Showing posts with label Animals. Show all posts
Showing posts with label Animals. Show all posts

Wednesday, November 21, 2007

کچھوا دھیرے چلتاکیوں (Why is a tortoise so slow?)

کچھوا دھیرے چلتاکیوں

بچّہ

کچھوے بابا! کچھوے بابا!

پیٹھ پہ پیالہ الٹا کیوں ؟

اک ٹوپی کے اندر ہی

سر رہتا ہے دُبکا کیوں ؟

دھیرے دھیرے چلتے ہو

ڈرے ڈرے سے رہتے ہو

کچھوا

اوپر والے ہی نے مجھ کو

جیسا بھی ہوں بنایا ہے

خول حفاظت کی خاطر یہ

آسمان سے آیا ہے

میرا جرم ہے دھیرے چلنا

کوئی اسکی سزا نہ دے

راہ کا روڑا کہہ کر مجھ کو

رستے ہی سے ہٹا نہ دے

اسی لئے میں ڈرتا ہوں

خول میں دبکا رہتا ہوں

Sunday, November 04, 2007

جانوروں کا بازار (Animal Marketplace)

جانوروں کا بازار

دیکھا بیوپاری بننے کا جانوروں نے سپنا

لے کر اک بازار میں پہنچے خوانچہ اپنا اپنا

ہُد ہُد لال ٹماٹر لایا ،ہرنی گاجر مولی

بندر لے کر آیا چقندر ، لکّڑ بگّا ککڑی

اونٹ نے پیٹھ پہ گنّے لادے، ہاتھی لایا آلو

پالک لے کرآئی بلّی ،بیگن لے کر بھالو

لیموں لاد کے ٹٹّو لایا ، اروی عربی گھوڑا

سر پر میتھی لائی بکری ، بکرا دھنیا تھوڑا

گیدڑ نے حلوائی بن کر جوں ہی تھال سجائے

چیونٹا چیونٹی گاہک بن کر دوڑے دوڑے آئے

لومڑیاں بھی لائیں اپنے انگوروں کے خوانچے

تاجر بن بیٹھے تھے چوہے بیچ رہے تھے کپڑے

Sunday, October 28, 2007

مچھر نامہ (Mosquito Mania)

مچھر نامہ

بھن بھن کرتا آئے مچّھر
کان ہمارے کھائے مچّھر
شام ہوئی تو فوج بناکر
گھر گھر میں گھس آئے مچّھر
خون تمہارا ہم کو پیارا
گیت یہی اک گائے مچّھر
ہر کوئی بیزار ہے ان سے
کب ہیں کسی کو بھائے مچّھر
خون کے پیاسے ذرا ذرا سے
کیسا خوف جگائے مچّھر
ننّھے ننّھے ڈراکیولے ہیں
خون کی کھوج میں آئے مچّھر
ڈستے ہی سب چینخ اٹھے ہیں
ہائے رے مچّھر ہائے مچّھر
ڈستا تو ہے سانپ بھی لیکن
خون بھی پی کر جائے مچّھر
گندے پانی کے یہ ساتھی
کیچڑکے ہمسائے مچّھر
تحفہ لے کر بیماری کا
بستی بستی جائے مچّھر
میٹ ،کوائل اور مچّھر دانی
ان سب سے گھبرائے مچّھر
انساں ہی کے خون پہ پل کر
اس جیسا اترائے مچّھر
خون بہاتے انسانوں کو
دیکھے اور شرمائے مچّھر



چوہوں کا ہنگامہ (Mice's Hullabaloo)

چوہوں کا ہنگامہ

اک دن چوہے کچن میں آئے

اچھلے ،کودے ،ناچے گائے

خالی دیکھ کے پورا کمرہ

ڈال دیا ان سب نے ڈیرہ

سامنے ان کے جو کچھ آیا

کچھ کچھ کھایا ،بہت گرایا

دانتوں سے اک کیک بھی کترا

ننھا سا بادام چرایا

فرش پہ چینی بھی پھیلادی

مکھّن کی شیشی لڑھکادی

ڈھمّک ڈھمّک ڈھول بجاتے

ٹین کے ڈبّوں پر جا بیٹھے

رات ہوئی تو میاں پکوڑے

لوٹ کے جب دفتر سے آئے

کچن کا جاکر کھولا تالا

وہاں پہ دیکھا حال نرالا

کمرہ میں تھے کچھ تو چوہے

باقی پیٹ میں دوڑ رہے تھے

ٹھن ٹھن کرتی ہانڈیوں سے

کچھ اپنا سر پھوڑ رہے تھے

سارا اچھّا مال اڑا کر

بیٹھے تھے سب راج جماکر

غصّے میں تھے میاں پکوڑے

ادھر ادھر وہ جم کر دوڑے

چوہا کوئی ہاتھ نہ آیا

گھنٹہ بھر تک انھیں تھکایا

اتنے میں پھر ہوا دھماکہ

کھڑکی سے بلّی نے جھانکا

کہ کر میاوں جو ہانک لگائی

جان پہ چوہوں کے بن آئی

مرنے کی جب نوبت آئی

پھر نہ کچھ بھی دیا سجھائی

دُمےں دباکر سارے بھاگے

بلّی پیچھے ، چوہے آگے


Saturday, October 27, 2007

مرغا (Rooster)

مرغا

ککڑوں کوں جی ککڑوں کوں
دیکھو میں اک مرغا ہوں

تم ہو انساں سوئے ہوئے
اور میں دیکھو جاگا ہوں

رات کو جاتے دیکھ چکا
صبح کی آہٹ سنتا ہوں

منظر صبح کا ہے ایسا
تم کو کیوں آواز نہ دوں

سورج کا رتھ نکلا ہے
بستر میں تم چھپے ہو کیوں

سن لی میری بانگ مگر
پھر بھی نہ رینگی کان پہ جوں