A blog by Muhammad Asadullah featuring Urdu articles, poetry, children's literature, translations, and other Urdu literary forms.
Showing posts with label Main Pakit Ki Trah ......Ghazals. Show all posts
Showing posts with label Main Pakit Ki Trah ......Ghazals. Show all posts
Saturday, April 14, 2018
Wednesday, April 01, 2009
Ghazal- Kabhi Batil Bhaga Kar Haq Ko Le Jata Hai Basti Se
.jpg)
غزل
محمّد اسد اللہ
میں پاکٹ کی طرح خود کو کہیں پر بھول آ یا ہوں
یہاں رہتے ہو ئے مجھ کو تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے
میں پاکٹ کی طرح خود کو کہیں پر بھول آ یا ہوں
یہاں رہتے ہو ئے مجھ کو تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے
کبھی باطل بھگا کر حق کو لے جاتا ہے بستی سے
کبھی حق بھیس میں باطل کے آ کر منہ چڑھا تا ہے
سوا مسدود راہوں سے ،ہوا کے کون آ ئے گا ؟
نہ جانے کس کی خاطر یہ دیا اب جھلملاتا ہے
کبھی اندیشۂ باطل ہمیں سونے نہیں دیتا
کبھی حق نیم شب دروازہ آ کر کھٹکھٹاتا ہے
چٹانوں کی طرح ہم ہیں مگر ٹوٹ ے ہو ئے بھی ہیں
یہاں ہرپل بکھر نے کا ہمیں اندیشہ رہتا ہے
فضائیں ایک مدّت سے اذانوں کو ترستی ہیں
یہاں ہر شخص سچّائی کو بس کانوں میں کہتا ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)







