A blog by Muhammad Asadullah featuring Urdu articles, poetry, children's literature, translations, and other Urdu literary forms.
Showing posts with label praise of allah. Show all posts
Showing posts with label praise of allah. Show all posts
Friday, October 04, 2019
Tuesday, July 07, 2009
Hamd - Ek Intekhab
حمد
محمّد اسد اللہ
تو ہی مالک ہے تو ہی ہے سب سےبڑا
تیرے ہونے کا پیغام لے کر چلی ہے ہوا
ہے ہر اک موج کے لب پہ تیری ہی حمد و ثنا
پربتوں پر کھلی دھوپ میں چہچہاتے پرند
تیرے احساس سے ذرّہ ذرّہ زمیں کا دمکتا ہوا
تیری قدرت ہے پھولوں کے رخ سے عیاں
تتلیوں کے پروں پہ ترا نام لکھا ہوا
حرفِ اوّل تو سب کا ءناتوں کا ہے
حرفِ آ خر ہے تیرا ہی لکھا ہوا
Sunday, October 14, 2007
malik

اے دو جہاں کے مالک
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
سبزہ دیا زمیں کو سورج کو روشنی دی
ٹھنڈک ہوا میں بھر دی پھولوں کو روشنی دی
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
چڑیوں کے چہچہے ہیں ہونٹوں پہ قہقہے ہیں
بہنے لگیں ہوائیں جھرنے امڈ پڑے ہیں
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
منزل کا تُو پتہ دے راہیں سجھائے تُو ہی
تُو تشنگی بڑھائے چشمہ دکھائے تو ہی
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
دن تھک گیا تو تُو نے شب کا دیا بچھونا
تارے سجادئے اور اک چاند بھی اگایا
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
رشتوں کو دی حلاوت ماں باپ کی محبتّ
ہمجولیوں کی الفت رحم و وفا ، مروّت
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
سبزہ دیا زمیں کو سورج کو روشنی دی
ٹھنڈک ہوا میں بھر دی پھولوں کو روشنی دی
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
چڑیوں کے چہچہے ہیں ہونٹوں پہ قہقہے ہیں
بہنے لگیں ہوائیں جھرنے امڈ پڑے ہیں
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
منزل کا تُو پتہ دے راہیں سجھائے تُو ہی
تُو تشنگی بڑھائے چشمہ دکھائے تو ہی
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
دن تھک گیا تو تُو نے شب کا دیا بچھونا
تارے سجادئے اور اک چاند بھی اگایا
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
رشتوں کو دی حلاوت ماں باپ کی محبتّ
ہمجولیوں کی الفت رحم و وفا ، مروّت
اے دو جہاں کے مالک ہر جا ہے تیری قدرت
Saturday, October 13, 2007
Hamd

حمد
حمد و ثنا اسی کی جس نے جہاں بنایا
مٹّی میں جان ڈالی آرامِ جاں بنایا
غنچے کھلائے اس نے پھولوں کو تازگی دی
اظہارِ التجا کو حرف و بیاں بنایا
پیروں تلے ہمارے ممتا بھری زمیں دی
مشفق سا اپنے سر پر اک آسماں بنایا
راہیں اسی کی صنعت سمتیں اسی کی قدرت
بخشے ہیں ہم قدم بھی اور کارواں بنایا
بربادیوں رکھ دی امن و اماں کی صورت
عشرت کد وں کو اس نے عبرت نشاں بنایا
لفظوں کی ساری دنیا اس کی ثنا سے قاصر
اک لفظِ کن سے اس نے سارا جہاں بنایا
مٹّی میں جان ڈالی آرامِ جاں بنایا
غنچے کھلائے اس نے پھولوں کو تازگی دی
اظہارِ التجا کو حرف و بیاں بنایا
پیروں تلے ہمارے ممتا بھری زمیں دی
مشفق سا اپنے سر پر اک آسماں بنایا
راہیں اسی کی صنعت سمتیں اسی کی قدرت
بخشے ہیں ہم قدم بھی اور کارواں بنایا
بربادیوں رکھ دی امن و اماں کی صورت
عشرت کد وں کو اس نے عبرت نشاں بنایا
لفظوں کی ساری دنیا اس کی ثنا سے قاصر
اک لفظِ کن سے اس نے سارا جہاں بنایا
Subscribe to:
Posts (Atom)

