Showing posts with label aazadi. Show all posts
Showing posts with label aazadi. Show all posts

Sunday, April 17, 2011

1857. Mirza Ghalib


مرزا غالب ؔ نے غدر کی تباہ کاریاں ان الفاظ میں بیان کی ہیں ۔
گھر سے بازار میں نکلتے ہو ئے
زہرہ ہو تا ہے آ ب انساں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرّہ ذرّۂ خاک
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا

1857 خواجہ حسن نظامی . جنگ آزادی کی ایک کہانی

۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کی ایک کہانی

خواجہ حسن نظامی

1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں ، خاص طور پر علما اور مغلیہ خاندان پر جو قیامت برپا کی وہ تاریخ کا المناک باب ہے۔ ہزاروں بے گناہ پھانسیوں کی بھینٹ چڑ ھادیے گئے اور شہزادیاں اور شہزادے کسمپرسی اور بے بسی کی اذیت ناک تصویر بن کر رہ گئے۔ اس ہنگامے میں کئی لوگوں کو غلط فہمی کے سبب بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اردو کے مشہور ادیب خواجہ حسن نظامی نے ان واقعات کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا ہے ۔ اس سلسلے کی ایک کہانی یہاں پیش کی جا رہی ہے۔

جس زمانے میں دہلی پر گولہ باری ہو رہی تھی اور شہر کے سب باشندے بھاگ رہے تھے اس وقت یوسف کے چچا نے یوسف کے باپ سے کہا کہ انجام برانظر آتا ہے بہتر ہے کہ یوسف کا نکاح کردیاجائے۔ تاکہ جب ہم سب باہر نکلیں تو پردے کی دقّت نہ رہے۔ یوسف کے باپ نے اس رائے کو پسند کیا اور یوسف کی شادی ہوگئی مگر نکاح ہوتے ہی خبر ہوئی کہ انگریزی فوج دہلی میں داخل ہوگئی اور بادشاہ قلعے سے نکل کر مقبرہ ہمایوں میں چلے گئے۔ یوسف کے والدین او ر سب کنبے والے بھی رتھوں میں بیٹھ کر بھاگے اور سیدھے قطب صاحب پہنچے ۔ یوسف نے اس وقت تک دلہن کا چہرہ بھی نہ دیکھا تھا۔ قطب صاحب میں جہاں ٹھہرے وہ جگہ بہت خراب تھی اور اتنی کہ اس کنبے کا گزارہ دشوار تھا۔ دستور کے مطابق اس پریشانی میں بھی دلہن نے شرم وحیا کا لحاظ رکھا۔ آدھی رات کو جب لوگ سوگئے تو فوج آئی اور اس نے سب مردوں کو گرفتار کرلیا۔ اور نام معلوم کرکے یوسف ، اس کے باپ اور چچا کو ساتھ لے گئے۔ جس وقت یوسف رخصت ہوا اس کی ماں بے قرار ہوگئی۔ اور اس نے رورو کر کہا کہ یہ میری بیس برس کی کمائی ہے۔ یہ میرا کلوتا بیٹا ہے اس کے بغیر زندہ نہیںرہوں گی کل اس کی شادی ہوئی ہے ابھی تو اس نے اپنی دلہن کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تم اسے کہاں لیے جاتے ہو اور کیوں لیے جاتے ہو۔ ایک فوجی نے کہا کہ یہ بڑا باغی مجرم ہے اس کو پھانسی دی جائے گئی تم اس سے آخری بارمل لو اب یہ دوبارہ تمہارے پاس نہیں آئے گا یہ سن کر یوسف کی ماں تو بے ہوش ہوکر گر پڑی۔

یوسف کی بیوی ابھی تک گھونگھٹ نکالے شرمائی ہوئی بیٹھی تھی فوجی کی یہ بات سن کر اس نے گھونگھٹ اٹھا دیا اور دونوں ہاتھ ملتے ہوئے کھڑی ہوگئی ۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہ نکلا۔ اس کے ہونٹ شدت غم سے لرز رہے تھے وہ منہ سے کچھ نہ بولی اور حسرت بھری نگاہوں سے یوسف کو دیکھنے لگی اور ٹکٹکی باندھ کر برابر دیکھتی رہی۔ یوسف بھی یہ منظر دیکھ کر بے تاب ہو گیا اور مایوس نظروں سے اپنی دلہن کو دیکھنے لگا۔ وہ بھی چپ تھا اور دلہن بھی چپ ۔ دلہن کی آنکھوں کا سرمہ آنسوؤں کے ساتھ بہ بہ کر سرخ وسفید رخساروں پر دھبے لگا رہا تھا اور یوسف کا چہرہ بھی یاس و ہراس سے زرد اور خشک ہو چکا تھا۔ یوسف اور اس کے چچا کے ہاتھ رسی سے باندھ دیے گئے اور سواران کو لے کر روانہ ہونے لگے تو یوسف کی دلہن نے بہت دھیمی آواز سے کہا ’’جاؤ میں نے مہر معاف کیا ‘‘

صبح کو یوسف اور اس کے چچا کو پھانسی دے دی گئی۔

1857

Tuesday, April 12, 2011

Mehar Dulhan Ka Haque Urdu مہر ۔دلہن کا حق


مہر ۔دلہن کا حق


انجم آ راء ناگپور

دیگر قوموں کی طر ح مسلم سماج میں بھی خواتین ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ اسلام نے دین کے ذریعے عورتوں کو بہترین حفاظتی انتظامات مہیا کئے ہیں جن میں ان کا سماجی اور معاشی تحفظ بھی شامل ہے۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق عطا کئے ہیں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔اس کے باوجود آج اکثر مسلم گھرانوں میں خواتین حقوق سے محروم ہیں اور زیادتیوں کا شکار ہیں تو اس کی وجہ جہالت اور اسلامی اصولوں سے ناواقفیت ہے کہیں اسلام کے قوانین کو جاننے کے باوجود ان کی نافرمانی کر کے عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محرو م رکھا جاتا ہے۔

اسی کی ایک مثال ہمارے سماج میں مہر سے محرومی ہے۔ مہر دلہن کا حق۔ عام مشاہد ہ یہی ہے کہ نکا ح کے وقت مہر کی رقم طے تو کر لی جاتی ہے مگر ادائیگی نہیں کی جاتی بعض لوگ تو اسے ادا کرنے کی نیت تک نہیں کرتے ۔ ظاہر ہے یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔
اکثر مسلم خواتین نہ صرف مہر کے متعلق کچھ نہیں جانتیں بلکہ اسلام نے انھیں کون سے حقوق عطا کئے ہیں اس سے بھی ناواقف ہوتی ہیں اور نہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتی ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی میں قدم قدم پر مشکلات سے دوچار ہوتی ہیں۔ جب کہ اسلامی طریقے بہترین زندگی کی ضمانت ہیں۔


مہر کا رواج اسلام سے پہلے بھی تھا لیکن اسلام نے مردوں پر یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ نکاح کرنے پر عورتوں کو مہر ادا کریں اسلام سے پہلے لڑکی کا ولی مہر کا حقدار ہوا رتا تھا لیکن اسلام نے لڑکی کو جس کا نکاح ہو، مہر کا مالک قرار دیا ہے۔ کوئی بھی نکاح بغیر مہر کے صحیح نہیں ہوسکتا۔ نکاح کے وقت مہر طے کیا جاتا ہے ۔ مہر کی دو صورتیں ہیں۔
۱۔ مہر معجل: جو نکاح کے وقت ہی بہ عجلت،(فوراً:ادا کردیا جاتا ہے۔
۲۔ مہر موجل: سے مراد وہ مہر ہے جسے ادا کرنے کے لئے کوئی مدت طے کی گئی ہو یا مہلت دی گئی ہو یا بغیر کسی مخصوص مدت طے کئے اس کاادا کرنا طے پایا ہو۔
عام طور پر ہمارے یہاں نکاح کے وقت مہر معجل نقد یا زیورات کی شکل میں ادا کردیا جاتا ہے یہ ادائیگی مہر کی بہترین صورت ہے۔

قرآن نے مہر کے لئے ’صدقہ اور اجورون‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ صدقہ سے مراد وہ صدقہ جو سچائی اور ایمانداری سے دیا جائے اور خلوصِ نیت پر مبنی ہو نہ کہ ریا کاری اور احسان جتانے کے لئے ۔ قرآن نے مہر کے لئے جو دوسرا لفظ استعمال کیا ہ وہ نحلا ہے۔ نحلہ نحل سے ماخوذ ہے جس کے معنی شہد کے ہیں۔ جس طرح شہد کی مکھی بنا کسی ذاتی مفاد کے شہد کی پیداوار کرتی ہے اسی طرح مہر بھی بغیر کسی ذاتی فائدے کے دیا جاتا ہے۔
ہمارے سماج میں ایسے مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں کہ کسی مسلمان کے انتقال کے بعد اس کی بیوی کو شوہر کی نعش کے پاس لاکر گھر کی بڑی عورتیں اس عورت سے یہ کہتی ہے کہ اس کا مہر معاف کردو۔ظاہر ہے کہ یہ زبردستی ہے اور کسی کے حقوق زبردستی معاف نہیں کروائے جا سکتے۔اگر عورت دل سے معاف نہ کرے تو مرنے والے پر اس عورت کا حق باقی رہے گا جو اسے آخرت میں ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے یہاں شادی بیاہ میں فضول کاموں پر ہزاروں روپیہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے لیکن مہر ادا کرنے کے معاملے میں کوتاہی برتی جاتی ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لئے عوام میں بیداری پیدا کی جائے۔

Monday, January 25, 2010

Jamhootiyat ka matlab

جمہوریت کا مطلب

مزاحیہ نظم  
محمّد اسد اللہ 
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
جمہوریت یہی ہے کہ سب سڑک پہ آ ئیں 
حق مانگنے کو اپنا جب تب سڑک پہ آ ئیں 

جینے کی راہ ہے یہ داناؤں کی نظر میں 
جمہوریت کا ہے یہ مطلب سڑک پہ آ ئیں 

اک تنتر گن چلانے کا ہے یہ اور کیا ہے
گن تنتر ہے یہ لے کر گن سب سڑک پہ آ ئیں 

موچی سے منتری تک سب آ گئے سڑک پر 
کیوں آ پ گھر گھسے ہیں صاحب! سڑک پہ آ ئیں 

کیا نیا ئے کیا سہولت ،کیا دان کیا حکومت 
جو چاہیے ملے گا ،جب جب سڑک پہ آ ئیں

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::


Tuesday, August 12, 2008

poem on independence celebration

یہ سنسار ہمارا ہے
محمّد اسد اللہ
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اِس دھرتی کے ہم واسی ہیں، یہ پریوار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


اِس کے موسم ،لوگ یہاں کے، ہم کو جان سے پیارے ہیں


اِس کی ندیاں ، اس کے جھرنے، سب امرِت کے دھارے ہیں


اِس کے رِیت رواج ہمارے جیون کے بھی سہارے ہیں


پھول اور کانٹے سبھی ہمارے یہ گلزار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


گنگا جمنا کی لہروں سی ساری اس کی بھاشائیں


رنگ برنگے سبھی مذاہب ،پھولوں جیسی آشائیں


کسی بھی گو شے میں رہتے ہوں، ہندوستانی کہلا ئیں


رنگوں کی کثرت میں وحدت کا اظہار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


گاندھی، نہرو، مولاناآزاد ہمارے اپنے تھے


سب کی آ نکھوں میں بھارت کی آزادی کے سپنے تھے


اسی نرالی یکجہتی کے منتر ہمیں بھی جپنے تھے


لہو سے ہم نے اسے لکھا ہے ،یہ شہکار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے

jagannath azad's poem on independence

آ زادی کے بعد
( جگن ناتھ آ زاد )

۔۔۔۔۔
گردِ دامن سے غلامی کو چھڑانے والے
تیرے ماتھے پہ غلامی کا نشاں آ ج بھی ہے
جو سماں تیری نگاہوں سے نہاں ہے شاید
وہ سماں میری نگاہوں پہ گراں آ ج بھی ہے
تو بہاروں کا فسوں دیکھ کےمسحور نہ ہو
ان بہاروں کے تعاقب میں خزاں آ ج بھی ہے
یہ الگ بات ہے تو اس کو نہ دیکھے لیکن
تیرے ماحول میں آ ہوں کا دھواں آج بھی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہر موج کے لب پہ صبح و شامِ آ زادی
بہتے ہو ءے دریا کا خرام آ زادی
زنہار یہ اے بندۂ آ زاد نہ بھول
فطرت کا ہے اوّلین پیام آ زادی
.....نہال سیوہاروی.



patriotic poem of Sardar Jafry

آزادی
اردو نظموں میں
(سردار جعفری کی نظم‘ اردو ’کے چند متفرّق اشعار )

ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
اسی زباں سے وطن کے ہونٹوں نے نعرۂ انقلاب پایا
اسی سے انگریز حکمرانوں نے خود سری کا جواب پایا
اسی سے میری جواں تمنّا نے شاعری کا رباب پایا
ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
یہ وہ زباں ہے کہ جس نے زنداں کی تیرگی میں د ءے جلاءے
یہ وہ زباں ہے کہ جس کے شعلوں سے جل گءے پھانسیوں کے ساءے
فرازِ دارو رسن سے بھی ہم نے سر فروشی کے گیت گاءے
ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
چلے ہیں گنگ و جمن کی وادی میں ہم تو بادِ بہار بن کر
ہمالیہ سے اتر رہے ہیں ترانۂ آ بشار بن کر
رواں ہیں ہندوستاں کی رگ رگ میں خون کی سرخ دھار بن کر
ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ashar on Patriotism

۔۔۔     آزادی اور قید و بند      ۔۔۔
غزل میں ( اشعار )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر
ہے وہ خوف و ذلّت کے حلوے سے بہتر         ( اسمٰعیل میرٹھی )
طلب فضول ہے کانٹوں کی پھول کے بدلے
بہشت بھی نہ لیں ہم ہوم رول کے بدلے            ( چکبست )
رودادِِِِِ فصلِ گل نہ اسیرِ قفس سے پوچھ
کب آ ءی کب بہار گءی کچھ خبر نہیں          ( عبدالمجید سالک )
یہ قید و صید کی اندیشہ ہا ٔے بیجا کیا
چمن کی فکر کرو ،آشیاں کی بات کرو           (عبدالمجید سالک )

قید میں اتنا زمانہ ہوگیا
اب قفس بھی آ شیانہ ہو گیا                           (حفیظ جونپوری )
کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے
چاکِ قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا              ( میر تقی میر )
کیا بتا ٔوں کس قدر زنجیرِ پا ثابت ہؤے
چند تنکے جن کو اپنا آ شیاں سمجھا تھا میں    (جگر مراد آ بادی )
ہوں گرفتارِ الفتِ صیّاد
ورنہ باقی ہے طاقتِ پر واز                         (غالب )

صبا نے پھر درِ زندان پہ آ کے دی دستک
سحر قریب ہے ، دل سے کہو نہ گھبراءے        ( فیض )
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
کہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں         ( فیض )
زنجیر کی لمباءی تک آ زاد ہے قیدی
جنگل میں پھرے یا کو ءی گھر بار بسالے       ..ندا فاضلی