Showing posts with label 15 th august. Show all posts
Showing posts with label 15 th august. Show all posts

Sunday, April 17, 2011

1857. Mirza Ghalib


مرزا غالب ؔ نے غدر کی تباہ کاریاں ان الفاظ میں بیان کی ہیں ۔
گھر سے بازار میں نکلتے ہو ئے
زہرہ ہو تا ہے آ ب انساں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرّہ ذرّۂ خاک
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا

1857 خواجہ حسن نظامی . جنگ آزادی کی ایک کہانی

۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کی ایک کہانی

خواجہ حسن نظامی

1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں ، خاص طور پر علما اور مغلیہ خاندان پر جو قیامت برپا کی وہ تاریخ کا المناک باب ہے۔ ہزاروں بے گناہ پھانسیوں کی بھینٹ چڑ ھادیے گئے اور شہزادیاں اور شہزادے کسمپرسی اور بے بسی کی اذیت ناک تصویر بن کر رہ گئے۔ اس ہنگامے میں کئی لوگوں کو غلط فہمی کے سبب بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اردو کے مشہور ادیب خواجہ حسن نظامی نے ان واقعات کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا ہے ۔ اس سلسلے کی ایک کہانی یہاں پیش کی جا رہی ہے۔

جس زمانے میں دہلی پر گولہ باری ہو رہی تھی اور شہر کے سب باشندے بھاگ رہے تھے اس وقت یوسف کے چچا نے یوسف کے باپ سے کہا کہ انجام برانظر آتا ہے بہتر ہے کہ یوسف کا نکاح کردیاجائے۔ تاکہ جب ہم سب باہر نکلیں تو پردے کی دقّت نہ رہے۔ یوسف کے باپ نے اس رائے کو پسند کیا اور یوسف کی شادی ہوگئی مگر نکاح ہوتے ہی خبر ہوئی کہ انگریزی فوج دہلی میں داخل ہوگئی اور بادشاہ قلعے سے نکل کر مقبرہ ہمایوں میں چلے گئے۔ یوسف کے والدین او ر سب کنبے والے بھی رتھوں میں بیٹھ کر بھاگے اور سیدھے قطب صاحب پہنچے ۔ یوسف نے اس وقت تک دلہن کا چہرہ بھی نہ دیکھا تھا۔ قطب صاحب میں جہاں ٹھہرے وہ جگہ بہت خراب تھی اور اتنی کہ اس کنبے کا گزارہ دشوار تھا۔ دستور کے مطابق اس پریشانی میں بھی دلہن نے شرم وحیا کا لحاظ رکھا۔ آدھی رات کو جب لوگ سوگئے تو فوج آئی اور اس نے سب مردوں کو گرفتار کرلیا۔ اور نام معلوم کرکے یوسف ، اس کے باپ اور چچا کو ساتھ لے گئے۔ جس وقت یوسف رخصت ہوا اس کی ماں بے قرار ہوگئی۔ اور اس نے رورو کر کہا کہ یہ میری بیس برس کی کمائی ہے۔ یہ میرا کلوتا بیٹا ہے اس کے بغیر زندہ نہیںرہوں گی کل اس کی شادی ہوئی ہے ابھی تو اس نے اپنی دلہن کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تم اسے کہاں لیے جاتے ہو اور کیوں لیے جاتے ہو۔ ایک فوجی نے کہا کہ یہ بڑا باغی مجرم ہے اس کو پھانسی دی جائے گئی تم اس سے آخری بارمل لو اب یہ دوبارہ تمہارے پاس نہیں آئے گا یہ سن کر یوسف کی ماں تو بے ہوش ہوکر گر پڑی۔

یوسف کی بیوی ابھی تک گھونگھٹ نکالے شرمائی ہوئی بیٹھی تھی فوجی کی یہ بات سن کر اس نے گھونگھٹ اٹھا دیا اور دونوں ہاتھ ملتے ہوئے کھڑی ہوگئی ۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہ نکلا۔ اس کے ہونٹ شدت غم سے لرز رہے تھے وہ منہ سے کچھ نہ بولی اور حسرت بھری نگاہوں سے یوسف کو دیکھنے لگی اور ٹکٹکی باندھ کر برابر دیکھتی رہی۔ یوسف بھی یہ منظر دیکھ کر بے تاب ہو گیا اور مایوس نظروں سے اپنی دلہن کو دیکھنے لگا۔ وہ بھی چپ تھا اور دلہن بھی چپ ۔ دلہن کی آنکھوں کا سرمہ آنسوؤں کے ساتھ بہ بہ کر سرخ وسفید رخساروں پر دھبے لگا رہا تھا اور یوسف کا چہرہ بھی یاس و ہراس سے زرد اور خشک ہو چکا تھا۔ یوسف اور اس کے چچا کے ہاتھ رسی سے باندھ دیے گئے اور سواران کو لے کر روانہ ہونے لگے تو یوسف کی دلہن نے بہت دھیمی آواز سے کہا ’’جاؤ میں نے مہر معاف کیا ‘‘

صبح کو یوسف اور اس کے چچا کو پھانسی دے دی گئی۔

1857

Monday, August 10, 2009

ہندوستانی بچّوں کا گیت Patriotic song of Iqbal (Urdu)


ہندوستانی بچّوں کا گیت

علامہ اقبال 

چشتی نے جس زمین میں پیغامِ حق سنایا 
نانک نے جس چمن میںوحدت کا گیت گایا 

تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا 
جس نے حجازیوں سے اپنا وطن چھڑایا

میرا وطن وہی ہے ،میرا وطن وہی ہے 

یونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھا 
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا 
مٹّی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا 
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا 

میرا وطن وہی ہے ،میرا وطن وہی ہے 

بندے کلیم جس کے ،پربت جہاں کا سینا
نوحِ نبی ؑ کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینہ 
رفعت ہے جس زمیں کی بامِ فلک کا زینہ 
جنّت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا

میرا وطن وہی ہے ،میرا وطن وہی ہے


Tuesday, August 12, 2008

poem on independence celebration


صبحِ زر نگار
محمّد اسد اللہ
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

صبحِ زر نگار آ ئی، لا ئی جشنِ آ زادی


جشنِ یومِ آزادی ،جشنِ یومِ آزادی


لالہ رو زمیں اپنی ،نیلگوں گگن اپنا


یہ گلاب اپنے ہیں، نکہتوں کا بن اپنا


منزلوں کے دامن میں راحتوں کا دھن اپنا


یہ سبھی کامامن ہے ، گلشنِ وطن اپنا


دے رہا ہے ہر ذرّہ اس کا درسِ یکتائی


جشنِ یومِ آزادی ،جشنِ یومِ آزادی





چاہتوں کی گہرائی اور ملن مبارک ہو


امن کے پرستارو! یہ چلن مبارک ہو


نعمتوں کی ارزانی انجمن مبارک ہو


جشنِ یومِ آزادی ، اے وطن مبارک ہو


اے وطن مبارک ہو ہر طرف یہ شادابی


جشنِ یومِ آزادی ،جشنِ یومِ آزادی


صبحِ زر نگار آ ئی، لا ئی جشنِ آ زادی


جشنِ یومِ آزادی ،جشنِ یومِ آزادی

poem on independence celebration

یہ سنسار ہمارا ہے
محمّد اسد اللہ
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اِس دھرتی کے ہم واسی ہیں، یہ پریوار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


اِس کے موسم ،لوگ یہاں کے، ہم کو جان سے پیارے ہیں


اِس کی ندیاں ، اس کے جھرنے، سب امرِت کے دھارے ہیں


اِس کے رِیت رواج ہمارے جیون کے بھی سہارے ہیں


پھول اور کانٹے سبھی ہمارے یہ گلزار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


گنگا جمنا کی لہروں سی ساری اس کی بھاشائیں


رنگ برنگے سبھی مذاہب ،پھولوں جیسی آشائیں


کسی بھی گو شے میں رہتے ہوں، ہندوستانی کہلا ئیں


رنگوں کی کثرت میں وحدت کا اظہار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے


گاندھی، نہرو، مولاناآزاد ہمارے اپنے تھے


سب کی آ نکھوں میں بھارت کی آزادی کے سپنے تھے


اسی نرالی یکجہتی کے منتر ہمیں بھی جپنے تھے


لہو سے ہم نے اسے لکھا ہے ،یہ شہکار ہمارا ہے


دیش نہ سمجھو اس کو یہ تو اک سنسار ہمارا ہے

jagannath azad's poem on independence

آ زادی کے بعد
( جگن ناتھ آ زاد )

۔۔۔۔۔
گردِ دامن سے غلامی کو چھڑانے والے
تیرے ماتھے پہ غلامی کا نشاں آ ج بھی ہے
جو سماں تیری نگاہوں سے نہاں ہے شاید
وہ سماں میری نگاہوں پہ گراں آ ج بھی ہے
تو بہاروں کا فسوں دیکھ کےمسحور نہ ہو
ان بہاروں کے تعاقب میں خزاں آ ج بھی ہے
یہ الگ بات ہے تو اس کو نہ دیکھے لیکن
تیرے ماحول میں آ ہوں کا دھواں آج بھی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہر موج کے لب پہ صبح و شامِ آ زادی
بہتے ہو ءے دریا کا خرام آ زادی
زنہار یہ اے بندۂ آ زاد نہ بھول
فطرت کا ہے اوّلین پیام آ زادی
.....نہال سیوہاروی.



patriotic poem of Sardar Jafry

آزادی
اردو نظموں میں
(سردار جعفری کی نظم‘ اردو ’کے چند متفرّق اشعار )

ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
اسی زباں سے وطن کے ہونٹوں نے نعرۂ انقلاب پایا
اسی سے انگریز حکمرانوں نے خود سری کا جواب پایا
اسی سے میری جواں تمنّا نے شاعری کا رباب پایا
ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
یہ وہ زباں ہے کہ جس نے زنداں کی تیرگی میں د ءے جلاءے
یہ وہ زباں ہے کہ جس کے شعلوں سے جل گءے پھانسیوں کے ساءے
فرازِ دارو رسن سے بھی ہم نے سر فروشی کے گیت گاءے
ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
چلے ہیں گنگ و جمن کی وادی میں ہم تو بادِ بہار بن کر
ہمالیہ سے اتر رہے ہیں ترانۂ آ بشار بن کر
رواں ہیں ہندوستاں کی رگ رگ میں خون کی سرخ دھار بن کر
ہماری پیاری زبان اردو ہمارے نغموں کی جان اردو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Ashar on Patriotism

۔۔۔     آزادی اور قید و بند      ۔۔۔
غزل میں ( اشعار )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر
ہے وہ خوف و ذلّت کے حلوے سے بہتر         ( اسمٰعیل میرٹھی )
طلب فضول ہے کانٹوں کی پھول کے بدلے
بہشت بھی نہ لیں ہم ہوم رول کے بدلے            ( چکبست )
رودادِِِِِ فصلِ گل نہ اسیرِ قفس سے پوچھ
کب آ ءی کب بہار گءی کچھ خبر نہیں          ( عبدالمجید سالک )
یہ قید و صید کی اندیشہ ہا ٔے بیجا کیا
چمن کی فکر کرو ،آشیاں کی بات کرو           (عبدالمجید سالک )

قید میں اتنا زمانہ ہوگیا
اب قفس بھی آ شیانہ ہو گیا                           (حفیظ جونپوری )
کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے
چاکِ قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا              ( میر تقی میر )
کیا بتا ٔوں کس قدر زنجیرِ پا ثابت ہؤے
چند تنکے جن کو اپنا آ شیاں سمجھا تھا میں    (جگر مراد آ بادی )
ہوں گرفتارِ الفتِ صیّاد
ورنہ باقی ہے طاقتِ پر واز                         (غالب )

صبا نے پھر درِ زندان پہ آ کے دی دستک
سحر قریب ہے ، دل سے کہو نہ گھبراءے        ( فیض )
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
کہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں         ( فیض )
زنجیر کی لمباءی تک آ زاد ہے قیدی
جنگل میں پھرے یا کو ءی گھر بار بسالے       ..ندا فاضلی