A blog by Muhammad Asadullah featuring Urdu articles, poetry, children's literature, translations, and other Urdu literary forms.
Showing posts with label Urdu Short Stories. Show all posts
Showing posts with label Urdu Short Stories. Show all posts
Thursday, March 17, 2016
Thursday, November 12, 2009
Monday, April 06, 2009
Urdu Short Story .Koshish
کو شش
کہانی
محمّد اسد اللہ
کہانی
محمّد اسد اللہ
دسمبر کا مہینہ تھااور شہر بھر کے اسکولوں میں کھیل کود اور تحریری و تقریری مقابلوں کی بہار آئی ہوئی تھی ۔ فرحانہ کا شمار اس کے اسکول کی بہترین مقرّرین میں ہوا کرتا تھا ۔یوں بھی وہ بہت باتونی لڑکی تھی ،بلا کی ذہین اور خوبصورت بھی ۔ہرقسم کے تقریری مقابلوں اور مباحثوں میں اسے اسکول کی نمائندگی کے لئے بھیجا جاتا تھا ۔صالحہ اس کی ہم جماعت تھی ۔فرحانہ کی ان سب خوبیوں کے باوجود نہ جانے کیوں کلاس ٹیچر نے صالحہ کو مانیٹر بنارکھا تھا ،یہ بات فرحانہ کو ہمیشہ کھٹکتی تھی ۔
سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ اچانک ایک عجیب سا واقعہ پیش آیا ۔ شہر کے کسی اسکول میں تقریری مقابلہ ہونے والا تھا ۔ فرحانہ کا نام اسکول کی جانب سے بھجوا دیا گیا ۔ابھی تقریر کو چار پانچ دن باقی تھے کہ اچانک فرحانہ نے طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بنا کروہاں جانے سے انکار کر دیا ۔کلا س ٹیچر نے فیصلہ سنا دیا کہ اس کی جگہ اب صالحہ جائے گی ۔صالحہ نے سنا تو اس کے پیروں تلے کی زمین کھسک گئی ۔اس نے زندگی میں کبھی تقریر نہیں کی تھی ۔ تقریر کے عنوان پر نظر ڈالی تو اسے محسوس ہوا وہ چکرا کر گر پڑے گی ۔اسقدر مشکل عنوان کہ اپنے طور پر سے کچھ کہنا چاہے تو ایک لفظ نہ بول سکے۔
صالحہ کی سہیلیوں نے اسے بتایا کہ فرحانہ اسی مشکل عنوان کی وجہ سے تقریر یاد نہ کر پائی اور انکار کردیا ۔ ۔’ تمہارا نام بھی ٹیچر کو اسی نے سجھایا کہ تم بھی تقریر نہ کر سکو اور سب کے سامنے خوب بے عزّتی ہو ‘۔ شبانہ نے یہ کہ کر صالحہ کے رہے سہے حواس بھی اڑا دئے ۔ ان ہی دنوں اسکول میں کئی مضامین کا ڈھیر سارا ہوم ورک دیا گیا تھا وہ سارا کام بھی پہاڑ بن کر کھڑا تھا ۔اس حالت میں اس کی امّی اسے یہ کہ کر ڈھارس بندھاتی رہیں کہ تمہیں انعام تھوڑا ہی جیتنا ہے تم بس کسی طرح تقریرکرلو ۔نہ ٹیچر اس کی پریشانی سمجھنے کو تیّار تھیں نہ گھر میں کوئی اسکی حالت کا اندازہ کرنے والا تھا اسے محسوس ہوا وہ بالکل اکیلی ہے۔
آخر وہ دن آپہنچا ۔ہال میں اس کی امّی اور ابّو دونوں موجود تھے لیکن ان کا ہونا نہ ہونا اس کے لئے برابر تھا ۔تقریری مقابلہ شروع ہوا اور سب سے پہلے جس مقرّر کے نام کا اعلان کیا گیا اسے سنتے ہی صالحہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا یہ اسی کا نام تھا ۔تبھی اس کے ابّو کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے :جو گھبرا گیا اس نے سب کچھ کھو دیا۔ صالحہ نے اپنے آپ کو سنبھالا اور دھیرے دھیرے مائک کی طرف بڑھنے لگی ۔وہاں پہنچ کر جو کچھ یاد تھا وہ سب اگل دیا ۔اس کے بعد اسکا ذہن کورے صفحہ کی طرح صاف تھا ۔وہ رک گئی اور آگے کے جملے یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔اسے کچھ لڑکیوں کے ہنسنے کی آوازیں سنائی دیںجن میں فرحانہ کی ہنسی نمایاں تھی۔ گھبرا ہٹ میں اسے کچھ بھی سجھائی نہ دیا تو وہ کچھ دیر خاموش کھڑی رہی اور اسٹیج سے اتر آئی ۔تقریر کے بعد امّی ابّو سے سامنا ہوا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے ۔ اس نے اسی دن فیصلہ کرلیا کہ اب وہ کبھی تقریر نہیں کرے گی ۔
اس واقعہ کا اس کے دل و دماغ پراتنا بر اثر پڑا کہ وہ ہمیشہ خاموش رہنے لگی ۔کلاس روم میں کسی سوال کا جواب دینے کے لئے کھڑی ہوتی تو اس محسوس ہوتا گویا مائک اس کے سامنے رکھا ہے اور پورا ہال لوگوں سے بھرا ہوا ہے اور اسے زور زور سے ہنسنے کی آواز سنائی دے رہی ہے ۔ گھبراہٹ سے وہ پسینہ پسینہ ہو جاتی ۔ایک دن اس کی کلاس ٹیچر نے اس کے ابّو، ارشاد صاحب کوبلوا بھیجا اور اس کی یہ حالت بتائی ۔ اس کے ابّو کہنے لگے گھر پر تو ایسی کو ئی بات نہیں ہوتی ،ہاں وہ کچھ گم سم سی رہنے لگی ہے ۔ا س شام صالحہ کے والد اور والدہ میں اس مسئلہ پر کچھ بات چیت ہوئی اور پھرجیسے یہ معاملہ ختم سا ہو گیا ۔دو چار دن گزر گئے ۔اس دوران صالحہ کے ابّو کسی گہری سوچ میں رہے ۔پھرایک رات جب کھانے سے فارغ ہونے کے بعد سب لوگ چھت پر ٹہل رہے تھے صالحہ کے ابّو نے کہا :’آؤ کوئی کھیل کھیلتے ہیں۔‘
’کون سا کھیل؟‘آصف نے پوچھا۔
’ایسا کرتے ہیں عدالت عدالت کھیلتے ہیں ، ہم جج بن جائیں گے اور تم لوگ باری باری وکیل بن کرمقدمہ لڑوگے ۔‘
صالحہ کی امّی نے کہا:’ مگر یہ تو بتائیے آخر مجرم کون بنے گا ،آپ تو پہلے ہی جج بن بیٹھے ‘۔
’مجرم۔۔ مجرم ؛‘ ابّو نے ادھر ادھر دیکھا ان کی نظر آصف کے جوتوں پڑی ،’ہاں یہ رہا مجرم ،یہ جوتا۔سبھی جانتے تھے کہ اس گھر میں اکثر جوتے ادھر ادھر پڑے رہتے تھے ۔صالحہ کے ابّو اکثر چیختے رہتے کہ ان جوتوں کو کوئی ان کے لئے مقرر کی گئی جگہ رکھتا کیوں نہیں ؟
اسی پرصالحہ کے دونوں بھائیوں میں لڑائی ہوا کرتی ۔امتیاز نے موقع کا فائدہ اٹھا کر فوراً اعلان کردیا:’آصف کے جوتوں کو عدالت میں حاضر کیا جائے ۔‘
امّی ہمیشہ آصف کی طرف داری کیا کرتی تھیں اس لئے وہ وکیلِ صفائی بن گئیں ۔صالحہ کو معلوم تھا کہ اس کے ابّو کو جوتوں کا ادھر ادھر پڑے رہنا بالکل پسند نہیں اور وہ جج بھی تھے اس لئے صالحہ نے جوتوں کے خلاف مورچہ سنبھال لیا ۔عدالت کی کاروائی شروع ہوتے ہی صالحہ کی بڑی بہن نازیہ نے جوتوں کے خلاف فردِ جرم پڑھنی شروع کی ۔
آصف کے جوتوں پر سب سے پہلا الزام یہ ہے کہ وہ گھر میں ہمیشہ ادھر ادھر ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں ، دوسرا الزام یہ کہ ربڑ کے پاپوش پر تلوں میں لگی مٹّی اور گرد صاف کئے بغیر ہی گھر میں داخل ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے گھر میں ریت مٹّی اور گندگی داخل ہو جاتی ہے ۔اور تیسرے یہ وہ شو ریک پر کبھی نہیں پائے جا تے جہاں انہیں ہمیشہ ہونا چاہئے ۔‘
الزام پڑھے جانے کے بعد امّی جوتوں کا بچاؤ کرنے کے لئے آگے بڑھیں ۔’مائی لارڈ،جوتوں پر جو الزام لگایا گیا ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے ۔جوتے لاوارثوں کی طرح ادھر ادھر پڑے رہتے ہیں تو اس کے قصور وار جوتے کس طرح ہو سکتے ہیںیہ ذمّہ داری تو جوتا پہنّے والے کی ہے۔ ‘
جوتوں کے مالک محمّد آصف عدالت میںحاضر ہو ں ‘ ۔امتیاز نے ہانک لگائی ۔
صالحہ نے آصف پر لگائے گئے الزامات دہرائے تو جج صاحب یعنی ارشاد صاحب نے پوچھا :’کیا تم اپنے جوتوں کی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہو ‘۔
’جی ‘، آصف نے کہنا شروع کیا ۔ ’ میں جوتو ں کی صفائی میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ گھر میںپالش کی ڈبیا ختم ہو گئی ہے اور آپ امّی کے بار بار یاد دلانے کے باوجود آپ بازار سے پالش کی ڈبیا لانے میں ناکام رہے ہیں ۔اس لئے جوتوں کی ٹھیک طرح سے صفائی نہیں ہو پا رہی ہے ۔‘
’آرڈر ، آرڈر ، تم عدالت کی توہیں کر رہے ہو ۔ ‘صالحہ کے ابّو پاس پڑا لکڑی کا ڈنڈا میز پر زور زور سے ٹھونکتے ہوئے بولے ۔ ’ مسٹر آصف کیا تم پر لگایا گیا الزام تمہیں منظور ہے ؟‘
’حضور ! اسکول میں کتابوں کا بوجھ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ مجھے جوتے سنبھالنے کی فرصت ہی نہیں مل پاتی ۔ ‘صالحہ نے فوراً ٹوکا :’جج صاحب ،یہ اپنی کتابیں بھی ٹھیک سے نہیں رکھ پاتے میں ہی انھیں سنبھال کر رکھتی ہوں ، اور یہ اکثر کھیل میں مگن رہتے ہیں ۔
اسی طرح دیر تک جرح چلتی رہی ۔ سب اس انوکھے کھیل میں کھوئے رہے ۔عدالت پھر دوسرے دن کے لئے ملتوی کردی گئی ۔ د و تین دن تک یہی ہوتا رہا ۔کسی کو مجرم بنا کر اس پر الزام لگائے جاتے ،کوئی وکیل بنکر اسے بچانے کی کوشش کرتا ۔کوئی گواہ بنتا ۔ ایک رات ارشاد صاحب نے یہ اعلان کیاکہ آج بجائے عدالت کے مباحثہ ہوگا۔
’بحث کس بات پر ہوگی ؟‘ امتیاز نے پوچھا ۔
’کوئی اچھّا سا عنوان مقرر کر لیتے ہیں ؟
کچھ سوچ کر صالحہ کی امّی نے ایک عنوان پیش کیا : ’گھر سنبھالنے میں امّی کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے یا ابّو کو ‘۔
آئندہ شام جب گھر میں پڑوس سے بٹّو ،انجم اور رانی بھی آئے ہوئے تھے ،مباحثہ شروع ہوا ۔بٹّو کو صدرِ جلسہ بنا دیا گیا اور رانی مہمانِ خصوصی کی کرسی پر براجمان ہو گئی ۔ آصف نے امّی کی حمایت میں تقریر شروع کی ۔ جنابِ صدر ،معزز مہمانانِ خصوصی ، اور لایقِ احترم امّی،ابّو اور حاضرین!
میں آج اپنی امّی کی حمایت میں اپنے خیالات پیش کرنے کے لئے آپ کے سامنے حاضر ہوں۔
میں اپنی تقریر کی ابتدا حضور کی اس حدیث سے کرتا ہوں کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنّت ہے ۔ اور وہ ہماری امّی ہی ہیں جن کی وجہ سے ہمارا گھر جنّت کا نمونہ بنا ہوا ہے ۔ اس حقیقت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ امّی کی وجہ سے ہی ہمارے گھر کی گاڑی چلتی ہے ۔وہ نہ ہوںتو کسی کو ایک وقت کا کھانا تو در کنار ایک بوند چائے بھی نہیں مل سکتی ،اس بات کو تو ہمارے ابّو بھی مانتے ہیں ۔ امّی نہ ہوں تو گھر کی کوئی چیز ٹھکانے نہیں رہتی ۔ امّی اگرہر ایک کو ٹوکتی اور بولتی نہ رہے تو گھر کا سارا نظام بگڑ جائے ۔ابّو تو زیادہ تر گھر سے باہر ہی رہتے ہیں اور گھر آنے کے بعد بھی ٹی۔وی اور اخبار میں کھوئے رہتے ہیں ۔
اب صالحہ کی باری تھی ۔اس نے ابّو کی موافقت میں بولنا شروع کیا ۔’ ابھی میرے فاضل بھائی نے امّی کی ذمّہ داریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ،میں امّی کے مرتبہ اور عزّت و احترام کو دل سے تسلیم، کرتی ہوں اور ان کی اتنی ہی عزّت بھی کرتی ہوں اور یہ بھی جاسنتی ہوں کہ میں اپنے چمڑے کی جوتیاں بنا کر بھی انھیںپہنادوں تو ماں کے احسانات کا حق ادا نہیں ہو سکتا لیکن حقیت کا اقرار اپنی جگہ ہے ،اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارا گھر ایک گاڑی کی طرح ہے اور امّی اور ابّو اس کے دو پہیّے ہیں ۔ آپ اچھّی طرح جانتے ہیں کہ ایک پہیّہ والی گاڑی تو صرف سرکس میں ہی چلتی ہے ۔ یہاں امّی گھر سنبھالتی ہیں تو ابّو آفس ۔ان کی تنخواہ ہماری اس گھر کی گاڑی میں پیٹرول کا کام کرتی ہے ۔گھر سے باہرکتنے ہی کام ہیں جن کے لئے ہمیں ابّو پرمنحصر رہنا پڑتا ہے ۔اسی لئے میں[L: 8] یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ابّو کی اہمیت بھی امّی سے کسی طرح کم نہیں۔
اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ ان بچّوں کو ہر شام کوئی نیا موضوع دیا جاتا جس پر سب اپنی رائے پیش کرتے اور مباحثہ ہوتا ۔کبھی موضوع ہوتا ٹوتھ پیسٹ اہم ہے یا برش کبھی اس بات پر بحث ہوتی کہ اگر اختیار دیا جائے تو آپ شمع بننا پسند کریں گے یا جگنو ؟کیوں ؟اور کبھی اس بات پر دلیلیں پیش کرتے کہ انگریزی ذریعۂ تعلیم بہتر ہے یا اردو بعض اوقات سبزی خوروں اور گوشت خوروں کا مقابلہ ہوتا تو کبھی سائنس اور آرٹس کا۔
چند مہینوں تک گھر میں یہ سلسہ چلتا رہا ۔دھیرے دھیرے صالحہ اس قابل ہوگئی کہ وہ کسی بھی موضوع پر ذراسی تیّاری میں دس پندرہ منٹ تک آسانی کے ساتھ بول سکتی تھی ۔ اس دوران وہ رسائل ، کتابیں اور اخبارات کا مطالعہ بھی کرتی رہی تھی اس کی عام معلومات بھی اچھّی خاصی تھی ۔
دیوالی کی چھٹّیاں شروع ہونے والی تھیں ۔ان دنوں اردو پڑھانے والی ٹیچر چھٹّی پر گئی ہوئی تھیں چند مہینوں کے لئے ایک نئی ٹیچر کا تقرّر ہواتھا ۔ ایک دن وہ کلاس میں آئیں تو بجائے سبق پڑھانے کے انھوں نے بورڈ پر ایک عنوان لکھا ،’تندرستی ہزار نعمت ہے ‘۔ اور کلاس کی سبھی لڑکیوں سے کہا ؛آپ میں سے ہر ایک کو باری باری اس موضوع پر جس قدر بول سکتی ہیں بولنا ہے۔ جو کچھ نہیں بول سکتیںانھیں بھی کم از اکم چار جملے ضرور ادا کرنے ہیں ۔ ورنہ اپنی جگہ کھڑا رہنا ہے ۔ جب صالحہ کی باری آئی تو اس نے اپنے خیالات پیش کرنے شروع کئے اور سبھی اسے حیران نظروں سے دیکھتے رہے۔اس کے شاندار اندازِ بیا ن اور خود اعتمادی کو دیکھ ٹیچر نے اس کی خوب تعریف کی اور کہا در اصل یہ تو ایک ٹیسٹ تھا ۔ شہر کے مشہور انعامی تقریری مقابلہ کے لئے کسی طالبہ کے انتخاب کے لئے ۔اور یہ فی البدیہہ تقریری مقابلہ شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں منعقد ہوگا ۔ ہر سال یہ ایک مباحثہ کی شکل میں ہوا کرتا تھا اور عام طور پر فر حانہ اس میں رٹی رٹائی تقریر کرنے پہنچ جاتی ۔اس بار جب ٹیچر نے اسے کلاس میں دئے گئے موضوع پر اپنے خیالات پیش کرنے کو کہا تو وہ خاموش کھڑی رہی ۔ اس تقریری مقابلہ کے لئے صالحہ کو چن لیا گیا تو وہ بری طرح چڑ گئی اوراپنی جگہ کھڑی ہو کر ٹیچر سے کہنے لگی :میڈم اس مقابلہ کے لئے تو ہر سال ہمارا نام بھیجا جاتا ہے ۔ ٹیچر نے دھیرے سے مسکرا کر کہا : اس بار صرف نام نہیں بھیجا جائے گا ،بولنے والوں کو بھیجا جائے گا ،اور تم نے تو اس موضوع پر ایک جملہ تک نہیں کہا وہاں جا کر کیا کروگی ۔؟
آخر وہ دن آپہنچا جب ایک شاندار ہال میں منعقد کئے گئے تقریری مقابلہ میں شریک ہونے کے لئے پہنچی اس کے امّی ابّو بھی ساتھ تھے ۔ اس کے نام کا اعلان کیا گیا تو وہ پورے اعتماد کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھی ۔ اس کے حصّہ میںجو پرچی آئی اس پر عنوان درج تھا :’زندگی زندہ دلی کا نام ہے‘ ۔صالحہ نے اپنے مخصوص انداز میں[L: 8] بولنا شروع کیا جیسے جیسے وہ بولتی رہی ہال تالیوں سے گونجتا گیا ۔
تمام تقریریں ختم ہونے کے بعد جب نتائج کا اعلان کیا گیا تو وہ مارے خوشی کے اچھل پڑی ،اسے پہلے انعام کا مستحق قرار دیا گیا تھا۔
،،،،،،،،،،،،،،
Friday, January 16, 2009
Monday, December 15, 2008
review تبصرہ


گلّی ڈنڈا۔ایک تجزیہ
ڈاکٹر محمّد اسد اللہ
گلّی ڈنڈا ان چند اہم افسانوں میں شامل ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے یہ پریم چند کے خاص رنگ کی نمائندگی کرتا ہے ۔دیہی زندگی اور اس سے جڑے ہوئے افراد کی فطری سادگی ،غر یبی کے ہاتھوں ستائے ہو ئے لوگوں ا ورنخوت و پندار سے سرشار آسودہ حال طبقہ کے درمیان پائی جانے نفسیاتی کشمکش اور تفاوت پریم چند کے مرغوب موضوعا ت ہیں۔ اس خاص شعبہ میں جس قدر مہارت کا ثبوت انھوں نے پیش کیا ہے شاہد ہی کسی ادیب کو یہ اعزاز حاصل ہو ا ہو۔گلّی ڈنڈا بھی اسی قسم کی ایک نمائندہ تحریر ہے۔
افسانہ کی ابتدا بڑی سہج اور فطری انداز لئے ہوئے ہے ۔۔۔’میں‘ کے حوالے سے بچپن کی یادوں کی گرہیں یکے بعد دیگرے کھلنے لگتی ہیں۔آپ بیتی کا لب و لہجہ قاری کو اپنے اعتماد میں لے لیتا ہے اور بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک ناسٹیلجیائی کیفیت کی حامل تحریر ہے مگر بہت جلدافسانہ نگار انگریزی اور د یسی کھیلوںکا موازنہ کرکے ہمیں اس فضا کچھ دیر کے لئے باہر نکال کر اپنے مخصوص تصوّرات کے تبلیغ کا اہم فریضہ انجام دینے لگتا ہے ۔:
ولایتی کھیلوں میں سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ ان کے سامان بہت مہنگے ہوتے ہیں ۔جن تک کم از کم ایک سو خرچ نہ کیجئے کھلاڑیوں میں شمار ہی نہیں ہوسکتا ۔یہاں گلّی ڈنڈا ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکری چوکھا رنگ دیتا ہے ۔لیکن ہم انگریزی کھیلوں پر ایسے دیوانے ہو رہے ہیں کہ اپنی سب چیزوں سے ہمیں نفرت سی ہو گئی ہے ۔‘
(گلّی ڈنڈا )
افسانہ آگے بڑھتا ہے اور کھیل کا رنگ چڑھتے ہی ہم اس فضا میں سانس لینے لگتے ہیں جہاںایک ایک سطر میں گاؤں کی سیدھی سادی زندگی اپنی مخصوص مہک بکھیرنے لگتی ہے ۔ گلّی ڈنڈے کے حوالے سے مصنّف نے بچّوں کی دنیا میں پائی جانے والی معصومیت اور رنگا رنگی کو نمایاں کیا ہے۔
’بچپن کی یادوں میں گلّی ڈنڈا ہی سب سے شیریں یاد ہے وہ علی الصبح گھر سے نکل جانا، وہ درخت پر چڑھ کر ٹہنیاں کاٹنا ،وہ جوش و خروش، وہ لگن ،وہ کھلاڑیوں کے جمگھٹے ،وہ پدنا پدانا ۔وہ لڑائی جھگڑے ،وہ بے تکلّف سادگی جس میں چھوت چھات اور غریب و امیر کی کوئی تمیز نہ تھی ۔جس میں امیرانہ چونچلوں کی،غرور اور خود نمائی کی گنجائش نہ تھی۔‘ ۔۔۔۔۔ گلّی ڈنڈا
گلّی ڈنڈا میں مصنف کے علاوہ سب سے اہم کردار ہے، گیا،ایک معمولی چمار کا بیٹا اور مصنّف تھانے دار کا بیٹا ہے۔ آگے چل کر ایک ضلع انجینئر بن جاتا ہے اسکی تعلیم شہر ہی میں ہوئی لیکن جب وہ ضلع نجینئر بن کر اسی گاؤں لوٹتا ہے جہاں اس نے بچپن میں گیا کے ساتھ بہت سا وقت گزارا تھا وہ ان تمام یادوں کے ساتھ گاؤں لوٹا ہے مگر وقت کے پُل تلے بہت سا پانی گزر چکا ہے ۔ گلّی ڈنڈا کھیل کے دوران کی گئی نا انصافیاں ابھی تک اس کی یادداشت کا حصّہ ہیں۔ وہ گیا کو ڈھونڈ نکالتاہے اور دوبارہ وہی کھیل کھیلنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔
یوں کہا جاتا ہے کہ بچپن معصوم اور ہر قسم کے امتیازات سے پاک ہوا کرتا ہے ۔اس طرف پریم چند نے بھی مذکورہ بالا اقتباس میں اشارہ کیا ہے، لیکن اس کے باوجو
بچّوں کے دل و دماغ میں موجود اس بھید بھاؤ کی جڑوں کو پریم چند نے بڑی خوبی کے ساتھ ظاہر کیا ہے ۔
جب گیا نے میرا امرود کھایا تو پھر اسے مجھ سے داؤ لینے کا کیا حق حاصل ہے ۔۔۔امرود دو پیسے کے پانچ والے تھے جو گیا کے باپ کو بھی نصیب نہ ہوں گے ۔۔۔میں تھانے دار کا لڑکا ایک نیچ ذات کے لونڈے کے ہاتھوں پٹ گیایہ مجھے اس وقت بھی بے عزّتی کا باعث معلوم ہوا ۔ ‘۔۔۔۔۔ گلّی ڈنڈا
ظاہر ہے یہ افسانہ اس دور کی تحریر ہے جب سماج میں معاشی برتری سے زیادہ ذات پات کا بھید بھاؤ ایک اہم مسئلہ تھا اس کی گونج ہمیں پریم چند کی دیگر تحریروں میں بھی سنائی دیتی ہے ۔گیا بھی اسی طبقہ سے تعلّق رکھتا ہے جو اسی احساسِ کمتری کا شکار ہے ۔اس کے بارے میں یہ بیان ملاحظہ فرمائیے
مجھ سے دو تین سال بڑا ہوگا،دبلا لمبا ،بندروں کی سی پھرتی ،بندروں کی سی لمبی لمبی انگلیاں،بندروں کی سی جھپٹ گلّی کیسی ہی ہو اس پر اس طرح لپکتا تھا جس طرح چھپکلی کیڑوں پر لپکتی ہے۔ معلوم نہیں اس کے ماں باپ کون تھے، کہاں سے آئے تھے ۔کیا کھاتا تھا پر تھا ہمارے کلب کا چمپین ۔جس کی طرف وہ آجائے اس کی جیت یقینی تھی ۔‘ ۔۔۔۔ گلّی ڈنڈا
پریم چند کا یہ مخصوص انداز ہے وہ اکثر انسانی فطرت میں موجود صفات کی نشاندہی کے لئے جانوروں کی مثالیں استعمال کرتے ہیں مثلاً مشہور افسانہ کفن میں مادھو اور گھیسو کو کنڈلی مار کر سوئے ہوئے دو اژدہوں سے تشبیہ دی گئی ہے ۔گیا کے کردار میں وجہ تشبیہ محض اس کے جسمانی قوّت اور چستی پھرتی کو ظاہر کرتی ہے ۔البتّہ یہ جاندار اپنے شکار کے لئے جو رویّہ اپناتے ہیں اس کے نمونے گیا کے کردار میں افسانہ کے آخری حصّہ میں دکھائی دیتے ہیں ۔لیکن گیا کے کردار کی اصل خوبی یہ ہے کہ حسبِِمراتب کالحاظ اور انسانیت کا پاس اس کی شخصیت کو بلندی عطا کرتا ہے ۔ گیا کا کردار جہاں دیہی زندگی کی جفاکشی اور سادگی کا مظہر ہے وہیں ہٹ دھرمی اور اس کے اندر چھپی ہوئی انسانیت خلوص اور محبّت کی بھی نمائندگی کرتا ہے ۔بچپن میں وہ اپنا داؤ حاصل کرنے پر پوری طرح بضد تھا ۔
’ہاں میرا داؤ دئے بغیر نہیں جا سکتے۔‘
’میں تمہارا غلام ہوں ؟‘
’ہاں تم میرے غلام ہو۔‘
’میںگھر جاتا ہوں دیکھو تم میرا کیا کر لیتے ہو ۔‘
’گھر کیسے جاؤ گے کوئی دل لگی ہے داؤں دیا ہے داؤں لیں گے ‘(گلّی ڈنڈا )
لیکن مصنّف جب ایک بڑے عہدیدار کی حیثیت سے اس کے آگے آتا ہے تو وہ اس کی برتری کو احتراماً قبول کرلیتا ہے ۔اس کی ساری بدعنوانیوں کو ایسے نظر انداز کردیتا ہے جیسے وہ کوئی بچّہ ہو ۔گاؤں لوٹنے کے بعد دوبارہ اس کے ساتھ گلّی ڈنڈا کھیلنے کی خواہش کو وہ نہ صر ف پورا کرتا ہے بلکہ داؤ لینے کی باری آتی ہے تو وقت زیادہ ہونے کا بہانہ کرکے آگے بڑھ جاتا ہے کہ مصنف یہ سوچنے لگتا ہے شاید اس کی کھیلنے کی مشق چھوٹ گئی ہے ۔ اسکے بعد اگلے دن ہونے والے میچ میں اس کا کھیل یہ ثابت کرتا ہے کہ اس میں وہی دن خم باقی ہے ۔
’پدانے والوں میں ایک نوجوان نے کچھ بے عنوانی کی اس کا دعویٰ تھا کہ میں نے گلّی دبوچ لی ہے۔ گیا کا کہنا تھا کہ گلّی زمین سے لگ کر اچھلی ہے، اس پر دونوں میں تال تھونکنے کی نوبت آئی ۔ نوجوان دب گیا ۔گیا کا تمتمایا ہوا چہرا دیکھ کر وہ ڈر گیا‘۔ ۔۔۔۔۔
گلّی ڈنڈا
پریم چند نے اس افسانہ میں انسانی رشتوں کی بدلتی ہوئی نوعیت کو بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ا اعلیٰ عہدہ اور مرتبہ حاصل ہونے کے ساتھ ہی بہت سی چیزوں کے چھِن جانے کی کسک بھی گلّی ڈنڈا میں پوری طرح نمایاں ہے ۔
’میں اب افسر ہوں ۔یہ افسری میرے اور اس کے درمیان اب دیوار بن گئی ہے میں اب اس کا لحاظ پا سکتا ہوں ادب پا سکتا ہوں لیکن اس کا ہمجولی نہیں بن سکتا ۔۔۔یہ عہدہ پا کر اب میں اس کے رحم کے قابل ہوں وہ اب مجھے اپنا جوڑ نہیں سمجھتا ۔وہ بڑا ہو گیا ہے میں چھوٹا ہوگیا ہوں‘ ۔۔۔۔۔۔ گلّی ڈنڈا
گلّی ڈنڈا پریم چند کے مشہور افسانوں میں شامل ہے اس میں انسانی نفسیات کے نازک گوشوں کی عکاسی نہایت خوبصورت انداز میں کی گئی ہے ۔اس کا آپ بیتی کا انداز قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنی گرفت میںرکھتا ہے اورایک متاثر کن کردار گیا کی واضح چھاپ ہمارے دل و دماغ پر چھوڑ جاتا ہے ۔ ٭
Friday, September 12, 2008
Itni si bat ..story for kidsاردو کہانی

اتنی سی بات
(کہانی )
محمّد اسد اللہ
بابو جی ! میں ایک نوٹ ہوں ۔کاغذ کا ایک بے جان سا ٹکڑا ۔ اتنے سے کاغذ کے ٹکڑے کی بھلا کیا اہمیت ۔میری قیمت میرے اوپر لکھی ہے۔سو روپئے ۔ یوں تو کسی بھی چیز پر کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے ۔ مگر چیزیں اپنی قیمت خود طے نہیں کرتیں ۔ کبھی لوگ اور کبھی حالات چیزوں کی قیمت طے کرتے ہیں۔ دام گھٹاتے اور بڑھاتے ہیں ۔
(کہانی )
محمّد اسد اللہ
بابو جی ! میں ایک نوٹ ہوں ۔کاغذ کا ایک بے جان سا ٹکڑا ۔ اتنے سے کاغذ کے ٹکڑے کی بھلا کیا اہمیت ۔میری قیمت میرے اوپر لکھی ہے۔سو روپئے ۔ یوں تو کسی بھی چیز پر کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے ۔ مگر چیزیں اپنی قیمت خود طے نہیں کرتیں ۔ کبھی لوگ اور کبھی حالات چیزوں کی قیمت طے کرتے ہیں۔ دام گھٹاتے اور بڑھاتے ہیں ۔
آئیے ! میں آپ کو اپنی کہانی سناؤں !
مجھے اپنے بچپن کے سبھی واقعات تو ٹھیک طرح سے یاد نہیں ،بس اتنا ضرور یاد ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے ،بنجاروں کی طرح بھٹکتا پھر رہا ہوں ۔ کبھی کسی کی جیب میں کبھی کسی کے پرس میں ۔کبھی کوئی آکر اٹھا لے جاتا ہے تو میں نئے سفر پر چل پڑتا ہوں ۔
ایسے ہی ایک سفر کی بات ہے ،جب میں رامو حلوائی کی دکان جا پہنچا ۔ ایک آدمی نے مٹھائی خریدی اور مجھے اس کے حوالے کر دیا ۔ حلوائی نے مجھے روپیوں کے گلّہ میں ڈال دیا جہاں اور بھی ڈھیر سارے نوٹ پڑے تھے ۔ ان نوٹوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میری خیریت پوچھنے لگے ۔ کسی نے پوچھا ’کہاں کہاں سے ہو کر آیا ہوں ‘ ؟۔ میں انھیں اپنے سفر کا حال سناتا رہا۔دکان میں گاہک آتے جاتے رہے ۔تھوڑی دیر بعد ایک غریب لڑکی اپنے چھوٹے سے بھائی کو اپنے کاندھے پر اٹھائے ہوئے وہاں آئی اور گڑگڑا کر حلوائی سے کھانے کے لیے کچھ مانگنے لگی۔’بابوجی! ہم بھائی بہن صبح سے بھوکے ہیں کچھ کھانے کو دو۔ ‘
’کھانے کو دو ؟ تیرے پاس پیسے ویسے ہیں چھوکری ؟ رامو نے پوچھا ۔
ناہیں بابا ۔ ہمارے ماں باپ دونوں گجر گئے ۔ہمارا کوئی نہیں ۔ہمارے پاس پیسے بھی نہیں ۔ ‘
’ چل بھاگ یہاں سے ۔ چلے آتے ہیں نہ جانے کہاں کہاں سے کوئی لنگر کھول رکھا ہے کیا؟ پیسے ہو تو بات کرو، نہیں تو چلو آگے‘۔ رامو حلوائی نے اسے جھڑک کر بھگا دیا ۔
میرا جی چاہا کہیں سے میرے پر لگ جائیں اور میں اڑ کر اس غریب لڑکی کے ہاتھوں میں پہنچ جاؤں ۔مگر یہ میرے بس میں نہیں تھا ۔
اس رات رامو حلوائی نے دکان بند کی تو تمام نوٹوں کو اپنی جیب میں بھر کر گھر لے گیا ۔ آدھی رات گذری ہوگی کہ دھیرے دھیرے پانی کی بوندیں پڑنے لگیں۔ہوا سے درختوں کے پتّوںکی سر سرا ہٹ سنائی دینے لگی ۔مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ غریب لڑکی اور اس کا بھوکا بھائی سسک سسک کر رو رہے ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش ہونے لگی ۔بادل اتنے گہرے تھے کہ صبح ہو نے پر بھی ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔ پورا دن گزر گیا مگر بارش نے رکنے کا نام نہیں لیا ۔دوسرے دن شور سنائی دیا کہ گاؤں کی ندی میں باڑھ آئی ہے اور گاؤں کے قریب ہی واقع بند ٹوٹ گیا ہے، گاؤں بہنے لگا۔ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ چھوڑ کر بھاگنے لگے ۔ رامو حلوائی اپنے روپیوں اور زیورات کی پیٹی لے کر اپنی تین منزلہ بلڈنگ پر چڑھ گیا ۔ آس پاس کے چھوٹے موٹے گھر پانی میں ڈوب چکے تھے ۔ دو تین دن بعد پانی کم ہو ا۔ کئی لوگ اور مویشی پانی میں ڈوب کے ختم ہو گئے تھے ۔گھروں اور دکانوں کا سارا سامان بہہ چکا تھا ۔
رامو حلوائی اپنی بیوی اور بچّوں کے ساتھ کھانے کی تلاش میں نکلا ۔دو دن سے انھیں کچھ بھی نصیب نہ ہوا تھا ۔ رامو نے نوٹوں اور زیورات کے صندوق میں ہاتھ ڈال کر مجھے نکالا ۔ اور خود بیوی بچّوں کو ایک پیڑ کے نیچے بٹھا کر کھانے کی تلاش میں نکل پڑا ۔ وہ لوگوں کو مجھے دکھا کر کہتا تھا :’یہ سو کا نوٹ لے لو اورکھانے کی کوئی چیز ہو تو مجھے دو ۔ یہ سو روپئے کا نوٹ لے لو ،دو روٹیاں دے دو ‘۔ مگر سب لوگ اسی کی طرح دانہ دانہ کے محتاج در در بھٹک رہے تھے۔
بابو جی ! مجھے اپنے اوپر لکھے ہوئے ہندسوں اور لفظوں پر ہمیشہ فخر محسوس ہوا ہے لیکن زندگی میں مجھے پہلی مرتبہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے اوپرایک جھوٹ لکھا ہوا ہے ۔ میں سو روپئے کا نوٹ نہیں کاغذ کا ایک حقیر ٹکڑا ہوں ۔
تھوڑی دیر بعد فضا میں گڑ گڑ اہٹ سنائی دی ۔سب نے آسمان کی طرف دیکھا ۔ایک ہیلی کوپٹر ان مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے آیا تھا۔جب وہ لوگوں کے سروں پر سے گذرنے لگا تو اس سے کھانے کے پیکیٹس گرنے لگے۔ لوگ انھیں حاصل کرنے کے لیے پاگلوں کی طرح دوڑ رہے تھے ۔ رامو حلوائی جو اپنی دکان پر بیٹھے بیٹھے ہاتھی کی طرح موٹا ہو گیا تھا وہ بھلا کیسے دوڑپا تا مگر پیٹ کی مجبوری نے اسے بھی دوڑ نے پر مجبور کردیا ۔اپنے تھل تھلے جسم کے ساتھ بے تحاشا دورتے دوڑتے وہ دو بار بری طرح گرا ۔اس کے گھٹنے زخمی ہو گئے ۔ دھوتی پھٹ گئی ،مگر وہ کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر ما را مارا پھرتا رہا ۔ بڑی مشکل سے کھانے کے دو چار پیکٹ حاصل کر پایا اورانھیں لے کر وہ اپنے بیوی بچّوں کے پاس پہنچا تواس نے مجھے بڑی حقارت سے دیکھا ۔ بابو جی لوگ نوٹوں کو تو ہر جگہ لالچ اورمحبت بھری نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں ،مگر یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے رامو حلوائی جیسے دولت کے لالچی شخص کی نفرت بھری نظروں کا سامنا کرنا پڑا ۔
دوسرے دن اس علاقہ میں امدادی کیمپ لگایا گیا جہاں سے لوگوں کو کھانا کپڑا وغیرہ ملنے لگا ۔اس سیلاب سے لٹے پٹے لوگوں کی لمبی قطار میں رامو حلوائی بھی اپنے بیوی بچّوں کے ساتھ لاچار کھڑا تاتھا ۔میں اس وقت بھی اس کی جیب میں موجود تھا ۔ مگر اس کے کسی کام نہ آ سکتا تھا ۔ رامو حلوائی اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا اور اس کے پیچھے وہی لڑ کی اپنی بھائی کو کاندھے پر سوار کیے کھڑی تھی جسے کچھ دن پہلے رامو حلوائی نے اپنی دکان سے جھڑک کر بھگا دیا تھا ۔ اس لڑکی کے کانوں میں وہ جملے گونج اٹھے۔۔
’ چل بھاگ یہاں سے ۔ چلے آتے ہیں نہ جانے کہاں کہاں سے کوئی لنگر کھول رکھا ہے کیا؟ پیسے ہو تو بات کرو نہیں تو چلو آگے‘۔
’چلو آگے‘،رامو حلوائی کو کسی نے پیچھے سے دھکّا دیا ۔رامو حلوائی بھی شاید ان ہی جملوں میں کھویا ہوا تھا ۔ لوگ آگے بڑھ رہے تھے ۔ اس لڑکی نے رامو حلوائی کو دھیان سے دیکھااس کی نظریں جیسے اس سے پوچھ رہی تھیں،’ کیا آج تمہارے پاس بھی پیسہ نہیں ہے ؟جو ہماری طرح یہاں کھڑے ہو ‘
رامو حلوائی نے نظریں جھکا لیں ۔شرم کی وجہ سے یا اس لڑکی کی تیکھی نظروں سے بچنے کے لئے ۔ پھر وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑایا : اے اوپر والے! میری سمجھ میں آ گیا ،دنیا میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے ،مگر اتنی سی بات سمجھانے کے لیے اتنی بڑی باڑھ بھیجنے کی کیا جرورت تھی ‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Monday, September 08, 2008
عورت The Woman (A short Story in Urdu )

عورت - افسانہ
حقیقی واقعات پر مبنی ،عورت کے استحصال کی ایک کہانی ۔
۔ ’’ اس کا شوہر آٹو رکشا ڈرائیور تھا ، اچانک ایک حادثہ کا شکار ہو کر چل بسا۔ شوہر کی کمائی کے علاوہ اور کو ئی ذریعۂ روزگار نہ تھا ۔بچّوں کی پرورش اور تعلیم کا مسئلہ منہ پھاڑے کھڑا تھا ۔ جب کئی دن تنگی اور پریشانی کے گذرے تو اس نے یہ عجیب و غریب ارادہ کر لیا ۔ ٹوٹے پھوٹے آ ٹو کی مرمّت کر وائی اور اس طرح وہ اس شہر کی پہلی خاتون آ ٹو رکشا ڈرائیور بن گئی۔ آج جو سبق ہم پڑھنے جا رہے ہیں اسی خاتون کے متعلق ہے‘‘۔یہ کہہ کر میں نے کتاب کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھاکہ اس کلاس کی ذہین ترین طالبہ نغمہ بول پڑی ۔
’’سر عورت کیسے آٹو رکشا ڈرائیو ربن سکتی ہے ؟کلاس میں موجود طالبات کے چہروں پر بھی وہی سوال لکھا ہوا تھا ۔
’’سر عورت کیسے آٹو رکشا ڈرائیو ربن سکتی ہے ؟کلاس میں موجود طالبات کے چہروں پر بھی وہی سوال لکھا ہوا تھا ۔
’’بالکل بن سکتی ہے ، ہمارے شہر میں بھی چند عورتیں آ ٹو چلاتی ہیں ۔یہ چیز ابھی عام نہیں ہو ئی ہے ۔‘‘ میں نے طالبات کو سمجھانا شروع کیا ۔ ’’ لیکن جس شہر کی یہ کہانی ہے ۔ وہاں پہلے کبھی کسی عورت کو آ ٹو چلاتے ہو ئے نہیں دیکھا گیا تھا۔ حالات انسان سے کیانہیںکر واتے ۔پہلے تو اس پیشے میں مو جود مرد ڈرائیوروں نے اس کا خوب مذاق اڑایا۔فقرے کسے ،لیکن وہ عورت بھی دھن کی پکّی نکلی ۔زندگی کی جو جنگ اس نے لڑی وہ آ ج آ پ کے لئے ایک سبق بن گئی ہے‘‘۔
’’ سر آپ کے لئے فون ہے ۔ ‘‘ چپراسی دروازے پر کھڑا تھا۔
میں نے ان بچّوں کو سبق پڑھنے کے لئے کہا اور آ فس کی طرف چل دیا ۔ ’’ ہلو بھائی سائب ! میں کب سے کانٹیک کر ریا ہوں فونیچ نئی لگ را‘‘ فون پر ببلو تھا ۔اپنے مخصوص لب و لہجہ کے ساتھ ۔
’’ہاں، میرا فون دو دن سے خراب ہے ، سب ٹھیک تو ہے ؟‘‘
نئی بھا ئی ساب ۔ایک بری خبر ہے ،ایک کیا دو بری خبر ہے ۔سائیمہ باجی کا انتقال ہو گیا ۔
’’اوہ! انّا للٰہ و انّا الیہِ راجعون‘‘ ۔
’’آ پ کو فون کئے تھے مگر نئی لگا ۔ پھر اشرف ماسٹر سے اسکول کا نمبر لے کر لگایا ،اور جب باجی کو قبرستان لے کر گئے اور واپس آ ئے تو نانی جان کا بھی انتقال ہوگیا۔آج مغرب میں ملائیں گے آپ آ رئے نا؟ ‘‘
یا خدا !مجھے لگا جیسے میرے پیروںتلے سے زمین کھسک گئی ہو اور پورا کمرہ گھومنے لگا ۔ اچانک دو دو موتیں ۔
ایک گھنٹہ بعد میں شرالہ جانے والی بس میں کھڑ کی سے سر ٹکائے بیٹھا باہر تیزی سے بھاگتے مناظر کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ماضی کے سارے واقعات کسی فلم کے اسکرین کی طرح میرے ذہن کے پر دے پر ابھرنے لگے ۔ سائیمہ باجی ہمارے پڑوس میں رہا کرتی تھیں ۔ بچپن ہی سے میں انھیں خا لہ کہاکرتا تھا۔ دبلی، پتلی، شیرین لہجہ اپنائیت سے لبریز،ایسا محسوس ہو تا جیسے سر تا پا شفقت میں ڈوبی ہو ئی ہو ں۔ ایک چھوٹے سے مکان میں وہ رہا کر تی تھیں ،پھر جب جیل بیگ سے ان کی شادی ہو گئی تو ہمارے پڑوس میں آ کر رہنے لگیں۔ ان کی والدہ جنھیں ہم نانی کہا کر تے تھے ،وہ بھی ان کے ساتھ تھیں ۔اسی ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبے مدنا پور میں ان کی پر ورش ہو ئی تھی، وہیں تعلیم حاصل کی اور پھر ہمارے گاؤں کے ایک پرائمری اسکول میں ان کا تقرر ہو گیا۔ایک محنتی ، ذہین اورشریف استانی کی حیثیت سے انھوں نے بچّوں اور بستی والوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی تھی ۔ مجھے کسی نے ان کے متعلق بتا یا تھا کہ مدنا پور میں ا ن کے والد محنت مزدوری کر کے گذر بسر کیا کرتے تھے۔ ایک دن کسی کھیت میںبارش کے دوران پیڑ کے نیچے کھڑے تھے کہ اچانک اس پیڑ پر بجلی گر پڑی اور وہیں ختم ہو گئے ۔ پھر حالات کی نہ جانے کتنی بجلیاں ان کے پس ماند گان پر گریں ۔نانی جان نے بڑے صبر کے ساتھ خالہ جان اور ان کے بھائی عرفان کو پال پوس کر بڑا کیا ۔ ایک غریب بیوہ کے راستے میں جو مصیبت کے پہاڑ آ سکتے ہیں وہ سب انھوں نے ہمّت کے ساتھ طے کئے ۔
وقت کے ساتھ عرفان کمانے کے لائق ہو ا تو انھوں نے اسے ایسے دیکھنا شروع کیا جیسے وہ آنگن میں لگے بور سے لدے مہکتے ہو ئے آ م کے پیڑکو دیکھا کر تی تھیں جس میں اس بار پہلی مر تبہ پھل آ نے والے تھے ۔ ۔عرفان کی شادی ہو ئی اور چاند سی دلہن گھر آ ئی ۔ ان ہی دنوں ایک رات کچھ ایسی زبر دست ہو ا چلی کہ آم کا سارا بور زمین پر بچھ گیا ۔ شادی کے چند دنوں بعد ہی بہو نے اس گھر میں ماں بیٹی کا رہنا دشوار کر دیا۔عرفان کی بیوی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ دونوں عرفان کی محدود کمائی پر بوجھ ہیں ۔
چند ماہ گذرے ہو ں گے کہ بیوہ کی دعاؤں اور آ نسوؤں نے ایک نیا راستہ کھول دیا ۔ہمارے گاؤں میں سائمہ خالہ کا تقرر ایک پرائمری اسکول میں ہو گیا ۔ وہاں ایک کرائے کا مکان لے کر وہ دونوں ماں بیٹی رہنے لگے ۔ ملازمت کر تے ہو ئے دو تین برس گذرے ہو ں گے کہ ہمارے پڑوس میں رہنے والے مرزا جمیل بیگ سے سائمہ خالہ کا نکاح ہو گیا۔ ہم مرزا صاحب کو کسی حد تک جانتے تھے اس لئے اس خبر سے ہمیں کو ئی خو شی نہیں ہوئی ۔ پھر وہی ہو ا جس کا ڈر تھا، شادی کے بعد مرزا صاحب نے پر پر زے نکالنے شروع کر دئے ۔انھوں نے تو سائمہ خالہ کو سونے کا انڈا دینے والی مرغی سمجھ کر نکاح کیا تھا ۔ ہمارے سماج میں اب سروس والی بیوی سے شادی کرنا بھی تلاشِ روز گار کی ایک مقبول قسم ہے ۔
بیوی کی کمائی ہاتھ لگی تو مرزا صاحب کا ہاتھ کھل گیا ۔چند ہی مہینوں میں انھوں نے شراب اور بازاری عورتوں کے چکّر میں پھنس کر اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا ۔سائمہ خالہ خاموشی سے وہ سارے مظالم سہتی رہیں ۔ ان کی بے بسی اور خاموشی نے بیگ صاحب کے حوصلے بڑھا دئے۔نانی نے ان کی حرکتوں کے خلاف آ واز اٹھا ئی مگر ان کیآ واز میں وہ طاقت کہاں تھی کہ بیگ صاحب کا ہاتھ روک لیتی ۔وہ بذاتِ خود داماد کے گھر میں پناہ گزیں تھیں ۔ بیٹے کے گھر کی دہلیز پھلانگ کر آ ئی تھیں، اس طرف کا راستہ بند تھا ۔ لے دے کر بیٹی کی تنخواہ کا ایک سہارا تھا اور وہی اس گھر میں ان کے رہنے کا جواز بھی تھا۔ بیگ صاحب بھی اس بات کو خوب جانتے تھے کہ نانی کو الگ کر دینے سے وہ لکڑی ٹوٹجا ئیگی جس پر انھوں نے اپنے عیش و عشرت کا آ شیانہ بنایا تھا۔ سائمہ خالہ زندگی بھر ایک لدی ہو ئی شاخ کی طرح جھکی رہیں ۔
میرے آب و دانے نے مجھے اس زمین سے کسی پو دے کی طرح اکھاڑ کر شہر کا حصّہ بنا دیا تھا ۔ گاہے بگاہے ان لو گوں کی خبریں مجھ تک پہنچتی رہتی تھیں ۔ببلو کبھی کبھار شہر آ تا تو میرے گھر بھی چلا آ تا۔اسی کے ذریعے ایک دن مجھے پتہ چلا کہ بیگ صاحب نے دوسری شادی کر لی اور ایک ایک نیا گھر بنا کر نئی بیوی کو اس وہاں رکھ چھوڑا ہے۔پھرایک سال بعد خبر ملی کہ سائمہ خالہ کو بلڈ کینسر ہوگیا۔ بوڑھی نانی کے مقدّر میں نہ جانے اور کیا کیا لکھا تھا۔ ذہنی طور پر سبھی اس خبر کے لئے تیّار تھے کہ سائمہ خالہ اس دنیا میں نہیں رہیں۔
اپنی مٹّی سے دور ہونے کی ایک جان لیوا کسک جو شہر کے ہنگاموں میں ایسے چھپ جاتی ہے جیسے بارش کی پہلی بوچھار سے گاؤں کی کچّی سڑکوں پر اڑتی دھول دب جاتی ہے، اب پھر ابھر آ ئی تھی ۔بس دھیرے دھیرے اس بستی کے جانے پہچانے راستوں پر رینگ رہی تھی ۔مجھے ایسا محسوس ہو گویا میں اپنے ماضی کے شہر میںداخل ہو رہا ہوں ۔گاؤں کے راستے اب بھی ویسے ہی تھے ،دھول اڑاتے ہو ئے ۔ لو گوں کو چہروں پر وقت اپنے سفر کے نشان چھوڑ گیا تھا۔ بس دھیرے دھیرے آ گے بڑھ رہی تھی۔اسٹیشن قریب آ یا تو میں نے اپنا بیگ اور خود کو سنبھال اور بس رکتے ہی نیچے اتر آیا ۔ پہلے یہی قصبہ سائمہ خالہ اور نانی جان کے وجود سے کیسا بھرا بھرا لگتا تھا ۔ مجھے ایسا محسوس ہو ا جیسے وہ دونوں اپنے ساتھ اس قصبے کی ساری رونقیں سمیٹ کر لے گئے ۔
سائمہ خالہ کے گھر پہنچا تو نانی جان کو غسل دیا جا چکا تھا ۔ تھوڑی ہی دیر میں لوگ جناز لے کر قبرستان کی طرف چلنے لگے ۔ سائمہ خالہ کے پہلو ہی میں انھیں سپردِ خاک کر دیا گیا ۔ اسی دوران مجھے پتہ چلا کہ جب سائمہ خالہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو نانی جان لڑکھرا تی ہوئی دروازہ تک آ ئیں اور اشکبار نظروں سے بیٹی کے جنازہ کو جاتے ہو ئے دیکھتی رہیں۔ جب لوگ نظروں سے اوجھل ہو گئے تو ایک چینخ مار کر یہ کہا، ’’بیٹی سائمہ ! اب میں اس گھر میں کس منہ سے رہوں گی ؟‘‘ اور پھر وہ ایک کمزور مکان کی طرح وہیں ڈھ گئیں ۔ انھیں اٹھا کر وہیں بستر پر لٹا دیا گیا اس کے بعد وہ ہوش میں نہیں آئیں۔
دوسرے دن مجھے اپنے شہر روانہ ہو نا تھا۔ میں جب بس اسٹاپ پر پہنچا تو دیکھا اس چھوٹی سی بستی میں بڑی بڑی عمارتیں سر اٹھا نے لگی تھیں۔ اب اس گاؤں کے اندر سے ابھرتے ہوئے عفریت جیسے شہر نے اس بستی کو نگلنا شروع کر دیا تھا ۔ میرے قریب سے ایک آٹو رکشا گذرا جسے ایک عورت چلا رہی تھی ۔شہر کی طرح یہ مجبوریاں اب قصبوں میں داخل ہو چکی تھیں ۔ مگر یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔
مجھے حیرت سے اس منظر کو دیکھتے ہوئے ببلو نے کہا ۔ ’’ بھائی جان ! عورتاں آجکل بھؤت ترقّی کر لیاں، ادھر گاؤں گاؤں میں عورتاں آ ٹو چلانے لگ گیاں ‘‘
میری آ نکھوں کے آ گے سائیمہ خالہ کا چہرہ آ گیا جو ملازمت ملنے کے بعد اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی تھیں ۔ پھر لڑکھڑاتا ہوا نانی جان کا ہیولہ ابھرا اور گر کر زمین پر ڈھیر ہو گیا ۔
’’ببلو! عورت چاہے آ ٹو چلائے یا ہوائی جہاز ،دنیا والے عورت کی ترقّی کے کتنے ہی افسانے بناڈالیںحقیقت یہ ہے کہ عورت آج بھی اتنی ہی بے بس اور لا چار ہے جتنی کل تھی۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Saturday, September 06, 2008
journey (Translated Marathi story into Urdu)

سفر
Urdu translation of a Marathi modern short story ..
مراٹھی کہاانی
الف لیلوی کر دار سند باد جہازی کے تلمیحی پس منظر میں انوکھے انداز میں لکھی گٔی مراٹھی کہانی کا اردو ترجمہ ۔۔۔۔۔۔۔
لکشمن لونڈھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مترجم : محمّد اسد اللہ
۔
لگتا ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں آ پ کے چہرے سے ظاہر حیرانی تو یہی بتا رہی ہے ،جیسے کسی کو رات خواب میں کو ئی مرا ہوا آدمی دکھا ئی دے اور اتنے وقت کے لئے محسوس ہو کہ وہ سچ مچ زندہ ہے ،مگر صبح اٹھنے کے بعد یقین ہو جائے کہ وہ تو حقیقتاً خواب ہی تھا ،اور اچانک وہ شخص اس کے رو برو آ کھڑا ہو ،کچھ اسی قسم کا نظر آ رہا ہے آ پ کا چہرہ ۔
میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ نے مجھے کہیں کسی خواب میں ہر گز نہیں دیکھا ۔ممکن ہے کسی تصویر میں کہیں دیکھا ہو مگر وہ تو بچپن کی بات ہے ۔اس کے بعد آپ کی میری کو ئی ملاقات نہیں ۔آپ نے مجھے دلال یا مول گاؤں کر کی کھینچی ہو ئی تصویر میں دیکھا ہو گا ۔آپ اس تصویر میں بھی مجھے پہچان نہیں پا ئے ہوں گے کیونکہ وہ تصویر بھی ہو بہو نہیں تھی ۔ اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ دلال یا مول گاؤں کر نے بھی مجھے دیکھا کہاں تھا ۔ انھوں نے فقط لوگوں کے سنے ہو ئے بیانات کے سہارے میری تصویر بناڈالی تھی ۔ اس لئے اس کا غلط ہونا فطری ہے ۔
دوسری بات یہ کہ آج آپ کے پاس وہ تصویر مو جود نہیں اور اگر ہو تی بھی تو موازنہ کر نے کے کام نہ آ تی کیونکہ میں اب بھی آپ کے رو برو کھڑا کہاں ہوں ۔میں تو اب بھی آپ کے لئے ایک آ واز ہی ہوں ۔آپ کہیں گے اندھا آدمی آ واز کے ذریعے انسان کو پہچان لیتا ہے ۔میں مانتا ہوں ۔لیکن کب؟ جب کہ اس اندھے نے اس شخص کی آ واز پہلے کبھی سنی ہو،اور جہاں تک میرا خیال ہے میری آ واز بھی شایدآپ پہلی مرتبہ سن رہے ہیں ۔میں نے لفظ شاید استعمال کیا ہے ۔یہ بھی ممکن ہے میری آ واز
آ پ نے پہلے کہیں سنی ہو۔ لگتا ہے آپ نے مجھے اب بھی نہیں پہچانامیں وہ بوڑھا ہوں جو سند باد کو ملا تھا۔ساتویں سفر میں ۔
اس سے میری ملاقات ساتویں سفر میں ہو ئی تھی ۔یہ بات اس نے آ پ کو بتا ئی ہو گی ۔ ہے نا؟ یہ بھی ایک ادھوری سچّائی ہے ۔ مگر اس میں اس کا کو ئی قصور نہیں ۔میں پہلے سفر سے ہی اس کے ساتھ تھا،یعنی اس کی گردن پر سوار تھا۔ اسے اس بات کا قطعی علم نہ تھا ،یہ بات تو اسے ساتویں سفر میں معلوم ہو ئی ۔۔۔۔، اس کے بعد اس نے آ ٹھواں سفر نہیں کیا ۔ میں آ پ کو اگلے سوال کو بخوبی سمجھتاہوں کہ اس نے آ ٹھواں سفر کیوں نہیں کیا؟ یہی نا؟
بات دراصل یہ ہے کہ میں اس کے کاندھوں سے اتر گیا تو اس کاسفر کا سارا حوصلہ جا تارہا۔
سند باد نے کل سات سفر کئے ،کس لئے ؟ وہ خود کہتا ہے اسے گھومنے کا شوق تھا ۔ بے کا ربیٹھ نہیں سکتا تھا ۔ اگر بیٹھ رہتا تو انّر کمپلشن آ نے لگتا ۔ بعض لو گوں کا خیال ہے کہ ان تمام مسافتوں کے پیچھے دولت کے حصول کی ترغیب کار فر ما تھی۔ اور چند لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اس ملک کے بادشاہ کے حکم پر اسے یہ سفر اختیار کر نے پڑے ۔
ایک بات تو طے تھی کہ سفر سے واپسی پر سند باد ہر بار یہ طے کرتا کہ اب اتنی مسافتیں بہت ہو چکیں اب کسی سفر پر نہیں جانا ۔سفر کی صعوبتیں ،پریشانیاں ،دور دور بھٹکنا۔۔۔لیکن یہ تمام باتیں بے کار ثابت ہو تیں ۔وہ کون تھا جو یہ طے کرتا کہ اسے سفر نہیں کرنا؟ یہ طے کرنا اس کے بس میں تھا ہی نہیں،اور نہ یہ بادشاہ طے کر سکتا تھا۔یہ سب ان کے ہاتھوں میں نہیں تھا۔
۔۔۔۔یہ میرے اختیار میں تھا۔
میں ہی اس کی گردن پر سوار ہو کر اسے ہر بار دوڑاتا رہا ۔ اسے یہ محسوس ہو تا تھا کہ وہ سفر پر نکلا ہے مگر بالکل جھوٹ ۔اسے ہر بار سفر کے لئے کھینچ کر میں نے ہی باہر نکالا۔ سند باد نے ساتویں اور آ خری سفر کی پوری کہانی نہیں سنائی ۔میں سناتا ہوں ۔
سند باد بری طرح تھک چکا تھا۔سفر کی تکالیف ،دشواریاں اس کے علاوہ اسے کھانے پینے کے لئے کچھ نہ مل پایا ۔ سردی ،گرمی، بارش اور مو سمی ہواؤں میں اس اکیلے کا سفر ۔۔۔معاف کیجئے ہم دونوں کا،(وہ اور اس کے سر پر بیٹھا ہوا میں ) صرف اسے علم ہی نہیں تھا ۔ اسی لئے وہ اپنی دانست میں تنہا بھٹکتا رہا۔ مسلسل۔۔۔
ایک ایسی ہی تپتی ہو ئی دوپہر تھی اور پر سورج شعلے برسا رہا تھا ۔حدِّ نظر تک عرب کا ویران صحرا بکھرا پڑا تھا ۔راستے میں ملنے والے کھجوروں کے چند درخت تھے جو سائے کے بھی کام کے نہ تھے ۔۔۔۔اور دور نظر آ نے والا سراب ۔اتنے طویل سفر کے بعد یہ جان کر بھی کہ وہ سراب ہے سند باد پا گل ہواٹھا اور اس کے پیچھے دوڑنے لگا ۔ ۔۔
سند باد اور اس کے سر پر سوار میں ۔اس طرح کا تھا یہ سفر ۔
دوپہر کسی قدر ڈھل گئی ،مگر دھوپ کی شدّت اور تمازت اسی طرح بر قرار تھی ۔تب سند باد کو پانی کا ایک چشمہ نظر آیا ۔ سچ مچ کے پانی کا ایک چشمہ۔۔ وہ تیزی سے دوڑتا ہوا اس کے قریب پہنچا ۔سورج کی تیز شعائیں پانی سے منعکس ہو کر سند باد پر پڑیں اور وہ اسی وقت اندھا ہو گیا ۔ مگر وہ چشمہ عام قسم کے پانی کا ذخیرہ نہ تھا ۔ لو گ اسے مقدّس چشمہ کہتے تھے ۔چلّوسے پانی لینے کے لئے سند باد جھکا ہی تھا کہ اس کی بینائی لوٹ آ ئی اور پانی میں ابھرے ہو ئے عکس میں اسے دکھائی دیا کہ کو ئی اس کی گردن پر سوار ہے ۔کو ئی یعنی میں ۔۔۔۔ جس وقت اسے میرے وجود کا احساس ہوا اس لمحے کے بعد سند باد سند باد نہ ر ہا ۔اسی وقت سے یہ بات اس کے ذہن میں گھوم،تی رہی کہ کسی طرح وہ میرا بوجھ اپنے کاندھے سے اتار پھینکے ۔ اس کے بعد وہ لعل و جواہر اور سونا چاندی کے علاقے بھلا بیٹھا ۔ ان ممالک کی شہزادیوں سے غافل ہو گیا اور سب کچھ بھول گیا ۔ اب اس پر ایک ہی فکر سوار تھی کہ مجھے کسی طرح سر سے اتار پھینکے ۔
مجھے اس لمحے کے بعد سند باد سے خوف آ نے لگا ۔ میں کون ہوں یہ جان لینے کے بعد اس نے مجھ سے چھٹکارا پا نے کی کو شش شروع کی میں اسی وقت جان گیا کہ اب میں سند باد کے سر پر زیادہ دنوں تک بیٹھ نہیں سکوں گا ۔آ خر کار میں نے اسے سمجھانے کا ارادہ کیا ۔ میں نے اسے صاف صاف بتایا کہ ۔۔۔۔ ’’دیکھو سند باد ! تم مجھے پھینک سکتے ہو ،ختم نہیںکر سکتے ۔ مجھے لا فانیت کا شراپ ہے تم ایک فانی انسان ہو ۔تھوڑے دنوں کے بعد تم مر ہی جا ؤ گے ۔مجھے اس دنیا کے آ خر تک زندہ رہنا ہے اس لئے تم مجھے کسی دوسری جگہ بھجوادو ۔لیکن مجھے کسی کا سر چاہئے جہاں میں بیٹھ سکوں ۔ سند باد کو پہلے تو میرا خیال پسند نہ آ یا ۔یعنی اپنے سر کا بوجھ کسی دوسرے کے سر منڈھ دینا،لیکن اس کے سوا کو ئی دوسرا راستہ نہ تھا ۔ میں اسے خبر دار کر چکا تھا کہ جب تک مجھے کسی دوسرے شخص کے سر پر بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں ملے گی ،تم آ زاد نہیں ہو سکتے بالآخر وہ مجبوراً تیّار ہو گیا ۔ ایک دن اس نے مجھے اطلاع دی کہ’’ میںنے ایک سر ڈھونڈنکالا ہے چھے سات سال کا ایک بچّہ ہے ، ابھی اس کا سر چھوٹا ہے ۔ممکن ہے ابھی بیٹھنے کے لئے جگہ کم پڑے لیکن عمر کے ساتھ یقیناً اس کا سر بڑا ہو گا ۔ تب تم بہ آ سانی وہاں بیٹھ سکو گے ۔ مجھے اس کی بات پسند آ ئی ۔ اور ایک دن لعل و جواہر ،سونا چاندی کی کانیں ،شہزادیوں کی کہانیاں سناتے سناتے اس کی لا علمی کا فائدہ اٹھاتے ہو ئے ۔۔۔۔،دیکھئے آ پ کو یاد آ تا ہے کیا کہ سند باد نے آ پ کی بے خبری میں اپنا بوجھ آ پ کے سر منڈھ دیا اورخود آ زاد ہو گیا ۔
۔۔۔۔اور اس کے بعد سند باد کو آ ٹھویں سفر کی ضرورت ہی پیش نہ آ ئی ۔ ۔۔ ۔مگر اس دن کے بعد آ پ کا سفر شروع ہو گیا۔
Urdu translation of a Marathi modern short story ..
مراٹھی کہاانی
الف لیلوی کر دار سند باد جہازی کے تلمیحی پس منظر میں انوکھے انداز میں لکھی گٔی مراٹھی کہانی کا اردو ترجمہ ۔۔۔۔۔۔۔
لکشمن لونڈھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مترجم : محمّد اسد اللہ
۔
لگتا ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں آ پ کے چہرے سے ظاہر حیرانی تو یہی بتا رہی ہے ،جیسے کسی کو رات خواب میں کو ئی مرا ہوا آدمی دکھا ئی دے اور اتنے وقت کے لئے محسوس ہو کہ وہ سچ مچ زندہ ہے ،مگر صبح اٹھنے کے بعد یقین ہو جائے کہ وہ تو حقیقتاً خواب ہی تھا ،اور اچانک وہ شخص اس کے رو برو آ کھڑا ہو ،کچھ اسی قسم کا نظر آ رہا ہے آ پ کا چہرہ ۔
میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ نے مجھے کہیں کسی خواب میں ہر گز نہیں دیکھا ۔ممکن ہے کسی تصویر میں کہیں دیکھا ہو مگر وہ تو بچپن کی بات ہے ۔اس کے بعد آپ کی میری کو ئی ملاقات نہیں ۔آپ نے مجھے دلال یا مول گاؤں کر کی کھینچی ہو ئی تصویر میں دیکھا ہو گا ۔آپ اس تصویر میں بھی مجھے پہچان نہیں پا ئے ہوں گے کیونکہ وہ تصویر بھی ہو بہو نہیں تھی ۔ اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ دلال یا مول گاؤں کر نے بھی مجھے دیکھا کہاں تھا ۔ انھوں نے فقط لوگوں کے سنے ہو ئے بیانات کے سہارے میری تصویر بناڈالی تھی ۔ اس لئے اس کا غلط ہونا فطری ہے ۔
دوسری بات یہ کہ آج آپ کے پاس وہ تصویر مو جود نہیں اور اگر ہو تی بھی تو موازنہ کر نے کے کام نہ آ تی کیونکہ میں اب بھی آپ کے رو برو کھڑا کہاں ہوں ۔میں تو اب بھی آپ کے لئے ایک آ واز ہی ہوں ۔آپ کہیں گے اندھا آدمی آ واز کے ذریعے انسان کو پہچان لیتا ہے ۔میں مانتا ہوں ۔لیکن کب؟ جب کہ اس اندھے نے اس شخص کی آ واز پہلے کبھی سنی ہو،اور جہاں تک میرا خیال ہے میری آ واز بھی شایدآپ پہلی مرتبہ سن رہے ہیں ۔میں نے لفظ شاید استعمال کیا ہے ۔یہ بھی ممکن ہے میری آ واز
آ پ نے پہلے کہیں سنی ہو۔ لگتا ہے آپ نے مجھے اب بھی نہیں پہچانامیں وہ بوڑھا ہوں جو سند باد کو ملا تھا۔ساتویں سفر میں ۔
اس سے میری ملاقات ساتویں سفر میں ہو ئی تھی ۔یہ بات اس نے آ پ کو بتا ئی ہو گی ۔ ہے نا؟ یہ بھی ایک ادھوری سچّائی ہے ۔ مگر اس میں اس کا کو ئی قصور نہیں ۔میں پہلے سفر سے ہی اس کے ساتھ تھا،یعنی اس کی گردن پر سوار تھا۔ اسے اس بات کا قطعی علم نہ تھا ،یہ بات تو اسے ساتویں سفر میں معلوم ہو ئی ۔۔۔۔، اس کے بعد اس نے آ ٹھواں سفر نہیں کیا ۔ میں آ پ کو اگلے سوال کو بخوبی سمجھتاہوں کہ اس نے آ ٹھواں سفر کیوں نہیں کیا؟ یہی نا؟
بات دراصل یہ ہے کہ میں اس کے کاندھوں سے اتر گیا تو اس کاسفر کا سارا حوصلہ جا تارہا۔
سند باد نے کل سات سفر کئے ،کس لئے ؟ وہ خود کہتا ہے اسے گھومنے کا شوق تھا ۔ بے کا ربیٹھ نہیں سکتا تھا ۔ اگر بیٹھ رہتا تو انّر کمپلشن آ نے لگتا ۔ بعض لو گوں کا خیال ہے کہ ان تمام مسافتوں کے پیچھے دولت کے حصول کی ترغیب کار فر ما تھی۔ اور چند لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اس ملک کے بادشاہ کے حکم پر اسے یہ سفر اختیار کر نے پڑے ۔
ایک بات تو طے تھی کہ سفر سے واپسی پر سند باد ہر بار یہ طے کرتا کہ اب اتنی مسافتیں بہت ہو چکیں اب کسی سفر پر نہیں جانا ۔سفر کی صعوبتیں ،پریشانیاں ،دور دور بھٹکنا۔۔۔لیکن یہ تمام باتیں بے کار ثابت ہو تیں ۔وہ کون تھا جو یہ طے کرتا کہ اسے سفر نہیں کرنا؟ یہ طے کرنا اس کے بس میں تھا ہی نہیں،اور نہ یہ بادشاہ طے کر سکتا تھا۔یہ سب ان کے ہاتھوں میں نہیں تھا۔
۔۔۔۔یہ میرے اختیار میں تھا۔
میں ہی اس کی گردن پر سوار ہو کر اسے ہر بار دوڑاتا رہا ۔ اسے یہ محسوس ہو تا تھا کہ وہ سفر پر نکلا ہے مگر بالکل جھوٹ ۔اسے ہر بار سفر کے لئے کھینچ کر میں نے ہی باہر نکالا۔ سند باد نے ساتویں اور آ خری سفر کی پوری کہانی نہیں سنائی ۔میں سناتا ہوں ۔
سند باد بری طرح تھک چکا تھا۔سفر کی تکالیف ،دشواریاں اس کے علاوہ اسے کھانے پینے کے لئے کچھ نہ مل پایا ۔ سردی ،گرمی، بارش اور مو سمی ہواؤں میں اس اکیلے کا سفر ۔۔۔معاف کیجئے ہم دونوں کا،(وہ اور اس کے سر پر بیٹھا ہوا میں ) صرف اسے علم ہی نہیں تھا ۔ اسی لئے وہ اپنی دانست میں تنہا بھٹکتا رہا۔ مسلسل۔۔۔
ایک ایسی ہی تپتی ہو ئی دوپہر تھی اور پر سورج شعلے برسا رہا تھا ۔حدِّ نظر تک عرب کا ویران صحرا بکھرا پڑا تھا ۔راستے میں ملنے والے کھجوروں کے چند درخت تھے جو سائے کے بھی کام کے نہ تھے ۔۔۔۔اور دور نظر آ نے والا سراب ۔اتنے طویل سفر کے بعد یہ جان کر بھی کہ وہ سراب ہے سند باد پا گل ہواٹھا اور اس کے پیچھے دوڑنے لگا ۔ ۔۔
سند باد اور اس کے سر پر سوار میں ۔اس طرح کا تھا یہ سفر ۔
دوپہر کسی قدر ڈھل گئی ،مگر دھوپ کی شدّت اور تمازت اسی طرح بر قرار تھی ۔تب سند باد کو پانی کا ایک چشمہ نظر آیا ۔ سچ مچ کے پانی کا ایک چشمہ۔۔ وہ تیزی سے دوڑتا ہوا اس کے قریب پہنچا ۔سورج کی تیز شعائیں پانی سے منعکس ہو کر سند باد پر پڑیں اور وہ اسی وقت اندھا ہو گیا ۔ مگر وہ چشمہ عام قسم کے پانی کا ذخیرہ نہ تھا ۔ لو گ اسے مقدّس چشمہ کہتے تھے ۔چلّوسے پانی لینے کے لئے سند باد جھکا ہی تھا کہ اس کی بینائی لوٹ آ ئی اور پانی میں ابھرے ہو ئے عکس میں اسے دکھائی دیا کہ کو ئی اس کی گردن پر سوار ہے ۔کو ئی یعنی میں ۔۔۔۔ جس وقت اسے میرے وجود کا احساس ہوا اس لمحے کے بعد سند باد سند باد نہ ر ہا ۔اسی وقت سے یہ بات اس کے ذہن میں گھوم،تی رہی کہ کسی طرح وہ میرا بوجھ اپنے کاندھے سے اتار پھینکے ۔ اس کے بعد وہ لعل و جواہر اور سونا چاندی کے علاقے بھلا بیٹھا ۔ ان ممالک کی شہزادیوں سے غافل ہو گیا اور سب کچھ بھول گیا ۔ اب اس پر ایک ہی فکر سوار تھی کہ مجھے کسی طرح سر سے اتار پھینکے ۔
مجھے اس لمحے کے بعد سند باد سے خوف آ نے لگا ۔ میں کون ہوں یہ جان لینے کے بعد اس نے مجھ سے چھٹکارا پا نے کی کو شش شروع کی میں اسی وقت جان گیا کہ اب میں سند باد کے سر پر زیادہ دنوں تک بیٹھ نہیں سکوں گا ۔آ خر کار میں نے اسے سمجھانے کا ارادہ کیا ۔ میں نے اسے صاف صاف بتایا کہ ۔۔۔۔ ’’دیکھو سند باد ! تم مجھے پھینک سکتے ہو ،ختم نہیںکر سکتے ۔ مجھے لا فانیت کا شراپ ہے تم ایک فانی انسان ہو ۔تھوڑے دنوں کے بعد تم مر ہی جا ؤ گے ۔مجھے اس دنیا کے آ خر تک زندہ رہنا ہے اس لئے تم مجھے کسی دوسری جگہ بھجوادو ۔لیکن مجھے کسی کا سر چاہئے جہاں میں بیٹھ سکوں ۔ سند باد کو پہلے تو میرا خیال پسند نہ آ یا ۔یعنی اپنے سر کا بوجھ کسی دوسرے کے سر منڈھ دینا،لیکن اس کے سوا کو ئی دوسرا راستہ نہ تھا ۔ میں اسے خبر دار کر چکا تھا کہ جب تک مجھے کسی دوسرے شخص کے سر پر بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں ملے گی ،تم آ زاد نہیں ہو سکتے بالآخر وہ مجبوراً تیّار ہو گیا ۔ ایک دن اس نے مجھے اطلاع دی کہ’’ میںنے ایک سر ڈھونڈنکالا ہے چھے سات سال کا ایک بچّہ ہے ، ابھی اس کا سر چھوٹا ہے ۔ممکن ہے ابھی بیٹھنے کے لئے جگہ کم پڑے لیکن عمر کے ساتھ یقیناً اس کا سر بڑا ہو گا ۔ تب تم بہ آ سانی وہاں بیٹھ سکو گے ۔ مجھے اس کی بات پسند آ ئی ۔ اور ایک دن لعل و جواہر ،سونا چاندی کی کانیں ،شہزادیوں کی کہانیاں سناتے سناتے اس کی لا علمی کا فائدہ اٹھاتے ہو ئے ۔۔۔۔،دیکھئے آ پ کو یاد آ تا ہے کیا کہ سند باد نے آ پ کی بے خبری میں اپنا بوجھ آ پ کے سر منڈھ دیا اورخود آ زاد ہو گیا ۔
۔۔۔۔اور اس کے بعد سند باد کو آ ٹھویں سفر کی ضرورت ہی پیش نہ آ ئی ۔ ۔۔ ۔مگر اس دن کے بعد آ پ کا سفر شروع ہو گیا۔
Subscribe to:
Posts (Atom)




