Showing posts with label خیال پارے. Show all posts
Showing posts with label خیال پارے. Show all posts

Wednesday, August 11, 2010

Ramazan ..۔رمضان المبارک

ذوالجلال والے اکرام کے مہینہ کا احترام کیجئے
Muhammad Shareef Nagpur
.....................................

یوں تو سارا زمانہ اللہ کا ہے۔ پوری کائنات تن تنہا اللہ ہی کی ملک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود تمام آسمانوں اور زمینوں کو اپنی ملکیت فرمائی ہے۔ ارشاد ہے للہ ما فی السموت ومافی الارض ترجمہ : ’’ جو کچھ آسمانوں او زمین میں ہے اللہ ہی کے لئے ہے ‘‘۔لیکن دنیا میں جن چیزوں کی نسبت اللہ کی طرف کردی جائے وہ بہت زیادہ قابل احترام ہوجاتی ہے۔ مثلاً بیت اللہ یعنی اللہ کاگھر۔ ہر مسلمان پر بیت اللہ کا احترام واجب ہے۔ کتاب اللہ یعنی اللہ کی کتاب قرآن پاک کا احترام ہر مسلمان کرتا ہے۔ نہ کوئی مسلمان بیت اللہ کی طرف پیر کرتا ہے نہ قرآن کی طرف۔ قرآن کی طرف تو کوئی پیٹھ بھی نہیں کرتا ۔ رسول اللہؐ یعنی اللہ کے رسولؐ کا احترام ہر مسلمان واجب سمجھتا ہے۔اسی طرح اولیاء اللہ یعنی اللہ کے ولی کا احترام بھی ہر مسلمان کرتا ہے حتیٰ کہ وفات کے بعد ان کی مزاروں کا بھی اکرام کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی رمضان المبارک کو اللہ کا مہینہ ہونے کی خصوصی شرافت حاصل ہے۔ رسول اللہؐ کا ارشاد ہے الشعبان شھری والرمضان شھر اللہ (اوکماقال) یعنی شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔ اس لئے ہر مسلمان پر رمضان المبارک کا احترام واجب ہے۔رمضان المبارک میں روزے جو اسلام کی بنیادوں میں سے ہیں ، مسلمان کے لئے شعائر اسلام میں سے ہیں۔ اور شعائر اسلام کی تعظیم کرنے کو تقویٰ کی علامت بتایا گیا ہے۔ قرآن پاک میں ہے ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقویٰ القلوب ترجمہ : ’ جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتے ہیں تو یہ ان کے دلوں کا تقویٰ ہے ‘‘۔رسول اللہؐ خود رمضان المبارک کا انتظار فرماتے تھے اور رمضان تک پہنچنے کے لئے رجب اور شعبان ہی سے دعافرماتے تھے۔ آپؐ سے یہ دعا منقول ہے اللھم بارک لنا فی رجب والشعبان وبلغنا الیٰ رمضان ترجمہ : ’’ اے اللہ ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان تک ہمیں پہنچادے ‘‘۔

اب سنئے کہ رمضان کا احترام کیا ہے۔ رمضان میں دو خصوصی اعمال مسلمان پر عائد ہوتے ہیں ایک تو روزہ ہے جو ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے مسافر اور مریض کے۔ روزہ ارکان اسلام میں سے ایک ہے حضورؐ کا ارشاد ہے بنی الاسلام علی خمسٍ شھادۃ ان الاالٰہ الااللہ والصلوٰۃ و صوم رمضان و زکوٰۃ والحج ترجمہ : ’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اول اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز، رمضان کے روزے ، زکوٰۃ اور حج ‘‘۔ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت قرآن سے بھی ثابت ہوتی ہے جس میں رمضان کی فضیلت بھی شامل ہے۔ شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینت من الھدی والفرقان فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ترجمہ : ’’ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور جس میں حق و باطل میں تمیز کرنے کے لئے نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو اس مہینہ کو پائے وہ اس میں روزہ رکھے ‘‘

اس حکم میں صرف دو لوگ مثتشنٰی کئے گئے ہیں ، ایک مسافر دوسرے مریض۔ مسافر بھی شرعی مسافر جس کی مقدار ۴۸! میل ہے اور وہ بھی اس زمانہ کے لحاظ سے بہت معمولی چیز ہے اس لئے ہمارے اس زمانہ میں مسافر کو بھی حتی الامکان روزہ رکھنا چاہئے نہ رکھ سکے تو اس کے بعد کسی اور مہینہ میں روزہ رکھنا ہوگا۔ اسی طرح ایسا مریض جس کے لئے دیندار ڈاکٹر یا حکیم روزہ کو منع کریں تو رخصت ہے چاہے بعد میں رکھ لے یا فدیہ دے دے ۔ یہ دونوں طبقات بھی اگر معذوری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں تو ان کے لئے بھی رمضان کا احترام ضروری ہے کہ کھلم کھلا کھاتے پیتے نہ پھریں۔ اسی طرح چھوٹے بچے جو روزہ کا تحمل نہ کرسکیں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں بھی روزہ کے احترام کی عادت ڈالیں کہ وہ گھر میں جلدی سے چھپ کر کچھ کھا پی لیں اور باہر اپنا روزہ دار نہ ہونا معلوم نہ ہونے دیں۔ ہٹے کٹے مسلمان کھلے عام بازار میں کھاتے پیٹے نظر آتے ہیں ، مسلمانوں کے محلہ میں ہوٹلیں کھلی ہوتی ہیں۔ چائے کے ریسٹورینٹ اور پان کے ٹھیلے کھلے ہوئے بلکہ بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والی چیز ہے شعائر اسلام کی بے عظمتی ہے۔ اگر کوئی غیر قوم ہمارے شعائر میں سے کسی شعار کی توہین کرے تو ہم مشتعل ہوجاتے ہیں لیکن ہم خود ہی توہین کررہے ہیں۔ ہمارا کام ہے کہ ایسے ہوٹل والے، چائے کی دوکان اور پان کی دوکان والوں کو سمجھائیں کہ وہ دن میں اپنی ہوٹلیں بند رکھیں افطار کے بعد کھولیں۔ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ دن بھر ہوٹل بند رکھنے کے بعد بھی شام کے چند ہی گھنٹوں میں پوری روزی دے دے ۔ اگر کوئی ایک آدھ ہوٹل پورے مسلم ایریا میں کھلی بھی ہو تو مسافروں کی نیت سے اور اس طرح کہ سامنے پردے پڑے ہوئے ہوں۔ مسافر بھی پردہ کے ساتھ کھاپی لے۔ صحت مند مسلمان کا کھلے عام کھانا پینا، سڑک پر پان کھاتے پھرنا یا بیٹری سگریٹ پیتے ہوئے گذرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اسلامی حکومت کو ایسے شخص کے لئے قتل کا حکم ہے کہ یہ اللہ کے شعائر کی توہین کررہا ہے۔ اگر اسلامی حکومت نہ ہونے کی صورت میں کوئی قتل نہ کرسکے تو یہ مطلب نہیں کہ بچ گئے بلکہ اللہ کا بے آواز کوڑہ اپنا کام ضرور کرتا ہے۔ اگر افراد ایسے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں تو ڈاکٹروں کے ذریعہ ان کا کھانا پینا بند کرادیاجاتا ہے اور مجمع جب عام طور پر رمضان کی توہین کرتا ہے تو قحط سالی، فسادات اور سیلاب جیسے مصائب ڈال کر، بغیر روزے کے اللہ انہیں بھوکا اور پیاسا رکھتا ہے۔ اس لئے تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لئے روزوں کا اہتمام کریں جس میں اپنا ہی نفع ہے۔
دوسرا اہم عمل رمضان المبارک میں تراویح کی نماز ہے۔ روزانہ عشاء کی نماز کے بعد ۲۰! رکعت نماز پڑھنا سنت موکدہ (قریب واجب) ہے۔ بہت سے لوگ رمضان کے صرف ابتدائی ایام میں تراویح پڑھتے ہیں پھر چھوڑ دیتے ہیں اور آخری کے چند روز پڑھ لیتے ہیں۔ بعض لوگ ایک نومولود مسلک اہل حدیث کہلانے والے مسلک کی اقتداء کر کے صرف آٹھ رکعت پر اکتفا کرتے ہیں۔ جو مسلک خیر والقرون میں وجود میں آنے کی بجائے ۱۲! سو سال کے بعد وجود میں آیا ہو وہ حق کیسے ہو سکتا ہے۔ جبکہ حضورؐ کا ارشاد ہے خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم یعنی بہترین زمانہ میرا ہے ، پھر اس کے بعد کا اور پھر اس کے بعدکا ۔ یہ مسلک تو مسلمان کے ۴! مسلکوں پر اجماع کو توڑنے کے لئے باطل کی سازش ہے۔ اس لئے تمام مسلمان ۲۰! رکعت تراویح کا اہتمام کریں۔ باقی پنج وقتہ نمازوں کو بھی اس اہتمام سے پڑھیں کہ پورا سال نماز کے اہتمام کی توفیق ہو۔ تراویح میں قرآن پاک سننے کے ساتھ ساتھ ویسے بھی ناظرہ قرآن پاک کی تلاوت کریں۔ اور جو بھی خیر کا کام زیادہ سے زیادہ اس مہینہ میں کرنے کی کوشش کریں۔ اس ماہ میں نوافل کا ثواب فرض کے برابر اور فرج کا ثواب ۷۰! فرائض کے برابر کردیا جاتا ہے۔ اس ماہ کاپہلا عشرہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا آگ سے خلاصی کا عشرہ ہے۔ یہ مہینہ اللہ سے اپنے تعلق کو بڑھانے کے لئے عطا ہوا ہے۔ خوب اللہ کی طرف متوجہ ہوں دعاؤں کا اہتمام کریں۔ خصوصاً افطار اور تہجد کے وقت دعاؤں میں سستی نہ کریں۔ صدقہ و خیرات کی کثرت کریں۔ اور ہر طرح کی خیر اس ماہ میں سمیٹنے کی کوشش کریں کیا پتہ یہی رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


Wednesday, March 03, 2010

Ladkiyon Ki Taleem Aur Nae Halat تعلیمِ نسواں



تعلیمِ نسواں اور بدلتے ہؤے حالات 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لمحۂ فکریہ 

انعام الرحیم، ناگپور 
کککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککک

اس کائنات کا تمام تر نظام مکمّل طور پر اعتدال اور توازن پر قائم ہے ۔خالقِ کائنات نے قرآن کریم میں اور سرورِ کائنات ﷺ نے احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے اوراعتدال اور میا نہ روی کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے ۔
قدرت نے سماج کو مرد و زن میں تقسیم کیا ہے اور ان دونوں کی تعلیم و تربیت ،ضروریات ،حقوق و فرائض ،اور دائرۂ کار کا تعین ان دونوں کی فطری ساخت کے مطابق کیا ہے ۔اسی وجہ سے پوری کائنات اعتدال پر قائم ہے ۔اگر انسان قدرت کے متعین کردہ دائرۂ اختیار سے نکل کر خود کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط پر سماجی و معاشرتی نظام کوکھڑا کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ کا فطری توازن خود بخود بگڑ نا شروع ہو جائے گا اور سماجی زندگی بکھراؤ کا شکار ہو جائے گی جس کا مشاہدہ ہم دورِ حاضر میں کر رہے ہیں ۔ 

بین الذات شادیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
INTERCASTE MARRIAGE

گذشتہ چند برسوں میں شہر ناگپور میں ایک مسلم انجینئر لڑکی اور ایک ڈاکڑ لڑکی نے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ غیر مسلم رسم و رواج کے مطابق شادی کرکے ہندو مذہب کو اختیار کرلیا ۔ اس واقعہ نے ہر ذی ہوش مسلم کے دل کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس واقعہ کے بعد نہ صرف اس شہر میں بلکہ ملک گیر پیمانے پر اس قسم کے بیشمار واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔اور ان میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے اس کے باوجود مسلم والدین میں بین الذات شادیوں کو جدید تہذیب کا حصّہ سمجھ کر بخوشی قبول کیا جا رہا ہے ۔ موجودہ تحقیق سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مسلم لڑ کیوں کا بین الذات شادیوں MARRIAGE INTERCASTE 
کا تناسب دوسری قوموں کے مقابلہ میں زیادہ ہے ۔ اسی وجہ سے اس موضوع پر قلم اٹھانا پڑا۔

تحریکِ آزادیِ نسواں کے اثرات 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دورِ جدید میں مساواتِ مرد و زن ،عورتوں کی تعلیم و تربیت ،عورتوں کے حقوق ،روزگار ،معاش ،اور ان کی آزادی کو بنیاد بنا کر عالمی پیمانہ پر کئی تحریکیں چلائی جاتی رہی ہیں جن میں ایک نام نہاد تحریک، تحریکِ آزادیِ نسواںWOMEN'S LIBERATION بھی ہے ۔اس تحریک کا محرّک کون ہے ؟اس کی جائے پیدائش کیا ہے ؟اور اس تحریک کی غرض و غایت کیا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات جانے بغیر امّتِ مسلمہ کا ہر خاص و عام اس کی تقلید کر رہا ہے۔مسجدوں کے منبر و محراب ، مسلم محلّوں ،گلی کوچوں اور چھوٹے بڑے جلسوں میں بھی اس کی حمایت میں آوازیں سنائی دیتی ہیں۔اس تحریک کی تبلیغ میں علماء، دانشور،مفکّر ، ادیب، شاعر،سرپرست ، اساتذہ اور مصلحینِ قوم اس قدر منہمک ہوئے کہ قوم کے لڑکوںکو عضوِ ناکارہ سمجھ بیٹھے ، ان پر تعلیم و تربیت، ،معاش،روزگار،حقوق و فرائض ،اخلاق و اصلاح وغیرہ کے دروازے دانستہ یا نادانستہ طور پر بند کردئے گئے ۔امّتِ مسلمہ کے نوجوانوں کی کثیر تعداد آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے کہ الاماں والحفیظ ۔یہ نوجوان اس کے نتیجے میں جس بے راہ روی کی طرف جا رہے ہیں ان سے کو ئی قبیح فعل ایسا نہیں بچا جس کا ارتکاب انہوں نے کیا نہ ہو۔ ذرائع ابلاغ میں امّت کے ان نوجوانوں کے کارناموں کا کافی چرچا ہے ۔یہ صورتِ حال امّتِ مسلمہ کے حق میں نہایت خطرناک ہے۔ عالمی تحریکِ آزادیِ نسواں ،مساواتِ مرد و زن کی جدّو جہد اور موجودہ تعلیمی نظام اور ماحول کا جو ردِّ عمل ان نوجوانوں میں ظاہر ہورہا ہے اس کے نتیجہ میں ان میں اپنی تہذیبی قدریں ،شرم و حیا ،ادب لحاظ اور احترام سب کچھ مٹتا جا رہا ہے ۔ موجودہ تعلیمی نظام کا تربیتی و اصلاحی پہلو سے خالی ہونا،اس خرابی کا ایک اہم سبب ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؂ 


جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن 
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت 


الحاد اور بے راہ روی 

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم 

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ 


انگریزوں کی آمد کے بعد مغربی تہذیب کو جو زبردست فروغ حاصل ہوا اس نے ہندوستان کے سبھی ریفارمرس کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔مسلم علماء اور دانشوروں کے سامنے اس وقت کفر و الحاد اور مغرب پرستی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بے راہ روی ،آوارگی اور جنسی انارکی ایک زبردست فتنہ کی شکل میں منہ پھاڑے کھڑی تھی۔ آزادی کے بعد امّت کا ایک بڑا طبقہ اس الحاد کے معاملہ میں کسی حد تک بے فکر سا ہوگیا اس کا سبب شاید یہ بھی رہا ہو کہ ہمارے سماج میں اپنی تہذیبی قدروں کی بازیافت کا شعور پیدا ہوا اور مختلف مذہبی تحریکوں نے ہمارے اندر دین کو مضبوطی سے تھامنے کا جذبہ پیدا کردیا چنا نچہ الحاد سے کسی حد تک امن نصیب ہوا ،لیکن آج شعبۂ تعلیم میں تعلیمِ نسواں کے فروغ اور مخدوش ماحول نے الحاد کے اس سوئے ہوئے جن کو دوبارہ جگا دیا ہے ۔ 
معاشی عدم استحکام کے اثرات 
موجودہ دور میں ہر قوم میں تعلیمِ نسواں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اس کی ایک اہم وجہ معاشی عدم استحکام بھی ہے ۔ بڑھتی ہوئی ضروریاتِ زندگی اور اچّھے رشتوں کی تلاش بھی اس کا ایک محرّک ہے ۔لڑکی کا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بر سرِ روزگار ہونا اس کے مستقبل اور خوشحال ازدواجی زندگی کا ضامن سمجھا جاتا ہے جو ہرحالت میں صحیح ثابت نہیں ہوتا ۔چونکہ لڑکیوں کے معاشی استحکام کو ان کی فطری ضروریات کا متبادل سمجھاجانے لگا ہے ،معاشی ا ستحکام نے لڑکیوں اور ان کے والدین میں انانیت پیدا کردی ہے جس نے زندگی سے مفاہمت کے سارے دروازے بند کر دئے ہیں ۔بے جوڑ رشتے قائم ہونے لگے ہیں جن میں معمولی کھٹ پٹ سے بکھراؤ پیدا ہوجاتا ہے ۔

یہ سچ ہے کہ تعلیمی بیداری نے لڑکیوں میں تعلیم کا گراف کچھ اونچا کردیا ہے لیکن دوسری طرف مسلمانوں میں لڑکے تعلیم کے میدان میںپسماندگی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ مسلم طلباء میں تعلیم کے شعبہ میں آگے بڑھنے والوں کی شرح اسقدر کم ہے کہ اس معاملہ میں اربابِ حل و عقد اور مصلحینِ قوم کو فکر مند ہوکر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہئے ۔  لڑکیوں کے کثیر تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے سے لڑکوں کو جن خرابیوں میں مبتلا کیا ہے ان میں ان کا کام چور ہونا ،کاہلی ، غیر ذمّہ داری ہٹ دھرمی اورتشدد پر آمادہ ہونا اہم ہیں ۔تصوّر کیجئے ایک ایسی قوم کا جس میں بیشمار لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور چند نوجوان پڑھے لکھے ہیں ۔کیا یہ عدم توازن ایک فتنہ بن کر نہیں ابھرے گا ۔ کیا اس صورتِ حال سے ایک صحت مند معاشرہ کی توقّع کی جا سکتی ہے ؟
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طویل مدّتی تعلیم کے لڑکیوں پر اثرات
،،،،،،،،،،،،،

دورِ حاضر میںلڑکیوں کے والدین یا سرستوں نے لڑکیوں کو قومی اثاثہ سمجھ کر اپنی ضروریات ، و خواہشات،اور جذبات کی تسکین کا بوجھ ان کے کمزور کاندھوں پر ڈال دیا ہے اور اپنے ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے طالبات کو طویل مدّتی پروفیشنل کورسسیس میں داخلہ دلوا کر ان کی زندگی اور عمر کے اہم حصّہ کو داؤ پر لگا رہے ہیں ۔اسی لئے ان لڑکیوں میں چڑچڑا پن ،افسردگی،اور نفسیاتی امراض گھر کرنا شروع کردیتے ہیں ۔یہ عوامل بعض اوقات انھیں سماج سے بغاوت پر بھی آمادہ کردیتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ بین الذات شادیوں کا رواج ہماری قوم میں بھی وبا کی طرح پھیلنے لگا ہے ۔ تربیتی ،اخلاقی و اصلاحی زیور سے آراستہ بے شمار لڑکیاں جبراً صبر کرکے اور اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئیں ۔یہ تمام باتیں رسول اﷲ ﷺ کی تعلیمات سے سراسر انحراف ہے ۔ اسی لئے اس کے برے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ لڑکیوں کے بالغ ہونے پر ان کے نکاح میں جلدی کرو ،ورنہ سماج میںجو فتنہ و فساد برپا ہوگا اس کی ذمّۃ داری والدین پر ہوگی ۔

چند تجاویز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں طالبات کی تعلیم پر توجّہ دی جا رہی ہے وہیں طلبا کی تعلیمی پسماندگی کا بھی کچھ علاج کیا جائے۔ 

۲۔قوم کے ہمدرد اور مصلحین اس مسئلہ پے سنجیدگی سے غور کریں اور ایسے ادارے قائم کریں جہاں صرف لڑکیوں کی تعلیم کا ،انتظام ہو اور وہ ہر طرح کی بے راہ روی اور گمراہیوں سے محفوظ رہ کر تعلیم حاصل کر سکیں ۔

۳۔ ہمارے مسلم اداروں میں سے بھی اکثرکو اس بات کی قطعی پروا نہیں ہوتی کہ وہاں موجود خراب نظامِ تعلیم اور دیگر بد انتظامیوں کی وجہ سے قوم کی بیٹیوں کووہ گمراہیوں کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں ۔ اس سلسہ میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ 

۴۔ موجودہ صورتِ حال میں لڑکیوں کے سر پرستوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ تعلیمی ، معاشی اور نسبی معیار کو چھوڑ کر زند گی سے مفاہمت کو ترجیح دیں ۔

۵۔ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم اور پروفیشنل کورسیس میںداخلہ دلوانے سے پہلے لڑکیوں کی فطری ساخت اور اسلامی نقطۂ نظر کا بھی خیال رکھیں 

۔ مذکورہ کورسیس طویل مدّتی نہ ہوں ۔

۷۔ کالج کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہاں کا ماحول صاف ستھرا ، بے راہ روی اور آوارگی سے پاک ہو ۔
۸۔ ایسے کالج کو ترجیح دی جائے جہاں لڑ کوں اور لڑ کیوں کے اختلاط کی گنجائش کم ہو ۔ 

۹۔لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے قلیل مدّتی کورسیس مناسب ہیں اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کورسیس معاش و روز گار سے منسلک ہوں تاکہ وہ جلد از جلدمعاشی اعتبار سے مستحکم ہوسکیں ۔ 

۱۰۔ لڑکیوں کو خواہ وہ اسکول میں زیرِ تعلیم ہوں یا کالج میں ان کے اوقات اور مصروفیات کی خبر گیری نہایت ضروری ہے۔ والدین کو ان کے ساتھیوں اور ملاقاتیوں کا علم بھی ہونا چاہئے ۔

امّتِ مسلمہ کے ہر فرد کی یہ ذمّہ داری ہے کہ وہ اس صورتِ حال سے امّت کو باہر نکالنے کی کوشش کرے ۔ ملک گیر پیمانے پیمانے پر ایک ایسی تحریک چلانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے مسلم لڑکوں اور نو جوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا جاسکے اور خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے لئے انھیں آمادہ کیا جائے تاکہ ہماری معاشرتی زندگی میں جو عدم تواز ن بڑھتا جارہا ہے اسے توازن میں بدلا جا سکے۔

تتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتت


Saturday, February 27, 2010

On Eid E Milad سیرتِ رسول



محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی
محمّد شریف ،ناگپور

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ ، والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم ، تراھم رکعاً سجداً یبتغون فضلاً من اللہ ورضوانا ، سیماھم فی وجوھھم من اثراالسجود ، ذالک مثلھم فی التوراۃ و مثلھم فی الانجیل کذرغٍ اخرج شطہ فازرہ فاستغلظ فاستوٰی علٰی سوقہ یعجب الزرع لیغیظ بھم الکفار ، وعداللہ الذین اٰمنوا وعملوا الصالحات منھم مغفرۃ واجراً عظیماً ۔ 

ترجمہ : ’’ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جولوگ آپؐ کے ساتھ ہیں وہ کفار پر بہت شدید اور آپس میں بہت مہربان ہیں۔ تم دیکھوگے کہ کبھی رکوع میں ہیں اور کبھی سجدے میں۔ اللہ کی طرف سے اس کے فضل اور رضا مندی کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ تم ان کے چہروں پر کثرت سجود کے نشانات دیکھ سکتے ہو۔ یہ ان کی مثال توراۃ میں بیان کی گئی ہے اور انجیل میں ان کی یہ مثال بیان کی گئی ہے کہ شروع میں وہ بہت کمزور جیسے کہ کونپل نکلتی ہے پھر وہ اپنے تنہ پر سیدھی کھڑی ہوتی ہے اور تناور درخت بن کر کسانوں کو بھی تعجب میں ڈالتی ہے ایسے یہ صحابہ ہیں شروع میں کمزور پھر ایسے قوی کہ کفار دیکھ کر غصہ میں آجائیں کہ یہ کیا ہوگیا۔ اللہ کا وعدہ ہے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ، مغفرت کا اور اجر عظیم کا ‘‘

ان آیات میں والذین معہ سے مراد بالاتفاق صحابہ کرام ہیں۔ اور یہ تمام اوصاف جو بیان کی گئی ہیں صحابہ کرام میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ والذین معہ میں قیامت تک آنے والے وہ تمام اہل ایمان بھی داخل ہیں جو مقصد رسالت میں آپ کے ساتھ ہیں یعنی جو دعاۃ الی اللہ ہیں۔ یادوسرے الفاظ میں جو مبلغین حضرات ہیں۔ اس لئے کہ ان آیات میں صحابہ کرام کی صفات بیان کرنے سے پہلے حضورؐ کا رسول ہونا بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے تمام مبلغین چاہے وہ کسی زمانہ کے ہوں وہ ان آیات کے مصداق ہیں اور انہیں اپنے اندر ان اوصاف کا پیدا کرنا ضروری ہے۔ ان میں سب سے پہلی صفت کفار کے ساتھ بوقت جنگ شدت اور قوت ہے اور آپس میں یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ مہربانی کرنا جس میں اخلاق کے تمام پہلو شامل ہیں۔ داعی الی اللہ حضرات کے لئے جن میں علماء کرام تو بدرجہ اولیٰ شریک ہیں اپنے اخلاق کو مزین کرنا لازمی ہے۔ ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا جذبہ ہو بلاتفریق رنگ و نسل ہر مسلمان کا بھلا چاہنا ہو۔
مسلمان کی طرف سے جو ایذائیں پہنچیں ان کو بھی صبر و ضبط کے ساتھ جھیلنا یہ بھی اخلاق میں شامل ہے نہ کسی سے اپنے نفس کے لئے انتقام لینا ہے اور نہ ہی کسی کے لئے بددعا کرنا ہے۔ یہی حضورؐ کی سیرت کا نمونہ ہے۔ اپنے حقوق جو دوسروں پر ہوں انہیں چن چن کر ادا کرنا ہے کوئی حق اپنے ذمہ باقی نہ رہ جائے بلکہ حق سے زیادہ دینے کی کوشش کرنا ہے۔ صرف برابر کا معاملہ نہ ہو بلکہ ایثار اور اکرام کا معاملہ ہو۔ اپنا حق جو دوسروں پر ہے اسے معاف کردیا جائے۔ اپنا حق لینے کے لئے کسی سے لڑائی جھگڑا نہ ہو نہ رشتہ داروں سے نہ پڑوسیوں سے نہ عام مسلمانوں سے نہ سفر کے ساتھیوں سے نہ اپنوں سے نہ غیروں سے۔ ان اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہو کر ہم جب دین کی محنت کرینگے تو ہم والذین معہ میں شریک ہونگے۔
دوسری صفت جو لوگ رسول اللہؐ کے ساتھ ہیں کثرت عبادت ہے۔ عبادت تو انسان کا مقصد زندگی ہے۔ اللہ نے انسان کو اپنی بندگی ہی کے لئے پیدا کیا ہے۔ پھر یہ دوسروں کو اللہ کی بندگی اور عبادت کی دعوت دینے والا خود کیسے اللہ کی عبادت میں کوتاہی کرسکتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ترجمہ : ’’ میں نے نہیں پیدا کیا جن اور انسان کو مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں ‘‘۔ عبادت میں سب سے پہلے نماز ہے۔ نماز میں سب سے پہلے فرض نماز ہے۔ اس کی پابندی ہو کہ ہر فرض نماز جماعت کے ساتھ اور تکبیر اولیٰ کے ساتھ پڑھی جائے۔ اس میں خود حضورؐ کا نمونہ عمل موجود ہے کہ آپ نے خود ایسے وقت میں بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھی ہے جبکہ آپ کے قدم مبارک زمین پر جمتے نہیں تھے۔ دو آمیوں کے سہارے گھسٹ کر آپؐ مسجد میں تشریف لائے اور امت کو یہ عملی تعلیم دی کہ میرے نزدیک یہ نماز باجماعت اتنی اہم ہے کہ میں اس حال میں بھی باجماعت نماز پڑھ رہا ہوں۔ فرائض کے اہتمام کے بعد نوافل کی کثرت ہے۔ اس میں بھی حضورؐ اور صحابہ کانمونہ ہمارے سامنے ہو کہ کس کثرت سے آپؐ عبادت کرتے تھے حتیٰ کہ پیروں پر نماز میں کھڑے رہنے کی وجہ سے ورم آجاتا تھا۔ اور اللہ کی طرف سے بھی آپؐ کو یہ حکم تھا کہ جب بھی آپ اپنے فرض منصبی یعنی دعوت سے فارغ ہوں اللہ کی طرف رغبت کیا کیجئے۔ فرمایا : فاذا فرغت فانصب و الیٰ ربک فارغب۔

اسی طرح اس زمانہ کے داعی الی اللہ بھی نوافل کی کثرت رکھیں۔ کم از کم چار مشہور نوافل اشراق، چاشت، اوابین، اور تہجد کا تو ضرور اہتمام ہو۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوں تحیۃ المسجد پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ ہمیشہ باوضو رہنے کی عادت ڈالیں۔ جب بھی وضو ٹوٹ جائے دوبارہ وضو کر کے دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھ لیں۔ 
وضوء کو حدیث میں سلاح المومن فرمایاگیا ہے۔ یعنی وضو مومن کا اسلحہ ہے جب تک مومن باوضو رہتا ہے شیطانی وساوس سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ چلتے پھرتے میں ذکر ا اللہ کا اہتمام ہو۔ خصوصاً تین تسبیحات، سوم کلمہ، درود شریف اور استغفار کو لازم پکڑیں۔ جب بھی ہاتھ پاؤں سے کسی عمل میں مشغول ہوں تو ذکر سے زبان کے اہتمام سے پوری زندگی ذکر والی بن جاتی ہے۔ اور ایمان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

تیسری اہم صفت ان لوگوں کی جو رسول اللہ ﷺ کے کام میں آپ کے ساتھی ہیں، اللہ کی رضا کی جستجو ہے۔ ہر عمل میں اللہ کی رضا ہی مقصود ہو۔ کوئی عمل چاہے بظاہر دنیاداری کا عمل نظر آتا ہو اس کو بھی اپنی نیک نیتی کے ذریعہ دین اور اجروثواب کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے جب بھی کسی عمل کے لئے اٹھیں تو نیت کریں کہ میں یہ عمل اللہ کے لئے کرتا ہوں۔ اگر کوئی فاسد غرض ذہن میں آئے تو اس کو نکال دیں۔ اس پر استغفار کریں۔ مثلاً ایک آدمی اپنا گھر تعمیر کررہا ہے اس میں کھڑکیاں لگائی جارہی ہیں، نیت کرے کہ ان کھڑکیوں سے اذان کی آواز سنونگا۔ روشنی اور ہوا تو مل ہی جائیگی۔ اذان کی آواز سننے کی نیت نے اس کھڑکی لگانے کے عمل کو بھی حصول اجر کا ذریعہ بنادیا۔ اسی طرح ہر کام میں نیک نیتی کی برکت حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک گلاس پانی بھی کسی کو پلائیں تو نیت کرلیں شاید اللہ اس عمل سے راضی ہوجائے۔ بیوی بچوں کو کھلانا پلانا بھی اللہ کی رضا کے لئے ہو۔ اللہ تعالیٰ اس عمل کا کوئی اجر ہی نہیں عطا فرماتے جو اللہ کے لئے نہ کیا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعلان فرمائینگے کہ جس نے جو عمل جس کے لئے کیا ہے آج وہ اس کا بدلہ اسی سے لے لے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس صرف ان ہی اعمال کا اجر ہے جو اللہ کے لئے کئے گئے ہوں۔

مبلغین حضرات بھی اس کا اہتمام فرمائیں۔ کہ ہر عمل اللہ کے لئے کیا جارہا ہو۔ دوسری کوئی غرض کسی عمل میں بھی شامل نہ ہو۔ اخلاص کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی مردہ ہے۔ اور اخلاص سے ساتھ چھوٹا سا عمل بھی بہت بڑا اور قابل معاوضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

kkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkk

سیرت نبی سے زندگی سنواریئے

محمّد شریف ،ناگپور


عموماً رواج یہ ہوگیا ہے کہ وبیع الاول کے مہینہ میں سیرت کے جلسے ہوتے ہیں۔ سیرت پر بیانات اور تقریریں ہوتی ہیں۔ اخبارات اور رسائل میں سیرت پر تحریریں لکھی جاتی ہیں جن میں زیادہ تر حضورؐ کے معجزات کا بیان ہوتا ہے۔ آپ کے مرتبہ اورعلوشان کے تذکرے ہوتے ہیں۔ اور یہ ہونا بھی چاہئے۔ آپ کا ذکر گویا اللہ ہی کا ذکر ہے۔ اور آپ کی تعریف کرنا اللہ ہی کی تعریف کرنا ہے۔ آپ کے معجزات اللہ ہی کی قدرت کا مظہر ہے۔ مگر ان تقریروں اور تحریروں میں ایک پہلو نظر انداز کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے عمل سے بھی نظر انداز ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ ہم جب رحمت اللعالمین کے امتی ہیں تو ہم آپ کی سیرت سے کیافائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ کیاآپ کی زندگی ہمارے لئے قابل اتباع نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تو آپ کی زندگی کو ایمان والوں کے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دے رہا ہے۔ فرمایا : لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ، لمن کان یرجولقاء اللہ۔ رسول اللہ ﷺ میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے اس کے لئے جو اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے۔ 

حضورؐ کی سیرت کا ایک پہلو جو عام مسلمانوں کے لئے نہایت سہل اور قابل اتباء ہے وہ آپ کی معاشرت ہے۔ اگر ہم ذرا سا دھیان دیں اور عادت ڈالنے کی کوشش کریں تو ہمارے عام معمولات سنت نبوی کے مطابق ہوسکتے ہیں اور ہمارا سنت کے مطابق ان کاموں کا کرنا ہمارے لئے ذخیرہ آخرت اور دنیا میں برکات کا سبب ہوسکتا ہے۔ اور اگر ہم نے رفتہ رفتہ ترقی کر کے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو اللہ کی طرف سے بہت بڑے بڑے انعامات کے مستحق بن سکتے ہیں۔ مثلاً رسول اللہؐ نے فرمایا من تمسک سنتی عند فساد امتنی فلہ اجر مائۃ شہید ۔ جس نے میری امت کے بگاڑ کے زمانہ میں میری سنت کو مضبوطی سے پکڑا اس کے لئے سو شہیدوں کا اجر ہے۔ اور حضورؐ کے معاشرت یعنی عام رہن سہن کے طریقہ ایسے نہیں ہیں جو ہمارے بس کے نہ ہو بلکہ آسان ہیںاور قابل عمل ہیں۔ اور فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں اور ان میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ صرف تھوڑا دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً آپ کا کھانے پینے کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھا ہاتھ استعمال کریں ۔ بیٹھ کر کھائیںیا پئیں۔ کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ کہہ لیں اور فارغ ہونے کے بعد الحمد للہ کہہ لیں۔ یہ ایسا کونسا مشکل کام ہے جو ہم سے نہیں ہو سکتا اس کے باوجود بہت سے مسلمان بائیں ہاتھ سے پانی اور چائے پیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ان کی غفلت ہے جو انہیں حضورؐ کی سنتوں سے محروم کئے ہوئے ہیں۔ ایسے سادہ اور آسان پاکیزہ طریقے حضورؐ کی سنت میں موجود ہیں۔ مگر یہ فائدہ نہیں اٹھاتے ان کی مثال ان کروڑ پتی اولاد کی طرح ہے جو کروڑوںکی جائیداد کے باوجود پھٹے پرانے کپڑوں میں بھوک پیاس کی حالت میں پھر رہے ہیں اور جھوپڑوں میں زندگی گذاررہے ہیں۔ یعنی اپنی جائیداد سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوں یا باہر نکلیں حضورؐ کا طریقہ ہے ۔ داخل ہوتے وقت دایاں قدم پہلے اندر رکھیں اور اللھم افتح لی ابواب رحمتک پڑھ لیں یعنی اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھولدے۔ اسی طرح باہر نکلتے وقت اللھم افتح لی ابواب فضلک ۔یعنی اے اللہ میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔ یہ دستور ہے کہ جب آدمی مانگتا رہتا ہے تو ملتا بھی رہتا ہے۔ جب دن بھر میں کم از کم ۵! مرتبہ اللہ سے اس کا فضل اور رحمت مانگے گے تو کیا محروم رہے گے جبکہ اس کی طرف سے ادعونی استجب لکم کا وعدہ موجود ہے۔ 
حضورؐ کی معاشرت کا ایک طریقہ ہے السلام قبل الکلام یعنی بات سے پہلے سلام کرو۔ ایک گھر کے افراد اور باہر کے بھی بار بار ملنے جلنے والے لوگ بلا سلام سامنے آتے ہی بات شروع کردیتے ہیں۔ اس میں کیا مصیبت ہے کہ پہلے کوئی ایک السلام علیکم کہہ دے اسی طرح فون یا موبائیل سے بات کرتے وقت Hello کہنا غیروں کا طریقہ کیوں اختیار کررکھا ہے۔ اس میں کیا پریشانی ہے کہ جب ہمیں اپنے فون پر Bell سنائی دے ہم پہلے السلام علیکم کہیں۔ اگر اس کااحتمال ہے کہ فون کرنے والا غیر مسلم بھی ہوسکتا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ہم اسے سلامتی کی دعا دے رہے ہیں اور سلامتی بغیر اسلام کے نہیں ملتی گو یا ہم اسے مسلمان ہونے کی ہی دعا دے رہیں ہے۔ اگر ہم نے کسی کو call کیا اور وہ Hello کہہ دے تو ہم سلام کرلیں۔ اگر وہ ہم سے چھوٹا ہے تو بھی پہل کرلینا نفع کی بات ہے نہ کہ نقصان کی۔ ایسے ہی ہمارے روازنہ کے معمولات میں ہے استنجا یا بیت الخلاء کے لئے جانا آنا۔ اس میں بھی حضورؐ کا طریقہ اختیار کرنا کونسا مشکل ہے۔ داخل ہونے سے پہلے اللھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث پڑھ کربایاں پیر اندر داخل کریں اور جب باہر نکلیں تو دایاں پیر باہر نکالیں۔ اور یہ دعا پڑھ لیں۔ غفرانک الحمد للہ الذی اذھب عنی الاذیٰ و عافانی ۔ اے اللہ تیری معافی، تما م تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھ سے اذیت کی چیز کو دور کر دیا اور عافیت بخشی۔ کیسا بہترین طریقہ ہے حضورؐ کا کہ بیت الخلاء بھی اللہ سے قرب دلانے والا ہے۔ ایمان بڑھانے والا ہے اور د نیا کے مصائب کو دور کرنے والا ہے۔ جو شخص اہتمام سے اس دعا کو پڑھتا ہے و ہ پیشاب پاخانہ رک جانے کی بیماری سے محفوظ رہتا ہے۔ 

اسی طرح کپڑے پہنا ہمارے معمولات میں سے ہے۔ اس میں حضورؐ کا طریقہ کیا مشکل ہے۔ پہنتے وقت سیدھا ہاتھ یا سیدھا پیر پہلے داخل کریں۔ اور اتارتے وقت بایاں ہاتھ یا پاجامہ ہے تو بایاں پیر پہلے نکالیں۔ سائیکل ،موٹر سائیکل ،کا ر ،بس ، ریل ، ہوائی جہاز کی سواریوں کا استعمال عام ہے۔ جب بھی کسی سواری پر سوار ہوں ، دایاں پیر پہلے داخل کریں ، بسم اللہ کہتے ہوئے۔ جب سوار ہو جائیں الحمد للہ کہہ لیں۔ اور یہ دعا پڑھ لیں۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین و انا الیٰ ربنا لمنقلبو ن ۔ ذرا ترجمہ پر غور کریں کیسا اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اس کو مسخر کردیا ہم ہر گز اس پر قابو نہ پاتے اگر وہ ہمیںقابو نہ دیتا اور ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔سواریوں کے استعمال کے وقت اس دعا کا اہتمام رہے تو آدمی سواری کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔ Accidents کے تدار ک کا یہ آسان نسخہ ہے۔ مگر ہماری ظاہربیں نگاہیں وہی کہہ رہی ہیں جو بغیر ایمان والے کہہ رہے ہیں کہ traffic controll صحیح نہیں ہے۔ جب سواری چلنے لگے تو یہ استغفار پڑھ لیں۔ سبحانک انی ظلمت نفسی فاغفرلی لایغفر الذنوب الا انت ۔ یعنی ’’ تو پاک ہے بے شک میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے پس مجھے معاف کردے، تیرے علاوہ گناہوں کا معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘‘ ۔
 
اس دعا کے پڑھنے کے بعد اپنے ساتھی یا آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ یہ مسکرانا بھی ایک خاص مصلحت سے ہے۔ جب بندہ یہ استغفار پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ مسکراتا ہے اور فرماتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ اور مغفرت کردیتا ہے۔ کیسا بہترین دین ہے کہ دنیا بھی بن رہی ہے اور آخرت بھی۔ سواری کا استعمال کر کے لمبے لمبے فاصلے آسانی سے طے ہوجارہے ہیں حادثات سے بھی حفاظت ہورہی ہے اور اللہ سے تعلق بھی بڑھ رہا ہے اور مغفرت بھی ہورہی ہے۔ اس میں سواری کی تخصیص نہیںہے۔ حضورؐ کے زمانہ میں صرف جانوروں کی سواریاں تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں قیامت تک ایجاد ہونے والی تمام سواریوں کی خبر اجمالی طور پر دے دی ہے۔ فرمایا : الخیل والبغال و الحمیر لترکبواھا وزینۃ ویخلق مالا تعلمون ۔ یعنی ’’ ہم نے تمہارے لئے اونٹ، گھوڑے اور خچر پیدا کئے جن پر تم سوار ہوتے ہو، اور زینت دکھاتے ہو اور ہم ایسی چیزیں پیدا کرینگے جس کو تم جانتے نہیں ہو ‘‘۔ سائیکل سے لیکر ہوائی جہاز تک تمام سواریاں مالا تعلمون میں داخل ہیں۔ یہ سیرت نبی کا وہ حصہ ہے جو ہر مسلمان آسانی سے اپنا سکتا ہے اور اپنی زندگی کو مزین کر سکتا ہے۔ واقعی حضورؐ کے طریقے آدمی کی زندگی کے لئے رونق اور زینت ہیں۔ حضورؐ کی معاشرت کے بغیر مسلمانوں کی زندگی بے نور ، بے رونق اور ظلمتوں سے بھری ہوئی ہے۔ اسی طرح اپنی زندگی کے ہر گوشہ میں غور کریں کہ ہم اس میں حضورؐ کی سیرت سے کیا داخل کرسکتے ہیں۔ ایک پہلو حضورؐ کی سیرت کا یہ ہے کہ ہم اپنا سلوک اور برتاؤ تمام انسانوں کے ساتھ بلکہ تمام مخلوق کے ساتھ منصفانہ اور کریمانہ بنائیں ۔ ہم اخلاق میں جتنی ترقی کرینگے حضورؐ سے مشابہت میں ترقی ہوگی، حضورؐ سے تعلق میں ترقی ہوگی۔ 
حضورؐ کے اخلاق کا ایک نمایاں وصف عدم تکبر یعنی تواضع ہے۔ حضورؐ کائنات کی تمام مخلوق میں سب سے بڑے ہیں لیکن تواضع کا یہ عالم ہے کہ فرماتے ہیں میں اس ماں کا بیٹا ہون جو سوکھا ہوا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھی۔ راستہ چلتی ہوئی کوئی غریب بڑھیا بھی آپ کو بلا تکلف روک کر آپؐ سے جتنی چاہتی بات کرلیتی تھی۔ مرتبہ تو اتنا بلند کہ جبرائیل علیہ السلام بھی آپ کے پاس بغیر اجازت نہیں آتے تھے۔ اور تواضع اتنی کہ اعرابی یعنی دیہاتی بھی آپ کے مجلس میں بیٹھ کر سوالات کرلیتے تھے۔ معراج کے سفر میں براق آپؐ کی سواری ہے اور زمین پر اپنے گھر میں آپ اپنے نواسوں حسن اور حسین کے لئے خود سواری بنے ہوئے ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں انا سید ولد آدم ولا فخر یعنی میں اولاد آدم کا سردار ہوں لیکن مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔ سیرت پاک کا یہ پہلو بھی امت کے لئے قابل عمل ہے۔ گو کہ ہم اخلاق کی اس بلندی پر نہیں پہنچ سکتے مگر اس کی تمنا کر کے کوشش تو کرسکتے ہیں۔ آپ کے اخلاق کی عمدگی کی سند خود اللہ رب العالمین فرمارہا ہے۔ انک لعلیٰ خلق عظیم ۔یعنی ’’ آپؐ اخلاق عظمہ پر ہیں ‘‘۔ آپ کی زوجہ محترمہ ام المومنین سیدہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ خلقہ القرآن ، آپ کے اخلاق قرآن ہیں۔ یعنی قرآن میں اخلاق کی جو کچھ تعلیم دی گئی ہے بدرجہ اتم وہ آپؐ میں موجود ہیں۔ ہم بھی اس کی کوشش کریں کہ ہمارے اخلاق حضورؐ کے اخلاق سے قریب تر ہوتے جائیں۔ ورنہ سیرت مبارکہ صرف تقریر وتحریر کی زینت بن کر رہ جائیگی۔ دنیا کو اس کی ضرورت ہے کہ آپؐ کے ماننے والے اپنی زندگی میں ان اخلاق کا مظاہرہ کریں جو سیرت میں حضورؐ کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ پھر دنیا آپ کی قدر کرینگی۔ ورنہ آپ کے اخلاق اور آپ کی زندگی کو حضورؐ کی زندگی سے مختلف پاکر آپ کی دشمن بنے گی۔ 

اس لئے تمام مسلمان حضورؐ کی سیرت طیبہ کو اپنانے کا فیصلہ کریں۔ آپؐ غصہ کے عالم مین بھی حد سے اور حق سے تجاوز نہیں فرماتے تھے۔ دشمن پر بھی کبھی آپؐ ظلم نہیں کرتے تھے۔ ظالموں کو معاف کرنا آپؐ کی عام عادت تھی۔ اللہ کی اطاعت کا آپ نے حق ادا کردیا اس کے باوجود اللہ سے استغفار کرتے تھے۔ ہمیشہ اپنی بندگی کا اظہار کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو آپؐ کی سیرت پاک کی اتباء کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
tttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttt
wwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwww
iiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii

Wednesday, January 20, 2010

Urdu writing workshop in Nagpur تخلیقی ورکشاپ طلباء کے لٔے


Shaikh Mohammad Hashim ,Guest Editor of Tahzeebul Kalam
Eminent Writer Wakeel Najeeb 
Famous Critic Poet and Writer Dr. Sharfuddin Sahil 
........................................................................................................
ایک رپورٹ 
مولانا ابوالکلام آزاد ہا ئی اسکول و جو نیئر کالج میں 
تخلیقی ادب کے لئے ورکشاپ کا انعقاد

 ناگپور ..
وہ طلبا جو ادب میں اپنی پہچان بنانا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے اندر چھپی ہو ئی فطری صلاحیتوں کو پہچانیں اور پھر مخصوص صنفِ ادب کا انتخاب کر کے لگاتار طبع آ زمائی کریں ۔‘

 مشہور ادیب و محقق ڈاکٹر شرف الدین ساحل نے مولانا ابوالکلام آزاد ہا ئی اسکول و جو نیئر کالج میں منعقدہ، رائیٹنگ ورکشاپ کے کلیدی خطبہ میں طلبا کو مختلف اصنافِ ادب سے متعارف کر واتے ہو ئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ 
  اسی کالج کے پرنسپل جناب عبدالرؤف کی صدارت میں افتتاحی تقریب کا آغاز ایک طالبِ علم محمّد مصطفےٰ نے تلاوتِ کلامِ ربّانی سے کیا۔
 ہائی اسکول و جو نیئر کالج کے تقریباً دو سو طلبا نے اس ورکشاپ میں شرکت کی جو اسکول کے سالانہ مجلّہ تہذیب الکلام ۲۰۱۰؁ء کے لئے تخلیقی کام کرنا چاہتے تھے ۔ اس موقع پر بچّوں کے معروف ادیب و ناول نگار جناب وکیل نجیب نے طلباء کو زیادہ سے زیادہ کتابوں اور رسائل کے مطالعہ کا مشورہ دیا تاکہ وہ معیاری ادیبوں کے طرزِ تحریر اور مختلف اسالیب سے واقف ہو سکیں ۔ میگزین تہذیب الکلام کے مہمان مدیر جناب شیخ محمّد ہاشم نے ورکشاپ کے شرکاء طلبا کو ڈائری لکھنے کی ترغیب دی تاکہ لکھنے کی مشق کے ساتھ عمدہ اقوال ،اشعار اور ادیبوں کے افکار کا ذخیرہ بھی کر سکیں جو ان کے تخلیقی سفر میں معاون ثابت ہو۔
 
 میگزین کے مدیر اور معروف انشائیہ نگار ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے طلبا کو رسائل سے تحریریں نقل کر کے پیش کرنے یا چراکر اپنے نام سے چھپوانے کی بری عادت سے دور رہ کر، آسان اور اپنی دلچسپی کے مو ضوعات پر لکھنے کا مشورہ دیا ۔ 
 جناب ضیا اللہ خاں لو دھی نے طلبا ء کو سرِ ورق کے ڈیزائن بنانے سے متعلق مفید ہدایات دیں ۔ اس ورکشاپ میں جو نیئر کالج کی طالبات نے اپنی کاوشوں کو پیش کر کے دادِ تحسین حاصل کی ۔ 
 پرنسپل جناب عبدالرؤف نے اپنے صدارتی خطبے میں طلبا سے کہا کہ وہ پر اعتماد طریقے سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اپنے اساتذہ اور مقامی ادیبوں اور شاعروں کی رہنمائی حاصل کر کے زبان و ادب کی خدمت کا فریضہ انجام دیں ۔ 
 

Sunday, September 27, 2009

شادی کے بعد .....انشائیہ

شادی کے بعد 
انشائیہ 

محمّد اسداللہ 

شادی کے بعد ہونے والی رنگ برنگی تقریبات کو ہم عاشق کا نہ سہی عشق کا جنازہضرور کہہ سکتے ہیں ۔ زندگی نکاح کے بعد گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے لگتے ہے۔ شاید اسی موقع کے لئے کہا گیا ہے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہو تی ۔ چند ہی دنوں میں یہ رنگ اڑ جا تاہے او ر پھر کبھی واپس نہیں آ تا خوا ہ آ پ نکاحِ ثانی ہی کیوں نہ کر لیں ۔ 

اذدواجی زندگی کی ابتدا میں حا صل ہو نے والی بے پناہ مسرّتوں کو عمر بھر قسطوں میں لو ٹانا پڑتا ہے ۔اذدواجی زندگی ایک شکر میں لپٹی ہو ئی گولی ہے ۔دولہے میاں کا کوٹ اترنے نہیں پا تا کہ شکر کا غلا ف تر نے لگتا ہے۔ 
سنا ہے انگریزی کے مشہور شاعر ملٹن نے شادی کے بندھن میں بندھ جا نے کے بعد اپنی شہرۂ آفاق نظم پیراڈائیز لاسٹ لکھی تھی اور چند بر سوں بعد جب اس کی بیوی اسے داغ، مفارقت دے گئی تو پیرا ڈائیز ری گین لکھ کر سکھ کا سانس لیا ۔ 

ملٹن بحر حال ایک عظیم شاعر تھا ۔ مجھ جیسا بچّہ ادیب تو شادی کے بعدطنز و مزاح نگاری چھوڑ چھاڑ کر تنقید نگاری سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتا ہے ۔شادی کے بعد چند عبوری ماہ و سال گزر جا ئیں تو شوہر کو یہ محسوس ہو نے لگتا ہے کہ وہ خود اپنی ذات پ ایک بہت بڑا طنز ہے ۔اسے لگتا ہے کہ آدمی خود ایک چلتے پھرتے لطیفے میں ڈھل چکا ہو تو لو گوں کو ہنسانے کے لئے کاغذ قلم کو زحمت کیوں دی جائے۔ قرضداروں سے سہما ہوا ،بیوی سے ڈرا ہوا،نو نہالوں سے لدا ہوا شوہر ایک ان کہا اور ان سنا لطیفہ ہی تو ہے ۔

کسی کا سرتاج کہلانے والا یہ شخص ذمہ داریوں کے کانٹوں کا تاج سر پر پہنے ،مسکرانے کے لئے مسکرانابھول جاتا ہے۔ وہ ہنستا اس لئے کہ رو نہیں سکتا ۔(اسے بچپن ہی سے گھر میں یہ سکھا یا گیا ہے کہ رونا لڑکیوں کا کام ہے اور انھیں رلانامردوں کی ذمّہ داری ہے ۔ )مرد اپنے رونے کو مسکراہٹ کی زبان میں ٹرانسلیٹ کر لیتا ہے ۔اسی لئے شوہروں کی ہنسی اور انگریزی ناول کے کسی تھرڈکلاس ترجمہ میں کو ئی خاص فرق نہیں ہوتا۔

شوہر کی زندگی میں وہ لمحات بھی آ تے ہیں جب اسے نہ مسکرانے کی ضرورت ہو تی ہے نہ فرصت ۔ یہ سوغات تب تماشائیوں کے حصّے میں آتی ہے ۔مگر خندۂ زیرِ لب اچھالنے والے بھی کب تک اپنی خیر منائیں گے ۔


Sunday, July 26, 2009

Inaugration of a school Magazine (Urdu) تہذیب الکلام


اسکول میگزین

تہذیب الکلام 2009 کا اجراء

خبر نامہ 

ناگپور 

 

مو لانا ابوالکلام آ زاد ہا ئی اسکول و جو نئیرکالج گاندھی باغ ناگپور کے سالانہ میگزین تہذیب الکلام کا اجراء کیریر گائیڈنس ادارہ کے رکن اور سابق جوائنٹ سیکریٹری، ناگپور ڈیویژ نل ایس ایس سی بورڈ ،جناب رکن الدین محمّد کے ہاتھوں ہوا ۔اس تقریب کی صدارت کے فرائض کالج کے پرنسپل جناب عبد الرؤف صاحب نے انجام دئے ۔جناب وکیل نجیب اورڈاکٹر آ غا غیاث الرحمٰن صاحب نے اس رسالہ پر اپنے تبصرے پیش کئے اور اسکول کے منتظمین و ادارتی بورڈ کی کا وشوں کو سراہا۔ اس تقریب میں مجلّہ تہذیب الکلام کے مہمان مدیر شیخ محمّد ہاشم بھی بطور مہمانِ خصوصی مو جود تھے ۔

اسکول کے سالانہ میگزین کے اجراء کے بعد اس کے مدیر ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے اظہارِ خیال کر تے ہو ئے کہا کہ اسکو ل میگزین ایک ایسا آ ئینہ ہے جس سے ہمیں کسی تعلیمی ادارہ کی تدریسی و غیر تدریسی سرگرمیوں کا اندازہ ہو تا ہے ۔یہ طلباء میں پو شیدہ تخلیقی صلاحتوں کو بروئے کا ر لانے کے لئے ایک مفید ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ جناب وکیل نجیب اورڈاکٹر آ غا غیاث الرحمٰن صاحب نے اس رسالہ پر اپنے تبصرے پیش کئے اور اسکول کے منتظمین و ادارتی بورڈ کی کا وشوں کو سراہا۔ جناب عبدالرؤف صاحب نے اپنے صدارتی خطبہ میں طلباء کو اردو کے علاوہ مقامی زبان مراٹھی میں بھی مہارت حاصل کر نے اور معلوماتی مضامین کا مطالعہ کر نے کا مشورہ دیا ۔

Wednesday, July 08, 2009

مسلمانوں کے نام ایک غیر مسلم شاعر کا پیام

مسلم بھائیوں کے نام 
جو
ہم دیوی دیوتاؤں کے پجاریوں کو جہنّمی اور خود کو جنّتی کہتے ہیں ۔

نتیجۂ فکر : 
اوم پر کاش نیّر ؔ ، لدھیانوی 
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ایک ہی پربھو کی پوجا ہم اگر کرتے نہیں 
ایک ہی در پر مگر سر آپ بھی دھرتے نہیں

اپنی سجدہ گاہ دیوی کا اگر استھان ہے 
آپ کے سجدوں کا مرکز ’قبر ‘ جو بے جان ہے

اپنے معبودوں کی گنتی ہم اگر رکھتے نہیں
آپ کے مشکل کشاؤں کو بھی گن سکتے نہیں
 

’’جتنے کنکر اتنے شنکر‘‘ یہ اگر مشہور ہے
ساری درگاہوں پہ سجدہ آپ کا دستور ہے 

اپنے دیوی دیوتاؤں کو اگر ہے اختیار 
آپ کے ولیوں کی طاقت کا نہیں حدوشمار
 

وقتِ مشکل ہے اگر نعرہ مرا ’ بجرنگ بلی 
آپ بھی وقتِ ضرورت نعرہ زن ہیں ’یاعلی‘ 

لیتا ہے اوتار پربھو جبکہ اپنے دیس میں
آپ کہتے ہیں ’’خدا ہے مصطفٰے کے بھیس میں‘‘ 

جس طرح ہم ہیں بجاتے مندروں میں گھنٹیاں
تربتوں پر آپ کو دیکھا بجاتے تالیاں
 

ہم بھجن کرتے ہیں گاکر دیوتا کی خوبیاں 
آپ بھی قبروں پہ گاتے جھوم کر قوّالیاں 

ہم چڑھاتے ہیں بتوں پر دودھ یا پانی کی دھار
آپ کو دیکھا چڑھاتے مرغ چادر ،شاندار
 

بت کی پوجا ہم کریں، ہم کو ملے’’نارِ سقر
آپ پوجیں قبر تو کیونکر ملے جنّت میں گھر؟ 

آپ مشرک، ہم بھی مشرک معاملہ جب صاف ہے
جنّتی تم،دوزخی ہم، یہ کوئی انصاف ہے 

مورتی پتّھر کی پوجیں گر! تو ہم بدنام ہیں
آپ’’سنگِ نقشِپا‘‘ پوجیں تو نیکو نام ہیں

کتنا ملتا جلتا اپنا آپ سے ایمان ہے
’آپ کہتے ہیں مگر ہم کو ’’ تو بے ایمان ہے ‘

شرکیہ اعمال سے گر غیر مسلم ہم ہوئے 
پھر وہی اعمال کرکے آپ کیوں مسلم ہوئے
 
ہم بھی جنّت میں رہیں گے تم اگر ہو جنّتی
ورنہ دوزخ میں ہمارے ساتھ ہوں گے آپ بھی
 

ہے یہ نیّرؔ کی صدا سن لو مسلماں غور سے 
اب نہ کہنا دوزخی ہم کو کسی بھی بھی طور سے

Wednesday, April 22, 2009

اردو منی کہانیاں Mini Kahaniyan (Urdu)

منی کہانی ۔ ایک نوٹ
محمّد اسد اللہ 

ادب کو عام طور پر دو حصّوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نثر اور نظم ۔نثر میں کئی اصناف ہیں۔ مثلاً ۔ داستان، ناول، افسانہ، ڈرا ما، سوانح، سفرنامہ، خطوط ،مضامین وغیرہافسانہ یا کہانی عام طور پر مختصر ہوتی ہے۔ ناول طویل ہوا کرتا ہے ۔ لیکن ان دونوں میں مختصر اور نئی اصناف میں ایک صنف ہے مختصرافسانہ جسے ہم کہانی بھی کہتے ہیں۔

منشی پریم چند سے لے کر سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، کرشن چند اور راجندر سنگھ بیدی نے اردو میں عمدہ افسانے لکھ کر اپنی پہچان بنائی۔
ان مختصر کہانیوں کے علاوہ ایسی کہانیاں بھی لکھی گئیں جو چند سطروں پر مشتمل تھیں۔ انھیں منی کہانی یا افسانچہ کا نام دیا گیا۔افسانچہ کی ابتدا اردو میں منٹو کے سیاہ حاشیے سے ہوئی تھی۔۱۹۴۸ ء میں سیاہ حاشیے کی شکل میں ان کے افسانچے منظر عام پرآئے کچھ لوگ افسانچہ کے ڈانڈئے عربی ادب اورخلیل جبران کے مقولوں ، شیخ سعدی کی حکایتوں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صنف لطیفے اور پہلی سے قریب لگتی ہے اس لیے اسے ایک نیا نام دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔جس طرح داستانوں کے بعد ناول ،ناول کے بعد مختصر افسانہ وقت کی ضرورت ثابت ہوئے اسی طرح منی افسانہ بھی افسانے کے بعد موجود دور میں زندگی کی ایک ضرورت اور حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔
اردو میں منٹو کے بعد جو گیندرپال نے اس صنف پر خصوصی توجہ دی۔کسی موضوع کو کم لفظوں میں بیان کرکے اس میں طویل کہانی کا تاثر پیدا کر دینا منی کہانی کی خصوصیت ہے۔

مختصر کہانی صرف بات کو مختصر کہنے سے نہیں بنتی بلکہ اس سے اس طرح بیان کیا جا تا ہے کہ بات پڑھنے والے کے دل میں اتر جائے۔ افسانچہ میں افسانہ نگار چند جملوں میں وہ بات کہہ جاتا ہے جیسے کہنے کے لئے دوسرے افسانہ نگار کو سینکڑوں الفاظ درکار ہوتے ہیں۔ ان چند جملوں میں زندگی کے صرف ایک مختصر حصّے پر روشنی پڑتی ہے اور بہت کچھ چھوڑدیا جاتا ہے جسے پڑھنے والا اپنی سمجھ سے مکمل کرکے بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔
کچھ لوگوں نے منی کہانی لکھنے کے فن کو چاول پر قل ھو اللہ لکھنے اور انگلی پر پربت اٹھانے کا ہنر قرار دیا ہے۔


اردو کی چند  منی کہانیاں یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔
٭۔ فاصلے

میں ان دنوں کئی بار اپنے راکٹ میں بیٹھ کر چاند
تک ہو آیا ہوں، لیکن ایک مدّت ہوگئی دس قدم چل کر اپنے بھائی سے ملنے نہیں گیا۔
 
۔ غرقاب

’’میں ایک عرصہ سے ایک سمندری جہاز میں نوکر ی کرتا ہوں‘‘
پہلے پہل جب میرا سمندر سے رابطہ ہوا تو مجھے لگتا تھا۔ میں اس میں ڈوب جاؤں گا۔ مگر اب مجھے لگتا ہے کہ سمندر ہی میرے اندر ڈوب گیا ہے۔
٭
طالب زیدی

۱۔ محروی
’’جب سے دشمنوں کی پہچان ہوئی ہے۔
دوستوں سے محروم ہو گیا ہوں۔‘‘

۔ شگون

’’وزنی ٹرک کے نیچے آکر سیاہ بلی تارکول کی سڑک پر بچھ گئی تھی۔ خدا جانے اس کا راستہ کس نے کاٹا تھا۔‘‘
٭
نسیم محمد جان
       
۱۔ آدم خور
’’بھئی یہاں تو چھ کا ؤ نڑز تھے‘‘
’’ہاں‘‘
کہاں چلے گئے سب لوگ ؟‘‘
’’آدم خور کھاگیا ‘‘
کیا ؟
سامنے دیکھو۔۔۔۔ ایک کمپیوٹر لگ گیا ہے‘‘
٭

رتن سنگھ

۔ احتیاط

ہنستے ناچتے خوشیاں مناتے ایک ہجوم کو قریب آتا دیکھ کر ایک بھکاری نے اپنے تین چار سال کے بچے کو جلدی سے گودمیں اٹھا لیا اور ایسی آڑ میں لے گئی جہاں سے بچہ ان رنگ رلیاں منانے والوں کو نہ دیکھ سکے۔‘‘ نابابانا وہ بڑ بڑاتے جارہی تھی۔
’’میرے ننگے بھوکے بچے نے اگر ہنسنا سیکھ لیا تو کل کو اسے بھیک کون دے گا۔٭

Thursday, April 16, 2009

Muslim voters aur voting مسلم ووٹر اور ووٹنگ


مسلمان عام طور پر ووٹ ڈالنے سے کیوں کتراتے ہیں ؟
یہ ایک سوال ہے جو حالیہ لوک سبھاالکشن کی ہنگا مہ آ رائیوں کے درمیان اکثر ذہنوں میں سر ابھارتا ہے۔

اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ عام مسلمان اپنے گزشتہ برسوں کے تجربات کی بنیاد پر منتخب ہو نے والی سیاسی پارٹیوں کی کا رکردگی سے بری طرح مایوس ہوا ہے اور مستقبل میں بھی سیاسی لو گوں سے کو ئی خاص امّید نہیں کی جا سکتی ۔ گویا اب الکشن میں ہمارے لئے ووٹ ڈالنے کا مقصد اچّھے حکمرانوں کا انتخاب کر نا نہیں ،بلکہ دو بُرے لو گوں میں سے کسی کم بُرے کو چنّا ہے ۔ لیکن جو لوگ اس میدان میں اترے ہیں ان پر ایک نظر ڈالئے تو لگتا ہے یہاں تو ساری ہی دال کالی ہے ۔یہ سبھی ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے ہیں ۔

بظاہر دو درختوں کی طرح جو کچھ فاصلے پر کھڑے نظر آ تے ہیں، لیکن ان کی جڑیں اندر سے ایک دوسرے سے ملی ہو ئی ہیں ، یہ سیاسی پارٹیاں حکومت بنانے کے لئے یا بالفاظِ دیگر کر سی حاصل کر نے کے لئے سیاسی گٹھ بندھن کے نام پر ایک ہوجائیںگی۔یعنی ہمیں ان لوگوں کو منتخب کر نا ہے جو اس میدان کے مرد ہیں اور آ ئے ہی اسی ارادہ سے ہیں کہ مال و دولت،شہرت حکومت حاصل کر یں گے ۔ان میں شائد ہی کو ئی ایسا ہوگا جو خالص خدمتِ خلق کا جذبہ لے کر آ یا ہو اور اپنی دنیا بنا ناا س کے پیشِ نظر نہ ہو، بلکہ ایسا کو ئی اس گلی میں آ ئے اور آخر تک اپنے ارادہ پر قائم رہ پائے حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے ( کہ نکٹو ں کی بستی میں کسی ناک والے کو ٹکنے نہیں دیا جاتا ) تو اس شخص کو سادہ لوح کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے اسی لئے اب سیاست میں شریف لوگ بہت کم گھستے ہیں (کیونکہ شریف آ دمی گھس پیٹھیا نہیں ہو تا) ۔بقول غالب ؔ

ہاں وہ نہیں خدا پرست ؛جا ؤ، وہ بے وفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں

ایک حکایت

ایک شخص کو پھانسی کی سزا دینے سے پہلے بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو بادشاہ نے کہا : آ ج ہماری بیٹی کا جنم دن ہے اس لئے ہم تم پر خاص عنایت کر نے والے ہیں ۔وہ آ دمی بہت خوش ہوا کہ ممکن ہے جان بخشی ہو جا ئے ۔ بادشاہ نے کہا : تمہارے سامنے تین کارڈ ہیں ان میں سے جو سہولت تمہیں پسند ہو اسے چن لو ۔ مجرم نے پہلا کارڈ اٹھایا اس پر لکھا تھا ’موت‘ ،اس نے گھبرا کر دوسرا کارڈاٹھایا ،اس پر درج تھا’موت‘ ۔اس نے اس امّید پر کہ یقینا یہی بادشاہ کی طرف سے خاص عنایت ہے تیسرا کارڈ اٹھایا اس پر بھی لکھا تھا ’موت‘۔
یہی حال ہمارے ووٹروں کا ہے خواہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو منتخب کریں نتیجہ وہی ہے ڈھاک کے تین پات !


مو جوددہ دور میں مسلمان سوچتے ہیںکہ ہم کو جن سے ہے وفا کی امیّد ،وہ نہیں جانتے وفا کیاہے ۔اسی لئے عام طور مسلمانوں کا بڑا طبقہ نہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کر وانے کے کئے دوڑ دھوپ کر تا ہے اور نہ مسلم ووٹر اپنا ووٹ بینک کتنا طاقتور ہے یہ بتانے کی فکر کر تے ہیں ۔
یہ اور بات ہے کہ بدلتے ہو ئے حالات نے اب خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے میں یہ شعور پید اکر دیا ہے کہ ہمیں ووٹ کا استعمال ضرور کر نا چاہئے ۔یہ نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ اگر ہم اپنی پسندیدہ پارٹی کو منتخب کروانے میں زیادہ دلچسپی نہ لیتے ہوں تو کم از کم ووٹ کی طاقت کا استعمال کر کے ان سیاسی جماعتو ں کو حکومت پر قابض ہو نے سے روک ضرور سکتے ہیں۔جو نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔

میںا یسے لو گوں سے بھی ملا ہوں جو اس بات کو فخرسے بیان کر تے ہیں کہ ہم نے نہ زندگی میں کبھی ووٹ نہیں ڈالا اور نہ اس اختیار کا استعمال کریں گے ۔یہ دراصل موجودہ سیاسی اداروں کی کالی کرتوت کے خلاف برہمی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے اور کہیں تو یہ خیال ان لو گوں کے دلوں میں جا گزیں ہے کہ یہاںے داغ تو کو ئی ہے ہی نہیں پھر
ہم ووٹ ڈال کر بد کر دار لو گوں کو حکومت کی کر سی پر بٹھا نے کا گناہ کیوں کریں ؟
یہ سچ ہو تب بھی وقت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ووٹ کا استعمال نہ کرنے سے اگر قوم و ملک کے لئے خطرہ بننے والے لوگ کرسی پر قابض ہو گئے تو اس صورت میں بھی ہم غفلت شعاری اور قوم کے مفادات کا تحفّظ نہ کر نے کے مجرم تو ہو نگے ہی ۔

بہتر یہ ہے کہ قومی مفاد کے پیشِ نظر اپنے ووٹ کا سوجھ بوجھ کے ساتھ استعمال کی جائے ۔

Sunday, April 12, 2009

Saadat Hasan Manto -Ek Note


سعادت حسن منٹو۔
ایک نوٹ
By
Muhammad Asadullah

سعادت حسن منٹو اپنی شاہکار تخلیقات کے سبب ایک عظیم افسانہ نگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس عظمت کے اجزائے ترکیبی اس کا شفّاف اسلوب، بے باکی ،سماجی حقیقت نگاری انسانی شخصیات کا گہرا مطالعہ اور مشاہدہ ،نفسیات کا فنکارانہ تجزیہ ،افسانہ نگاری کے اسرار و رموز کا ادراک اور انھیں تخلیقی سطح پر برتنے کا ہنر اور دیگر کئی خوبیاں ہیں جنھیں منٹو کی امتیازی خصوصیات کے طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔اس کے باوجود منٹو کی کر دار نگاری جو ان سب پر بھاری ہے اسے ایک بلند پایہ فنکار ثابت کرتی ہے ۔ اس کی تخلیقات انسانی شخصیات کا ایک ایسا نگار خانہ ہے جہاں اس کے افسانوں کے پر دے سے کبھی ہمارے دلوں کو چھو لینے والی اور کبھی ہماری روح کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی انسانی صورتیں نمایاں ہو تی ہیں جو بلا شبہ اس کی فنکارانہ عظمت مین برابر کی شریک ہیں ۔

یہ سچ ہے کہ منٹو کے بیشتر کر داروں نے اسے فحش نگار کے لقب سے نوازا اور اس کے گرد ایک ایسا حصار کھینچ دیا کہ لو گ اس کا نام تک زبان پر لاتے ہو ئے کتراتے تھے ۔ یہ کردار ادب میں بڑے پیمانے پر مو ضوعِ بحث بنے اور ان کے انتخاب نے منٹو کو رسوا کیا البتّہ یہی بدنامِ زمانہ کر دار اس کے وجہ شہرت ثابت ہو ئے ،یہ الگ بات کہ کیچڑ میں کنول کی تلاش اور گہرے پا نیوں میں انسانی قدروں کے آبدار مو تیوں کی جستجو جو منٹو کی فطرت میں شامل تھی اس کا اصل ہنر ٹھہرا اور وہی اس کی عظمت کی بڑی دلیل بھی ہے ۔

منٹو کے یہاں مرد اور عورت دونوں کر داروں میں تنوّع رنگا رنگی کے علاوہ مختلف خصوصیات نظر آ تی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر کر داروں کی پیشکش میں ایسا لگتا ہے منٹو کی نظر انسانی فطرت کے اصل جو ہر کو تلاش کر رہی ہے اس کی اکثر کہانیاں اسی تلاش و جستجو کا ایک سلسلہ دکھائی دیتی ہیں ۔ موذیل ،بابو گوپی ناتھ، دودوا پہلوان ،ٹھنڈا گوشت ،منظور و کالی شلوار غیرہ ان کہانیوں کے نسوانی کر داروں میں سے برے ماحول اور برے افعال یا ناموافق حالات کا شکار ہو نے کے با وجود اپنی فطری نیکی کو اپنی شخصیت کی گہرائی میں چھپا ئے ہو ئے ضرور ہیں اور منٹو کی دروں بینی اسے بہر حال سطح پر لا کر ہمیں ایک حیرت آ میز مسرّت سے ہمکنا ر کر دیتی ہے ۔

اس کی فطری حیا اور نسوانیت بہر حال زندہ ہے اور منٹو کی نظریں ہر جگہ اسی کو ڈھونڈتی رہتی ہیں ۔ افسانوی کرداروں سے قطع نظر حقیقی شخصیات میں بھی منٹو اسی جو ہر کا متلاشی ہے ۔ اسکی تحریروں میں عصمت چغتائی ،پری چہرہ نسیم وغیرہ خاکوں میں بھی ان کرداروں کے اقوال و احوال اور اضطراری کیفیات میں منٹو ان کے اندر چھپے انسان کی جستجو میں رہتا ہے ۔ فسادات پر لکھے گئے اس کے افسانے جو سیاہ حاشئے کے نام سے شائع ہو ئے اس کی اسی انسان پرستی کے مظہر ہیں ۔ اس ماحول میں جس نے انسان کی درندگی ابھر آ ئی تھی اور انسان بنے رہنا بڑا مشکل ہو گیا تھا یا یوں کہئے اپنی جان کی حفاظت کی خاطر حملہ کر نا اس موحول کی ضرورت تھی ، انسانیت بہر حال انسان میں زندہ تھی ۔ منٹو کے افسانے اسی انسان دوستی کے علمبردار ہیں اس سلسے میں اس کے افسانے موزیل ،بابو گوپی ناتھ قابلِ ذکر ہیں ۔

Friday, March 06, 2009

Celebrating Eid- e-Milad

Celebrating Eid- e-Milad

Middle
By: Dr. Mohammad Asadullah


My younger son Anas tries to celebrate his birthday twice or thrice in every year. Isn’t it surprising?
Actually he was born on the day which was of Eid.Now he insist to remember the day of Eid and forget the date because in this process he has an advantage of celebrating his birthday on both the the Eids,Eid- ul- fitr and Eid-ul Azha. As, within a year, these two festivals are most important all over the world for Muslims.
As far as his birthday which falls in the month of March,who may stop him to celebrate it .Though ,I always try to convey him the tradition of our religion that we don’t believe in celebrating our birth day. Every year when we have our birth day, it indicates us that a precious time span; consist of one year; has been deducted from our age ,as every human being has its fixed quota of not only days but moments too. He says to me Abbu, you are right,I also don’t believe in this ,but still what is wrong to have some celebration just to remember it and definitely this is last celebration , I shall not celebrate it next year.
This year Anas is a student of standard eighth. He has begun to understand the content of a Calendar. Yesterday, he turned the page of April and jump with delight telling me, Abbu, there is another Eid this month, Yahoo, My third birthday. After going through the Calendar tried to appease him by saying that
Actually this is not an Eid. We don’t celebrate it like other festivals.


“Not even as my birthday? His humorous remark made me laugh .Then I tried to explain him that the Eid-e-Milad –Un-Nabi which is falling this year on 1st April is celebrated as the birth day of Prophet Mohammad(P.B.U.H.)
Though, a bigger group of Muslims community, well aware of Islamic Tradition and teachings in this regard ,doesn’t believe in any type of birthday celebrations and take it against the true spirit of their religion.
As a personal matter, social atmosphere compelled me, sometimes to allow my children to celebrate their birthdays, but at the same time I had convinced them that these things are just for timely enjoyment. We don’t believe in it. Consequently my elder children had given up these celebrations during last few years.
For a long time, after the death of Prophet Mohammad (P.B.U.H.) no one knew this festival. This celebration is recent one started during a couple of centuries, since, most religions celebrate the birthday of their religious leaders, and some people say that it is an imitation of these religions. There are so many non- Islamic rituals, performed in our country as a part of imitation.
Thus the brighter part of such ceremonies might be used to make it as a medium to communicate the valuable thoughts, teachings and the great deeds of Prophet Mohammad (P.B.U.H.) His life and the values he had taught to the people are still useful for humanity. His deeds and comments is like a light house for the whole world, wondering in the darkness of ignorance ,terror and hatred ,but it is seen ,most celebrations served no purpose beyond taking processions and rising slogans .
Once I asked one of the organizers of such procession, What do you want to serve by this? He replied “We want to demonstrate our majority.” I tried to explain him that it is against the true Islamic sprit. Majority or minority has nothing to do with obeying Al-mighty creator. Holy Quran had also condemn this trend by reminding in one of its verse that many times a small group of people had defeated the group which was proud of being in majority .

,a s they were at that time, During the Battle of Ohad , a war in Arab, the defeat of Muslims was interpreted as a lesson from Allah

…………..

Sunday, February 01, 2009

Khyal Pare ٹی وی چینل اور بچّوں پر منفی اثرات

بچّے اور ٹی وی چینل

.Bachchon mein badhti hooi  behoodgion ko ab taleem ka hissa samjha ja ta hai.Yeh hamare nizame taleem ka eik almiya hai 

Bhart mein T.V. Chenalon mein lafter Channel  aur Nach Balye Vaghaira ki maqbooliyat ke bad ab aksar Channels par bachchon ka dakhla shuru  ho gaya hai jhan chote chote bachche nachte hooe nazar aate hain vaheen ghatiya aur na munasib qism ky joke bhi sunate hain .bchchon ko in behoodgiyon mein ghasit te hooe logon ko ab sharm mahsoos naheen hoti kyon ki ab t.v. ne ise certify kr diya hai .Pahly bchche agar na munasib libas pahante ,filmi gane gate to teachers an ko  rokte tokte the .Yeh hamari talim ka eik hissa tha likin ab school kesocial gathering minn khuly taur par filmi ganon par students ke thirakny ka riwaj aam hai. Main ne khud dekha ki ab kuch teachers talba ko class mein bula kar sub talba ky samny doosre teacdher ki naqal kr ny ky kahty hain .bachchon mein badhti hooi in sabhi qism ki behoodgion ko ab taleem ka hissa samjha ja ta hai.Yeh hamare nizame taleem ka eik almiya hai

Wednesday, October 01, 2008



خیال پارے    .1 

مقصدِ زندگی 

ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں ؟ 
ہماری زندگی کا کیا مقصد ہے؟ 

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صدیوں سے مفکّر،فلسفی،دانشور اور ادیب و شاعر تلاش کرتے رہے ہیں ۔ 
ہر شخص اپنے زاویے سے زندگی کو دیکھتا ہے ۔
ایک نکتۂ نظر یہ بھی : 
خدا نے حضرتِ آ دم کو ان کی ایک خطا پر عتاب کے بعد اس دنیا میں بھیجا تھا ۔ہم ان ہی حضرتِ آدم کی اولاد ہیں۔کیا یہ ممکن نہیں کہ اس عتاب کا کچھ حصہّ وراثت میں ہمیں بھی ملاہو؟
ہمارے جدِّ امجد سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک معیّن مدّت تک انھیں یہاں زندگی گذارنی ہے اور پھر وہ جنّت میں ( جو ان کا اصل گھر ہے ) لو ٹیں گے ۔
یہی طریقہ کار اولادِ آ دم کے ساتھ بھی ہے ۔دنیا کو کار گاہِ عمل قرار دیا گیا۔ 
اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدّس کتاب قرآن مجید میں اس کو واضح بھی فر مادیا کہ موت اور حیا ت کو اس لئے بنا یا گیا تاکہ دیکھیں کو ن اچّھے اعمال کر تا ہے ۔ 
گو یا اب ہمارے سامنے کارِ جہاں یہ ہے کہ اسے اس طرح انجام دیا جا ئے کہ خدا راضی ہو ۔ ہوم کمینگ یعنی جنّت میں جانے کے لئے ایک ایسا انسان بن کر دکھا نا ہے جو واقعی وہاں رہنے کے لائق ہو ،اسے اس مملکت میں شہریت اسی صورت میں ملے گی جب وہاں کی شرائط پوری کرے ۔ اس کی سب سے بڑی شرط یہی ہے کہ خدا سے اس کا تعلّق اس درجہ تک پہنچ جائے کہ 
خدا بندے سے خود پو چھے بتا تیری رضا کیا ہے ؟ 
چنانچہ زندگی، اپنے مالک کو راضی کر نے کی تمام تر سعی کا نام ہے ۔ 
اور 
عبادات،اعمالِ صالحہ،خدا کی مخلوقات پر رحم ،حسنِ سلوک ،مصائب پر صبر ،قربانیاں ،جہاد ، ،خدا کے بندوں سے خدا کا تعارف کروانے کی کوششیں اور دین کی محنت یہ سب رضائے الٰہی تک پہنچنے کے راستے ہیں ۔ 

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی 
میں اسی لئے مسلماں ،میں اسی لئے نمازی 
اقبال