجود ہے کہ آپ نے خود ایسے وقت میں بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھی ہے جبکہ آپ کے قدم مبارک زمین پر جمتے نہیں تھے۔ دو آمیوں کے سہارے گھسٹ کر آپؐ مسجد میں تشریف لائے اور امت کو یہ عملی تعلیم دی کہ میرے نزدیک یہ نماز باجماعت اتنی اہم ہے کہ میں اس حال میں بھی باجماعت نماز پڑھ رہا ہوں۔ فرائض کے اہتمام کے بعد نوافل کی کثرت ہے۔ اس میں بھی حضورؐ اور صحابہ کانمونہ ہمارے سامنے ہو کہ کس کثرت سے آپؐ عبادت کرتے تھے حتیٰ کہ پیروں پر نماز میں کھڑے رہنے کی وجہ سے ورم آجاتا تھا۔ اور اللہ کی طرف سے بھی آپؐ کو یہ حکم تھا کہ جب بھی آپ اپنے فرض منصبی یعنی دعوت سے فارغ ہوں اللہ کی طرف رغبت کیا کیجئے۔ فرمایا : فاذا فرغت فانصب و الیٰ ربک فارغب۔
اسی طرح اس زمانہ کے داعی الی اللہ بھی نوافل کی کثرت رکھیں۔ کم از کم چار مشہور نوافل اشراق، چاشت، اوابین، اور تہجد کا تو ضرور اہتمام ہو۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوں تحیۃ المسجد پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ ہمیشہ باوضو رہنے کی عادت ڈالیں۔ جب بھی وضو ٹوٹ جائے دوبارہ وضو کر کے دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھ لیں۔
وضوء کو حدیث میں سلاح المومن فرمایاگیا ہے۔ یعنی وضو مومن کا اسلحہ ہے جب تک مومن باوضو رہتا ہے شیطانی وساوس سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ چلتے پھرتے میں ذکر ا اللہ کا اہتمام ہو۔ خصوصاً تین تسبیحات، سوم کلمہ، درود شریف اور استغفار کو لازم پکڑیں۔ جب بھی ہاتھ پاؤں سے کسی عمل میں مشغول ہوں تو ذکر سے زبان کے اہتمام سے پوری زندگی ذکر والی بن جاتی ہے۔ اور ایمان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
تیسری اہم صفت ان لوگوں کی جو رسول اللہ ﷺ کے کام میں آپ کے ساتھی ہیں، اللہ کی رضا کی جستجو ہے۔ ہر عمل میں اللہ کی رضا ہی مقصود ہو۔ کوئی عمل چاہے بظاہر دنیاداری کا عمل نظر آتا ہو اس کو بھی اپنی نیک نیتی کے ذریعہ دین اور اجروثواب کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے جب بھی کسی عمل کے لئے اٹھیں تو نیت کریں کہ میں یہ عمل اللہ کے لئے کرتا ہوں۔ اگر کوئی فاسد غرض ذہن میں آئے تو اس کو نکال دیں۔ اس پر استغفار کریں۔ مثلاً ایک آدمی اپنا گھر تعمیر کررہا ہے اس میں کھڑکیاں لگائی جارہی ہیں، نیت کرے کہ ان کھڑکیوں سے اذان کی آواز سنونگا۔ روشنی اور ہوا تو مل ہی جائیگی۔ اذان کی آواز سننے کی نیت نے اس کھڑکی لگانے کے عمل کو بھی حصول اجر کا ذریعہ بنادیا۔ اسی طرح ہر کام میں نیک نیتی کی برکت حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک گلاس پانی بھی کسی کو پلائیں تو نیت کرلیں شاید اللہ اس عمل سے راضی ہوجائے۔ بیوی بچوں کو کھلانا پلانا بھی اللہ کی رضا کے لئے ہو۔ اللہ تعالیٰ اس عمل کا کوئی اجر ہی نہیں عطا فرماتے جو اللہ کے لئے نہ کیا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعلان فرمائینگے کہ جس نے جو عمل جس کے لئے کیا ہے آج وہ اس کا بدلہ اسی سے لے لے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس صرف ان ہی اعمال کا اجر ہے جو اللہ کے لئے کئے گئے ہوں۔
مبلغین حضرات بھی اس کا اہتمام فرمائیں۔ کہ ہر عمل اللہ کے لئے کیا جارہا ہو۔ دوسری کوئی غرض کسی عمل میں بھی شامل نہ ہو۔ اخلاص کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی مردہ ہے۔ اور اخلاص سے ساتھ چھوٹا سا عمل بھی بہت بڑا اور قابل معاوضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
kkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkk
سیرت نبی ﷺ سے زندگی سنواریئے
محمّد شریف ،ناگپور
حضورؐ کی سیرت کا ایک پہلو جو عام مسلمانوں کے لئے نہایت سہل اور قابل اتباء ہے وہ آپ کی معاشرت ہے۔ اگر ہم ذرا سا دھیان دیں اور عادت ڈالنے کی کوشش کریں تو ہمارے عام معمولات سنت نبوی کے مطابق ہوسکتے ہیں اور ہمارا سنت کے مطابق ان کاموں کا کرنا ہمارے لئے ذخیرہ آخرت اور دنیا میں برکات کا سبب ہوسکتا ہے۔ اور اگر ہم نے رفتہ رفتہ ترقی کر کے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو اللہ کی طرف سے بہت بڑے بڑے انعامات کے مستحق بن سکتے ہیں۔ مثلاً رسول اللہؐ نے فرمایا من تمسک سنتی عند فساد امتنی فلہ اجر مائۃ شہید ۔ جس نے میری امت کے بگاڑ کے زمانہ میں میری سنت کو مضبوطی سے پکڑا اس کے لئے سو شہیدوں کا اجر ہے۔ اور حضورؐ کے معاشرت یعنی عام رہن سہن کے طریقہ ایسے نہیں ہیں جو ہمارے بس کے نہ ہو بلکہ آسان ہیںاور قابل عمل ہیں۔ اور فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں اور ان میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ صرف تھوڑا دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً آپ کا کھانے پینے کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھا ہاتھ استعمال کریں ۔ بیٹھ کر کھائیںیا پئیں۔ کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ کہہ لیں اور فارغ ہونے کے بعد الحمد للہ کہہ لیں۔ یہ ایسا کونسا مشکل کام ہے جو ہم سے نہیں ہو سکتا اس کے باوجود بہت سے مسلمان بائیں ہاتھ سے پانی اور چائے پیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ان کی غفلت ہے جو انہیں حضورؐ کی سنتوں سے محروم کئے ہوئے ہیں۔ ایسے سادہ اور آسان پاکیزہ طریقے حضورؐ کی سنت میں موجود ہیں۔ مگر یہ فائدہ نہیں اٹھاتے ان کی مثال ان کروڑ پتی اولاد کی طرح ہے جو کروڑوںکی جائیداد کے باوجود پھٹے پرانے کپڑوں میں بھوک پیاس کی حالت میں پھر رہے ہیں اور جھوپڑوں میں زندگی گذاررہے ہیں۔ یعنی اپنی جائیداد سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوں یا باہر نکلیں حضورؐ کا طریقہ ہے ۔ داخل ہوتے وقت دایاں قدم پہلے اندر رکھیں اور اللھم افتح لی ابواب رحمتک پڑھ لیں یعنی اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھولدے۔ اسی طرح باہر نکلتے وقت اللھم افتح لی ابواب فضلک ۔یعنی اے اللہ میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔ یہ دستور ہے کہ جب آدمی مانگتا رہتا ہے تو ملتا بھی رہتا ہے۔ جب دن بھر میں کم از کم ۵! مرتبہ اللہ سے اس کا فضل اور رحمت مانگے گے تو کیا محروم رہے گے جبکہ اس کی طرف سے ادعونی استجب لکم کا وعدہ موجود ہے۔
حضورؐ کی معاشرت کا ایک طریقہ ہے السلام قبل الکلام یعنی بات سے پہلے سلام کرو۔ ایک گھر کے افراد اور باہر کے بھی بار بار ملنے جلنے والے لوگ بلا سلام سامنے آتے ہی بات شروع کردیتے ہیں۔ اس میں کیا مصیبت ہے کہ پہلے کوئی ایک السلام علیکم کہہ دے اسی طرح فون یا موبائیل سے بات کرتے وقت Hello کہنا غیروں کا طریقہ کیوں اختیار کررکھا ہے۔ اس میں کیا پریشانی ہے کہ جب ہمیں اپنے فون پر Bell سنائی دے ہم پہلے السلام علیکم کہیں۔ اگر اس کااحتمال ہے کہ فون کرنے والا غیر مسلم بھی ہوسکتا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ہم اسے سلامتی کی دعا دے رہے ہیں اور سلامتی بغیر اسلام کے نہیں ملتی گو یا ہم اسے مسلمان ہونے کی ہی دعا دے رہیں ہے۔ اگر ہم نے کسی کو call کیا اور وہ Hello کہہ دے تو ہم سلام کرلیں۔ اگر وہ ہم سے چھوٹا ہے تو بھی پہل کرلینا نفع کی بات ہے نہ کہ نقصان کی۔ ایسے ہی ہمارے روازنہ کے معمولات میں ہے استنجا یا بیت الخلاء کے لئے جانا آنا۔ اس میں بھی حضورؐ کا طریقہ اختیار کرنا کونسا مشکل ہے۔ داخل ہونے سے پہلے اللھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث پڑھ کربایاں پیر اندر داخل کریں اور جب باہر نکلیں تو دایاں پیر باہر نکالیں۔ اور یہ دعا پڑھ لیں۔ غفرانک الحمد للہ الذی اذھب عنی الاذیٰ و عافانی ۔ اے اللہ تیری معافی، تما م تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھ سے اذیت کی چیز کو دور کر دیا اور عافیت بخشی۔ کیسا بہترین طریقہ ہے حضورؐ کا کہ بیت الخلاء بھی اللہ سے قرب دلانے والا ہے۔ ایمان بڑھانے والا ہے اور د نیا کے مصائب کو دور کرنے والا ہے۔ جو شخص اہتمام سے اس دعا کو پڑھتا ہے و ہ پیشاب پاخانہ رک جانے کی بیماری سے محفوظ رہتا ہے۔
اسی طرح کپڑے پہنا ہمارے معمولات میں سے ہے۔ اس میں حضورؐ کا طریقہ کیا مشکل ہے۔ پہنتے وقت سیدھا ہاتھ یا سیدھا پیر پہلے داخل کریں۔ اور اتارتے وقت بایاں ہاتھ یا پاجامہ ہے تو بایاں پیر پہلے نکالیں۔ سائیکل ،موٹر سائیکل ،کا ر ،بس ، ریل ، ہوائی جہاز کی سواریوں کا استعمال عام ہے۔ جب بھی کسی سواری پر سوار ہوں ، دایاں پیر پہلے داخل کریں ، بسم اللہ کہتے ہوئے۔ جب سوار ہو جائیں الحمد للہ کہہ لیں۔ اور یہ دعا پڑھ لیں۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین و انا الیٰ ربنا لمنقلبو ن ۔ ذرا ترجمہ پر غور کریں کیسا اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اس کو مسخر کردیا ہم ہر گز اس پر قابو نہ پاتے اگر وہ ہمیںقابو نہ دیتا اور ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔سواریوں کے استعمال کے وقت اس دعا کا اہتمام رہے تو آدمی سواری کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔ Accidents کے تدار ک کا یہ آسان نسخہ ہے۔ مگر ہماری ظاہربیں نگاہیں وہی کہہ رہی ہیں جو بغیر ایمان والے کہہ رہے ہیں کہ traffic controll صحیح نہیں ہے۔ جب سواری چلنے لگے تو یہ استغفار پڑھ لیں۔ سبحانک انی ظلمت نفسی فاغفرلی لایغفر الذنوب الا انت ۔ یعنی ’’ تو پاک ہے بے شک میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے پس مجھے معاف کردے، تیرے علاوہ گناہوں کا معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘‘ ۔
اس دعا کے پڑھنے کے بعد اپنے ساتھی یا آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ یہ مسکرانا بھی ایک خاص مصلحت سے ہے۔ جب بندہ یہ استغفار پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ مسکراتا ہے اور فرماتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ اور مغفرت کردیتا ہے۔ کیسا بہترین دین ہے کہ دنیا بھی بن رہی ہے اور آخرت بھی۔ سواری کا استعمال کر کے لمبے لمبے فاصلے آسانی سے طے ہوجارہے ہیں حادثات سے بھی حفاظت ہورہی ہے اور اللہ سے تعلق بھی بڑھ رہا ہے اور مغفرت بھی ہورہی ہے۔ اس میں سواری کی تخصیص نہیںہے۔ حضورؐ کے زمانہ میں صرف جانوروں کی سواریاں تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں قیامت تک ایجاد ہونے والی تمام سواریوں کی خبر اجمالی طور پر دے دی ہے۔ فرمایا : الخیل والبغال و الحمیر لترکبواھا وزینۃ ویخلق مالا تعلمون ۔ یعنی ’’ ہم نے تمہارے لئے اونٹ، گھوڑے اور خچر پیدا کئے جن پر تم سوار ہوتے ہو، اور زینت دکھاتے ہو اور ہم ایسی چیزیں پیدا کرینگے جس کو تم جانتے نہیں ہو ‘‘۔ سائیکل سے لیکر ہوائی جہاز تک تمام سواریاں مالا تعلمون میں داخل ہیں۔ یہ سیرت نبی کا وہ حصہ ہے جو ہر مسلمان آسانی سے اپنا سکتا ہے اور اپنی زندگی کو مزین کر سکتا ہے۔ واقعی حضورؐ کے طریقے آدمی کی زندگی کے لئے رونق اور زینت ہیں۔ حضورؐ کی معاشرت کے بغیر مسلمانوں کی زندگی بے نور ، بے رونق اور ظلمتوں سے بھری ہوئی ہے۔ اسی طرح اپنی زندگی کے ہر گوشہ میں غور کریں کہ ہم اس میں حضورؐ کی سیرت سے کیا داخل کرسکتے ہیں۔ ایک پہلو حضورؐ کی سیرت کا یہ ہے کہ ہم اپنا سلوک اور برتاؤ تمام انسانوں کے ساتھ بلکہ تمام مخلوق کے ساتھ منصفانہ اور کریمانہ بنائیں ۔ ہم اخلاق میں جتنی ترقی کرینگے حضورؐ سے مشابہت میں ترقی ہوگی، حضورؐ سے تعلق میں ترقی ہوگی۔
حضورؐ کے اخلاق کا ایک نمایاں وصف عدم تکبر یعنی تواضع ہے۔ حضورؐ کائنات کی تمام مخلوق میں سب سے بڑے ہیں لیکن تواضع کا یہ عالم ہے کہ فرماتے ہیں میں اس ماں کا بیٹا ہون جو سوکھا ہوا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھی۔ راستہ چلتی ہوئی کوئی غریب بڑھیا بھی آپ کو بلا تکلف روک کر آپؐ سے جتنی چاہتی بات کرلیتی تھی۔ مرتبہ تو اتنا بلند کہ جبرائیل علیہ السلام بھی آپ کے پاس بغیر اجازت نہیں آتے تھے۔ اور تواضع اتنی کہ اعرابی یعنی دیہاتی بھی آپ کے مجلس میں بیٹھ کر سوالات کرلیتے تھے۔ معراج کے سفر میں براق آپؐ کی سواری ہے اور زمین پر اپنے گھر میں آپ اپنے نواسوں حسن اور حسین کے لئے خود سواری بنے ہوئے ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں انا سید ولد آدم ولا فخر یعنی میں اولاد آدم کا سردار ہوں لیکن مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔ سیرت پاک کا یہ پہلو بھی امت کے لئے قابل عمل ہے۔ گو کہ ہم اخلاق کی اس بلندی پر نہیں پہنچ سکتے مگر اس کی تمنا کر کے کوشش تو کرسکتے ہیں۔ آپ کے اخلاق کی عمدگی کی سند خود اللہ رب العالمین فرمارہا ہے۔ انک لعلیٰ خلق عظیم ۔یعنی ’’ آپؐ اخلاق عظمہ پر ہیں ‘‘۔ آپ کی زوجہ محترمہ ام المومنین سیدہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ خلقہ القرآن ، آپ کے اخلاق قرآن ہیں۔ یعنی قرآن میں اخلاق کی جو کچھ تعلیم دی گئی ہے بدرجہ اتم وہ آپؐ میں موجود ہیں۔ ہم بھی اس کی کوشش کریں کہ ہمارے اخلاق حضورؐ کے اخلاق سے قریب تر ہوتے جائیں۔ ورنہ سیرت مبارکہ صرف تقریر وتحریر کی زینت بن کر رہ جائیگی۔ دنیا کو اس کی ضرورت ہے کہ آپؐ کے ماننے والے اپنی زندگی میں ان اخلاق کا مظاہرہ کریں جو سیرت میں حضورؐ کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ پھر دنیا آپ کی قدر کرینگی۔ ورنہ آپ کے اخلاق اور آپ کی زندگی کو حضورؐ کی زندگی سے مختلف پاکر آپ کی دشمن بنے گی۔
اس لئے تمام مسلمان حضورؐ کی سیرت طیبہ کو اپنانے کا فیصلہ کریں۔ آپؐ غصہ کے عالم مین بھی حد سے اور حق سے تجاوز نہیں فرماتے تھے۔ دشمن پر بھی کبھی آپؐ ظلم نہیں کرتے تھے۔ ظالموں کو معاف کرنا آپؐ کی عام عادت تھی۔ اللہ کی اطاعت کا آپ نے حق ادا کردیا اس کے باوجود اللہ سے استغفار کرتے تھے۔ ہمیشہ اپنی بندگی کا اظہار کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو آپؐ کی سیرت پاک کی اتباء کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
Sunday, October 18, 2009
Sunday, September 27, 2009
شادی کے بعد .....انشائیہ
انشائیہ
محمّد اسداللہ
شادی کے بعد ہونے والی رنگ برنگی تقریبات کو ہم عاشق کا نہ سہی عشق کا جنازہضرور کہہ سکتے ہیں ۔ زندگی نکاح کے بعد گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے لگتے ہے۔ شاید اسی موقع کے لئے کہا گیا ہے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہو تی ۔ چند ہی دنوں میں یہ رنگ اڑ جا تاہے او ر پھر کبھی واپس نہیں آ تا خوا ہ آ پ نکاحِ ثانی ہی کیوں نہ کر لیں ۔
اذدواجی زندگی کی ابتدا میں حا صل ہو نے والی بے پناہ مسرّتوں کو عمر بھر قسطوں میں لو ٹانا پڑتا ہے ۔اذدواجی زندگی ایک شکر میں لپٹی ہو ئی گولی ہے ۔دولہے میاں کا کوٹ اترنے نہیں پا تا کہ شکر کا غلا ف تر نے لگتا ہے۔
سنا ہے انگریزی کے مشہور شاعر ملٹن نے شادی کے بندھن میں بندھ جا نے کے بعد اپنی شہرۂ آفاق نظم پیراڈائیز لاسٹ لکھی تھی اور چند بر سوں بعد جب اس کی بیوی اسے داغ، مفارقت دے گئی تو پیرا ڈائیز ری گین لکھ کر سکھ کا سانس لیا ۔
ملٹن بحر حال ایک عظیم شاعر تھا ۔ مجھ جیسا بچّہ ادیب تو شادی کے بعدطنز و مزاح نگاری چھوڑ چھاڑ کر تنقید نگاری سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتا ہے ۔شادی کے بعد چند عبوری ماہ و سال گزر جا ئیں تو شوہر کو یہ محسوس ہو نے لگتا ہے کہ وہ خود اپنی ذات پ ایک بہت بڑا طنز ہے ۔اسے لگتا ہے کہ آدمی خود ایک چلتے پھرتے لطیفے میں ڈھل چکا ہو تو لو گوں کو ہنسانے کے لئے کاغذ قلم کو زحمت کیوں دی جائے۔ قرضداروں سے سہما ہوا ،بیوی سے ڈرا ہوا،نو نہالوں سے لدا ہوا شوہر ایک ان کہا اور ان سنا لطیفہ ہی تو ہے ۔
کسی کا سرتاج کہلانے والا یہ شخص ذمہ داریوں کے کانٹوں کا تاج سر پر پہنے ،مسکرانے کے لئے مسکرانابھول جاتا ہے۔ وہ ہنستا اس لئے کہ رو نہیں سکتا ۔(اسے بچپن ہی سے گھر میں یہ سکھا یا گیا ہے کہ رونا لڑکیوں کا کام ہے اور انھیں رلانامردوں کی ذمّہ داری ہے ۔ )مرد اپنے رونے کو مسکراہٹ کی زبان میں ٹرانسلیٹ کر لیتا ہے ۔اسی لئے شوہروں کی ہنسی اور انگریزی ناول کے کسی تھرڈکلاس ترجمہ میں کو ئی خاص فرق نہیں ہوتا۔
شوہر کی زندگی میں وہ لمحات بھی آ تے ہیں جب اسے نہ مسکرانے کی ضرورت ہو تی ہے نہ فرصت ۔ یہ سوغات تب تماشائیوں کے حصّے میں آتی ہے ۔مگر خندۂ زیرِ لب اچھالنے والے بھی کب تک اپنی خیر منائیں گے ۔
Sunday, September 13, 2009
مبارک ہو کہنے سے عید نہیں ہو تی Celebrating Eid -- Ramadan

عید تو مبارک ہوتی ہی ہے، عید اپنے ساتھ ایسی برکتیں سمیٹ کرلاتی ہے کہ امت کا ہر فرد اس سے نفع اٹھاتا ہے۔ بلکہ مسلمانوں کے قرب و جوار میں رہنے والے غیر مسلم بھی عید کی برکات میں سے کچھ نہ کچھ مادی برکات پاہی لیتے ہیں اور وہ ان برکات کی وجہ سے سال بھر عید کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن عید کی حقیقی برکات ان لوگوں کو ملتی ہیں جو رمضان المبارک میں روزوں کا اہتمام کرتے ہیں اور ان روزوں سے ان کو صرف اللہ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ وہ نمازوں کا اہتمام کرتے ہیں تراویح بھی ادا کرتے ہیں کثرت سے ذکر و تلاوت کرتے ہیں۔ صدقہ خیرات بھی دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے حقیقت میں عید ہے۔ لوگ زمین پر عید کا جتنا اہتمام کرتے ہیں نئے کپڑے بناتے ہیں اچھے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں آسمانوں پر عید کا انتظام اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ عید کی رات کو آسمانوں پر لیلۃ الجائز ہ یعنی انعام کی رات سے یاد کیا جاتا ہے۔
اب ذرا غور کریں کہ کسی کو جبرائیل علیہ السلام کی بددعا لگ گئی ہو تو اس کو کسی کی عید کی مبارک باد دینا کیا کام آسکتا ہے۔ لیکن ہائے ہماری بے ہوشی کہ ہم عید کی تیاریوں میں لگے ہوتے ہیں عید کے لئے نئے نئے کپڑے جوتے ٹوپی خریدنے جارہے ہیں، عید کی نماز سے فارغ ہو کر سیروتفریح کے پلان بن رہے ہیں۔ دن عید جیسا مبارک اور اس کا استقبال نمازیں چھوڑ کر اور گناہوں کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ جو خاص مغفرت کا عشرہ تھا اس کو بھی رات رات بھر بازاروں کے چکر کاٹ کر گذار دیئے۔ مردوعورتوں کا ہجوم ہے جو طاق راتوں میں بھی بجائے مساجد کے بازار کی دوکانوں کو آباد کئے ہوئے ہیں۔ نہ کسی کو شب قدر کی جستجو ہے نہ اپنے آپ کی مغفرت کی آرزو ہے۔ تشبع بالکفار ہے کہ صرف دنیا کی ظاہری زندگی پر ہی نظر ہے اور آخرت آنکھوں سے اوجھل ہے۔ گویا ہم اس آیت کا مصداق ہیں جو کفار کے بارے میں بیان کی گئی ہے
اللہ فرمائیگا چل میرے خاص بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ لیکن یہ خطاب ان ہی کے لئے ہے جنہوں نے دنیا میں اپنے نفس کو قابو میں رکھا اور اللہ کی مرضیات پر چلاتے رہے۔ اس طرز زندگی کو اپنا نے کے لئے یہ رمضان کا مہینہ دیا گیا ہے تاکہ عید ہمارے لئے زندگی کے رخ کو پلٹنے کا ذریعہ بن جائے۔ عید گاہ سے ہم سچی پکی تو بہ کر کے لوٹیں اپنی مغفرت کرالیں اور اللہ سے آئندہ زندگی میں فرمانبرداری کا عہد کر کے اٹھیں اور اس کے لئے اسی سے توفیق بھی مانگیں ، اب یہ عید واقعی اس قابل ہے کہ اس کے لئے مبارک باد دی جائے۔
Monday, August 31, 2009
Wednesday, June 10, 2009
Urdu Teaching Aid Powerpoint Presentation - Asnafe Adab

Powerpoint Presentation
پیش کی جا رہی ہے۔ اسے اردو اساتزہ کے ایک تربیتی اجلاس کے دوران ایل سی ڈی پراجکٹر کے ذریعہ دکھاےا جا چکا ہے۔
Thursday, April 16, 2009
Muslim voters aur voting مسلم ووٹر اور ووٹنگ

یہ ایک سوال ہے جو حالیہ لوک سبھاالکشن کی ہنگا مہ آ رائیوں کے درمیان اکثر ذہنوں میں سر ابھارتا ہے۔
اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ عام مسلمان اپنے گزشتہ برسوں کے تجربات کی بنیاد پر منتخب ہو نے والی سیاسی پارٹیوں کی کا رکردگی سے بری طرح مایوس ہوا ہے اور مستقبل میں بھی سیاسی لو گوں سے کو ئی خاص امّید نہیں کی جا سکتی ۔ گویا اب الکشن میں ہمارے لئے ووٹ ڈالنے کا مقصد اچّھے حکمرانوں کا انتخاب کر نا نہیں ،بلکہ دو بُرے لو گوں میں سے کسی کم بُرے کو چنّا ہے ۔ لیکن جو لوگ اس میدان میں اترے ہیں ان پر ایک نظر ڈالئے تو لگتا ہے یہاں تو ساری ہی دال کالی ہے ۔یہ سبھی ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے ہیں ۔
بظاہر دو درختوں کی طرح جو کچھ فاصلے پر کھڑے نظر آ تے ہیں، لیکن ان کی جڑیں اندر سے ایک دوسرے سے ملی ہو ئی ہیں ، یہ سیاسی پارٹیاں حکومت بنانے کے لئے یا بالفاظِ دیگر کر سی حاصل کر نے کے لئے سیاسی گٹھ بندھن کے نام پر ایک ہوجائیںگی۔یعنی ہمیں ان لوگوں کو منتخب کر نا ہے جو اس میدان کے مرد ہیں اور آ ئے ہی اسی ارادہ سے ہیں کہ مال و دولت،شہرت حکومت حاصل کر یں گے ۔ان میں شائد ہی کو ئی ایسا ہوگا جو خالص خدمتِ خلق کا جذبہ لے کر آ یا ہو اور اپنی دنیا بنا ناا س کے پیشِ نظر نہ ہو، بلکہ ایسا کو ئی اس گلی میں آ ئے اور آخر تک اپنے ارادہ پر قائم رہ پائے حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے ( کہ نکٹو ں کی بستی میں کسی ناک والے کو ٹکنے نہیں دیا جاتا ) تو اس شخص کو سادہ لوح کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے اسی لئے اب سیاست میں شریف لوگ بہت کم گھستے ہیں (کیونکہ شریف آ دمی گھس پیٹھیا نہیں ہو تا) ۔بقول غالب ؔ
ہاں وہ نہیں خدا پرست ؛جا ؤ، وہ بے وفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں
ایک حکایت
ایک شخص کو پھانسی کی سزا دینے سے پہلے بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو بادشاہ نے کہا : آ ج ہماری بیٹی کا جنم دن ہے اس لئے ہم تم پر خاص عنایت کر نے والے ہیں ۔وہ آ دمی بہت خوش ہوا کہ ممکن ہے جان بخشی ہو جا ئے ۔ بادشاہ نے کہا : تمہارے سامنے تین کارڈ ہیں ان میں سے جو سہولت تمہیں پسند ہو اسے چن لو ۔ مجرم نے پہلا کارڈ اٹھایا اس پر لکھا تھا ’موت‘ ،اس نے گھبرا کر دوسرا کارڈاٹھایا ،اس پر درج تھا’موت‘ ۔اس نے اس امّید پر کہ یقینا یہی بادشاہ کی طرف سے خاص عنایت ہے تیسرا کارڈ اٹھایا اس پر بھی لکھا تھا ’موت‘۔
یہی حال ہمارے ووٹروں کا ہے خواہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو منتخب کریں نتیجہ وہی ہے ڈھاک کے تین پات !
مو جوددہ دور میں مسلمان سوچتے ہیںکہ ہم کو جن سے ہے وفا کی امیّد ،وہ نہیں جانتے وفا کیاہے ۔اسی لئے عام طور مسلمانوں کا بڑا طبقہ نہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کر وانے کے کئے دوڑ دھوپ کر تا ہے اور نہ مسلم ووٹر اپنا ووٹ بینک کتنا طاقتور ہے یہ بتانے کی فکر کر تے ہیں ۔
یہ اور بات ہے کہ بدلتے ہو ئے حالات نے اب خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے میں یہ شعور پید اکر دیا ہے کہ ہمیں ووٹ کا استعمال ضرور کر نا چاہئے ۔یہ نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ اگر ہم اپنی پسندیدہ پارٹی کو منتخب کروانے میں زیادہ دلچسپی نہ لیتے ہوں تو کم از کم ووٹ کی طاقت کا استعمال کر کے ان سیاسی جماعتو ں کو حکومت پر قابض ہو نے سے روک ضرور سکتے ہیں۔جو نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔
میںا یسے لو گوں سے بھی ملا ہوں جو اس بات کو فخرسے بیان کر تے ہیں کہ ہم نے نہ زندگی میں کبھی ووٹ نہیں ڈالا اور نہ اس اختیار کا استعمال کریں گے ۔یہ دراصل موجودہ سیاسی اداروں کی کالی کرتوت کے خلاف برہمی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے اور کہیں تو یہ خیال ان لو گوں کے دلوں میں جا گزیں ہے کہ یہاںے داغ تو کو ئی ہے ہی نہیں پھر
ہم ووٹ ڈال کر بد کر دار لو گوں کو حکومت کی کر سی پر بٹھا نے کا گناہ کیوں کریں ؟
یہ سچ ہو تب بھی وقت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ووٹ کا استعمال نہ کرنے سے اگر قوم و ملک کے لئے خطرہ بننے والے لوگ کرسی پر قابض ہو گئے تو اس صورت میں بھی ہم غفلت شعاری اور قوم کے مفادات کا تحفّظ نہ کر نے کے مجرم تو ہو نگے ہی ۔
بہتر یہ ہے کہ قومی مفاد کے پیشِ نظر اپنے ووٹ کا سوجھ بوجھ کے ساتھ استعمال کی جائے ۔
Sunday, April 12, 2009
Saadat Hasan Manto -Ek Note

ایک نوٹ
سعادت حسن منٹو اپنی شاہکار تخلیقات کے سبب ایک عظیم افسانہ نگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس عظمت کے اجزائے ترکیبی اس کا شفّاف اسلوب، بے باکی ،سماجی حقیقت نگاری انسانی شخصیات کا گہرا مطالعہ اور مشاہدہ ،نفسیات کا فنکارانہ تجزیہ ،افسانہ نگاری کے اسرار و رموز کا ادراک اور انھیں تخلیقی سطح پر برتنے کا ہنر اور دیگر کئی خوبیاں ہیں جنھیں منٹو کی امتیازی خصوصیات کے طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔اس کے باوجود منٹو کی کر دار نگاری جو ان سب پر بھاری ہے اسے ایک بلند پایہ فنکار ثابت کرتی ہے ۔ اس کی تخلیقات انسانی شخصیات کا ایک ایسا نگار خانہ ہے جہاں اس کے افسانوں کے پر دے سے کبھی ہمارے دلوں کو چھو لینے والی اور کبھی ہماری روح کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی انسانی صورتیں نمایاں ہو تی ہیں جو بلا شبہ اس کی فنکارانہ عظمت مین برابر کی شریک ہیں ۔
یہ سچ ہے کہ منٹو کے بیشتر کر داروں نے اسے فحش نگار کے لقب سے نوازا اور اس کے گرد ایک ایسا حصار کھینچ دیا کہ لو گ اس کا نام تک زبان پر لاتے ہو ئے کتراتے تھے ۔ یہ کردار ادب میں بڑے پیمانے پر مو ضوعِ بحث بنے اور ان کے انتخاب نے منٹو کو رسوا کیا البتّہ یہی بدنامِ زمانہ کر دار اس کے وجہ شہرت ثابت ہو ئے ،یہ الگ بات کہ کیچڑ میں کنول کی تلاش اور گہرے پا نیوں میں انسانی قدروں کے آبدار مو تیوں کی جستجو جو منٹو کی فطرت میں شامل تھی اس کا اصل ہنر ٹھہرا اور وہی اس کی عظمت کی بڑی دلیل بھی ہے ۔
منٹو کے یہاں مرد اور عورت دونوں کر داروں میں تنوّع رنگا رنگی کے علاوہ مختلف خصوصیات نظر آ تی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر کر داروں کی پیشکش میں ایسا لگتا ہے منٹو کی نظر انسانی فطرت کے اصل جو ہر کو تلاش کر رہی ہے اس کی اکثر کہانیاں اسی تلاش و جستجو کا ایک سلسلہ دکھائی دیتی ہیں ۔ موذیل ،بابو گوپی ناتھ، دودوا پہلوان ،ٹھنڈا گوشت ،منظور و کالی شلوار غیرہ ان کہانیوں کے نسوانی کر داروں میں سے برے ماحول اور برے افعال یا ناموافق حالات کا شکار ہو نے کے با وجود اپنی فطری نیکی کو اپنی شخصیت کی گہرائی میں چھپا ئے ہو ئے ضرور ہیں اور منٹو کی دروں بینی اسے بہر حال سطح پر لا کر ہمیں ایک حیرت آ میز مسرّت سے ہمکنا ر کر دیتی ہے ۔
اس کی فطری حیا اور نسوانیت بہر حال زندہ ہے اور منٹو کی نظریں ہر جگہ اسی کو ڈھونڈتی رہتی ہیں ۔ افسانوی کرداروں سے قطع نظر حقیقی شخصیات میں بھی منٹو اسی جو ہر کا متلاشی ہے ۔ اسکی تحریروں میں عصمت چغتائی ،پری چہرہ نسیم وغیرہ خاکوں میں بھی ان کرداروں کے اقوال و احوال اور اضطراری کیفیات میں منٹو ان کے اندر چھپے انسان کی جستجو میں رہتا ہے ۔ فسادات پر لکھے گئے اس کے افسانے جو سیاہ حاشئے کے نام سے شائع ہو ئے اس کی اسی انسان پرستی کے مظہر ہیں ۔ اس ماحول میں جس نے انسان کی درندگی ابھر آ ئی تھی اور انسان بنے رہنا بڑا مشکل ہو گیا تھا یا یوں کہئے اپنی جان کی حفاظت کی خاطر حملہ کر نا اس موحول کی ضرورت تھی ، انسانیت بہر حال انسان میں زندہ تھی ۔ منٹو کے افسانے اسی انسان دوستی کے علمبردار ہیں اس سلسے میں اس کے افسانے موزیل ،بابو گوپی ناتھ قابلِ ذکر ہیں ۔
Sunday, February 01, 2009
Khyal Pare ٹی وی چینل اور بچّوں پر منفی اثرات
بچّے اور ٹی وی چینل
.Bachchon mein badhti hooi behoodgion ko ab taleem ka hissa samjha ja ta hai.Yeh hamare nizame taleem ka eik almiya hai
Bhart mein T.V. Chenalon mein lafter Channel aur Nach Balye Vaghaira ki maqbooliyat ke bad ab aksar Channels par bachchon ka dakhla shuru ho gaya hai jhan chote chote bachche nachte hooe nazar aate hain vaheen ghatiya aur na munasib qism ky joke bhi sunate hain .bchchon ko in behoodgiyon mein ghasit te hooe logon ko ab sharm mahsoos naheen hoti kyon ki ab t.v. ne ise certify kr diya hai .Pahly bchche agar na munasib libas pahante ,filmi gane gate to teachers an ko rokte tokte the .Yeh hamari talim ka eik hissa tha likin ab school kesocial gathering minn khuly taur par filmi ganon par students ke thirakny ka riwaj aam hai. Main ne khud dekha ki ab kuch teachers talba ko class mein bula kar sub talba ky samny doosre teacdher ki naqal kr ny ky kahty hain .bachchon mein badhti hooi in sabhi qism ki behoodgion ko ab taleem ka hissa samjha ja ta hai.Yeh hamare nizame taleem ka eik almiya hai
Monday, September 08, 2008
عورت The Woman (A short Story in Urdu )

حقیقی واقعات پر مبنی ،عورت کے استحصال کی ایک کہانی ۔
’’سر عورت کیسے آٹو رکشا ڈرائیو ربن سکتی ہے ؟کلاس میں موجود طالبات کے چہروں پر بھی وہی سوال لکھا ہوا تھا ۔
’’بالکل بن سکتی ہے ، ہمارے شہر میں بھی چند عورتیں آ ٹو چلاتی ہیں ۔یہ چیز ابھی عام نہیں ہو ئی ہے ۔‘‘ میں نے طالبات کو سمجھانا شروع کیا ۔ ’’ لیکن جس شہر کی یہ کہانی ہے ۔ وہاں پہلے کبھی کسی عورت کو آ ٹو چلاتے ہو ئے نہیں دیکھا گیا تھا۔ حالات انسان سے کیانہیںکر واتے ۔پہلے تو اس پیشے میں مو جود مرد ڈرائیوروں نے اس کا خوب مذاق اڑایا۔فقرے کسے ،لیکن وہ عورت بھی دھن کی پکّی نکلی ۔زندگی کی جو جنگ اس نے لڑی وہ آ ج آ پ کے لئے ایک سبق بن گئی ہے‘‘۔
’’ سر آپ کے لئے فون ہے ۔ ‘‘ چپراسی دروازے پر کھڑا تھا۔
میں نے ان بچّوں کو سبق پڑھنے کے لئے کہا اور آ فس کی طرف چل دیا ۔ ’’ ہلو بھائی سائب ! میں کب سے کانٹیک کر ریا ہوں فونیچ نئی لگ را‘‘ فون پر ببلو تھا ۔اپنے مخصوص لب و لہجہ کے ساتھ ۔
’’ہاں، میرا فون دو دن سے خراب ہے ، سب ٹھیک تو ہے ؟‘‘
نئی بھا ئی ساب ۔ایک بری خبر ہے ،ایک کیا دو بری خبر ہے ۔سائیمہ باجی کا انتقال ہو گیا ۔
’’اوہ! انّا للٰہ و انّا الیہِ راجعون‘‘ ۔
’’آ پ کو فون کئے تھے مگر نئی لگا ۔ پھر اشرف ماسٹر سے اسکول کا نمبر لے کر لگایا ،اور جب باجی کو قبرستان لے کر گئے اور واپس آ ئے تو نانی جان کا بھی انتقال ہوگیا۔آج مغرب میں ملائیں گے آپ آ رئے نا؟ ‘‘
یا خدا !مجھے لگا جیسے میرے پیروںتلے سے زمین کھسک گئی ہو اور پورا کمرہ گھومنے لگا ۔ اچانک دو دو موتیں ۔
ایک گھنٹہ بعد میں شرالہ جانے والی بس میں کھڑ کی سے سر ٹکائے بیٹھا باہر تیزی سے بھاگتے مناظر کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ماضی کے سارے واقعات کسی فلم کے اسکرین کی طرح میرے ذہن کے پر دے پر ابھرنے لگے ۔ سائیمہ باجی ہمارے پڑوس میں رہا کرتی تھیں ۔ بچپن ہی سے میں انھیں خا لہ کہاکرتا تھا۔ دبلی، پتلی، شیرین لہجہ اپنائیت سے لبریز،ایسا محسوس ہو تا جیسے سر تا پا شفقت میں ڈوبی ہو ئی ہو ں۔ ایک چھوٹے سے مکان میں وہ رہا کر تی تھیں ،پھر جب جیل بیگ سے ان کی شادی ہو گئی تو ہمارے پڑوس میں آ کر رہنے لگیں۔ ان کی والدہ جنھیں ہم نانی کہا کر تے تھے ،وہ بھی ان کے ساتھ تھیں ۔اسی ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبے مدنا پور میں ان کی پر ورش ہو ئی تھی، وہیں تعلیم حاصل کی اور پھر ہمارے گاؤں کے ایک پرائمری اسکول میں ان کا تقرر ہو گیا۔ایک محنتی ، ذہین اورشریف استانی کی حیثیت سے انھوں نے بچّوں اور بستی والوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی تھی ۔ مجھے کسی نے ان کے متعلق بتا یا تھا کہ مدنا پور میں ا ن کے والد محنت مزدوری کر کے گذر بسر کیا کرتے تھے۔ ایک دن کسی کھیت میںبارش کے دوران پیڑ کے نیچے کھڑے تھے کہ اچانک اس پیڑ پر بجلی گر پڑی اور وہیں ختم ہو گئے ۔ پھر حالات کی نہ جانے کتنی بجلیاں ان کے پس ماند گان پر گریں ۔نانی جان نے بڑے صبر کے ساتھ خالہ جان اور ان کے بھائی عرفان کو پال پوس کر بڑا کیا ۔ ایک غریب بیوہ کے راستے میں جو مصیبت کے پہاڑ آ سکتے ہیں وہ سب انھوں نے ہمّت کے ساتھ طے کئے ۔
وقت کے ساتھ عرفان کمانے کے لائق ہو ا تو انھوں نے اسے ایسے دیکھنا شروع کیا جیسے وہ آنگن میں لگے بور سے لدے مہکتے ہو ئے آ م کے پیڑکو دیکھا کر تی تھیں جس میں اس بار پہلی مر تبہ پھل آ نے والے تھے ۔ ۔عرفان کی شادی ہو ئی اور چاند سی دلہن گھر آ ئی ۔ ان ہی دنوں ایک رات کچھ ایسی زبر دست ہو ا چلی کہ آم کا سارا بور زمین پر بچھ گیا ۔ شادی کے چند دنوں بعد ہی بہو نے اس گھر میں ماں بیٹی کا رہنا دشوار کر دیا۔عرفان کی بیوی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ دونوں عرفان کی محدود کمائی پر بوجھ ہیں ۔
چند ماہ گذرے ہو ں گے کہ بیوہ کی دعاؤں اور آ نسوؤں نے ایک نیا راستہ کھول دیا ۔ہمارے گاؤں میں سائمہ خالہ کا تقرر ایک پرائمری اسکول میں ہو گیا ۔ وہاں ایک کرائے کا مکان لے کر وہ دونوں ماں بیٹی رہنے لگے ۔ ملازمت کر تے ہو ئے دو تین برس گذرے ہو ں گے کہ ہمارے پڑوس میں رہنے والے مرزا جمیل بیگ سے سائمہ خالہ کا نکاح ہو گیا۔ ہم مرزا صاحب کو کسی حد تک جانتے تھے اس لئے اس خبر سے ہمیں کو ئی خو شی نہیں ہوئی ۔ پھر وہی ہو ا جس کا ڈر تھا، شادی کے بعد مرزا صاحب نے پر پر زے نکالنے شروع کر دئے ۔انھوں نے تو سائمہ خالہ کو سونے کا انڈا دینے والی مرغی سمجھ کر نکاح کیا تھا ۔ ہمارے سماج میں اب سروس والی بیوی سے شادی کرنا بھی تلاشِ روز گار کی ایک مقبول قسم ہے ۔
بیوی کی کمائی ہاتھ لگی تو مرزا صاحب کا ہاتھ کھل گیا ۔چند ہی مہینوں میں انھوں نے شراب اور بازاری عورتوں کے چکّر میں پھنس کر اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا ۔سائمہ خالہ خاموشی سے وہ سارے مظالم سہتی رہیں ۔ ان کی بے بسی اور خاموشی نے بیگ صاحب کے حوصلے بڑھا دئے۔نانی نے ان کی حرکتوں کے خلاف آ واز اٹھا ئی مگر ان کیآ واز میں وہ طاقت کہاں تھی کہ بیگ صاحب کا ہاتھ روک لیتی ۔وہ بذاتِ خود داماد کے گھر میں پناہ گزیں تھیں ۔ بیٹے کے گھر کی دہلیز پھلانگ کر آ ئی تھیں، اس طرف کا راستہ بند تھا ۔ لے دے کر بیٹی کی تنخواہ کا ایک سہارا تھا اور وہی اس گھر میں ان کے رہنے کا جواز بھی تھا۔ بیگ صاحب بھی اس بات کو خوب جانتے تھے کہ نانی کو الگ کر دینے سے وہ لکڑی ٹوٹجا ئیگی جس پر انھوں نے اپنے عیش و عشرت کا آ شیانہ بنایا تھا۔ سائمہ خالہ زندگی بھر ایک لدی ہو ئی شاخ کی طرح جھکی رہیں ۔
اپنی مٹّی سے دور ہونے کی ایک جان لیوا کسک جو شہر کے ہنگاموں میں ایسے چھپ جاتی ہے جیسے بارش کی پہلی بوچھار سے گاؤں کی کچّی سڑکوں پر اڑتی دھول دب جاتی ہے، اب پھر ابھر آ ئی تھی ۔بس دھیرے دھیرے اس بستی کے جانے پہچانے راستوں پر رینگ رہی تھی ۔مجھے ایسا محسوس ہو گویا میں اپنے ماضی کے شہر میںداخل ہو رہا ہوں ۔گاؤں کے راستے اب بھی ویسے ہی تھے ،دھول اڑاتے ہو ئے ۔ لو گوں کو چہروں پر وقت اپنے سفر کے نشان چھوڑ گیا تھا۔ بس دھیرے دھیرے آ گے بڑھ رہی تھی۔اسٹیشن قریب آ یا تو میں نے اپنا بیگ اور خود کو سنبھال اور بس رکتے ہی نیچے اتر آیا ۔ پہلے یہی قصبہ سائمہ خالہ اور نانی جان کے وجود سے کیسا بھرا بھرا لگتا تھا ۔ مجھے ایسا محسوس ہو ا جیسے وہ دونوں اپنے ساتھ اس قصبے کی ساری رونقیں سمیٹ کر لے گئے ۔
سائمہ خالہ کے گھر پہنچا تو نانی جان کو غسل دیا جا چکا تھا ۔ تھوڑی ہی دیر میں لوگ جناز لے کر قبرستان کی طرف چلنے لگے ۔ سائمہ خالہ کے پہلو ہی میں انھیں سپردِ خاک کر دیا گیا ۔ اسی دوران مجھے پتہ چلا کہ جب سائمہ خالہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو نانی جان لڑکھرا تی ہوئی دروازہ تک آ ئیں اور اشکبار نظروں سے بیٹی کے جنازہ کو جاتے ہو ئے دیکھتی رہیں۔ جب لوگ نظروں سے اوجھل ہو گئے تو ایک چینخ مار کر یہ کہا، ’’بیٹی سائمہ ! اب میں اس گھر میں کس منہ سے رہوں گی ؟‘‘ اور پھر وہ ایک کمزور مکان کی طرح وہیں ڈھ گئیں ۔ انھیں اٹھا کر وہیں بستر پر لٹا دیا گیا اس کے بعد وہ ہوش میں نہیں آئیں۔
دوسرے دن مجھے اپنے شہر روانہ ہو نا تھا۔ میں جب بس اسٹاپ پر پہنچا تو دیکھا اس چھوٹی سی بستی میں بڑی بڑی عمارتیں سر اٹھا نے لگی تھیں۔ اب اس گاؤں کے اندر سے ابھرتے ہوئے عفریت جیسے شہر نے اس بستی کو نگلنا شروع کر دیا تھا ۔ میرے قریب سے ایک آٹو رکشا گذرا جسے ایک عورت چلا رہی تھی ۔شہر کی طرح یہ مجبوریاں اب قصبوں میں داخل ہو چکی تھیں ۔ مگر یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔
مجھے حیرت سے اس منظر کو دیکھتے ہوئے ببلو نے کہا ۔ ’’ بھائی جان ! عورتاں آجکل بھؤت ترقّی کر لیاں، ادھر گاؤں گاؤں میں عورتاں آ ٹو چلانے لگ گیاں ‘‘
میری آ نکھوں کے آ گے سائیمہ خالہ کا چہرہ آ گیا جو ملازمت ملنے کے بعد اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی تھیں ۔ پھر لڑکھڑاتا ہوا نانی جان کا ہیولہ ابھرا اور گر کر زمین پر ڈھیر ہو گیا ۔
’’ببلو! عورت چاہے آ ٹو چلائے یا ہوائی جہاز ،دنیا والے عورت کی ترقّی کے کتنے ہی افسانے بناڈالیںحقیقت یہ ہے کہ عورت آج بھی اتنی ہی بے بس اور لا چار ہے جتنی کل تھی۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔














