.jpg)
غزل
محمّد اسد اللہ
میں پاکٹ کی طرح خود کو کہیں پر بھول آ یا ہوں
یہاں رہتے ہو ئے مجھ کو تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے
میں پاکٹ کی طرح خود کو کہیں پر بھول آ یا ہوں
یہاں رہتے ہو ئے مجھ کو تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے
کبھی باطل بھگا کر حق کو لے جاتا ہے بستی سے
کبھی حق بھیس میں باطل کے آ کر منہ چڑھا تا ہے
سوا مسدود راہوں سے ،ہوا کے کون آ ئے گا ؟
نہ جانے کس کی خاطر یہ دیا اب جھلملاتا ہے
کبھی اندیشۂ باطل ہمیں سونے نہیں دیتا
کبھی حق نیم شب دروازہ آ کر کھٹکھٹاتا ہے
چٹانوں کی طرح ہم ہیں مگر ٹوٹ ے ہو ئے بھی ہیں
یہاں ہرپل بکھر نے کا ہمیں اندیشہ رہتا ہے
فضائیں ایک مدّت سے اذانوں کو ترستی ہیں
یہاں ہر شخص سچّائی کو بس کانوں میں کہتا ہے