A blog by Muhammad Asadullah featuring Urdu articles, poetry, children's literature, translations, and other Urdu literary forms.
Friday, April 26, 2019
Thursday, March 15, 2018
Sunday, August 01, 2010
Friday, March 26, 2010
Taleem e Niswan Womens Education تعلیمِ نسواں
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مسلمانوں پر علم کا حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ طلوعِ اسلام کے بعد مسلمانوں نے مختلف میدانوں میں جو کار ہائے نمایاں انجام دئے وہ تاریخ کے صفحات پر رقم ہیں ۔ اسلام نے دیگر شعبوں کی طرح حصولِ علم کے معاملہ میں مرد و زن کے مابین کوئی تفریق نہیں کی۔ نبی ِکریم ﷺ کاارشاد ہے۔:
طلب العلم فریضۃُ علی کلِ مسلم و مسلمۃ
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد اور عورت )پر فرض ہے۔
اس معاملہ میں دینی و دنیاوی علوم کی بھی تخصیص نہیں رکھی گئی ۔ مسلمان برائیوں سے محفوظ رہے اس لئے مسلمان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ برائیوں سے بھی آگاہ رہے ۔
ماں کی گود کو انسان کی پہلی درسگاہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں وارد ہوتے ہی اس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ ماں کی آغوش سے شروع ہو جاتا ہے اور تا دمِ آخر جاری رہتا ہے ۔ بچّے کی صحیح تعلیم و تربیت کا فریضہ ماں ہی بخوبی انجام دے سکتی ہے ۔ یہاں ہمیں ایک نکتہ یہ بھی ملتا ہے کہ استاد کے اندر بھی اگر ماں کی سی شفقت ، محبّت اورطالبِ علم کی خیر خواہی کا جذبہ موجود ہو توتعلیم کے تمام مراحل آسان اور پر اثر ہو جاتے ہیں ۔
عام طور ہر کہا جاتا ہے کہ
ہر کامیاب شخص کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے ۔
خواہ وہ سکندرِ اعظم کی ماں ہویا شیواجی کی جیجا ماتا ۔انگریزی زبان میں بھی اسی مفہوم کو ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔
The hands that rock the craddle,rule the world
تاریخ کے صفحات اس قول کی تصدیق کرتے ہیں۔ آج دنیا کے حالات پر نظر ڈالئے تو پتہ چلے گا کہ دنیا کیسے کیسے انقلابات سے دوچار ہے ۔ ان حالات میں خواتین کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں ۔
ان کے لئے گھریلو فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ دنیا جہاں کے حالات سے با خبر رہنا بھی لازمی ہو گیا ہے ۔
یوں تو ہر مومن کے لئے لازمی ہے کہ وہ ہر خطرہ سے باخبر ہواور ایمان سمیت اپنی حفاظت خود کرے ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا ۔
ایک انگریز کا قول ہے
An intelligent person is the one
whose feet are planted in his
should survey the whole world.
دنیا کی عظیم المرتبت شخصیات نے خواتین کے مرتبہ کو سمجھا اور ان کا احترام کیا۔ .
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنّت ہے ۔
یہ سچ ہے کہ عورت کو دنیا میں مختلف کردار نبھانے ہوتے ہیں ۔ کبھی ماں بن کر تو کبھی بہن کی صورت میں ، کبھی بیوی کے روپ میں اور کبھی بیٹی بن کران تمام مدارج میں اس کے ذمّہ داریاں بھی بدلتی رہتی ہیں ۔ اسے نئے نئے حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ ان تمام مدارج سے کامیابی کے ساتھ گزرنے کے لئے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ۔ اگر عورت علم اور انسانیت سے عاری ہو تو اس کی موجودگی اچھّے خاصے گھر کو جہنّم میں تبدیل کر سکتی ہے اور اس کا اعلیٰ کردار پورے خاندان کے لئے نعمت اور برکت ثابت ہو سکتا ہے اس معاملہ میں تعلیم موثر کردار ادا کرتی ہے ۔
ہمارے عہد میں جو سماجی مسائل اور بہروپ جنم لے رہے ہیں خواہ وہ کسی مذہب و ملّت سے تعلق رکھتے ہوں اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کی تعلیم و تربیت میں کہیں نہ کہیں کوئی خامی ضرور رہ گئی تھی انسان صحیح تعلیم کے بعد ہی انسان بنتا ہے ورنہ تعلیم اس کے لئے الزام بن کر رہ جاتی ہے ۔
Thursday, September 24, 2009
Friday, September 04, 2009
اساتذہ سے ایک انٹرویو ۔ سوالنامہ Interview On teachers day (Urdu)








بھارت کے سابق صدرِ جمہوریہ ،سروپلّی ڈاکٹر ردھا کشنن کا جنم دن پانچ ستمبر ،ملک بھر میں یومِ اساتذہ کے طور پر منایا جا تا ہے ۔ڈاکٹر رادھا کشنن نے اپنا کریئر ایک استاد کی حیثیت سے شروع کیا تھا اور ملک کے سب سے بلند مقام تک پہنچ گئے لیکن تدریس اور اساتذہ کا احترام ان کے دل میں برا بر قائم رہا ۔سماج میں اس معزز ہستی کو جسے معمارِ قوم کے نام سے بھی جانا جا تا ہے ،اب وہ عزّت اور مرتبہ حاصل نہیں جو کسی زمانے میں تھا کہ ایک ہندی زبان کاایک شاعریہ کہتا ہے کہ میرے سامنے استاد اور بھگوان دونوں موجود ہو ں تو میرے لئے یہ فیصلہ کر نا دشوار ہے کہ پہلے کس کی پا بوسی کرو ں ۔
نہ صرف طلباء بلکہ پورا سماج اساتذہ کو احترام اور قدر کی نگاہوں سے دیکھے اور ان کے علم ا و رہنمائی سے انسانی زندگی انقلابی تبدیلیوں سے ہمکنار ہو ،شاید اسی خواہش کے تحت ڈاکٹر ردھا کشنن نے اپنے جنم دن کو یومِ اساتذہ کے طور پر منانے کی سفارش کی تھی
وقت کے ساتھ اساتذہ بھی اپنے فرائضِ منصبی کو کسی حد تک فراموش کر بیٹھے یا تدریس کے شعبہ میں بڑھتی ہو ئی تجارتی ذہنیت نے انھیں اس قابل نہ رکھا کہ وہ ایک فرض شناس استاد کا رول ادا کر سکیں۔
راقم السطور جو خود بھی اسی مبارک پیشے سے تعلّق رکھتا ہے ، صورتِ حال کو بہتر بنانے کی اپنی سی سعی کرتا ہے ۔میرے طلباء جو جو نیئر کالج میں زیرِ تعلیم ہیں، ان میں سے اکثرطالبات مستقبل میں ڈی ایڈ کا امتحان پاس کر کے درس و تدریس سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ہم اپنے کالج میں طلباء میں اسی ذمّہ داری کا شعور پیدا کر نے کے لئے یومِ اساتذہ کے موقع پر مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کر تے ہیں ۔ ان میں سے ایک ہے طلباء کے ذریعے اساتذہ کے انٹر ویو ۔
یہاں ایک سوالنامہ پیش کی جا رہا ہے، طلباء اس دن اساتذہ سے اس میں شامل سوالات کے ذریعے نہ صرف ان کی رائے جاننے کی کو شش کر یں گے بلکہ ممکن ہے انھیں خود احتسابی کی ایک خاموش دعوت بھی دیں گے۔ ان میں سے اکثر سوالات ہمارے طلباء نے تیار کٔے ہیں ،نوکِ پلک سنوارنے والے ہم ہیں۔
مقاصد
طلباء اور اساتذہ کے درمیاں بات چیت کے ذریعے طلباء میں خود اعتمادی پیدا کر نا
طلباء میں سوالات بنانے اور انھیں پوچھنے کی صلاحیت پیدا کر نا۔
کسی کے بیان کو نوٹ کر نے اور اس کے خیالات کو ترتیب وار لکھنے کی مشق کر وانا ۔
طلباء میں انٹرویو کے دوران پوچھے جانے والے سوالات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر نا ۔
گروپ میں کام کر نے کی عادت ڈالنا اور گروپ لیڈر کی رہنمأی میں ٹیم ورک کرنے کی صلاحیت پیدا کر نا ۔
طریقۂ کار
۔ اس میں طریقۂ کار یہ ہے کہ اس سوالنامہ کی دو پرنٹیڈ کاپیاں طلباء کے ایک گروپ کو دی جائیں گی ،یہ گروپ تقریباً تین یا چارطلباء پر مشتمل ہوگا ۔ ہر گروپ کو اس تعلیمی ادارہ میں شامل چار اساتذہ کے نام دئے جا ئیں گے جن سے وہ اس سوالنامہ میں شامل سوالات میں سے چار پانچ اپنی پسند کے سوالات پو چھیں گے تمام طلباء ان جوابات کے مختلف حصّے نوٹ کریں گے اور پھر انھیں گروپ لیڈر کی رہنمائی میں ترتیب دیکر ہمیں لوٹائیں گے ۔ان کے ذریعے اکٹّھا کی گئی معلومات ہم سالانہ میگزین میں ان طلباء اور اساتذہ کی تصاویر کے ساتھ شائع کریںگے ۔ممکن ہے اسے ہم اپنے اس بلاگ پر بھی پیش کریں ۔
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے
۲۔اگرآپ کو ایک ہفتے کے لئے وزیرِ تعلیم بنا دیا جائے تو آپ تعلیم کے میدان میں کون سی اہم تبدیلی لا نا چاہیں گے ؟
۳۔کسی ایسے استاد کا نام بتائیے جنھوں نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ،یا آ پ کی زندگی میں کو ئی تبدیلی پیدا کی ۔ان کی کو ئی خاص بات جو آ پ کو یاد ہو۔
۴۔ ذہین ،Avarage (متوسط )،او رکمزور یعنی مختلف قسم کے طلباء کو پڑھاتے وقت آپ کو کن مسائل کا سامنا کر نا پڑتا ہے؟
۵۔آپ ٹیچنگ فیلڈ میں خود اپنی مرضی سے آ ئے ہیں یا حالات نے اس پیشہ کو اپنانے پر مجبور کیا تھا ؟ اگر آ پ ٹیچر نہ ہوتے تو کیا بننا پسندکر تے؟
۶۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ کسی مضمون (Subject) کے بارے میں ٹیچر سے زیادہ معلومات کسی اسٹوڈنٹس کو ہو سکتی ہے ؟
۷۔ ٹیچرس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ ایک فلاسفر،گائیڈ اور دوست ہوا کر تا ہے ،آپ ان میں سے اپنے لئے کون سا رول پسند کریں گے ؟
۸۔ کیا آ پ اپنے بچّوں کو ٹیچر بنانا پسند کریں گے ؟اور کیا آ پ کے بچّے خود بھی ٹیچر بننا چاہیں گے ۔ ہاں! نہیں۔ کیوں؟
۹۔ اگر آپ کی کلاس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہیں تو آ پ کی نظر میں ان میں کون بہتر ہے ؟کچھ لوگ لڑکوں کی تعلیمی ترقّی سے مطمعن نہیں ہیں ۔آپ کا کیا خیال ہے؟
۱۰۔ آج سماج میں اساتذہ کی وہ عزّت باقی نہیں رہی جو ہو نی چاہئے اس کی کیا وجہ ہے ؟
۱۱۔اردو میڈیم اسکولوں کے گرتے ہو ئے معیار کا ذمّہ دار آ پ کی نظر میں کون ہے۔طلباء،سرپرست یا اساتذہ ۔
۱۲۔ ٹیچرس ڈے کیوں منایا جا تا ہے ،طلباء کو ٹیچر کے مقام و مرتبے سے واقف کر انے کے لئے یا ٹیچرس کوان کی ذمّہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے یا ٹیچرس کی دلجو ئی کے لئے ؟
۱۳۔ ٹیچرس ڈے پر طلباء اسکولوں میں اساتذہ کی خدمت میں تحفے اور پھول پیش کر تے ہیں ۔ اس رواج کے بارے میں آ پ کا کیا خیال ہے ؟
۱۴۔اردو کے ایک مزاح نگار مرحوم یوسف ناظم نے کہا تھا کہ’’ ہمارے نظامِ تعلیم میں دو چیزوں کی کمی ہے ۔ایک تعلیم اور دوسرے نظام کی‘‘۔آ پ کے خیال میں ، ہمارے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے سر کا ر کو کون سے قدم اٹھانے چاہئے ؟
۱۵۔ یومِ اساتذہ کے موقع پر آ پ طلباء کو کو ئی پیغام دینا چاہیںگے ؟
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
Friday, April 03, 2009
Being Friendly With Students - Generation Gap
.jpg)
Being Friendly With Students
Generation Gap
Muhammad Asadullah
Sometimes these teachers loose the sense of dignity and become friendly with their students with no barrier
Yesterday someone asked me, what is the generation gap?
I tried to explain him by examples from day today life. The first event narrated by a retired teacher. Near about forty years ago when he had just joined his duty in a high school. At that time movies were the most popular source of entertainment. Seeing a new movie on first day amidst crowd in a theatre had its own charm. Religious minded people sternly condemned films .Teachers too sermonized against it, still, particularly young teachers would not hold back themselves from the attraction of silver screen.
Mr.’s., the teacher was, once, in a queue for purchasing ticket of a new movie. One of his students came near him and offered for purchasing his ticket by saying, Sir,Bhid Bahut Hai Laiye Main Aap Ka Ticket Nikal Kar La Deta Hoon. He took ten Rupees Note and disappeared in crowd and returned with ticket just a few moment .Mr. S says “That was the last film I saw in a theater never visited any theatre after that.
Last month a new teacher appointed in our school .The most remarkable thing about such types of people become popular among students in no time. Their efforts to develop student, enthusiasm towards their duties and ambitious character take them closer to the pupils. Sometimes these teachers loose the sense of dignity and become friendly with their students with no barrier. Once the newly appointed teacher was also in the queue for purchasing ticket of a new movie. He also experienced same situation with his student but with a slight difference as Mr.S had gone through. His student came near him and said “Sir,Bheed Bahot hai, Please Aap Meri Bhi Ticket Le Len Kya? (Sir, it is too much crowdie, Will you please purchase a ticket for me too?
My wife told me,’ Students of our time had never talked like this, if I was your student, I would have departed just after a simple Assalamo -Alaikum.
I think much water had been flown under the bridge of time. Students of past not only full of respect but they were so afraid from their teachers that they never dared to ask questions related to the subjects. Modern students have no hesitation to raise his objections too.
It also reveals that students offer dealing for unfair means to these valuers because some of them had got positive response from other corner. Such practices are spreading in society by irresponsible, greedy and corrupt teachers.
Sunday, February 15, 2009
Sitaron Se Aage Jahan Aur Bhi Hain

Point Of view
Sitaron Se Aage Jahan Aur Bhi Hain
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
Kisi Sainsdan Ne Aaj Tak
Charon Or Dishaiyen Khuli Hui Hain ,
Ya Naiee Raheen Banayi Ja Sakti Hain
Insan Zameen ko Apny Qabze men Kar Ke hi Bada naheen Banta
Zmeen ko taj kar ,Chod kar Bhi bulandiyan Hasil ki Ja Sakti Hain
……………,
Phir Kyon Log Zra Zra Si Bat Par Brson Ladte Jhagadte Hain ‘
Ek Doosre Ke Khoon Ke Pyase Hain,
Hum Ne Yahan taraqqqi karne ,Aage badhne ke Imkanat aur Chances
Par Ghaur Naheen Kiya .
Kisi se Takra Kar mar Jane Se Behtar Hai
Use Side de kar Hum Aage Nikal Jayen
Aur Apni Manzil Ki Taraf Qadam Badhayen.
Thursday, January 29, 2009
laughter خیال پارے

ٹیلیویژن کے مختلف چینلوں پر ان دنوں تفریحی پرو گراموں کی باڑھ سی آ گئی ہے ناچ گانوں اورفلمی نغموں کی پیشکش سے قطع نظر چند صحتمند پروگرام بھی نر کئے جا رہے ہیں ان میں لافٹر چینل کو شامل کیا جا سکتا ہے ۔ انسان اب روزمرّہ کی مصروفیات اور ذہنی تناؤ کے عالم میں ہلکی پھلکی تفریح کی تلاش کر تا ہے اور یہ اسے اس قسم کے پروگراموں میں مل جاتی ہے جو حالاتِ حاضرہ پر طنز و تشنیع کے ذریعے اس کے لئے نفسیاتی طور پر کتھارسس کا ذریعہ بھی ثابت ہو تی ہے اسی لئے لافٹر چینل نے بہت کم وقت میں زبردست مقبولیت حاصل کر لی ہے۔
پروگرام میں زندہ دل کرکیٹیر نو جوت سدّھو اور معروف اینکر شیکھر سمن جو متعدد کامیڈی سیریلوں میں اپنی بے مثال اداکاری کے جو ہر دکھا چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس پروکرام کی خصوصی دلکشی پری زاد بھی ہے ۔ لافٹر چینل نے مختلف علاقوں کے میمیکری پیش کر نے والے اور مزاحیہ اداکاری کی صلاحیت رکھنے والوں کے لئے گو یا ایک پلیٹ فارم مہیّا کر دیا جہاںکئی چہرے اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں ۔ ان مین راجیو سری واستو،سنیل پال،احسان قریشی قابلِ ذکر ہیں ۔
ان فنکاروں نے مختلف فلمی اداکاروں اور سیاسی لیڈروں کی نقل کر کے سیاست اور فلمی دنیا کو نشانہ بنایا ہے ۔یہ ٹی وی کے مزاحیہ اداکار اپنے ساتھ اپنے علاقے کے کچھ کرداربھی لے کر آ ئے ہیں جن کی نقالی کر کے انھوں نے ان کی پہچان قائم کر لی ہے ۔ ان میں راجیو شری واستو کا گجو دھر بھیّا اور سنیل پال کا نورا اپنے مخصوص انداز سے پہچانے جا تے ہیں ۔
لافٹر چینل کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے پاکستان کے کئی با صلاحیت اداکار بھی یہاں آ ئے اور ایک نیاماحول پیدا کیا اس کے ساتھ ہی ایک بات جو محسوس کی جاتی رہی کہ ان فنکارون نے بعض اوقات مزاح کو سیکس اور ابتذال سے جوڑ کر بد مزگی بھی پیدا کی ۔جس طرح مراٹھی ظرافت میںفحاشی اور بھونڈے پن کی مثالیں ملتی ہیں ان فنکاروں نے لا فٹر چینل کے ذریعے ان چیزوں کو بھی پیش کیا ہے ۔ مجموعی طور پر یہ ایک تفریحی پروگرام ہے اپنے مقصد میں کامیاب ہے اور یہی اس کی مقبولیت کا سبب بھی ہے ۔


















