A blog by Muhammad Asadullah featuring Urdu articles, poetry, children's literature, translations, and other Urdu literary forms.
Thursday, July 26, 2018
Thursday, March 15, 2018
Monday, April 24, 2017
Friday, September 04, 2015
Monday, April 06, 2015
Tuesday, September 16, 2008
M.K.Gandhi and National Integration (Urdu)

محمّد اسد اللہ
انسانی تاریخ کے صفحات آ ج بھی ان عظیم انسانوں کے کارناموں سے جگمگا رہے ہیںجنھوں نے انسانی زندگی کی بقا اورترقّی کی خاطر اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ ایسی ہی تاریخ ساز شخصیات میں موہن داس کرم چند گاندھی کا شمار کیاجا تا ہے ۔ ان کے ہمہ جہت شخصیت اور گراں قدر کارناموں نے انھیں با بائے قوم اور مہاتما گاندھی کے نام سے مقبولیت کا تاج پہنایا۔ عام آ دمی کے ذہن میںمہاتما گاندھی کی شخصیت کا پہلا تاثر ایک بے سر و ساماں درویش کا ہے جس نے اپنے نظریۂ عدم تشدّد کی بنیاد پر جنگِ آ زادی کا صور پھونکا اور اس ملک میں قدم جما چکی برٹش سر کار کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
گاندھی جی کی شخصیت کے اس انقلابی پہلو سے قطع نظر ہم ان کیی خیالات و افکار کا جائزہ لیں تو ان کے ہاں ہمیں ایک جامع اور مر بوط نظامِ زندگی کے شواہد ملتے ہیں ۔ مہاتما گاندھی ایک قابل رہنما ،بہترین انسان اور مفکّر بھی تھے وہ فلسفی نہ تھے لیکن انھوں نے دنیا کے سامنے ایک ایسا طرزِ زندگی اور مسائلِ حیات سے نبر دآ زما ہو نے کے لئے ایسا موثّر طریقۂ کار تجویز کیا جس کی افادیت دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے
تشدّدآج نہ صرف قومی پیمانے پر بلکہ عالمی سطح پر ایک بھیانک مسئلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مختلف طبقات ،ممالک ،ذاتوں اور مذاہب کے درمیاں غیر ہم آ ہنگی نے پوری دنیا میں تشدد کی لہر دوڑادی ہے اور ساری دنیا اس مسلہ کا حل تلاش کر رہی ہے ۔ گاندھی جی کی تقریروں کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انھوں نے ذات،مذہب علاقائیت ،رنگ و نسل اور لسانی سطح پر مختلف طبقات کے درمیان ہم آ ہنگی پیدا کر نے کی ایک دیانت دارانہ کو شش کی تھی ۔قومی یکجہتی کا یہی نظر یہ ان کی فکر کا بنیا دی پتّھر ہے جس پر وہ ایک خوشحال قوم کی تعمیرِ کر نا چاہتے تھے ۔
گاندھی جی کی قومی یکجہتی کا نظریہ اس قومی روایت پر مبنی معلوم ہو تا ہے کہ جس کے مطابق یہ پو ری کا ئنات خدا کا کنبہ ہے ( الخلق ُ عیال اللہ )یہی روایت ہندو مذہب کی کتابوں میں بھی مختلف الفاظ کے ساتھ آ ئی ہے ۔ گاندھی جی کی آ فاقی فکرنے انھیں رنگ و نسل ،ذات وبرادری اور علاقائیت کے امتیازات سے اوپر اٹھ کر سوچنے پر مجبور کیاتھا ۔ اسی انسانی دوستی کا پر تو ان کے خیالات پر پڑا ۔شاید اسی لئے اردو کے مشہور شاعر مجاز لکھنوی نے گاندھی جی کے انتقال پر ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔
ہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیا
انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا ۔
Wednesday, September 10, 2008
مہاتما گاندھی - اپنے افکار کے آ ءینے میں Thoughts of M.K.Gandhi
موہن داس کرم چند گاندھی
اپنے افکار کے آ ئینے میں
۱۔ اگر ہندوستان تلوار کے راستے کو اپناتا ہے تو ہو سکتا ہے اسے فوراً کامیابی حاصل ہو جائے لیکن اس صورت میں تشدّد بھرا بھارت میرے دل کا ٹکڑا نہیںہو سکتا ، پوری دنیا کو راستہ دکھانے کے لئے ہندوستان کا یہی مشن ہو نا چاہئے کہ جو بات اخلاقی طور پر غلط ہے وہ سیاسی طور پر بھی غلط ہے ۔
۲۔ جب تک ہندوستانی عورتیں عوامی زندگی میں حصّہ نہیں لیتیںتب تک ملک ترقّی نہیں کر سکتا ۔
۳۔ گناہ سے نفرت کرو گناہ گار سے نہیں ۔
۴۔ ’’ اس بڑھتی ہو ئی چھوا چھوت سے مجھے انتہائی تکلیف پہنچی ہے کیونکہ میں اپنے آپ کو ایک ایسا ہندو سمجھتاہوں جس میں ہندو دھرم کی روح پیوست ہو گئی ہے ۔ آج جس صورت میںہمارے ہاں چھوت چھات پائی جاتی ہے اس کے لئے مجھے کو ئی جواز ان سب کتابوں میں نہیں مل سکا جنھیں ہم شاستر کہتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ میںپہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ ہندو دھرم واقعی چھوت چھات کو جا ئز قرار دیتا ہے تو مجھے ہندو دھرم چھوڑنے میں کو ئی پس و پیش نہیں ہو گا ۔ کیونکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ سبھی سچّے مذاہب کو بنیادی سچّائیوں کے خلاف نہیں ہو نا چاہئے ۔
۵۔ اگر آنکھ کا بدلہ آنکھ ہو تو پو ری دنیا اندھی ہو جا ئے گی ۔
۶ ۔ شراب جسم اور روح دونوں کو فنا کر دیتی ہے ۔
۷۔ میں اپنی شخصیت کے اظہار کے لئے مکمّل آ زادی چاہتا ہوں ۔
نہ کہیں ہندو مر رہے ہیں نہ مسلمان مارے جا رہے ہیں ۔ ہر جگہ انسان مررہا ہے ۔
۸۔ ایک کمزور کبھی معاف نہیں کر سکتا ۔ معافی تو طاقتور کا اظہار ہے
۹۔ ہر گاؤں کو خود کفیل جمہوری اکائی ہو نا چا ہئے ۔
۱۰۔ایماندارانہ اختلاف ترقّی کی نشانی ہے ۔
Saturday, September 06, 2008
Maulana Abul Kalam Azad

School Essay
Maulana Abul Kalam Azad
اس دنیا میں ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ۔ ملک و قوم کے لئے انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں ، ایسی عظیم شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حرفوں سے لکھے ہیں ۔ ان میں سیاسی رہنما ، سماجی خدمت گار ،مذہبی پیشوا، مفکّر ،شاعر ادیب وغیرہ سبھی ہیں ۔ ایسے ہی لو گوں کے بارے میں شاعرِ مشرق علّامہ اقبال نے کہا تھا ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہمارے ملک کی ایسی ہی عظیم اور مثالی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد،میرے پسندیدہ رہنما ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آ زاد ایک سیاسی رہنما اور مجاہدِ آزادی ہی نہ تھے بلکہ ایک تعمیری سوچ رکھنے والے شعلہ بیان مقرر اور بیدار ذہن علمَِ دین بھی تھے ۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کئی شعبوں کا احاطہ کئے ہو ئے تھی ۔ وہ ایک بے مثال مفکّر ،مدبّر ،مفسّرِ قرآن،دانشور ، ادیب و صحافی بھی تھے ۔ انھوں نے اپنی ان خدا داد صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے استعمال کیا ۔
مولاناآزاد کے آ باء و اجداد شہنشاہ بابر کے زمانے میں افغانستان سے یہاں آکر آ باد ہوگئے تھے ۔ مولانا آزاد ۱۱! نومبر ۱۸۸۸ میں مکّۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔مولانا کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ۔اسی تعلیم و تربیت کا اثر تھا علم و ادب سے انھیں گہرا شغف رہا ۔ انھیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ انھوں نے کم عمری ہی میں علم و ادب کی تصنیف کا سلسہ شروع کردیا تھا اور ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خاصے مشہور ہو گئے تھے ۔جب انھیں ایک علمی تقریب میں مدعو کیا گیا اور وہ وہاں پہنچے تو مولانا آ زاد کو دیکھ کر لو گ یہ سمجھے کہ یہ مولانا آزاد کے بیٹے ہیں ۔ ان کی خدا داد ذہانت اور صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ سروجنی نائیڈو نے ان کے متعلق کہا تھا کہ مو لانا ابوالکلا م آ زاد جب پیدا ہو ئے تو پچاس سال کے تھے ۔
مولانا آ زاد نے مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ جنگِ آ زادی کی کئی تحریکو ںمیں حصّہ لیا اور کئی مرتبہ جیل گئے ۔پنڈت جوہر لعل نہرو انھیں’ میرِ کارواں‘ کہا کرتے تھے ۔ مولاناآ زاد نے پندرہ سال کی عمر میں کلکتّہ سے رسالہ’ لسان الصدق ‘جاری کیا تھا ۔ انھوں نے’ الہلال‘ اور’ البلاغ‘ جیسے رسائل شائع کر کے ہندوستان کی عوام کے دلوں میں آزادی حاصل کر نے کا جذبہ پیدا کیا ۔
مولانا آ زاد ایک صاحبِ طرز ادیب بھی تھے ۔ان کا اسلوبِ نگارش نہایت دلکش تھا ۔ ان کی تحریر میں عربی اور فارسی الفاظ کے علاوہ فارسی اشعار کا کثرت سے استعمال ہوا کر تا تھا ۔ ان کے اسی طرزِ تحریر کی وجہ سے علمی حلقوں میں ان کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا ۔جنگِ آزادی کے دوران جب انھیں احمد نگر کی جیل میں قید کیاگیا تھا وہاں انھوں نے جو خطوط لکھے وہ بعد میں ’غبارِ خاطر‘ کے نام سے شائع ہو ئے ۔ یہ دلچسپ اور معیاری خطوط ہمارے ادب کا حصّہ ہیں ۔ اس کتاب کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔
ان خطوط سے پتہ چلتاہے کہ مو لانا کی شخصیت کتنی پہلو دار تھی ۔ ان کے سینے میں ایک حسّاس اور درد مند دل تھا جونہ صرف انسانوں بلکہ جانداروں کے لئے بھی دھڑکتا تھا ۔
مولانا آ زاد قومی یکجہتی کے زبردست حامی تھے ۔ مطالبۂ پاکستان کی پر زور مخالفت کر نے والوں میں ان کا نام سرِ فہرست ہے ۔
۱۹۲۳ کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں انھوں نے سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے جو تقریر کی تھی اس میں
کہا تھا:
’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآ ئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج ۲۴ گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتّحاد سے دست بر دار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بر دار ہو جا ؤں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہو ئی تو یہ ہندوستان کا ن٘قصان ہو گا لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے ‘‘(خطباتِ آ زاد) ۔مولانا آ زاد کسی بھی قیمت پر قومی ایکتا کو قائم رکھنا چاہتے تھے ۔
مولانا آ زاد کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم ہو نے کا شرف حاصل ہے ۔ اس وقت ملک کئے حالات ایسے نہ تھے کہ کو ئی آ سانی سے تعمیری کام انجام دے سکے اس کے باوجود مولانا نے مفت پرائمری تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے یونی ورسٹی گرانٹ کمیشن کے قیام پر زور دیا ۔ مولانا نے تعلیم کے میدان میں جو کارنامے انجام دئے اس نے آ زاد بھارت کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
مولاناآزاد جیسے عظیم لوگ صدیوں میں کبھی کبھا ر ہی پیدا ہو تے ہیں ان کی زندگی ، ان کے خیالات اور کارنامے ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔
مت سہل ہمیں جانو ،پھر تا ہے فلک بر سوں تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیںمیرا پسندیدہ رہنما ۔ مو لانا ابوالکلام آ زاد
اس دنیا میں ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ۔ ملک و قوم کے لئے انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں ، ایسی عظیم شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حرفوں سے لکھے ہیں ۔ ان میں سیاسی رہنما ، سماجی خدمت گار ،مذہبی پیشوا، مفکّر ،شاعر ادیب وغیرہ سبھی ہیں ۔ ایسے ہی لو گوں کے بارے میں شاعرِ مشرق علّامہ اقبال نے کہا تھا ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہمارے ملک کی ایسی ہی عظیم اور مثالی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد،میرے پسندیدہ رہنما ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آ زاد ایک سیاسی رہنما اور مجاہدِ آزادی ہی نہ تھے بلکہ ایک تعمیری سوچ رکھنے والے شعلہ بیان مقرر اور بیدار ذہن علمَِ دین بھی تھے ۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کئی شعبوں کا احاطہ کئے ہو ئے تھی ۔ وہ ایک بے مثال مفکّر ،مدبّر ،مفسّرِ قرآن،دانشور ، ادیب و صحافی بھی تھے ۔ انھوں نے اپنی ان خدا داد صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے استعمال کیا ۔
مولاناآزاد کے آ باء و اجداد شہنشاہ بابر کے زمانے میں افغانستان سے یہاں آکر آ باد ہوگئے تھے ۔ مولانا آزاد ۱۱! نومبر ۱۸۸۸ میں مکّۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔مولانا کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ۔اسی تعلیم و تربیت کا اثر تھا علم و ادب سے انھیں گہرا شغف رہا ۔ انھیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ انھوں نے کم عمری ہی میں علم و ادب کی تصنیف کا سلسہ شروع کردیا تھا اور ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خاصے مشہور ہو گئے تھے ۔جب انھیں ایک علمی تقریب میں مدعو کیا گیا اور وہ وہاں پہنچے تو مولانا آ زاد کو دیکھ کر لو گ یہ سمجھے کہ یہ مولانا آزاد کے بیٹے ہیں ۔ ان کی خدا داد ذہانت اور صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ سروجنی نائیڈو نے ان کے متعلق کہا تھا کہ مو لانا ابوالکلا م آ زاد جب پیدا ہو ئے تو پچاس سال کے تھے ۔
مولانا آ زاد نے مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ جنگِ آ زادی کی کئی تحریکو ںمیں حصّہ لیا اور کئی مرتبہ جیل گئے ۔پنڈت جوہر لعل نہرو انھیں’ میرِ کارواں‘ کہا کرتے تھے ۔ مولاناآ زاد نے پندرہ سال کی عمر میں کلکتّہ سے رسالہ’ لسان الصدق ‘جاری کیا تھا ۔ انھوں نے’ الہلال‘ اور’ البلاغ‘ جیسے رسائل شائع کر کے ہندوستان کی عوام کے دلوں میں آزادی حاصل کر نے کا جذبہ پیدا کیا ۔
مولانا آ زاد ایک صاحبِ طرز ادیب بھی تھے ۔ان کا اسلوبِ نگارش نہایت دلکش تھا ۔ ان کی تحریر میں عربی اور فارسی الفاظ کے علاوہ فارسی اشعار کا کثرت سے استعمال ہوا کر تا تھا ۔ ان کے اسی طرزِ تحریر کی وجہ سے علمی حلقوں میں ان کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا ۔جنگِ آزادی کے دوران جب انھیں احمد نگر کی جیل میں قید کیاگیا تھا وہاں انھوں نے جو خطوط لکھے وہ بعد میں ’غبارِ خاطر‘ کے نام سے شائع ہو ئے ۔ یہ دلچسپ اور معیاری خطوط ہمارے ادب کا حصّہ ہیں ۔ اس کتاب کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔
ان خطوط سے پتہ چلتاہے کہ مو لانا کی شخصیت کتنی پہلو دار تھی ۔ ان کے سینے میں ایک حسّاس اور درد مند دل تھا جونہ صرف انسانوں بلکہ جانداروں کے لئے بھی دھڑکتا تھا ۔
مولانا آ زاد قومی یکجہتی کے زبردست حامی تھے ۔ مطالبۂ پاکستان کی پر زور مخالفت کر نے والوں میں ان کا نام سرِ فہرست ہے ۔
۳ ۱۹۲ء کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں انھوں نے سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے جو تقریر کی تھی اس میں کہا تھا:
’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآ ئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج ۲۴ گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتّحاد سے دست بر دار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بر دار ہو جا ؤں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہو ئی تو یہ ہندوستان کا ن٘قصان ہو گا لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے ‘‘(خطباتِ آ زاد) ۔مولانا آ زاد کسی بھی قیمت پر قومی ایکتا کو قائم رکھنا چاہتے تھے ۔
مولانا آ زاد کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم ہو نے کا شرف حاصل ہے ۔ اس وقت ملک کئے حالات ایسے نہ تھے کہ کو ئی آ سانی سے تعمیری کام انجام دے سکے اس کے باوجود مولانا نے مفت پرائمری تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے یونی ورسٹی گرانٹ کمیشن کے قیام پر زور دیا ۔ مولانا نے تعلیم کے میدان میں جو کارنامے انجام دئے اس نے آ زاد بھارت کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
مولاناآزاد جیسے عظیم لوگ صدیوں میں کبھی کبھا ر ہی پیدا ہو تے ہیں ان کی زندگی ، ان کے خیالات اور کارنامے ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔
مت سہل ہمیں جانو ،پھر تا ہے فلک بر سوں تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیںمیرا پسندیدہ رہنما ۔ مو لانا ابوالکلام آ زاد
اس دنیا میں ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ۔ ملک و قوم کے لئے انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں ، ایسی عظیم شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حرفوں سے لکھے ہیں ۔ ان میں سیاسی رہنما ، سماجی خدمت گار ،مذہبی پیشوا، مفکّر ،شاعر ادیب وغیرہ سبھی ہیں ۔ ایسے ہی لو گوں کے بارے میں شاعرِ مشرق علّامہ اقبال نے کہا تھا ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہمارے ملک کی ایسی ہی عظیم اور مثالی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد،میرے پسندیدہ رہنما ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آ زاد ایک سیاسی رہنما اور مجاہدِ آزادی ہی نہ تھے بلکہ ایک تعمیری سوچ رکھنے والے شعلہ بیان مقرر اور بیدار ذہن علمَِ دین بھی تھے ۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کئی شعبوں کا احاطہ کئے ہو ئے تھی ۔ وہ ایک بے مثال مفکّر ،مدبّر ،مفسّرِ قرآن،دانشور ، ادیب و صحافی بھی تھے ۔ انھوں نے اپنی ان خدا داد صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے استعمال کیا ۔
مولاناآزاد کے آ باء و اجداد شہنشاہ بابر کے زمانے میں افغانستان سے یہاں آکر آ باد ہوگئے تھے ۔ مولانا آزاد ۱۱! نومبر ۱۸۸۸ میں مکّۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔مولانا کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ۔اسی تعلیم و تربیت کا اثر تھا علم و ادب سے انھیں گہرا شغف رہا ۔ انھیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ انھوں نے کم عمری ہی میں علم و ادب کی تصنیف کا سلسہ شروع کردیا تھا اور ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خاصے مشہور ہو گئے تھے ۔جب انھیں ایک علمی تقریب میں مدعو کیا گیا اور وہ وہاں پہنچے تو مولانا آ زاد کو دیکھ کر لو گ یہ سمجھے کہ یہ مولانا آزاد کے بیٹے ہیں ۔ ان کی خدا داد ذہانت اور صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ سروجنی نائیڈو نے ان کے متعلق کہا تھا کہ مو لانا ابوالکلا م آ زاد جب پیدا ہو ئے تو پچاس سال کے تھے ۔
مولانا آ زاد نے مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ جنگِ آ زادی کی کئی تحریکو ںمیں حصّہ لیا اور کئی مرتبہ جیل گئے ۔پنڈت جوہر لعل نہرو انھیں’ میرِ کارواں‘ کہا کرتے تھے ۔ مولاناآ زاد نے پندرہ سال کی عمر میں کلکتّہ سے رسالہ’ لسان الصدق ‘جاری کیا تھا ۔ انھوں نے’ الہلال‘ اور’ البلاغ‘ جیسے رسائل شائع کر کے ہندوستان کی عوام کے دلوں میں آزادی حاصل کر نے کا جذبہ پیدا کیا ۔
مولانا آ زاد ایک صاحبِ طرز ادیب بھی تھے ۔ان کا اسلوبِ نگارش نہایت دلکش تھا ۔ ان کی تحریر میں عربی اور فارسی الفاظ کے علاوہ فارسی اشعار کا کثرت سے استعمال ہوا کر تا تھا ۔ ان کے اسی طرزِ تحریر کی وجہ سے علمی حلقوں میں ان کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا ۔جنگِ آزادی کے دوران جب انھیں احمد نگر کی جیل میں قید کیاگیا تھا وہاں انھوں نے جو خطوط لکھے وہ بعد میں ’غبارِ خاطر‘ کے نام سے شائع ہو ئے ۔ یہ دلچسپ اور معیاری خطوط ہمارے ادب کا حصّہ ہیں ۔ اس کتاب کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔
ان خطوط سے پتہ چلتاہے کہ مو لانا کی شخصیت کتنی پہلو دار تھی ۔ ان کے سینے میں ایک حسّاس اور درد مند دل تھا جونہ صرف انسانوں بلکہ جانداروں کے لئے بھی دھڑکتا تھا ۔
مولانا آ زاد قومی یکجہتی کے زبردست حامی تھے ۔ مطالبۂ پاکستان کی پر زور مخالفت کر نے والوں میں ان کا نام سرِ فہرست ہے ۔
۱۹۲۳ء کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں انھوں نے سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے جو تقریر کی تھی اس میں کہا تھا:
"آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآ ئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج 24 گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتّحاد سے دست بر دار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بر دار ہو جا ؤں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہو ئی تو یہ ہندوستان کا ن٘قصان ہو گا لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے ‘‘(خطباتِ آ زاد) ۔مولانا آ زاد کسی بھی قیمت پر قومی ایکتا کو قائم رکھنا چاہتے تھے ۔''
مولانا آ زاد کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم ہو نے کا شرف حاصل ہے ۔ اس وقت ملک کئے حالات ایسے نہ تھے کہ کو ئی آ سانی سے تعمیری کام انجام دے سکے اس کے باوجود مولانا نے مفت پرائمری تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے یونی ورسٹی گرانٹ کمیشن کے قیام پر زور دیا ۔ مولانا نے تعلیم کے میدان میں جو کارنامے انجام دئے اس نے آ زاد بھارت کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
مولاناآزاد جیسے عظیم لوگ صدیوں میں کبھی کبھا ر ہی پیدا ہو تے ہیں ان کی زندگی ، ان کے خیالات اور کارنامے ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔
مت سہل ہمیں جانو ،پھر تا ہے فلک بر سوں
تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیں
Saturday, August 16, 2008
Rajiv Gandhi - a tribute
راجیو گاندھی نے ایک ایسے گھرانے میں آ نکھ کھولی تھی جس کا ہندوستان کی جنگِ آ زادی سے گہراتعلق تھا ۔ ان کے دادا پنڈت موتی لعل نہرو اور والد پنڈت جواہر لعل نہرو تحریکِ آ زادی کے اہم رہنماؤں میںشامل تھے ۔ تحریکِ آ زادی کو اس خاندان سے کافی تقویت حاصل تھی ۔ پنڈت جواہر لعل نہرو آ زاد بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم مقرر کئے گئے ۔ راجیو گاندھی کے نام میں شامل لفظ گاندھی سے یہ شبہ پیدا ہو تا ہے کہ ان کا تعلق تحریکِ آزادی کے مشہور رہنما مہاتما گاندھی سے بھی رہا ہے لیکن ایسا نہیں ۔در اصل راجیو گاندھی کی والدہ مسز اندرا گاندھی کے شوہر فیروز گاندھی کے نام کی مناسبت سے یہ لفظ ان کے نام میں شامل ہوا ۔ فیروز گاندھی کا۱۹۶۰ میںحرکتِ قلب بند ہو جا نے سے انتقال ہو گیا تھا۔
راجیو گاندھی کی تعلیم دو غیر سرکاری بورڈنگ اسکولوں میں ہو ئی ۔ ویلہم بوائیز اسکول اورڈون اسکول میں تعلیم پانے کے بعد وہ انگلینڈ چلے گئے اور امپریل کالج ، لندن اورکیمبرج یو نی ور سٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی یہیں ان کی ملاقات سونیا گاندھی سے ہو ئی جو ۱۹۶۸ میں ان کی شریکِ حیات بنیں ۔۱۹۷۰ میں ان کے بیٹے راہل گاندھی اور ۱۹۷۲ میںبیٹی پرینگا گاندھی کی پیدائش ہو ئی ۔
راجیو گاندھی بطور پائلٹ خدمات انجام دے رہے تھے اور سیاست سے انھیں کو ئی دلچسپی نہیں تھی لیکن ۱۹۸۰ میں ان کے چھوٹے بھائی سنجے گاندھی ایک جہاز کے حادثے میں ہلاک ہو گئے اس ناگہانی موت کے بعد ان کی والدہ اور دیگر کانگریسی لیڈروں کے اصرار پر وہ ۱۹۸۱ء میں اپنے بھائی کے حلقہٗ انتخاب امیٹھی(اتّر پر دیش ) سے لوک سبھا کے الکشن کے لئے کھڑے ہوئے اورکامیا ب ہو ئے ۔
۳۱!اکتوبر ۱۹۸۳ء وہ جب وہ مغربی بنگال میں تھے ان کی والدہ کو قتل کر دیا گیا ۔ اپنی والدہ کی موت کے بعد انھیں الکشن میں عوام نے کثیر ووٹوں سے منتخب کیا۔
ان کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ ایک کانگریسی لیڈر کے پرچار کے سلسے میں ایک تقریب میں موجود تھے ایک خود کش بم دھماکے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔







