Showing posts with label children.. Show all posts
Showing posts with label children.. Show all posts

Sunday, May 03, 2009

Ulti Seedhi Ghazal ,Bachchon ke liyeالٹی سیدھی غزل

الٹی سیدھی غزل
 
محمّد اسداللہ
قلم پنجرے میں اٹکا ہے 

میرے پنجے میں چوہا ہے 

پڑھاتے ہیں سبھی بچّے 

مدرّس پڑھتا رہتا ہے 

دیا آکاش میں جلتا 

ستارہ گھر میں چمکا ہے 

چلی ہے ناؤ بادل میں 

ندی میں چاندبہتاہے 

ہوا بستے میںٹھہری ہے 

قلم کاغذ پہ اُڑتا ہے 

میرے ہونٹوں پہ سِم سمِ ہے 

ہر اک دروازہ کھلتا ہے 

ہمارے پاؤں بے حرکت 

مگر رستہ تو چلتا ہے 

دکھا ئی کچھ نہیں دیتا 

مگر کوئی ہے لگتا ہے


Monday, February 16, 2009

childhood pachpan بچپن کی یادیں

بچپن کی یادیں 
محمّد اسد اللہ
childhood
pachpan
،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،
بچپن ہماری زندگی کا یقینا سنہرا دور ہے ۔اس کی حسین یادیں تا عمر ہمارے دل و دماغ کے نہاں خانوں میں جگمگا تی رہتی ہیں ۔ انگریزی کے مشہور شاعر جان ملٹن نے اسے جنّتِ گمشدہ یعنی کھوئی ہو ئی جنّت کہا ہے ۔جب بھی ہم اپنے بچپن کے بارے میں سوچتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ کاش ہم ایک بار پھر چھوٹے سے بچّے بن جا ئیں ۔بچپن میں ہم گھر بھر کے دلارے اور سب کی آنکھ کے تارے تھے ہر کو ئی ہمیں لاڈ پیار کیا کر تا تھا ۔بچپن کی سہانی یادیں اس قدر دلکش ہو ا کر تی ہیں کہ انھیں یاد کر کے شاعر بے اختیار پکار اٹھتا ہے ۔ 

یادِ ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا 

میں جب بھی اپنے بچپن کے بارے میں سوچتا ہوں تو اپنے والدین کی وہ بے لوث محبّت اور شفقت یا د آ تی ہے ۔ نانا نانی ،دا دا دادی کا دلار اور ان کا ہمارے لیے فکر مند رہنا ۔ہماری تعلیم و تربیت اور کھانے پینے کی دیکھ بھال کر نا ، بھائی بہنوں کا ستا نا ، اسکول کے کاموں میں ہماری مدد کر نا ، سب یاد آ تا ہے اور یا د آ تے ہیں،بچپن کے وہ سارے دوست جن کے ساتھ ہم گھنٹوں کھیلا کرتے تھے۔ بچپن کے کھیل اس قدر دلچسپ ہوا کر تے تھے کہ دوستوں کے ساتھ یا میدان میں کھیلتے ہو ئے ان میں مگن ہو کر کھا نا پینا اور اپنے گھر جانا بھی بھول جاتے تھے ۔ بچپن ہر قسم کی فکر ،دشمنی کینہ ،کپٹ اور برائیوں سے پاک ہوا کر تا ہے اسی لیے تو بچوں کو فرشتہ کہاجاتا ہے ۔
میں ہمارا گھر جس جگہ واقع تھا ۔ اس کے قریب ایک ندی اور وسیع میدان تھاجس کے پیچھے گھنا جنگل تھا۔ میدان میں ہم طرح طرح کے کھیل کھیلا کرتے اور کبھی اپنے دوستوں کے ساتھ جنگل میں نکل جاتے،جہاں بیریوں کی جھاڑیاں اور املی کے بڑے بڑے پیڑ تھے ۔ جنگل سے املی اور بیر چنتے اور دوسرے پھل پھول جمع کر لاتے ۔ اکثر وہاں ہمیں اتنی دیر ہو جاتی کہ واپسی پر گھر میں امّی کی ڈانٹ سننی پڑ تی۔امّی کی ڈانٹ تو اور بھی کئی باتو ں پر کھاتے رہے مگر اصل ڈر لگتا تھا ابّو کی ڈانٹ سے اسکول نہ جانے اور نماز نہ پڑھنے پر تو یاد ہے کبھی مار بھی پڑی تھی۔ 
مجھے یاد ہے کہ ایک دن جب ہم بیر کی تلاش میں جھاڑیوں میں گھوم رہے تھے ۔ میرے ساتھ میرے دوست امجد ،اسلم اور ماجد بھی تھے ۔ امجد اچانک’’ سانپ سانپ ‘‘کہہ کر چینخ پڑا ۔یہ سنتے ہی ہمارے پیروں تلے کی زمین نکل گئی اور جب ہم سب نے قریب ہی زمین پر ایک بڑا کالاسانپ رینگتا ہوا دیکھا تو بد حواس ہو کر سب وہاں سے بھاگ کھڑے ہو ئے ۔گھر پہنچنے تک پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا ۔ اس کے بعد کئی دنوں تک جنگل جانے کی کسی کی ہمّت نہیں ہو ٔی ۔
 
اسی طرح ایک مر تبہ عید کی خریداری کے لیے امّی اور ابّو کے ساتھ بازار گئے تھے ۔شاپنگ کر تے کرتے امّی اور ابّو آ گے نکل گئے اور میں ایک دکان پر کھلو نے دیکھنے میں کھویا رہا ۔جب ہو ش آ یا تو گھبر کر ادھر ادھر ڈھونڈتا رہا ۔بہت دیر تک رو تا ہوا بھٹکتا رہا ۔آ خر قریب کی ایک مسجد سے جب اعلان ہو ا تو کچھ لوگ مجھے وہاں پہنچا آ ئے جہاں امی اور ابّو میرا بیچینی سے انتظار کر رہے تھے ۔ 
بچپن کی یادوں میں دوستوں کے ساتھ ہو نے والی لڑائیاں بھی ہم کبھی نہ بھول پا ئیںگے ۔ اسکول میں نئے نئے دوست بن گئے تھے۔ان کے ساتھ خوب شرارتیں کرتے ۔ ذرا سی بات پر کٹّی کر بیٹھتے، لیکن زیادہ دنوں تک اس حالت میں دوست سے دور رہنا مشکل ہو جاتا اور کسی نہ کسی بہانے سے دوستی کر بیٹھتے ۔ بچپن ان تمام برائیوں سے دور تھا جو انسان سے خوشیاں چھین لیتی ہیں ۔ہمارے دلوں میں کسی کے لیے برائی نہ تھی ۔بچپن ایسی ہی معصوم یا دوں سے عبارت ہے ۔ اسی لئے ہر شخص کے دل میں کبھی نہ کبھی یہ خیال ضرور آ تا ہے کہ کاش اس کے بچپن کے وہ سہانے دل کسی طرح لو ٹ آ ئیں ۔لیکن یہ کسی بھی طرح ممکن نہ
یں ۔ 

اب بھی بچپن کے دوست یاد آ تے ہیں ۔ان کے ساتھ گزارے ہو ئے لمحات یاد آ تے ہیں تو ان کے چھن جانے کا افسوس ہو تا ہے ایسا محسوس ہو تا ہے جیسے ہم سے ہمارا بچپن نہیں کوئی قیمتی سرمایہ چھن گیا ہو۔کاش پھر سے لوٹ آ ئیں بچپن کے وہ سہانے دن !

Thursday, October 02, 2008


علمِ ماحولیات کی اہمیت و افادیت 

گذشتہ صدیوں کے دوران سائنسی ایجادات اور انکشافات نے پوری دنیا میں انقلاب بر پا کر دیا ہے ۔ اسی دوران کئی علوم بھی سامنے آ ئے ان میں علمِ ماحولیات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے ۔ علمِ ماحولیات کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ابتدائی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم تک ہر سطح پر اب علمِ ماحولیات کی تدریس کو ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ 

علمِ ما حولیات کو تعلیمی اداروں میں نصاب میں شامل کر نے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ طلباء اس ماحول سے واقف ہوں جس میں وہ رہتے ہیں اس میں مو جود قدرتی وسائل کا صحیح استعمال انھیں آ ئے اور اس کے مضر اثرات سے اپنے آ پ کو بچا سکیں ۔ اسی کے ساتھ دنیا کے مختلف خطّوں میں پا ئی جانے والی انسانی زندگی کے بارے میں بھی ان کو معلو مات حاصل ہو سکے ۔ 

مثل مشہور ہے کہ ضروت ایجاد کی ماں ہے ۔عالمی پیمانے پر ماحول کے بگڑ تے ہو ئے توازن اور اس کے بھیانک نتائج نے ساری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ اب ماہرین کے علاوہ حکومتیں بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہیں کہ ماحول کے تحفّظ کے لئے عوام میں بیداری پیدا نہیں ہو ئی تو اس کرّۂ ارض پر انسانی زندگی کا سانس لینا دو بھر ہو جا ئے گی ۔ 

دراصل گذشتہ برسوں میں انسانی آبادی میں زبردست اضافہ ہو ا ہے ۔۱۹۳۶ میں ہندوستان کی آ بادی ۳۶ کروڑ تھی جو ۲۰۰۶ میں ایک ارب گیارہ کروڑ تک جا پہنچی ہے ۔اسی طرح دنیا کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔صنعتی ترقّی کے سبب بڑے بڑے جنگالات کا صفایا ہو گیا۔ بڑی بڑی فیکٹریوں اور کثیر تعداد میں دوڑنے والی سواریوں سے نکلنے والے دھویں اور کارخانوں کے بیکار پانی سے کیمیاوی مادّے ندیوںاور آ بی ذخیروں میںشامل ہو تے جا رہے ہیں ان سے اگائی جانے والی سبزیاں بھی مضرِ صحت ہیں ۔جنگلات کی کٹائی کا سلسہ اب بھی جاری ہے۔ اگر یہ سلسہ روکا نہیں گیا تو انسانی صحت اس کے برے اثرات پڑیں گے اور آ ئندہ انسانی نسلیں مختلف بیما ریوں کا شکا ر ہوں گی ۔ 

گذشتہ کئی بر سوں سے عالمی پیمانے پر مو سم میں خطر ناک حد تک تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں جس کے اثرات ہمارے ملک پر بھی پڑ رہے ہیں ۔اس کے سبب جہاں زراعت اور فصلوں کے نقصان ہو رہا ہے وہیں صحتِ انسانی کے علاوہ صنعت و حرفت اور قدرتی وسائل بھی متاثر ہو رہے ہیں ۔ ہمارے ملک میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں تعلیم کی کمی ہے اور اسی وجہ سے ماحول کے متعلق لوگوں میں معلومات کا فقدان ہے ۔ 

ہر ملک میں ماحو ل کے تحفّظ کی خاطر قوانین بنا ئے گئے ہیں اور حکومتیں سختی سے ان کو نا فذ کر نے کی کو شش کر رہی ہے لیکن اس کے با وجود عام طور پر ان اصولوں کی خلاف ورزی کی جا تی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام میں اس شعور کی کمی ہے جو انھیں اپنے نفع نقصان کو سمجھ کر زندگی گذارنے کے قا بل بنا ئے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب لو گوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ وہ ماحول کو پرا گندہ ہو نے سے بچا ئیں۔ عالمی پیمانے پر کئی ادا رے ہیںجو اس سلسلہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ہمارے ملک میں بھی مختلف اداروں کی سرگرمیوں کے علاوہ کئی رسائل ماحولیات کے لئے مخصوص ہیں جو سماجی بیدا ری پیدا کر نے کے کام میں سر گرم ہیں ۔ ۵! جون کو عالمی یومِ ماحولیات کے طور پر منایا جا تاہے ۔ اس مو ضوع پر اخباروں اور دیگر رسائل میں مضامین شائع ہو تے ہیں ۔ جلسے اور مختلف قسم کے تحریری و تقریری مقابلے اور نمائشیں منعقد کر کے لو گوں کو ماحول کی آ لو دگی کے خطرات سے آ گاہ کیاجا تاہے ۔ 

ہماری یہ ذمّہ داری ہے کہ اس سلسہ میں لو گوں کو بیدار کیا جا ئے تاکہ وہ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور اس کی حفاظت کریں اور اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ماحول کے بارے میں تعلیم کو عام کیا جا ئے ۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں میں اب ابتدا ئی سطح ہی سے ماحولیات کو نصاب میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ اس کے فائدے بھی ظاہر ہیں نئی نسل ماحول کی حفاظت کے معاملے میں زیادہ فکر مند اور سر گرم ہے ۔ 








Friday, September 12, 2008

Itni si bat ..story for kidsاردو کہانی


   اتنی سی بات  
(کہانی )
محمّد اسد اللہ 


بابو جی ! میں ایک نوٹ ہوں ۔کاغذ کا ایک بے جان سا ٹکڑا ۔ اتنے سے کاغذ کے ٹکڑے کی بھلا کیا اہمیت ۔میری قیمت میرے اوپر لکھی ہے۔سو روپئے ۔ یوں تو کسی بھی چیز پر کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے ۔ مگر چیزیں اپنی قیمت خود طے نہیں کرتیں ۔ کبھی لوگ اور کبھی حالات چیزوں کی قیمت طے کرتے ہیں۔ دام گھٹاتے اور بڑھاتے ہیں ۔ 

آئیے ! میں آپ کو اپنی کہانی سناؤں !
مجھے اپنے بچپن کے سبھی واقعات تو ٹھیک طرح سے یاد نہیں ،بس اتنا ضرور یاد ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے ،بنجاروں کی طرح بھٹکتا پھر رہا ہوں ۔ کبھی کسی کی جیب میں کبھی کسی کے پرس میں ۔کبھی کوئی آکر اٹھا لے جاتا ہے تو میں نئے سفر پر چل پڑتا ہوں ۔ 

ایسے ہی ایک سفر کی بات ہے ،جب میں رامو حلوائی کی دکان جا پہنچا ۔ ایک آدمی نے مٹھائی خریدی اور مجھے اس کے حوالے کر دیا ۔ حلوائی نے مجھے روپیوں کے گلّہ میں ڈال دیا جہاں اور بھی ڈھیر سارے نوٹ پڑے تھے ۔ ان نوٹوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میری خیریت پوچھنے لگے ۔ کسی نے پوچھا ’کہاں کہاں سے ہو کر آیا ہوں ‘ ؟۔ میں انھیں اپنے سفر کا حال سناتا رہا۔دکان میں گاہک آتے جاتے رہے ۔تھوڑی دیر بعد ایک غریب لڑکی اپنے چھوٹے سے بھائی کو اپنے کاندھے پر اٹھائے ہوئے وہاں آئی اور گڑگڑا کر حلوائی سے کھانے کے لیے کچھ مانگنے لگی۔’بابوجی! ہم بھائی بہن صبح سے بھوکے ہیں کچھ کھانے کو دو۔ ‘ 
’کھانے کو دو ؟ تیرے پاس پیسے ویسے ہیں چھوکری ؟ رامو نے پوچھا ۔
ناہیں بابا ۔ ہمارے ماں باپ دونوں گجر گئے ۔ہمارا کوئی نہیں ۔ہمارے پاس پیسے بھی نہیں ۔ ‘
’ چل بھاگ یہاں سے ۔ چلے آتے ہیں نہ جانے کہاں کہاں سے کوئی لنگر کھول رکھا ہے کیا؟ پیسے ہو تو بات کرو، نہیں تو چلو آگے‘۔ رامو حلوائی نے اسے جھڑک کر بھگا دیا ۔ 

میرا جی چاہا کہیں سے میرے پر لگ جائیں اور میں اڑ کر اس غریب لڑکی کے ہاتھوں میں پہنچ جاؤں ۔مگر یہ میرے بس میں نہیں تھا ۔
اس رات رامو حلوائی نے دکان بند کی تو تمام نوٹوں کو اپنی جیب میں بھر کر گھر لے گیا ۔ آدھی رات گذری ہوگی کہ دھیرے دھیرے پانی کی بوندیں پڑنے لگیں۔ہوا سے درختوں کے پتّوںکی سر سرا ہٹ سنائی دینے لگی ۔مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ غریب لڑکی اور اس کا بھوکا بھائی سسک سسک کر رو رہے ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش ہونے لگی ۔بادل اتنے گہرے تھے کہ صبح ہو نے پر بھی ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔ پورا دن گزر گیا مگر بارش نے رکنے کا نام نہیں لیا ۔دوسرے دن شور سنائی دیا کہ گاؤں کی ندی میں باڑھ آئی ہے اور گاؤں کے قریب ہی واقع بند ٹوٹ گیا ہے، گاؤں بہنے لگا۔ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ چھوڑ کر بھاگنے لگے ۔ رامو حلوائی اپنے روپیوں اور زیورات کی پیٹی لے کر اپنی تین منزلہ بلڈنگ پر چڑھ گیا ۔ آس پاس کے چھوٹے موٹے گھر پانی میں ڈوب چکے تھے ۔ دو تین دن بعد پانی کم ہو ا۔ کئی لوگ اور مویشی پانی میں ڈوب کے ختم ہو گئے تھے ۔گھروں اور دکانوں کا سارا سامان بہہ چکا تھا ۔ 

رامو حلوائی اپنی بیوی اور بچّوں کے ساتھ کھانے کی تلاش میں نکلا ۔دو دن سے انھیں کچھ بھی نصیب نہ ہوا تھا ۔ رامو نے نوٹوں اور زیورات کے صندوق میں ہاتھ ڈال کر مجھے نکالا ۔ اور خود بیوی بچّوں کو ایک پیڑ کے نیچے بٹھا کر کھانے کی تلاش میں نکل پڑا ۔ وہ لوگوں کو مجھے دکھا کر کہتا تھا :’یہ سو کا نوٹ لے لو اورکھانے کی کوئی چیز ہو تو مجھے دو ۔ یہ سو روپئے کا نوٹ لے لو ،دو روٹیاں دے دو ‘۔ مگر سب لوگ اسی کی طرح دانہ دانہ کے محتاج در در بھٹک رہے تھے۔ 
بابو جی ! مجھے اپنے اوپر لکھے ہوئے ہندسوں اور لفظوں پر ہمیشہ فخر محسوس ہوا ہے لیکن زندگی میں مجھے پہلی مرتبہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے اوپرایک جھوٹ لکھا ہوا ہے ۔ میں سو روپئے کا نوٹ نہیں کاغذ کا ایک حقیر ٹکڑا ہوں ۔ 

تھوڑی دیر بعد فضا میں گڑ گڑ اہٹ سنائی دی ۔سب نے آسمان کی طرف دیکھا ۔ایک ہیلی کوپٹر ان مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے آیا تھا۔جب وہ لوگوں کے سروں پر سے گذرنے لگا تو اس سے کھانے کے پیکیٹس گرنے لگے۔ لوگ انھیں حاصل کرنے کے لیے پاگلوں کی طرح دوڑ رہے تھے ۔ رامو حلوائی جو اپنی دکان پر بیٹھے بیٹھے ہاتھی کی طرح موٹا ہو گیا تھا وہ بھلا کیسے دوڑپا تا مگر پیٹ کی مجبوری نے اسے بھی دوڑ نے پر مجبور کردیا ۔اپنے تھل تھلے جسم کے ساتھ بے تحاشا دورتے دوڑتے وہ دو بار بری طرح گرا ۔اس کے گھٹنے زخمی ہو گئے ۔ دھوتی پھٹ گئی ،مگر وہ کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر ما را مارا پھرتا رہا ۔ بڑی مشکل سے کھانے کے دو چار پیکٹ حاصل کر پایا اورانھیں لے کر وہ اپنے بیوی بچّوں کے پاس پہنچا تواس نے مجھے بڑی حقارت سے دیکھا ۔ بابو جی لوگ نوٹوں کو تو ہر جگہ لالچ اورمحبت بھری نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں ،مگر یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے رامو حلوائی جیسے دولت کے لالچی شخص کی نفرت بھری نظروں کا سامنا کرنا پڑا ۔ 

دوسرے دن اس علاقہ میں امدادی کیمپ لگایا گیا جہاں سے لوگوں کو کھانا کپڑا وغیرہ ملنے لگا ۔اس سیلاب سے لٹے پٹے لوگوں کی لمبی قطار میں رامو حلوائی بھی اپنے بیوی بچّوں کے ساتھ لاچار کھڑا تاتھا ۔میں اس وقت بھی اس کی جیب میں موجود تھا ۔ مگر اس کے کسی کام نہ آ سکتا تھا ۔ رامو حلوائی اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا اور اس کے پیچھے وہی لڑ کی اپنی بھائی کو کاندھے پر سوار کیے کھڑی تھی جسے کچھ دن پہلے رامو حلوائی نے اپنی دکان سے جھڑک کر بھگا دیا تھا ۔ اس لڑکی کے کانوں میں وہ جملے گونج اٹھے۔۔ 
’ چل بھاگ یہاں سے ۔ چلے آتے ہیں نہ جانے کہاں کہاں سے کوئی لنگر کھول رکھا ہے کیا؟ پیسے ہو تو بات کرو نہیں تو چلو آگے‘۔
’چلو آگے‘،رامو حلوائی کو کسی نے پیچھے سے دھکّا دیا ۔رامو حلوائی بھی شاید ان ہی جملوں میں کھویا ہوا تھا ۔ لوگ آگے بڑھ رہے تھے ۔ اس لڑکی نے رامو حلوائی کو دھیان سے دیکھااس کی نظریں جیسے اس سے پوچھ رہی تھیں،’ کیا آج تمہارے پاس بھی پیسہ نہیں ہے ؟جو ہماری طرح یہاں کھڑے ہو ‘
رامو حلوائی نے نظریں جھکا لیں ۔شرم کی وجہ سے یا اس لڑکی کی تیکھی نظروں سے بچنے کے لئے ۔ پھر وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑایا : اے اوپر والے! میری سمجھ میں آ گیا ،دنیا میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے ،مگر اتنی سی بات سمجھانے کے لیے اتنی بڑی باڑھ بھیجنے کی کیا جرورت تھی ‘۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔